شادی میں جہراً ذکر کرنا اور نعرہ لگانا

شادی میں جہراً ذکر کرنا اور نعرہ لگانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شادی کے موقع پر ہم بعض علماء وصلحاء وعوام کو جمع کرکے اس شادی میں شرکت کرتے ہیں، یہ شادی علماء کرام کی نگرانی میں ہوتی ہے۔ دلہن کی رخصتی کے وقت ”لا الہ الا اللہ“ کا ورد اجتماعی اور جہری ترتیب پر ہوتا ہے، نعرہ تکبیر ”اللہ اکبر“ کے نعرے بھی ہوتے ہیں، لوگ اس سے بہت متاثر بھی ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے گانا بجانا، ناچنے سے بھی لوگ بچ جاتے ہیں اور اس کو ہم شریعت کے مطابق اور سنت طریقے سے شادی کہتے ہیں۔
اگر ہمارے اس طریقے کار میں کچھ شریعت کے خلاف ہو یا کوئی بدعتی طریقہ ہو تو براہ کرم آپ ہماری اصلاح فرمائیں تاکہ جلد از جلد اس کام کو صحیح نہج پر لانے کی کوشش کریں۔

جواب

دلہن کی رخصتی کے وقت ”لا الہ الا اللہ“ کا اجتماعی اور جہری ذکر کرنا، اللہ اکبر کے نعرے لگانا، قرآن وسنت سے ثابت نہیں، لہٰذا اسے ترک کیا جائے، خاص کر جب علماء کرام کی سرپرستی میں یہ کام ہوگا، تو عوام الناس اسے سنت سمجھے گی، جب دلہن کی رخصتی کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ بارات اور نمود ونمائش کے بغیر چند عورتوں کی معیت میں دلہن کو رخصت کردیا جائے۔
لما في رد المحتار:
وممن صرح بذلك أيضًا الإمام البركوي قدس سره في آخر الطريقة المحمدية، فقال: الفصل الثالث في أمور مبتدعة باطلة أكب الناس عليھا على ظن أنھا قرب مقصودة، إلى أن قال: ومنھا الوصية من الميت باتخاذ الطعام والضيافة يوم موته أو بعده وبإعطاء دراهم لمن يتلو القرآن لروحه أو يسبح أو يھلل له، وكلھا بدع منكرات باطلة. (كتاب الإجارة، مطلب تحرير مھم في عدم جواز الاستيجار: 96/9، رشيديۃ).
وفي الصحيح للبخاري:
107 - حدثنا أبو معمر: حدثنا عبد الوارث عن عبد العزيز  قال: قال أنس رضي الله عنه: إنه ليمنعني أن أحدثكم حديثًا كثيرًا؛ أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: من تعمد علي كذبًا فليتبوأ مقعده من النار. (كتاب العلم، باب إثم من كذب علي: 24، دار السلام للنشر والتوزيع)
وفيه أيضا:
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبي الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْھَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ فَقَدِمْنَا المَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ خَزْرَجِ فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي فَوَفَى جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّي لَفِي أَرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُھَا لَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ وَإِنِّي لَأُنْھِجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِي ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْھِي وَرَأْسِي ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ فَقُلْنَ عَلَى الخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْھِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ. (كتاب مناقب الأنصار : 654، دار السلام للنشر والتوزيع).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/83