سیلاب اور آسمانی آفات میں مسلمانوں کا طرز عمل

idara letterhead universal2c

سیلاب اور آسمانی آفات میں مسلمانوں کا طرز عمل

ضبط و تحریر: ابو عکاشہ مفتی ثناء اللہ خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبید اللہ خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے، تاکہ ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہوسکیں۔ (ادارہ)

الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونومن بہ نتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیات أعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ ونشھد أن لا الہ إلا اللہ وحدہ وحدہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولنا محمداً عبدہ ورسولہ أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا وداعیا إلی اللہ بإذنہ وسراجا منیرا․

اما بعد فأعوذ باللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم: ﴿ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس﴾، وقال اللہ سبحانہ وتعالیٰ: ﴿فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یرہ ومن یعمل مثقال ذرة شرا یرہ﴾․ صدق اللّٰہ مولٰنا العظیم․

میرے محترم بھائیو، بزرگو اور دوستو! قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ظھر الفساد فی البر والبحر﴾، تباہی بربادی، فساد ظاہر ہوگیا خشکی اور تری میں، بر اور بحر میں اور یہ تباہی یہ بربادی، یہ فساد تری اور خشکی میں کیوں ظاہر ہوا؟ ﴿بما کسبت ایدی الناس﴾، یہ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا نتیجہ ہے۔

ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿فمن یعمل مثقال ذرہ خیرا یرہ…﴾، پس جو کوئی ذرے کے وزن کے برابر بھی نیکی اور خیر کرے گا وہ اس کا بہترین نتیجہ ضرور دیکھے گا اور جو کوئی ذرے کے وزن کے برابر کوئی شر اور کوئی بدی کرے گا وہ بھی اس کا نتیجہ ضرور دیکھے گا۔

آدمی اپنے اس خطے میں طرح طرح کی آفات اور طرح طرح کی ناگہانیوں کو اور عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے فصلیں، آباد گھرانے منٹوں سیکنڈوں کے اندر تباہ وبرباد ہوگئے، جہاں خوشیوں کے نغمے گائے جارہے تھے وہاں موت کا سناٹا چھا گیا، وہ پتھر وہ چٹانیں جنہیں پچاس پچاس آدمی بھی حرکت نہیں دے سکتے وہ پانی کے زور میں بہہ رہے ہیں اور علاقے تباہ وبرباد، یہ سب کیا ہے؟ یہ سب عذاب الہی ہے اور یہ سب انسانوں کے کرتوت ہیں اور یہ سب انسانوں کی بد اعمالیاں ہیں، جس کے نتیجے میں اللہ کا غضب اور اللہ کا عذاب آتا ہے۔

چوں کہ اس طرح کی باتوں کا آج ماحول نہیں ہے، ان چیزوں پہ آج ایمان اور یقین نہیں ہے، ان چیزوں کو اجنبی اجنبی سمجھا جاتا ہے، جہاں کوئی حادثہ ہوا فوراً سائنسی تجزیے شروع ہوجاتے ہیں، یوں ہوا تو یو ں ہوا، یوں ہوا تو یوں ہوا۔

کوئی بھی اصحاب اقتدار سے لے کر عام لوگوں تک، کسی کے منھ پر یہ نہیں آتا کہ یہ ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے، ﴿ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس﴾، یہ جو تری اور خشکی میں فساد برپا ہوا ہے اور تباہی آئی ہے، یہ کوئی انسان نہیں لا سکتا ، یہ جو خبریں آپ نے سنیں کیا یہ کوئی انسان کرسکتا ہے؟ اتنے بڑے بڑے چٹان پانی کے سامنے بھاگ رہے ہیں، جس کو سو سو آدمی بھی حرکت نہیں دے سکتے ۔

