گناہوں کا دنیوی و اخروی وبال

idara letterhead universal2c

گناہوں کا دنیوی و اخروی وبال

 شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیدالله خالد

الحمد للّٰہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونوٴمن بہ ونتوکل علیہ، ونعوذ باللّٰہ من شرور أنفسنا ومن سیاٰت أعمالنا، من یھدہ اللّٰہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا اللّٰہ وحدہ وحدہ وحدہ لا شریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولٰنا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا وداعیا إلی اللّٰہ بإذنہ وسراجا منیرا، أما بعد! فأعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم، بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم: ﴿فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ، ومن یعمل مثقال ذرة شرا یرہ﴾․ صدق اللّٰہ مولٰنا العظیم․
میرے محترم بھائیو، بزرگو اور دوستو! اللہ تعالیٰ کا نظام اس پوری کائنات کے حوالے سے اور بالخصوص اشرف المخلوقات انسان کے حوالے سے متعین،منظم اور مرتب ہے، اللہ تعالیٰ نے اگر آج سے سو ہزار سال پہلے یہ مقدر فرمایا ہے کہ سورج آج سو ہزار سال بعد اس وقت نکلے گا تو وہ اسی وقت نکلے گا اور اگر اللہ تعالیٰ نے سو ہزار سال پہلے یہ مقدر فرمایا ہے کہ سورج آج سو ہزار سال بعد اس وقت غروب ہوگا تو وہ اسی وقت غروب ہوگا، اس میں کوئی رد وبدل اور اس میں کوئی ترمیم اور اضافہ نہیں۔
باقی دنیا بھی نظم، وقت اور سسٹم کا دعوٰی کرتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا جو نظم ہے وہ اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتی۔
ہم لوگ گھڑیاں استعمال کرتے ہیں، بہت سی کمپنیاں ایسی ہیں جو اپنی گھڑی کے اشتہار میں یہ لکھتی ہیں کہ ہماری گھڑی کا ٹائم، سورج کے مقررہ ٹائم کے مطابق ہے، جیسے سورج کبھی ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہوتا، اسی طرح ہماری گھڑی کا ٹائم بھی ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہوتا، لیکن میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی جانتے ہیں کہ کوئی گھڑی دنیا میں ایسی نہیں ہے، جو آگے پیچھے نہ ہو، کبھی پانچ منٹ آگے، کبھی پانچ منٹ پیچھے اور کبھی بند، اللہ کے ہاں ایسا نہیں۔
چناں چہ جیسے سورج، چاند، تارے، آسمان، زمین اور پوری کائنات اس کا ایک نظم ہے، کوئی چیز غیر مرتب، غیر منظم نہیں، بالکل اسی طریقے سے اللہ تعالیٰ کے وہ قوانین جو اشرف المخلوقات انسان کے حوالے سے ہیں، وہ بھی منظم، مرتب اور ایسے ہیں کہ ان میں کوئی تبدیلی نہیں، چناں چہ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی قوانین بنائے ہیں، جتنے بھی اصول بنائے ہیں وہ انسان کے مفاد میں بنائے ہیں، تاکہ یہ انسان کام یاب ہوجائے، اس کو فائدہ حاصل ہوجائے اور یہ نقصان سے تباہی سے بچ جائے، اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ کوئی بہانہ ہو اور یہ انسان عذاب سے بچ جائے اور آخرت کی تباہی سے بچ جائے۔
چناں چہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ﴾ ایک اصول ہے، ایک ضابطہ ہے، پس جو کوئی بھی ایک ذرے کے وزن کے برابر نیکی کرے گا، اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے اور اس کا نتیجہ مرتب ہوگا، اس سے اس انسان کو فائدہ ہوگا اور اسی طرح سے فرمایا: ﴿فمن یعمل مثقال ذرة شرا یرہ﴾ اورجو کوئی ذرے کے وزن کے برابر کوئی بدی، گناہ اور شر کرے گا، اس کا نتیجہ بھی مرتب ہوگا، اس کا نقصان بھی اس آدمی کو اٹھانا پڑے گا۔
