تقویٰ اور اس کی اہمیت

idara letterhead universal2c

تقویٰ اور اس کی اہمیت

محدث العصر مولانا محمدیوسف بنوری 

ایمان کے بعد تقویٰ ہی ایسی بڑی نعمت ہے جو سعادت دارین کا ذریعہ ہے، قرآن کریم اور دین اسلام کی زبان میں ”تقوی “احکام شرعیہ پرعمل کرنے کا دوسرا نام ہے، تقویٰ کیا ہے؟ اوامر الہٰیہ کا اتباع اور منہیات شرعیہ اور فواحش ومنکرات سے بالکلیہ اجتناب ، تقویٰ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی معیت کا وسیلہ اور اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا ذریعہ! قرآن کریم کی تلاوت اور مطالعہ سے تقوی کی جو برکتیں اورثمرات ونتائج معلوم ہوتے ہیں وہ نہایت ہی عجیب ہیں، ایک مرد مومن کی آرزو یہی ہوگی کہ زندگی سکون واطمینان سے گذرے، ضروریات زندگی بآسانی مہیا ہوں، وہ کسی کا محتاج نہ ہو، دنیا میں انجام کا ربہتر ہو، تجارت کرے تو اس میں نفع ہو، زراعت کرے تو اس میں برکت ہو، اس کے اعمال صالحہ بارگاہ ربوبیت میں خلعت قبول سے نوازے جائیں، آنکھیں بند ہوں (اس دنیا سے کوچ کا وقت آئے) تو جنت کی بشارت ملے، آخرت میں جنت کی بیش قیمت نعمتیں میسر ہوں، گناہ اور تقصیریں معاف ہوں، ابدالآباد کی زندگی چین سے گزرے اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبوبیت کا تمغہ ملے اور ولی اللہ ہونے کی سعادت نصیب ہو، الغرض جس کام میں ہاتھ ڈالے کام یابی اور کام رانی اس کے قدم چومے، خواہ دنیا کا کوئی صحیح مقصد ہو یا آخرت کی کوئی نعمت، سب اس کی آرزو کے مطابق حاصل ہوتی چلی جائیں، ظاہری وباطنی پاکیزگی اسے نصیب ہو، وہ فلاح دارین سے ہم کنار ہوا ،کیا اس سے بھی زیادہ کوئی صحیح آرزو ہوسکتی ہے ؟ قرآن کریم بار بار اور صاف صاف ان حقائق کا تذکرہ کرتا ہے۔ مختلف اسالیب بیان سے ان عظیم الشان مقاصد کا ذکر فرماتا ہے، عجیب عجیب عنوانات سے ان کو ذہن نشین کراتا ہے اور موثر ترین نفسیاتی انداز سے اس کی ترغیب دیتا ہے ، ہم ذیل میں چند آیات کے اقتباسات کے ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: ﴿بَلَیٰ مَنْ أَوْفَیٰ بِعَہْدِہِ وَاتَّقَیٰ فَإِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِینَ﴾․ (آل عمران:76)
 
ترجمہ: ”جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور اللہ سے ڈرے بے شک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں ایسے متقیوں کو“۔ (آیاتِ کریمہ کا ترجمہ حضرت حکیم الامت تھانوی نوّر الله مرقدہ کے”ترجمہ قرآن مجید“ سے کیا گیا ہے)
 
﴿لِلَّذِینَ اتَّقَوْا عِندَ رَبِّہِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِی مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ﴾․ (آل عمران:15)
 
ترجمہ:”ایسے لوگوں کے لیے جو اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے مالک (حقیقی) کے پاس ایسے ایسے باغ ہیں جن کے پائیں میں نہریں جاری ہیں “۔
 
﴿وَسَارِعُوا إِلَیٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّکُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ﴾․ (آل عمران:123)
 
ترجمہ: ”اور دوڑو طرف مغفرت کی، جو تمہارے پروردگار کی جانب سے ہو اور طرف جنت، جس کی وسعت ایسی ہے جیسے سب آسمان اور زمین، وہ تیار کی گئی ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے “۔
 
﴿فَمَنِ اتَّقَیٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُونَ﴾․ (الاعراف: 35)
 
ترجمہ: ”سو جو شخص پرہیز رکھے اور درستی کرے ،سوان لوگوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے“ ۔
 
