زنا سے پیدا ہونے والے بچے کا نسب اور قتل کی صورت میں دیت کا حکم

زنا سے پیدا ہونے والے بچے کا نسب اور قتل کی صورت میں دیت کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون کی منگنی ہوچکی ہے، منگنی میں باقاعدہ نکاح ہوا ہے، ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ہے، اس خاتون نے زنا کا ارتکاب کیا، زنا سے ایک بچہ پیدا ہوا، اس بچے کو اس خاتون نے قتل کردیا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ بچہ کس سے ثابت النسب ہوگا؟ اس خاتون پر دیت آئے گی؟ اگر دیت آئے گی تو کس کو دے گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں چوں کہ عورت کا نکاح ہوچکا تھا، فقط رخصتی نہیں ہوئی تھی، تو اس صورت میں بچے کا نسب شوہر (جس سے عورت کا نکاح  ہوا ہے) سے ثابت ہوگا۔
اگر واقعتًا عورت نے اپنے بچے کو قتل کیا ہے، تو اس صورت میں چوں کہ قاتلہ بچے کی ماں ہی ہے، لہٰذا اس پر دیت لازم ہوگی، جو کہ بچے کے ورثاء کو دی جائےگی، دیت ادا کرنے کی تین صورتیں ہیں، جو درج ذیل ہیں، ان میں کوئی بھی ایک صورت اختیار کی جائے، تو دیت ادا ہوجائے گی۔
وہ تین صورتیں یہ ہیں:
1۔ دس ہزار درہم یا اس کی قیمت اور ایک درہم 3.0618 گرام چاندی کا ہے، دس ہزار درہم30.618 کلو گرام (2625 تولے) چاندی یا اس کی قیمت۔
2۔ ایک ہزار دینار یا اس کی قیمت، اور ایک دینار4.374 گرام سونے کا ہے، ایک ہزار دینار 4.374 کلوگرام (375 تولے) سونا یا اس کی قیمت۔
3۔ سو اونٹ یا اس کی قیمت اور یہ اونٹ چار قسم کے ہوں گے:
٭ پچیس اونٹنیاں ایک سالہ
٭ پچیس اونٹنیاں دوسالہ
٭ پچیس اونٹنیاں تین سالہ
٭ پچیس اونٹنیاں چار سالہ
لما في الدر المختار:
’’فالولد للفراش الحقيقي وإن كان فاسدًا، وتمامه فيه فراجعه‘‘. (كتاب الطلاق، فصل في ثبوت النسب: 254/5، رشيدية).
وفي التنوير مع الدر:
’’(والفرع بأصله وإن علا لا بعكسه) خلافًا لمالك فيما إذا ذبح ابنه ذبحا أي لا يقتص الأصول وإن علوا مطلقًا ولو إناثًا من قبل الأم في نفس أو أطراف بفروعھم وإن سفلوا، لقوله عليه الصلاة والسلام:”لا يُقاد الوالد بولده‘‘.
’’(قوله: أي لا يُقتص إلخ) تفسير لقوله: لا بعكسه‘‘. (كتاب الجنايات، فصل في ما يوجب القود...: 16/10، رشيدية).
وفي الھندية:
’’وكل دية وجبت بنفس القتل يُقضى من ثلاثة أشياء في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى: من الإبل، والذهب، والفضة، كذا في شرح الطحاوي. قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى: من الإبل مائة، ومن العين ألف دينار، ومن الورق عشرة آلاف، وللقاتل الخيار يؤدي أي نوع شاء، كذا في محيط السرخسي. وقالا: ومن البقر مائتا بقرة، ومن الغنم ألفا شاة، ومن الحلل مائتا حلة، كل حلة ثوبان، كذا في الھداية‘‘. (كتاب الجنايات، الباب الثامن في الديات، 30/6، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/02