ای بے (E-bay)ویب سائٹ کامختلف خدمات کے عوض فیس وصول کا حکم

ای بے (E-bay)ویب سائٹ کامختلف خدمات کے عوض فیس وصول کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ای بے خدمات فراہم کرنے پر سیلر سے مختلف قسم کے معاوضے وصول کرتا ہے،جو کہ ذیل میں ذکر کیے جاتے ہیں :
۱…Insertion fees:ای بے کی طرف سے سیلر کو ماہانہ 250لسٹنگ مفت لگانے کی اجازت ہوتی ہے،ای بے سٹور ہونے کی صورت میں اس سے زیادہ کی بھی اجازت ہوتی ہے، لیکن مخصوص تعداد سے زیادہ لسٹنگ کرنے کی صورت میں Insertion feesکے نام سےمخصوص معاوضہ وصول کیا جاتا ہے، اگر چہ لسٹنگ لگانے کے بعد وہ پروڈکٹ فروخت نہ ہو جائے، اسی طرح اگر ایک ہی پروڈکٹ کی لسٹنگ دومرتبہ کی جیسے دوسری کیٹیگری میں لسٹنگ کی تو دوہری فیس وصول کی جائے گی۔
۲…حتمی قیمت فیس((Final value fess:پروڈکٹ فروخت ہونے کے بعد ای بے کل قیمت کا مقررہ فیس وصول کرتا ہے، 10ڈالر یا اس سے کم آرڈرکی فیس0.30ڈالر جبکہ اس سے زیادہ کی فیس0.40ڈالر فیس وصول کیا جاتا ہے۔
۳…بنیادی فیس((Basic fees:ہر کیٹیگری کے پروڈکٹ کے لیے بنیادی فیس مقرر ہے۔
۴…Fees for real estate listings:رئیل اسٹیٹ کی لسٹنگ پر دو قسم کی فیس لگتی ہے:Insertion feesاور نوٹس فیس جو کہ پراپرٹی فروخت ہونے پر وصول کیاجاتا ہے،یہ دونوں فیس لسٹنگ کرتے ہوئے متعین کیے جاتے ہیں۔
۵…:Fees foroptional listing upgradesلسٹنگ میں مخصوص خصوصیات شامل کرنے کی الگ فیس وصول کی جاتی ہے، جیسا کی ذیلی عنوان لگاکر یا فونٹ کو موٹا کر کے نمایاں کیا جائے تا کہ خریداروں کی توجہ اور پروڈکٹ کے فروخت کے امکانات کو بڑھایا جائے ،یہ فیس پروڈکٹ کی قیمت ،لسٹنگ کے طریقہ کار اور مدت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔
۶…:Additional final value feesکسی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے جیسے شپنگ  کی غلط معلومات فراہم کرنے یا ڈیلیوری میں مقررہ مدت سے تاخیر کرنے کی وجہ سےFinal value feesکے نام سے اضافی فیس وصول کی جاتی ہے۔
۷…تنازعہ فیس((Dispute fees:اگر خریدار سیلر کے پروڈکٹ کے خلاف شکایت کرتا ہے اور قیمت کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے، ای بے اس کے متعلق جانچ پڑتال کر کے فیصلہ کرتا ہے، خریدار کے حق میں فیصلہ آنے کی صورت میں ای بے سیلر سے Dispute feesوصول کرتا ہے۔
۸…بین الاقوامی فیس(International fees):امریکہ سے باہر کے خریدار کو فروخت کرنے پر یہ اضافی فیس سیلر سے وصول کیا جاتا ہے، یعنی خریدار کا ڈیلیوری ایڈریس امریکہ سے باہر ہے یا خریدار کا رجسٹرڈ ایڈریس امریکہ سے باہر ہےاگر چہ ڈیلیوری امریکہ میں ہی ہو،اور Ebay international shippingسروس استعمال نہ کرے بلکہ خود شپنگ کر رہا ہو، یہ فیس ہر ملک کے لیے فیصد کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے۔
۹…Seller currency conversion charge:اگر سیلر اپنے ملک کے علاوہ ای بے ویب سائیٹ پر لسٹنگ کرتا ہے تو اس ملک کی فیس اور ادائیگی مقامی کرنسی میں ہوتی ہے، ای بے اس رقم کو سیلر کی کرنسی میں خود کار طریقے سے بدل دیتا ہے، اس عمل پرCurrency conversion chargeکے نام سے فیس وصول کیا جاتا ہے۔
۱۰…https://www.ebay.com/help/selling/fees-credits-invoices/selling-fees?id=4822
۱۱…ایک ہی معاملہ میں ای بے کامختلف قسم کی فیسوں کے وصول کرنے کاشرعاً کیا حکم ہے؟ نیز ای بے کا مذکورہ بالا خدمات کے عوض فیسوں کی وصولی کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں ’’ای بے‘‘ اگر ناجائز کاروبار اور حرام اشیاء کے اشتہار لگانے کے عوض فیس وصول کرتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے، اگر جائز کاروباراور حلال اشیاء کے اشتہار لگانے  کے عوض فیس وصول کرتا ہے تو یہ جائز ہیں، اسی طرح دیگر مذکورہ بالا تمام خدمات کے عوض فیس وصول کرنا جائز ہےسوائے Dispute feesاورAdditional value feesکے، کیونکہ بغیر شرعی وجہ کے کسی کا مال بطور جرمانہ کے لینا درست نہیں ہے۔
لما في التنزيل العزيز:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ}.(سورة النساء:29)
وفي التنزيل العزيز:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾.(سورة المائدة:2)
وفي التنوير مع الدر:
’’ (لا تصح الإجارة لعسب التيس)وهو نزوه على الإناث(و)لا(لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي)‘‘.(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة: 92/9، رشيدية)
وفي البحر الرائق:
’’ (ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي)؛لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجرة من غير أن يستحق عليه؛لأن المبادلة لا تكون إلا عند الاستحقاق وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه‘‘.(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة: 35/8، رشيدية)
وفي الموسوعة الفقهية:
’’الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة وعقدها باطل لا يستحق به أجرة.....ولا يجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها،ولا على حمل الخنزير‘‘.(اجارة، الإجارة على المعاصي والطاعات: 290/1، مكتبة علوم الإسلامية كوئته).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:194/50