نوکری کے اوقات میں نمازیں قضا ہوئی ہوں تو ان کا حکم

نوکری کے اوقات میں نمازیں قضا ہوئی ہوں تو ان کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میر ادفتر انگلینڈ میں ہے جب کے میں پاکستان سے ریموٹ نوکری کرتا ہوں دفتری اوقات دو پہر اسے رات 9 بجے تک ہیں اس دوران 4نمازیں آتی ہیں دفتر کی طرف سے اتنا وقت نہیں دیا جاتا کہ نماز باجماعت ادا کی جا سکے، کیا میں فرض نماز گھر میں ادا کرسکتا ہوں یا پھر مجھے دوسری نوکری تلاش کرنی چاہئے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں آپ کو چاہئے کہ آپ دفتر کے مالکان سے یہ درخواست کریں کہ وہ آپ کو نماز کے اوقات میں نماز پڑھنے کے لئے مسجد جانے دیں، بصورت دیگر آپ یہ نوکری چھوڑ کر ایسی نوکری تلاش کریں، جہاں آپ کو نماز با جماعت ادا کرنے کی سہولت میسر ہو۔
لما في جامع الترمذي:
عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره ما لم يؤمر بمعصية فإن أمر بمعصية فلا سمع عليه ولا طاعة. (ابواب الجھاد، باب ماجاء لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، رقم الحديث: 1707، ص:535، دارالسلام بيروت)
وفي روح المعاني:
إِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى المُؤْمِنِينَ كِتاباً أي مكتوبا مفروضا موقوتاً محدود الأوقات لا يجوز إخراجھا عن أوقاتھا في شيء من الأحوال فلا بد من إقامتھا سفرا أيضًا، وقيل: المعنى كانت عليهم أمرًا مفروضًا مقدّرًا في الحضر بأربع ركعات وفي السفر بركعتين فلا بد أن تُؤدّى في كل وقت حسبما قُدّر فيه، واستدل بالآية من حمل الذكر فيما تقدّم على الصلاة وأوجبھا في حال القتال على خلاف ما ذهب إليه الإمام أبو حنيفة رضي الله تعالى عنه ﴿وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ﴾ أي لا تضعفوا ولا تتوانوا في طلب الكفار بالقتال. (النساء، رقم الآية:103، ص:267، مؤسسة الرسالة)
وجاء في الدر مع الرد:
(والجماعة سنة مؤكدة للرجال)... وقيل واجبة، وعليه العامة، فتُسن أو تجب، وثمرته تظھر في الإثم بتركھا مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة). (كتاب الصلاة، 340/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/57