وہ آبادیاں جنہیں لوگوں نے بہت مضبوط اپنے خیال میں بنایا تھا، وہ تنکوں کی طرح بہہ رہی تھیں، یہ سب ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے، ہم نے کبھی غور نہیں کیا اس پر کہ ہمارے اس خطے میں گرمیوں میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی چھٹیوں میں، جن علاقوں میں یہ خوفناک عذاب آیا ہے وہاں یہ لوگ جا کر کیا کرتے ہیں؟ کیسے کیسے گناہ وہاں کیے جاتے ہیں، ایسے جیسے کوئی حیوان ہوں، شاید حیوانوں میں بھی شرم وحیا ہوتی ہے ان میں وہ بھی ختم ہوگئی ہے۔

ناچ رہے ہیں، گا رہے ہیں، لڑکے ہیں، لڑکیاں ہیں، نیم برہنہ ہیں، ہوٹلوں میں کمروں میں رہ رہے ہیں، کیا کیا ہو رہا ہے۔

میرے دوستو! یہ عذاب ہے، جس عذاب سے آج ہم متاثر ہیں، اور بحیثیت عبد اللہ، بحیثیت اللہ کا بندہ ہونے کے، بحیثیت مسلمان ہونے کے، ہمیں ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع ہونا چاہیے، اللہ کی کتاب سچی کتاب ہے، ﴿ذلک الکتاب لا ریب فیہ﴾، اس کتاب میں کوئی شک، کوئی تردد کچھ نہیں، لہٰذا یہ جو عذاب آرہے ہیں یہ ہمارے گناہوں کے نتیجے میں ہیں۔ میں عرض کر رہا ہوں کہ نہ قوم، نہ حکومت، نہ اصحاب اقتدار، کوئی قوم کو اس طرف متوجہ نہیں کر رہا کہ توبہ کرو، صدقہ خیرات کرو، اللہ کی طرف رجوع ہو، اللہ کی پناہ مانگو، اپنے لیے بھی مانگو، سب کے لیے مانگو، یہ کوئی نہیں کہتا۔

سائنسی تجزیے، جھوٹ خالص جھوٹ، میرا تو ذاتی تجربہ ہے کہ جب محکمہ موسمیات والے اعلان کرتے ہیں کہ کراچی میں فلاں تاریخ کو بارش ہوگی، اس تاریخ کو کوئی بارش نہیں ہوتی، یہ تو اللہ کا نظام ہے، یہ اللہ کے اقتدار میں ہیں، اللہ کے اختیار میں ہیں، یہ موسم اللہ نے بنائے ہیں، سردیاں اللہ نے بنائی ہیں، گرمیاں اللہ نے بنائی ہیں، برسات کا موسم اللہ نے بنایا ہے، بہار کا موسم اللہ نے بنایا ہے، یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں، لیکن ہمارے گناہ اور ہماری خطائیں اور ہمارے وہ برے اعمال جو اللہ کو ناراض کرنے والے ہیں وہ اللہ کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں۔

چناں چہ من حیث القوم ہمیں اپنی طرف سے بھی، قوم کی طرف سے بھی مسلسل توبہ کرنی چاہیے، جس کا جو دائرہ ہو، جس کا جہاں تعلق ہو وہ لوگوں کو اس کی ترغیب دے کہ توبہ کریں، اللہ نے اگر جان بچالی تو یہ بچی ہوئی جان اللہ کی طرف رجوع میں گزارنی چاہیے، اللہ کی بندگی میں گزارنی چاہیے۔

اور اس کے بعد بھی اگر آزمائش آئے، قرآن کریم میں ہے: ﴿ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع ونقص من الأموال والأنفس والثمرات وبشر الصابرین﴾․

