امام صاحب کا مستقل صرف فرائض وضو پر اکتفا کرنا

امام صاحب کا مستقل صرف فرائض وضو پر اکتفا کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندہ جو کہ مستقل امام ہے وضو کرتے وقت صرف وضوء کے فرائض پورے کرتا ہے یا دھوتا ہےاور یہ اس کا روز کا معمول ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ شخص کے مذکورہ فعل کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مستقل طور پر صرف وضوء کے فرائض پر اکتفاء کرنا اور سنتوں کو اداء نہ کرنا درست نہیں، لہذا امام صاحب کو چاہیے کہ فرائض کے ساتھ ساتھ سنتوں کا بھی اہتمام کریں، البتہ جو نمازیں مذکورہ وضوء کے ساتھ پڑھی ہیں ان کو دہرانے کی ضرورت نہیں، وہ نمازیں ادا ہوگئی ہیں۔
لما في الشامية:
’’والسنة نوعان: سنة الهدي، وتركها يوجب إساءة وكراهية كالجماعة والأذان والإقامة ونحوها‘‘.(كتاب الطهارة: 230/1، رشيدية كوئته).
وفي الدر:
’’فالفرض... يطلق على العملي، وهو ما تفوت الصحة بفواته‘‘.(كتاب الطهارة: 215/1، رشيدية كوئته).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:192/311