﴿وَلَوْ أَنَّ أَہْلَ الْقُرَیٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِم بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ﴾․(الاعراف:96)
 
ترجمہ: ”اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پر ہیز کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے “۔
 
﴿إِنَّ اللَّہَ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَوا وَّالَّذِینَ ہُم مُّحْسِنُونَ﴾․ (النحل:128)
 
ترجمہ:”اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو پر ہیز گار ہوتے ہیں اور جو نیک کردار ہوتے ہیں“۔
 
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّہَ یَجْعَل لَّکُمْ فُرْقَانًا وَیُکَفِّرْ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللَّہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیمِ﴾․ (انفال:29)
 
ترجمہ:” اے ایمان والو!اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کرے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے “۔
 
﴿وَمَن یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَل لَّہُ مَخْرَجًا، وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ﴾․(الطلاق:2)
 
ترجمہ:”اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مضرتوں سے نجات کی شکل نکال دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا “۔
 
﴿وَمَن یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَل لَّہُ مِنْ أَمْرِہِ یُسْرًا﴾․(الطلاق:4)
 
ترجمہ:”اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک کام میں آسانی کرد ے گا“۔
 
﴿وَمَن یَتَّقِ اللَّہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّئَاتِہِ وَیُعْظِمْ لَہُ أَجْرًا﴾․ (الطلاق:5)
 
ترجمہ:”اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے گناہ دور کر دے گا اور اس کا بڑا اجر دے گا“۔
 
﴿وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ﴾․(آل عمران:200)
 
ترجمہ:”اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، امید ہے کہ تم کام یاب ہوگے “۔
 
﴿وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَیٰ﴾
 
ترجمہ:”اور بہتر انجام تو پر ہیز گاری ہی کا ہے “۔
 
﴿وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ﴾․(الاعراف:128)
 
ترجمہ:”اور آخر کام یابی انہی کو ہوتی ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں“۔
 
﴿إِنْ أَوْلِیَاؤُہُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ﴾․(الانفال:34)
 
ترجمہ:”اس کے ولی تو سوا متقیوں کے اور کوئی بھی اشخاص نہیں“۔
 
﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ مَعَ الْمُتَّقِینَ﴾․(البقرہ:194)
 
ترجمہ:”اور یقین کر لو کہ الله تعالیٰ ڈرنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں“۔
 
﴿إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللَّہُ مِنَ الْمُتَّقِینَ﴾․(المائدہ:27)
 
ترجمہ:”خدا تعالیٰ متقیوں ہی کا عمل قبول کرتے ہیں “۔
 
﴿وَإِنَّ لِلْمُتَّقِینَ لَحُسْنَ مَآبٍ﴾․(ص:49)
 
ترجمہ:”اور پرہیز گاروں کے لیے (آخرت میں) اچھا ٹھکانا ہے“۔
 
﴿وَاللَّہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِینَ﴾․(الجاثیہ:19)
 
ترجمہ:”اور اللہ دوست ہے اہل تقویٰ کا۔“
 
ان آیاتِ کریمہ پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ارباب تقویٰ کے لیے جن برکات کا وعدہ ہے۔ ان سے زیادہ کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ہے ، پھر حیرت و تعجب بلکہ افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان ہو کر ان عظیم الشان نعمتوں کے حاصل کرنے کے لیے نہ صرف یہ کہ کوشش نہیں کی جاتی ہے، بلکہ ان سے صاف صاف اعراض و انحراف کیا جا رہا ہے ، ایک مسلمان جس کے مذہب کی بنیاد ہی تقویٰ و طہارت پر ہے، اس کے لیے از بس ضروری ہے کہ وہ ان ”حقائق الہٰیہ“ پر غور کرے ، دل اور دماغ ، اعضاء وجوارح، الغرض ہر حصہ بدن کے تقویٰ(ہرحصہٴ بدن کے تقوی کی تفصیل امام غزالی کی ”احیاء العلوم“ ”کیمیائے سعادت“ اور تبلیغِ دین ترجمہ ”اربعین“ سے، نیز حضرت حکیم الامت تھانوی  کی تصانیف اور مواعظ سے معلوم کی جائے) کے حقوق ادا کرے اور ظاہر ہے کہ” بنیادی تقویٰ “ دل کا ہے، اس کے حصول کے بعد ہی اعضاء و جوارح کا تقویٰ حاصل ہو سکتا ہے ،اس لیے حدیث نبوی میں دل کی طرف اشارہ کر کے فرمایا گیا:”ألا إن التقوی ہہنا“ ترجمہ:”سن رکھو کہ ”تقویٰ “یہاں ہوتا ہے “۔
 