ہم آزمائیں گے اور کتنی تاکید سے فرمایا کہ ہم البتہ ضرور بالضرور آزمائیں گے اور مختلف طرح سے آزمائیں گے، کبھی خوف کے ساتھ آزمائیں گے، کبھی بھوک دے کر آزمائیں گے، کبھی قحط کے ساتھ آزمائیں گے، کبھی باغات کو ختم کر کے آزمائیں گے، ضرور آزمائیں گے، لیکن آخر میں کیا ہے؟ وبشر الصابرین، جو صبر کرنے والے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع ہونے والے ہیں اور ان تمام چیزوں کو اللہ کی طرف منسوب کر نے والے ہیں کہ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ہم اللہ کے فیصلوں پر صابر ہیں، ہم اللہ کے فیصلوں پر مطیع اور فرماں بردار ہیں، یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ حاکم بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ حکیم بھی ہیں، اللہ کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں، اللہ کے ہر حکم میں حکمت موجود ہے، چناں چہ جو صبر کرنے والے ہیں اور جو رجوع اور انابت اختیار کرنے والے ہیں، ان کے لیے اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ آپ صبر اختیار کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے اور وہ صبر کیسے کرتے ہیں، تو فرمایا: ﴿الذین إذا اصابتہم مصیبة﴾، جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے، کوئی آزمائش آتی ہے، تو وہ کیا کہتے ہیں، ﴿إنا للہ وإنا إلیہ راجعون﴾، وہ سائنسی تجزیے نہیں کرتے، وہ ٹیکنالوجی کی بات نہیں کرتے، وہ کیا کہتے ہیں، إنا للّٰہ، بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں، ہم اللہ کے بندے ہیں، وإنا إلیہ راجعون اور ہمیں اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

چناں چہ ان حالات میں ہمیں بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہیے ، خوشیاں منانا منع نہیں ہے، لیکن ہر چیز کی کچھ حدود ہیں، قیود ہیں، خوشی منانے کا یہ مطلب تو نہیں کہ آدمی کپڑے ہی اتار دے، ننگا ہو جائے اور اللہ تعالی کے احکامات کو ایک طرف اٹھا کر پھینک دے، جب ایسا ہوتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے اور اللہ تعالیٰ پھر گرفت فرماتے ہیں اور وہ گرفت اور عذاب بھی اسی لیے ہوتا ہے، تاکہ ہم سمجھ جائیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اورانابت اختیار کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں، جمعے کا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں، ایک دیہاتی اعرابی صحابی مسجد میں داخل ہوئے اور دروازے کے پاس کھڑے ہو کر کہا کہ اے اللہ کے رسول! قحط ہے، شدید قحط ہے، بارش نہیں ہورہی اور ہمارے جانور مر رہے ہیں، ہمارے باغات سوکھ رہے ہیں، ہم موت کی طرف جارہے ہیں، اے اللہ کے رسول! آپ دعا کیجیے کہ بارش ہو جائے، بارش کیا ہے؟ اللہ کی مخلوق ہے، تو فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ ارشاد فرمایا اللّٰہم أغثنا، اللّٰھم أغثنا، اے اللہ ہمیں بارش عطا فرما، بارش کے ذریعے ہماری مدد فرما، چناں چہ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ابھی ہم جمعہ کی نماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے، ایسی بارش شروع ہوئی کہ ہمارے لیے مسجد سے اپنے گھروں کو جانا مشکل ہوگیا، نالیاں بہہ رہی ہیں، راستوں میں پانی ہے، ہر طرف پانی ہے، بارش، بارش، ایک ہفتے تک بارش، اگلا جمعہ آیا تو وہی صحابی دیہات کے، پھر تشریف لائے اور اسی جگہ کھڑے ہو کر انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! اتنی بارشیں ہو رہی ہیں کہ اب تو ان بارشوں کی وجہ سے ہمارے مویشی مر رہے ہیں، ہمارے گھر تباہ ہو رہے ہیں، اے اللہ کے رسول! دعا فرمائیے کہ بارش تھم جائے۔ آپ نے پھر دعا فرمائی، اللھم حوالینا ولا علینا، اے اللہ! ہمارے ارد گرد برسا، ہم پر نہ برسا، اسے ٹیلوں پر برسا، ہم پر نہ برسا، صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ ہم نے آسمان میں دیکھا کہ جیسے ہار ہوتا ہے، بیچ میں سے خالی ہوتا ہے، تو مدینہ منورہ کا آسمان ہار بن گیا کہ بیچ میں مدینہ بادلوں سے خالی اور اردگرد بادل اور بارش ہو رہی ہے اور مدینہ میں نہیں ہو رہی۔ (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب الاستسقاء، باب من تمطر فی المطر حتی یتحادر علی لحیتہ، رقم: 1033)