چناں چہ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑے بڑے مجرموں کو اگر وہ معافی مانگ لیں، توبہ کرلیں تو معاف فرما دیتے ہیں۔
مثلاً اگر کوئی مشرک توبہ کرلے اور وہ ایمان کی کیفیات کو قبول کرلے تو اس کے شرک کا سارا کا سارا گناہ معاف ہوجاتا ہے۔
حالاں کہ شرک ایسا گناہ ہے اور ایسا کبیرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ بندے کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں، لیکن شرک کی بخشش نہیں فرماتے، مشرک کی بخشش نہیں فرماتے، چناں چہ اگر مشرک بھی توبہ کرلیتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع اختیار کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بھی بخشش فرما دیتے ہیں۔
آپ جانتے ہیں کہ بہت سی دفعہ آدمی شرک خفی کے اندر مبتلا ہوتا ہے، ایک تو شرک جلی ہے، کہ ایک آدمی نے بت کو خدا بنایا ہوا ہے۔ درخت کو خدا بنایا ہوا ہے اور بہت سی چیزوں کو جیسے کہ عام مشرکین کا طریقہ ہے۔ لیکن بعض دفعہ شرک خفی ہوتا ہے، ایک آدمی کو پیسے پر اتنا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اتنا یقین نہیں ہے، کوئی بھی معاملہ پیش آجائے تو فوراً نظر پیسوں کی طرف جاتی ہے کہ پیسہ ہے، حالاں کہ سب سے پہلے تو نظر اللہ تعالیٰ کی طرف جانی چاہیے کہ اللہ ہیں، اللہ تعالیٰ میری اس مشکل کو حل فرمائیں گے اور اللہ تعالیٰ میری اس مشکل کو آسان فرمائیں گے، لیکن آدمی سونا، چاندی، پیسہ، مکان، جائیداد، عزت، دولت، منصب، عہدے، وہ ان کو موٴثر سمجھتا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف اس کا رجوع اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کا لوٹنا نہیں ہے تو علماء فرماتے ہیں کہ یہ بھی شرک خفی کے اندر آتا ہے۔
چناں چہ شرک بہت بڑا گناہ ہے اور اس کی معافی نہیں ہے، ہمارے ہاں بہت دفعہ جہالت کی وجہ سے، نادانی کی وجہ سے، لا علمی کی وجہ سے مزارات پر جاتے ہیں اور جا کر صاحب مزار سے مانگتے ہیں، یہ شرک ہے، کھلا شرک ہے، اس کی شریعت کے اندر اجازت نہیں، آپ حیران ہوں گے کہ میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے، کسی سے سنا نہیں ہے کہ با قاعدہ صاحب قبر، صاحب مزار کا باقاعدہ طواف ہورہا ہے، جیسے بیت اللہ کا طواف ہوتا ہے۔
قبر ہے تو قبر کے چار اطراف ہیں، چار سمتیں ہیں، ایک سمت ہے مشرق والی، ایک سمت ہے مغرب والی، ایک سمت ہے شمال والی، ایک سمت ہے جنوب والی، اب ایک آدمی ہے، قبر اس کے لیے مغرب کی جانب میں ہے تو اگر چہ یہ بھی جائز نہیں، لیکن خیال آتا ہے کہ شاید یہ قبر کو سجدہ نہ کر رہا ہو، مغرب کی طرف قبلہ ہے، قبلے کی طرف سجدہ کررہا ہو، لیکن جو آدمی مشرق کی طرف سجدہ کر رہا ہے، جو آدمی شمال ، جنوب کی طرف سجدہ کر رہا ہے، اس میں تو کوئی تاویل ہو ہی نہیں سکتی کہ وہ قبر کو سجدہ نہیں کر رہا۔
صاحب قبر سے اولاد مانگنا، عزت مانگنا، نوکری مانگنا، میرے دوستو! یہ خالص شرک ہے۔
اسی طرح بڑے گناہوں میں سے ایک کینہ ہے، ایک آدمی بظاہر آپ سے ملتا ہے، بظاہر آپ سے معانقہ بھی کرتا ہے، بظاہر آپ کو دیکھ کر مسکراتا بھی ہے، لیکن اندر سے کینے کی آگ میں جل رہا ہے، اس کا مکان ایسا کیوں ہے؟ اس کی سواری ایسی کیوں ہے؟ اس کا لباس ایسا کیوں ہے؟ اس کی ایسی نوکری کیوں ہے؟ بھئی! اللہ کی دین ہے، اللہ نے اس کو دیا ہے۔
علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو کینہ پرور ہے اور حاسد ہے وہ اصل میں اس آدمی سے نہیں جل رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ سے ناراض ہو رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو رد کررہا ہے، چناں چہ حاسد اور کینہ پرور جو بظاہر تو آپ کی مجلس میں بھی بیٹھتا ہے، جوبظاہر آپ سے ملتا جلتا بھی ہے، لیکن اندر سے جل رہا ہے۔ جب کہ اسلام یہ تاکید کرتا ہے کہ جب بھی اپنے مسلمان بھائی کو نعمتوں میں اور خوش حالی میں دیکھو تو اللہ کا شکر ادا کرو اور دعا کرو کہ اے اللہ! اس کی اس خوش حالی میں اور اضافہ فرما، اے اللہ! اس کی نعمتوں میں اور برکتیں عطا فرما، تو اللہ رب العزت خوش ہو کر کہ اس بندے نے میرے فیصلے کو قبول کیا ہے، اس دعا دینے والے کو اس سے بھی زیادہ نوازتے ہیں، تو ہمارا دین تو ہمیں یہ سکھاتا ہے، لیکن آج یہ کینے اور حسد کی آگ ہر طرف جل رہی ہے، چھوٹے گھروں میں، بڑے گھروں میں، ہر طرف، کوئی دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جب کہ دین اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔
اسی طرح بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ماں باپ کی نافرمانی ہے، بہت خوف ناک بات ہے، وہ ماں جس نے نو مہینے اپنے پیٹ میں اٹھایا، کیسی کیسی تکلیفیں، مشکلیں برداشت کیں، اٹھائیں اور پھر تمہیں جَنتے وقت جو اس نے تکلیف اٹھائی اس تکلیف کا کوئی تصور نہیں، خوف ناک تکلیف اور اس کے بعد آپ شیر خوار تھے اپنی چھاتی سے دودھ پلایا، اس نے آپ کا پیشاب، پاخانہ صاف کیا، اس نے آپ کی ضرورتوں کا خیال کیا اور اس نے آپ کی پرورش کر کے آپ کو بڑا کیا اور باپ، وہ اس سب کے پیچھے ہے، اگر باپ نہ ہو تو ماں نہیں۔
چناں چہ ماں کے اس کردار میں باپ پیچھے کھڑا ہوا ہے، اس کا کتنا بڑا کردار ہے اور کوئی ماں، کوئی باپ اپنی اولاد کا برا سوچ ہی نہیں سکتا، لیکن آج کی صورت حال یہ ہے کہ اولاد ماں باپ سے سیدھے منھ بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔
آج ہم ماں باپ کی خدمت تو دور، ماں باپ کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں،آج ہم ان کے بڑھاپے میں ان کے دست وبازو بننے کے لیے تیار نہیں، آج ہمیں ماں باپ کی کھانسی بری لگتی ہے، کیا کھڑ کھڑ کر رہے ہیں، آج ہم ماں باپ کو اپنے گھر میں رکھنے کے لیے تیار نہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ انتہائی بد بختی ہے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ بہت سے گناہ ایسے ہیں جن کا وبا ل مرنے کے بعد سامنے آئے گا، لیکن ماں باپ کی نافرمانی کا گناہ اتنا خوف ناک ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا وبال اسی دنیا میں دکھاتے ہیں، آج جو ماں باپ کو تنگ کر رہے ہیں، آج جو ماں باپ سے لڑ رہے ہیں، آج جو ماں باپ کے سامنے اونچی آواز سے باتیں کر رہے ہیں، آج جو ماں باپ کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، یہ بات اپنی ڈائری میں جا کے نوٹ کر لیجیے گا کہ جس عمر میں آپ نے اپنے ماں باپ کے ساتھ ایسا سلوک کیا، اسی عمر میں آپ کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوگا، دنیا میں اللہ تعالیٰ دکھاتے ہیں۔