اور قرآن کریم میں بھی ارشاد ہے:﴿فَإِنَّہَا مِن تَقْوَی الْقُلُوبِ﴾․(سورہ الحج:32) ترجمہ:”یہ تو دلوں کا تقویٰ ہے “۔
 
اطباء اور علمائے علم النفس کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ متقیا نہ زندگی سے دل و دماغ پر کنٹرول رہتا ہے اور غلط کاری و غلط روی سے جو بُرے نقوش لوح دل اور صفحہ دماغ پر مرتسم ہوتے ہیں، اس طرح حفاظت کی بنا پر جسمانی صحت اور طاقت محفوظ رہتی ہے، گویا روحانی صحت دماغی صحت کا سرچشمہ ہے اور دماغی صحت سے بدن کی صحت وقوت محفوظ رہتی ہے، اطباء کے نزدیک دماغ اعصاب کا منبع ہے ، جب دماغ میں ضعف و انحطاط رونما ہو گا تو جسمانی اعضاء خود بخود کم زور ہوں گے، اسلامی تعلیم کی بنیاد یہی ہونی چاہیے کہ نفس انسانی کا تزکیہ ہو اور صحیح روحانی تربیت اس کو حاصل ہو، تا کہ طالب علم فارغ ہونے کے بعد زندگی کے جس شعبے میں بھی جائے وہاں صحیح خدمت کر سکے اور اپنے منصب کے تقاضے خوش اسلوبی سے انجام دے سکے ، اگر ”تعلیم“کے لیے جسمانی ورزش کو ضروری تصور کیا جاتا ہے تو اس سے کہیں زیادہ دل و دماغ کی پاکیزگی اور ذہن و شعور کی طہارت ضروری ہے۔
 
ان شرعی اور عقلی حقائق کی روشنی میں یہ بات کتنی واضح ہو جاتی ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم سے کتنے برُے نتائج رو نما ہو سکتے ہیں تو پھر تعلیمی مضامین میں ثقافتی رقص و سرود کو لازم کرنے اور طلبہ وطالبات کے آزادانہ اختلاط کے مواقع بہم پہنچانے کے سم قاتل ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے ؟ اور مقصد تعلیم اور تعلیمی روح سے یہ چیز کتنی بعید ہوگی ؟ ان عریاں مناظر اور فواحش و منکرات کی معاشرت سے دل و دماغ کے صفحات پر جو بہیمانہ، شہوت انگیز اور گندے نقوش مرتسم ہوں گے، ان کے نتائج کتنے بُرے ہوں گے ، اسلامی مزاج سے کتنے بعید اور قومی صحت کے لیے کتنے مضر ہوں گے ؟
 
قدم قدم پر بے حیائی کے جان فرسا اور ایمان سوز مناظر اور کوچے کوچے میں تھیٹر ، سینما، عریاں تصاویر، بے محابا برہنگی اور مرد و زن کے ایمان رُ با اختلاطی تماشے ہی اخلاق انسانی کا دیوالہ نکالنے کے لیے کیا کچھ کم تھے کہ ان پر مستزاد تعلیمی اداروں میں اس کے مواقع بہم پہنچائے جائیں ؟ خوشی ہوئی تھی کہ حکومت مغربی پاکستان نے تعلیمی اداروں میں رقص و سرود پر پابندی کا قانون بنایا اور مزید خوشی کی بات ہوتی اگر مرکزی حکومت ، صوبائی حکومت کے اس مستحسن اقدام کی پر زور تائید کرتی، لیکن اخباری اطلاع کے مطابق اس کے بالکل برعکس ہوا، یعنی مرکزی حکومت نے صوبائی حکومت کے اس فیصلہ کو احمقانہ قرار دے کر مسترد کر دیا، اس سلسلہ میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اور راقم الحروف کا ایک مشترکہ بیان کراچی کے اخبارات میں شائع ہوا ،جو حسب ذیل ہے:
 
