کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انسانی جسم کے اعضاء کو بیچنا کیسا ہے؟ مصنوعی نہیں بلکہ قدرتی، حقیقی انسانی اعضاء کے بارے میں سوال ہے اور پیوند کاری نہیں بلکہ ان کو بیچنے کے بارے میں سوال ہے۔
حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ نےتمام مخلوقات میں اشرف وافضل بنایا ہے ، بنابر ایں انسان کی کسی قسم کی اہانت وتذلیل جائز نہیں ہے اور چوں کہ انسانی جسم کے اعضاء کی خرید وفروخت میں انسان کی اہانت وتذلیل ہے، اس لیے ان کا بیچنا جائز نہیں۔
نیز خرید وفروخت کے لیے ضروری ہے کہ مبیع (جو چیز بیچی جا رہی ہو) وہ مال ہو اور چوں کہ انسانی اعضاء شرعًا مال نہیں اس لیے بھی ان کا بیچنا جائز نہیں۔لما في رد المحتار:”وفي البحر عن الحاوي القدسي: المال اسم لغير الآدمي، خلق لمصالح الآدمي وأمكن إحرازه والتصرف فيه على وجه الاختيار “ (كتاب البيوع، مطلب في تعريف المال والملك والمتقوم، 8/7، رشيدية)وفيه أيضاً:”الآدمي مكرم شرعاً وإن كان كافراً، فإيراد العقد عليه وإبذاله به وإلحاقه بالجمادات إذلال له ١ھ، أي وهو غير جائز وبعضه في حكمه، وصرح في فتح القدير سلطانه“. (كتاب البيوع، مطلب الآدمي مكرماً شرعاً ولو كافراً، 245/7، رشيدية)وفي فتح القدير:”ولا يجوز بيع شعور الإنسان ولا الانتفاع بھا، لأن الآدمي مكرم لا مبتذل فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مھاناً ومبتذلاً، وقد قال عليه الصلاة والسلام: (لعن الله الواصلة والمستوصلة)“. (كتاب البيوع، باب بيع الفاسد، 390/6، حنفية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/205