چناں چہ ماں کا احترام، آج وہ لوگ جو جھوٹے ہیں، وہ لوگ جو دھوکے باز ہیں، وہ لوگ جو دغا دیتے ہیں، وہ لوگ جو انسانیت کے دشمن ہیں، آج وہ لوگ پتہ نہیں کس منھ سے ماں کا دن مناتے ہیں، حالاں کہ ان کے معاشرے میں ماں کی کوئی حیثیت نہیں، ان کے معاشرے میں باپ کی کوئی حیثیت نہیں۔
ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے، اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ تمہاری ماں کے پاوٴں کے نیچے جنت ہے، تم اپنی ماں کی خدمت کروگے تو سیدھے جنت میں جاوٴ گے۔
یہ بھی یاد رکھیں جیسے میں نے بتایا کہ اگر آپ نے والدین کو ستایا ہے تو آپ کو بھی اس دنیا میں آخرت سے پہلے ستایا جائے گا اور بالکل اس کا الٹ بھی کہ جس اولاد نے دنیا میں اپنے والدین کی بے لوث خدمت کی، دن ہو، رات ہو، تھکے ہوئے ہوں، لیکن ماں باپ نے آواز دی تو دل وجان سے حاضر ہوں، ہر طرح کی خدمت جو انسان کے بس میں ہے آپ نے کی تو یاد رکھیں کہ آخرت میں جو اللہ تعالیٰ بدلہ دیں گے وہ تو ملے گا، اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں، ایسا آدمی کبھی ناکام نہیں ہوسکتا۔
اسی طریقے سے ایک گناہ شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ہے، چناں چہ جو شخص اسبال ازار کرتا ہے اور اپنی شلوار اور اپنی ازار ٹخنوں سے نیچے رکھتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ متکبر ہے، وہ مغرور ہے، ایک تو یہ ہے کہ بے توجہی اور بے دھیانی کی وجہ سے بعض دفعہ ذرا سی شلوار ٹخنوں سے نیچے ہوگئی، جیسے ہی توجہ ہوئی آپ نے فوراً اوپر کر لی تو وہ اس میں شامل نہیں، چاہے پتلون ہو، چاہے شلوار ہو، چاہے پاجامہ ہو، چاہے لنگی ہو، اگر وہ ٹخنوں سے نیچے ہے اور اس کی عادت ہے تو یاد رکھیں کہ یہ تکبر ہے۔
اور یہ بھی یاد رکھیں کہ بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ نماز کے لیے ضروری ہے، یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے، اس کا تعلق صرف نماز سے نہیں، بلکہ ہر وقت ہے۔ یہ نہیں کہ جب مسجد میں داخل ہوں گے یا صف کے قریب ہوں گے تو شلوار، پتلون کو اوپر کرلیں گے اور جیسے ہی نماز ختم ہوئی تو پائنچے دوبارہ نیچے کرلیے، لیکن یاد رکھیں کہ اس کا تعلق صرف نماز سے نہیں، بلکہ اس کا تعلق ہر وقت سے ہے۔
جو آدمی ایساکرتا ہے تو اس کے پیچھے جو بنیاد ہے وہ غرور ہے، کبر ہے، وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور تکبر کرنے والا اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔
میں نے ابتدا میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر بہت مہربان ہیں، آپ صبح شام پڑھتے ہیں، کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رحمن ہیں، اللہ تعالیٰ رحیم ہیں، اللہ تعالیٰ غفور ہیں، اللہ تعالیٰ غفار ہیں، حنان ہیں، منان ہیں، ودود ہیں، یہ سب صفات ہیں اللہ تعالیٰ کی، تو اللہ تعالیٰ تو اپنے بندے کو سزا نہیں دینا چاہتے، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو جہنم نہیں بھیجنا چاہتے، اللہ تعالیٰ بندے کو قبر میں عذاب نہیں دینا چاہتے، لیکن اگر بندہ ہی منکر ہو جائے، بندہ ہی کافر ہوجائے، بندہ ہی مشرک ہوجائے، بندہ ہی باوجود اللہ تعالیٰ کی نعمت، اس کی عطا اور مہربانیوں کے نافرمان اور اس کی ناشکری کرنے لگے، پھر وہ قابل سزا اور قابل عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچنے کا اہتمام نصیب فرمائے۔
ربنا تقبل منا إنک انت السمیع العلیم، وتب علینا إنک أنت التواب الرحیم․

مجالس خیر سے متعلق