غزہ پر مظالم اور ہماری ذمہ داریاں

idara letterhead universal2c

غزہ پر مظالم اور ہماری ذمہ داریاں

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اگر پہاڑوں کو جگر ہوتا تو بعید نہ تھا کہ وہ بھی شق ہو جاتا، اگر درختوں کو آنکھیں ہوتیں، تو عجب نہ تھا کہ وہ بھی آنسوؤں کا دریا بہا دیتے، اگر زمین کو زبان ہوتی تو کیا عجب کہ اس کے نالہ و فریاد سے کرہ ارض میں کہرام برپا ہو جاتا اور اگر درندے ان انسان نما درندوں کو دیکھ لیتے تو شاید وہ بھی شرم سار ہو جاتے اور درندگی میں صہیونیوں اور ان کی موافقت کرنے والوں کی بالا دستی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے، اس خون آشامی، ظلم وبربریت، قتل وغارت گری کی وجہ سے جو اس وقت غزہ میں جاری ہے، جس کو سالہا سال سے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس کے نام نہاد، بے حمیت، کوتاہ ہمت ضمیر فروش اور منافق نام نہاد مسلم حکومتوں نے ایک ایسے قید خانہ میں تبدیل کر رکھا ہے، جو بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔

سلامتی ہو غزہ کے ان مجاہدین پر، جنھوں نے اپنے لہو سے اسلام کے شجر طوبی کو سینچنے کا عزم کر رکھا ہے، صد ہزار رحمتیں ہوں ان شہداءِ راہ حق پر، جنھوں نے اپنے خون کا ایک ایک قطرہ دین حق کی سرخ رُوئی کے لیے نچھاور کر دیا ہے، لاکھوں سلام شوق پہنچے ان معصوم نونہالوں پر جنھوں نے اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنی معصوم جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا ہے اور اسی قدر لعنتیں ان صلیبی اور صہیونی ظالموں پر جو دین و اخلاق اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر کر اپنی خون آشامی کی خوپوری کر رہے ہیں اور ان خوف خدا سے عاری اور ہمت مردانہ سے خالی مسلم حکم رانوں پر جن کے سینوں میں شیطان نے دل کی بجائے پتھر کی سل رکھ دی ہے، جن میں سے بعض علی الاعلان یا خفیہ طور پر اسرائیل کے ہم نوا ہیں اور بدترین قسم کی برادرکشی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ بار الہا! اپنے ان مظلوم بندوں پر رحم فرما، جن سے مغرب ومشرق کی عداوت صرف اس لیے ہے کہ وہ تیرے پاک نام سے نسبت رکھتے ہیں اور پروردگارا! ہلاک وبرباد فرما، ان شقی وبدبخت حکومتوں کو، جو بے قصور انسانوں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہیں یا اس میں مددگار ہیں!!

سوال یہ ہے کہ جو مسلمان اپنے ان مظلوم اور نہتے بھائیوں کی اخلاقی مدد کرنے کے سوا کچھ اور نہیں کر سکتے، انہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصول بیان فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی برائی کو دیکھے تو اول اسے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے، اگر اس پر قادر نہ ہو تو زبان سے اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے، یعنی دل سے برا سمجھے اور دل میں یہ ارادہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ جب بھی قدرت دیں گے، وہ اُسے روکنے کی کوشش کرے گا۔ (ابوداؤد، حدیث نمبر: 434) ظلم وجور سے بڑھ کر کوئی منکر اور برائی نہیں، یہ تو دنیا میں شرک سے بھی بڑھ کر ہے، کیوں کہ دنیوی احکام کی حد تک شرک کو گوارا کیا جا سکتا ہے، لیکن ظلم ایسی برائی ہے کہ وہ کسی طور پر قابل قبول نہیں، کفر و شرک بھی ایسا جرم نہیں کہ جو شخص پہلے سے اس عقیدہ پر ہو، اُسے قتل کرنا جائز ہو، لیکن اگر کوئی شخص کسی کا مال لے لے، کسی کی عزت و آبرو پر حملہ آور ہو یا کسی کو قتل کر دے تو وہ ضرور لائق سزا ہے، پس ظلم سب سے بڑی برائی ہے اور اپنی طاقت و صلاحیت بھر اس کی مخالفت واجب ہے!
مخالفت اور ناراضگی کے اظہار کا ایک طریقہ ترک تعلق بھی ہے اور ظالموں کے ساتھ ترک تعلق کی تعلیم خود قرآن مجید نے دی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿یَاٰیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الْیَھُودَ وَالنَّصٰری أَوْلِیَآءَ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَمَنْ یَتَوَلَّھُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ إِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظَّلِمِیْن﴾َ․ (المائدة: 51)

