کیا عشاء کی جماعت ترک کرنے والا تراویح کا امام بن سکتا ہے؟

کیا عشاء کی جماعت ترک کرنے والا تراویح کا امام بن سکتا ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کہتا ہے کہ اگر عشاء کی نماز جماعت سے نہ پڑھی ہو، تو تراویح میں امامت نہیں کرسکتا، آیا یہ مسئلہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص عشاء کی نماز جماعت سے نہ پڑھے، تو اس کے لیے تراویح کی امامت جائز ہے۔

لما في  الرد:
’’كان رجل قد صلى الفرض وحده فله أن يصليها مع ذلك الإمام لأن جماعتهم مشروعة فله الدخول فيها معهم لعدم المحذور‘‘.(كتاب الصلاة، مبحث صلاة التراويح، 603/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:190/247