کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے اپنے علاقے میں کام شروع کیا ایک علاقے میں ضعیف قرآن اور مقدس اوراق کو جمع کرنا۔ اس کی تدفین کے لیے ہم نے عوام کو ترغیب دی۔ کسی نے پانچ مرلے اراضی صرف قرآنی نسخوں کی تدفین کے لیے وقف کی، پھر ہم نے ایک دن مقرر کیا، کچھ علماء کرام اور عوام الناس کو جمع کیا، قبر کھودنے کے لیے علماء کرام نے عوام کو اس کار خیر میں شرکت کی ترغیبات دی، ہمارے اس کام میں کوئی بدعت وغیرہ کا خطرہ تو نہیں ہوگا، آپ ہماری رہنمائی فرمائیں۔
قرآن کریم کے بوسیدہ نسخے اور مقدس اوراق کو جمع کرنا اور اس کی تدفین کے لیے عوام کو ترغیب دینا بدعت نہیں، بلکہ یہ ایک امر مستحسن ہے۔لما في الدر مع الرد:’’المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيه يدفن كالمسلم قوله (كالمسلم) فإنه مكرم وإذا مات وعدم نفعه يدفن وكذلك المصحف فليس في دفنه إهانة له بل ذلك إكرام خوفًا من الامتھان‘‘. (كتاب الطھارة، مطلب يطلق الدعا: 354/1، رشيديۃ).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/82