کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بوہرہ فرقہ کی قربانی کا گوشت کھانا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ ذبیحہ کے حلال ہونے کے لئے ذابح (ذبح کرنے والے) کا مسلمان یا اہل کتاب ہونا ضروری ہے، کافر کا ذبیحہ حلال نہیں، لہذا بوہرہ فرقہ کے ذبیحہ کا گوشت کھانا ناجائز اور حرام ہے۔لما في التنوير:’’(وشرط كون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم إن كان صيدا)‘‘.(كتاب الذبائح: 495/9، رشيدية)وفي بدائع الصنائع:’’ومنها أن يكون مسلما أو كتابيا، فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمجوسي والوثني وذبيحة المرتد‘‘.(كتاب الذبائح والصيود، فصل في شرط حل الأكل في الحيوان المأكول: 224/6، دار الكتب العلمية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:192/284