ترجمہ: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں سے جو ان کو دوست بنائے گا، وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اس آیت میں ”دوست نہ بنانے“ کا جامع لفظ استعمال کیا گیا ہے، جو ایک معنی خیز تعبیر ہے، جس میں دل و نگاہ کی محبت، فکر و نظر میں اثر، سماجی زندگی کی مماثلت اور مالی معاملات و تعلقات سب شامل ہیں۔ یہ کوئی شدت پر مبنی حکم نہیں ہے، بلکہ ظلم کے خلاف ناراضگی کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔ اس آیت کے آخر میں ظالموں کا ذکر کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو یہود و نصاریٰ ظلم وجور پر کمر بستہ ہوں، مسلمانوں کے لیے اپنی طاقت و قدرت کے مطابق ان سے بے تعلقی برتنا واجب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ایک اور موقع پر اس حکم کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے، ارشاد ہے:

﴿إِنَّمَا یَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِینَ قٰتَلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَأَخْرَجُوکُم مِّن دِیٰرِکُمْ وَظٰہَرُوا عَلَی إِخْرَاجِکُمْ أَن تَوَلَّوہُمْ وَمَن یَتَوَلَّہُمْ فَأُوْلٰئِکَ ہُمُ الظَّلِمُونَ﴾ (الممتحنة: 9)

ترجمہ: بے شک اللہ تم لوگوں کو ان لوگوں سے تعلق رکھنے سے منع کرتے ہیں، جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی، تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی اور جو ان سے تعلق رکھیں، وہ بھی ظالم ہیں۔

گھروں سے نکالنا، محض دین کی بنا پر آمادہٴ قتل وقتال ہونا اور جو لوگ مسلمانوں کے شہروں اور آبادیوں کو ویران کرنے پر تلے ہوئے ہوں، ان کو مدد پہنچانا، یہ وہ اوصاف ہیں جن کے حامل بدطینت یہودیوں اور نصرانیوں سے بے تعلقی برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔ غور کیجیے کہ کیا آج امریکہ وبرطانیہ ان جرائم کے مرتکب نہیں ہیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام میں درپردہ برطانیہ نے ظالم سربوں کی مدد کی ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ان ممالک کی جفا کاریوں اور ستم انگیزیوں کی وجہ سے افغانستان کے مسلمان بڑی ابتلاؤں سے گزرے ہیں؟ کیا یہ اس ظالم اسرائیل کے ناصر و مددگار نہیں ہیں، جو آئے دن بے قصور فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں؟ اور جنہوں نے لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے مادر وطن میں رہنے کے حق سے بھی محروم کر دیا ہے؟ قرآن نے جن یہود و نصاریٰ سے بے تعلق ہونے اور رشتہ محبت کاٹ لینے کا حکم دیا ہے، ان مغربی طاقتوں میں ان میں سے کون سی بات نہیں پائی جاتی؟ پھر کیا ایسے اعداءِ دین سے بے تعلقی واجب نہ ہوگی؟

﴿لَا یَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوٓا اِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ﴾․ (الممتحنہ: 8)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف سے پیش آنے سے نہیں روکتے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

جو غیر مسلم بھائی انصاف پر قائم ہیں، وہ ہمارے انسانی بھائی ہیں اور ہمارے برادرانہ سلوک اور حسن اخلاق کے مستحق ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی کسی صورت جائز نہیں۔ بے تعلقی کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جارحانہ اور غیر منصفانہ رویہ اختیار کر رکھا ہو۔ یہ سمجھنا کہ کسی خاص شخص کی حوالگی یا کسی خاص مطالبے کی تعمیل مغربی طاقتوں کو مطمئن کر دے گی اور اسلام کے خلاف بغض و عناد کی جو آگ ان کے سینوں میں سلگی ہوئی ہے، اسے بجھانے میں کام یاب ہو جائے گی محض ایک طفلانہ خیال ہے، اس عناد کا اصل نشانہ اسلامی فکر و عقیدہ، اسلامی تہذیب و ثقافت اور مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصیٰ ہے، قرآن نے یہود ونصاری کی نفسیات اور ان کے اندرونی جذبات کی خوب تر جمانی کی ہے اور یہ بات جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مبنی بر واقع تھی، اسی قدر آج بھی ہے کہ:

