طویل المیعاد کاروباری قرضوں میں نصاب زکوٰۃ سے قسط منہا ہوگی یا مکمل قرض؟

طویل المیعاد کاروباری قرضوں میں نصاب زکوٰۃ سے قسط منہا ہوگی یا مکمل قرض؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید صاحب صاحبِ نصاب ہیں اور ان کی زکوٰۃ کی تاریخ آ گئی ہے، ان پر کچھ قرض /دیون  ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱…اپنی ذاتی ضروریات کے لیے خالد سے نقد رقم مبلغ 2 لاکھ روپے قرض لیا ہے، جسے 6 ماہ میں واپس کرنا ہے۔
۲… کاروبار کے لیے طویل المیعاد قرضہ لیا ہے، مبلغ 20 لاکھ روپے، جس سے ایک سُپر اسٹور میں سامان ڈالا ہے۔ زید اس مد میں سالانہ ایک لاکھ روپے قسط واپس کرتا ہے۔
۳…ایک اور چھوٹی دکان کے لیے 3 سالہ قرض لے کر سامان خریدا ہے، ماہانہ قسط 20 ہزار روپے قسط ادا کرتا ہے۔
۴…ایک پلاٹ جسے تجارت کی نیت سے خریدا ہے، اصل قیمت 50 لاکھ روپے ہے، جس میں سے 35 لاکھ جمع کرا دیئے ہیں اور 15 لاکھ روپے 3 سال میں مزید جمع کرانے باقی ہیں (سالانہ قسط 5 لاکھ روپے)۔
۵…ایک مکان جسے بیچنے کی نیت سے 2 کروڑ روپے میں قسطوں پر خریدا تھا، 50 لاکھ روپے جمع کرانے باقی ہیں۔ اس مکان کو زید نے 3 کروڑ روپے میں ایک ماہ پہلے فروخت کر دیا۔
آپ حضرات رہنمائی فرما دیں  کہ زید اپنی مالیت میں سے مذکورہ بالا کن قرضوں /دیون  کو منہا کرے گا؟ کیا کل واجب الادا رقم منہا ہوگی یا صرف ایک سال کی قسط؟ تفصیل سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

زید صورت نمبر (1) والا قرض اپنی مجموعی مالیت سے منہا کرے گا، صورت نمبر (2) اور (3) میں قرض سے چوں کہ مال تجارت خریدا گیا ہے جو کہ قابل زکوۃ ہے، لہٰذا ان دونوں صورتوں میں جتنا قرض ادا کرنا باقی ہے وہ سارا مجموعی مالیت سے منہا کرے گا، صورت نمبر (4) میں زکوۃ ادا کرنے کے وقت مذکورہ پلاٹ کی بازاری قیمت لگائی جائے، پھر اس قیمت میں سے بقیہ واجب الادا قسطوں کی رقم منہا کرے گا، اور صورت نمبر 5 میں پچاس لاکھ (50،00،000) منہا کرے گا۔
لما في البحر الرائق:
’’وشرط فراغة عن الدين لأنه معه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوما كالماء المسحق بالعطش، ولأن الزكاة تحل مع ثبوت يده على ماله فلم تجب عليه الزكاة كالمكاتب، ولأن الدين يوجب نقصان الملك، ولذا يأخذه الغريم إذا كان من جنس دينه من غير قضاء ولا رضا اطلقه فشمل الحال والمؤجل‘‘. (كتاب الزكاة: 357/2، رشيدية)
وفی بدائع الصنائع:
’’ومنھا ألا يكون عليه دين مطالب به من جھة العباد عندنا، فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره، حالا كان أو مؤجلا‘‘. (كتاب الزكاة، فصل في شرائط الفرضية: 383/2، دار الكتب العلمية)
وفي ”فقھي مقالات“ لشيخ الإسلام مفتي محمد تقي العثماني حفظه الله:
قرضوں كى دوقسمىں ہیں: ایک تو معمولی قرضے ہیں جن کو انسان اپنی ذاتی ضروریات اور ہنگامی ضروریات کے لیے مجبوراً لیتا ہے۔ دوسری قسم کے قرضے وہ ہیں جو بڑے بڑے سرمایہ دار پیداواری اغراض کے لیے لیتے ہیں مثلاً: فیکڑیاں لگانے یا مشینریاں خریدنے یا مال تجارت امپورٹ کرنے کے لیے …. پہلی قسم کے قرضے تو مجموعی مالیت سے منہا ہو جائیں گے اور ان کو منہا کرنے کے بعد زکوۃ ادا کی جائے گی۔
اور دوسری قسم کے قرضوں میں یہ تفصیل ہے کہ اگر کسی شخص نے تجارت کی غرض سے قرض لیا اور اس قرض کو ایسی اشیاء خریدنے مىں استعمال کیا جو قابل زکوۃ ہیں، مثلاً اس قرض سے خام مال خرید لیا، یا مال تجارت خرید لیا، تو اس قرض کومجموعی مالیت سے منہا کریں گے، لیکن اگر اس قرض کو ایسے اثاثے خریدنے خریدنے میں استعمال کیا جو ناقابل زکوۃ ہیں  تو اس قرض کو مجموعی مالیت سےمنہا نہیں کریں گے۔ (زکوۃ کے جدید مسائل، قرضوں کی دو قسمیں، تجارتی قرضے کب منہا کیے جائیں: 3 /155، 156، میمن اسلامک پبلشرز)۔فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/83