کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو آدمیوں نے اس شرط پر کام شروع کیا کہ ایک پیسے لگائے گا اور دوسرا محنت کرے گا، محنت کرنے والا صرف سامان خرید نا اور فروخت کرنا چاہتا ہے، اور سامان مثال کے طور پر نمکو کی 10 کلو کی بوری خریدتا ہے، اب اس کے 50 اور 100 والے پیکٹ بنانے ہوتے ہیں، اس طرح کے چھوٹے پیکٹ بنانے میں وقت زیادہ لگتا ہے، محنت کرنے والا کہتا ہے کہ یہ پیکٹ بنانا میرے ذمے نہیں، اس کے لئے مزدور مقرر کروں گا، اس کا خرچہ کاروبار کے اخراجات سے نکالا جائے گا اور اخراجات نکالنے کے بعد نفع تقسیم کیا جائے گا، یہ صورت صحیح ہے کہ نہیں ؟
اس مسئلے میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر رقم لگانے والا خود اجرت پر پیکٹ بنائے تو کیا یہ صورت درست ہے؟ وضاحت فرما دیں، اس مسئلے میں اختلاف یہ ہے کہ سامان پیک کرنا، چھوٹے پیکٹ بنانا محنت میں شامل ہے یا اخراجات میں ؟
واضح رہے کہ مضاربت میں مضارب (کام کرنے والے) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کام کے لئے کسی کو اجرت پر رکھے، لہذا صورت مسئولہ میں کام کرنے والے کا کام کے لئے مزدور رکھنا درست ہے اور مزدور کی اجرت کاروبار سے حاصل ہونے والے کل منافع سے دی جائے گی، مزدور کی اجرت اور دیگر اخراجات نکالنے کے بعد بقیہ منافع کو فریقین طے شدہ تناسب سے آپس میں تقسیم کر لیں۔
نیز رب المال (رقم لگانے والے) کا خود اجرت پر کام کر نادرست نہیں۔لما في التنوير مع الدر:’’(و) يملك (الإيداع والرهن والارتھان والإجارة والاستئجار‘‘.’’(قوله: والاستئجار) أي: استئجار العمال للأعمال والمنازل لحفظ الأموال والسفن والدواب‘‘. (كتاب المضاربة: 503/8، رشيدية)وفيه أيضًا:’’(واشتراط عمل رب المال مع المضارب مفسد) للعقد؛ لأنه يمنع التخلية فيمنع الصحة‘‘. (كتاب المضاربة: 511/8، رشيدية)وفي بدائع الصنائع:’’وقد قالوا في المضارب: إذا دفع المال إلى رب المال مضاربة بالثلث فالمضاربة الثانية فاسدة، والمضاربة الأولى على حالھا جائزة، والربح بين رب المال وبين المضارب على ما شرطا في المضاربة الأولى، ولا أجر لرب المال. ”وأما“ فساد المضاربة الثانية؛ فلأن يد رب المال يد ملك ويد الملك مع يد المضارب لا يجتمعان، فلا تصح المضاربة الثانية وبقيت المضاربة الأولى على حالھا، ولم يذكر القدوري رحمه الله في شرحه مختصر الكرخي خلافًا وذكر القاضي في شرحه مختصر الطحاوي: أن هذا مذهب أصحابنا الثلاثة... ”ولنا“ أن رب المال يصير معينا للمضارب والإعانة لا توجب إخراج المال عن يده فيبقى العقد الأول، ولا أجر لرب المال؛ لأنه عمل في ملك نفسه فلا يستحق الأجر‘‘. (كتاب المضاربة: 23/8، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/214