﴿وَلَنْ تَرْضَیٰ عَنکَ الْیَہُودُ وَلَا النَّصٰرَیٰ حَتَّیٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ قُلْ إِنَّ ہُدَی اللَّہِ ہُوَ الْہُدَیٰ وَلَئِن اتَّبَعْتَ أَہْوَائَہُم بَعْدَ الَّذِی جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللَّہِ مِن وَلِیّ وَلَا نَصِیرٍ﴾․ (البقرہ: 120)

ترجمہ: یہود و نصاریٰ آپ سے اس وقت تک راضی ہو ہی نہیں سکتے، جب تک آپ ان کے دین کے پیرو نہ ہو جائیں، آپ کہہ دیجیے کہ ہدایت تو وہ ہے جو اللہ کی ہے، اگر آپ علم حاصل ہونے کے بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگیں تو آپ کے لیے اللہ کے مقابلہ کوئی حامی ومددگار نہ ہوگا۔

قرآن نے اس میں یہود و نصاریٰ کے اندرونی جذبات کو کھول کر رکھ دیا ہے اور خلافت عثمانیہ کے سقوط سے اب تک عالم اسلام میں جو جنگیں ہوئی ہیں، وہ سب اس کے واضح شواہد ہیں، اس لیے جب تک مسلمان اپنے مذہبی تشخصات اور اپنے ثقافتی امتیازات کو خیر باد نہ کہہ دیں، مسجد اقصیٰ سے اور اپنے مقدسات سے دست بردار نہ ہو جائیں اور پوری طرح مغربی فکر اور مغربی ثقافت کے سامنے جبینِ تسلیم خم نہ کر دیں، ان کی تشفی نہیں ہو سکتی اور انشاء اللہ مسلمان کبھی اس کے لیے تیار نہیں ہوں گے، اس لیے کہ وہ دین کے لیے سب کچھ کھونے کو پانا اور اللہ کی راہ میں رگِ گلو کٹانے کو جینا تصور کرتے ہیں اور یہ ان کے ایمان وعقیدہ کا حصہ ہے۔

اس پس منظر میں ہم مسلمانانِ ہند قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ ملک کی رائے عامہ کو حقیقت پسند بنائیں اور انہیں حقیقی صورت حال کا ادراک کرنے میں مدد دیں، منصف مزاج ہندو بھائیوں (جن کی آج بھی اس ملک میں اکثریت ہے) کو ساتھ لے کر حکومت ہند سے خواہش کریں کہ وہ اپنی ناوابستہ پالیسی پر قائم رہے اور امریکہ و اسرائیل کی آنکھ بند کر کے حمایت نہ کرے، وہ اس بات کو محفوظ رکھے کہ ہمارے ملک کا مفاد عربوں کے ساتھ بہتر تعلق میں ہے، نہ کہ اسرائیل جیسے خود غرض اور قلاش ملک کی تائید میں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم امریکہ اور اسرائیل کی تجارتی اشیاء کا بائیکاٹ کریں، جس کی فہرستیں بھی اخبارات اور سوشل میڈیا میں آچکی ہیں کہ یہ بھی منکر پر ناراضگی کے اظہار اور ظالم سے بے تعلقی برتنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے اور شرعاً بہ حیثیت مسلمان ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ اس سلسلہ میں جو طریقہ اختیار کرنا ہمارے لیے ممکن ہو، ہم اس سے دریغ نہ کریں، بعض حضرات کہتے ہیں کہ صرف مسلمانوں کے بائیکاٹ کرنے سے ان کا کیا نقصان ہوگا؟ یہ درست نہیں ہے، اول تو اگر مسلم ممالک بھی اس بائیکاٹ میں شامل ہو جائیں تو اس کے غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے، دوسرے: مسئلہ ان کو نقصان پہنچنے اور پہنچانے کا نہیں ہے؛ بلکہ اپنی طرف سے اظہار ناراضگی کا ہے، کتنے ہی واقعات پیش آتے ہیں کہ خاندان میں اختلاف پیدا ہوا اور اس کی وجہ سے ایک دوسرے کی دعوت میں شرکت سے گریز کرنے لگے، یہاں تک کہ بعض اوقات بات چیت بھی بند ہو جاتی ہے، حالاں کہ معلوم ہے کہ اس کے دعوت میں شریک نہ ہونے اور بات نہ کرنے سے دوسرے شخص کا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے، لیکن مقصود اپنے جذبات کا اظہار ہوتا ہے، یہی جذبہ یہاں بھی ہونا چاہیے، غرض کہ یہ انسانی فریضہ ہے، یہ شرعی ذمہ داری ہے اور حمیت ایمانی اور غیرت اسلامی للکار کر ہم سے پوچھ رہی ہے کہ کیا ہم اس کے لیے بھی تیار نہیں ہیں؟؟ 

عصر حاضر سے متعلق