چند روز قبل بعض اخبارات میں ایک غیر مصدقہ خبر شائع ہوئی ہے کہ مرکزی حکومت نے تعلیمی اداروں میں رقص و سرود پر سے پابندی اٹھالی ہے اور اس سلسلہ میں صوبائی حکومت کے فیصلہ کو احمقانہ قرار دیا ہے، اس خبر کی اشاعت کے بعد مرکزی حکومت کی طرف سے اس کی کوئی تردید شائع نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے ملک بھر میں شدید اضطراب پیدا ہو رہا ہے ۔
 
آج سے چند ماہ پہلے جب صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں ناچ گانے، مخلوط ڈراموں اور چست لباس پر پابندی عائد کی تھی تو ملک بھر میں اس مستحسن فیصلہ کا بڑی گرم جوشی کے ساتھ خیر مقدم کیا گیا تھا اور ہر طبقہ فکر نے اس قابل تعریف اقدام کو سراہا تھا ،جس سے صاف ظاہر ہے کہ صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ عوام کی خواہش کے مطابق تھا، ادھر مرکزی حکومت کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے آئے دن یہ اعلانات شائع ہوتے رہتے ہیں کہ وہ ملک کے ہر شعبہ زندگی کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔
 
کون نہیں جانتا کہ رقص و سرود، مخلوط ڈرامے اور مرد و عورت کا آزادانہ میل جول اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے اور اس نے ہمیں اخلاقی تباہی کے کنارے پہنچا دیا ہے، خاص طور سے تعلیمی اداروں میں اس قسم کی شرم ناک سرگرمیوں سے نہ صرف تعلیم و تربیت کا اصل مقصد فوت ہو رہا ہے بلکہ طلباء کی صحت اور اخلاق پر اس کے بدترین اثرات مشاہدہ میں آرہے ہیں، ان حالات میں توقع تو اس بات کی تھی کہ مرکزی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت کے اس فیصلہ کی ہمت افزائی کی جائے گی اور مشرقی بازو بھی اس کی تقلید کرے گا، لیکن اس کے برعکس اس فیصلے کو احمقانہ قرار دینے کی یہ خبر توقع کے یکسر خلاف انتہائی حیرت ناک اور سخت اضطراب انگیز ہے اور اس سے بجا طور پر ملک کے عوام میں زبر دست بے چینی پیدا ہو رہی ہے ۔
 
یہ ملک جو سو فیصد اسلام کے نام پر بنا ہے ، اس کی بیس سالہ تاریخ اس پر گواہ ہے کہ یہاں کے دس کروڑ عوام قرآن وسنت کی صحیح صحیح تعلیمات ہی کو اپنی فلاح و بہبود کا ضامن سمجھتے ہیں، انہوں نے ہمیشہ اس فیصلہ کو شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھا ہے جو قرآن وسنت کے خلاف ہو اور اس فیصلہ کا دل دجان سے خیر مقدم کیا ہے جو انہیں اسلامی تعلیمات سے قریب کرے، اس لیے ہم مرکزی حکومت سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کے فیصلہ کو ہر قیمت پر بحال رکھے اور پوری وضاحت کے ساتھ اس خبر کی تردید شائع کر کے عوام کی دلی بے چینی کو دور کرے ۔
 
یہ حروف لکھے جا چکے تھے کہ اخبارات میں یہ اطلاع پڑھی کہ ایک صوبائی وزیر محترم نے اس خبر کی تردید کر دی ہے اور اس امر کی وضاحت بھی کہ صوبائی حکومت اس قانون کو واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، ہم اس خوش خبری پر تمام مسلمانان پاکستان کی طرف سے صوبائی حکومت کی تحسین کرتے ہوئے گزارش کرتے ہیں کہ بقیہ فواحش و منکرات کی روک تھام کے لیے بھی ہماری حکومت جرات مندانہ قدم اٹھا کر معاشرہ کو ممکن حد تک پاک کرنے کی کوشش کرے ، دعا ہے کہ حق تعالیٰ حکومت اور عوام دونوں کو اپنی مرضیات کی توفیق بخشے ، آمین۔

مقالات و مضامین سے متعلق