یہ سب کیا ہے؟ یہ سب واقعات ہیں، جو ہمیں سبق دیتے ہیں کہ یہ سب مخلوق ہیں اور اللہ رب العزت کی طرف رجوع اور انابت چاہیے،آپ حیران ہوں گے کہ جیسے آپ فجر کی نماز پڑھتے ہیں، جیسے آپ ظہر کی نماز پڑھتے ہیں، جیسے آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں، جیسے آپ عصر، مغرب عشاء کی نماز پڑھتے ہیں۔ جیسے آپ تہجد، اشراق، اوابین کی نماز پڑھتے ہیں، ایسے ہی صلوة الاستسقاء ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے با قاعدہ بارش مانگنے کے لیے نماز پڑھی ہے، اس کا نام صلوٰة استسقاء ہے، سورج کو گہن لگ جاتا ہے، چاند کو گہن لگ جاتا ہے، کسوف، خسوف اس کی نماز ہے، لوگوں میں بہت سی خرافات جیسے آج کل بھی ہیں کہ سورج گرہن کسی بڑے آدمی کے مرنے سے ہوتا ہے یا کسی بڑے آدمی کے پیدا ہونے سے ہوتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ چاند، ستارے، سورج سب اللہ کی مخلوق ہیں، چناں چہ صلوة کسوف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمائی، صلوة استسقاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمائی، (قال سمرة: بینما أنا یوما وغلام من الأنصار نرمی غرضا لنا علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حتی إذا کانت الشمس علی قدر رعین أو ثلاثة فی عین الناظر من الأفق اسودت حتی آضت کانھا تنومة، فقال أحدنا لصاحبہ: انطلق بنا إلی المسجد․․․․ فوافقنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حین خرج إلی الناس قال: فتقدم وصلی بنا․․․․ ثم سلم فحمد اللہ وأثنی علیہ․․․․ وقال أما بعد، فإن رجالا یزعمون أن کسوف ہذہ الشمس وکسوف ہذا القمر وزوال ہذہ النجوم عن مطالعھا لموت رجالٍ عظماء من أھل الأرض وإنھم کذبوا، ولکن آیات من آیات اللہ یفتن بھا عبادہ لینظر من یحدث منھم توبة․․ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب الکسوف، رقم: 1230)

اس سے کیا معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ سے مانگنا چاہیے، اگر بارش زیادہ ہو جائے تب بھی اللہ سے مانگنا ہے کہ اے اللہ! ہمارے گھر تباہ ہو رہے ہیں، اے اللہ! ہمارے کھیت تباہ ہو رہے ہیں۔ اے اللہ! ہمارے جانور تباہ ہو رہے ہیں۔ اے اللہ! ہمارے ارد گرد برسا، جہاں ضرورت ہے وہاں برسا، ہم پر نہ برسا۔

تو یہ اللہ کے بندے اور اللہ کے درمیان تعلق ہے، جو اسلام عطا فرماتا ہے کہ ہمیں ہر حال میں، چاہے خوشی کا موقع ہو، چاہے غمی کا موقع ہو، ہمیں رجوع اللہ کی طرف کرنا ہے، ہمیں انابت اللہ کی طرف اختیار کرنی ہے، دعا اللہ سے مانگنی ہے اور اللہ سے زیادہ کون ہے جو دعاوٴں کو قبول کرتا ہو، اللہ تعالیٰ ہر دعا قبول فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ادعوا اللّٰہ وأنتم موقنون بالإجابة، واعلموا أن اللّٰہ لا یستجیب دعاءً من قلب غافل لاہ․ (سنن الترمذی، ابواب الدعوات، رقم: 3479)

دعا کے بارے میں طے ہے کہ کوئی دعا رد نہیں ہوتی، بعض دفعہ ہم سوچتے ہیں کہ ایک سال ہوگیا ہے، ہماری دعا قبول نہیں ہو رہی تو یاد رکھیے! حدیث میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوں کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہیں، عالم الغیب ہیں، ما کان اور ما یکون کا علم اللہ کے پاس ہے، تو اللہ یہ جانتے ہیں کہ یہ بندہ جو مانگ رہا ہے وہ اس کے مفاد میں نہیں، یہ تو مانگ رہا ہے، لیکن اسے نہیں پتہ کہ یہ اس کے مفاد میں نہیں، تو اللہ تعالیٰ بندے کی مصلحت کے پیش نظر اسے موٴخر فرماتے ہیں، ابھی اگر اسے دے دیا تو نقصان ہو جائے گا، چناں چہ بعض دفعہ سال بھر، بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ، تاخیر ہوجاتی ہے، دعا رد نہیں ہوتی، بعض دفعہ اللہ تعالی سمجھتے ہیں کہ یہ جو مانگ رہا ہے اس دنیوی حیات اور زندگی میں اس کے لیے مفید نہیں، نقصان ہو جائے گا، یہ آپے سے باہر ہو جائے گا، یہ بہک جائے گا، چناں چہ وہ چیز بندے کو دنیا میں نہیں دی جاتی۔

اور بعض دفعہ وہ دنیا میں مل جاتی ہیں، آپ نے دعا کی، آہ وزاری کی، رجوع کیا اور آپ نے اللہ سے جو مانگا اللہ نے وہ عطا کردیا، کچھ کو موٴخر کردیا، کچھ کو آخرت کے لیے موٴخر کردیا، رد کسی کو نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ میدان حشر میں پہنچے گا تو بہت بڑا ڈھیر ہوگا ثواب کا، اللہ تعالیٰ پوچھیں گے جانتے ہو یہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ تمہاری وہ دعائیں ہیں جو ہم نے دنیا میں قبول نہیں کی تھیں، تمہارے لیے آخرت میں ذخیرہ کردیا تھا، تو بندہ کہے گا کاش! دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی، آج مجھے ساری کی ساری مل جاتیں۔ (الترغیب والترھیب، کتاب الذکر والدعاء، باب کثرة الدعاء: 2/ 479)

تو اللہ کی طرف رجوع ہوں، انابت ہو، اللہ سے مانگا جائے اور اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہیں جو مانگنے کے سزاوار ہیں، جس سے مانگا جائے اللہ کے علاوہ کون ہے؟ مزاروں پہ جاکر نہیں مانگنا، پیروں فقیروں سے نہیں مانگنا، فلاں اور فلاں سے نہیں مانگنا، اللہ سے مانگنا ہے، چناں چہ وہ اللہ جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، ہر چیز جس کے اختیار میں ہے، ہم اللہ کی طرف رجوع ہوں، دیر تک مانگیں، ہر انداز مانگنے کا اختیار کریں، جیسے دنیا والوں سے مانگنے کے لیے طرح طرح کے طریقے اختیار کرتے ہیں کہ ِاس طرح مانگیں گے تو شاید مل جائے گا اُس طرح مانگیں گے تو شاید مل جائے گا۔

میرے دوستو! اللہ کے سامنے مناجات ہو، سر گوشیاں ہوں، ہاتھ اٹھاکر بھی ہوں اور بغیر ہاتھ اٹھائے بھی ہوں، بیٹھے ہوئے بھی ہوں اور چلتے پھرتے بھی ہوں، ہر وقت اللہ سے تار جڑا ہوا ہو، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

مجالس خیر سے متعلق