
کنویں سے مرا ہوا جانور نکالنا ممکن نہ ہو تو پانی کا کیا حکم ہوگا؟
سوال… کنویں کے قریب بکری باندھی تھی اور دو بچے بھی ساتھ تھے، ایک بچہ غائب ہوگیا، کافی تلاش کے بعد یعنی 10 دن بعد معلوم ہوا کہ کنویں میں گرا ہے، کیوں کہ کنویں سے بدبو آئی اور ہم 10 دن تک اس کنویں سے پانی استعمال کرتے رہے، اب پانی، کپڑوں اور نمازوں کا کیا حکم ہے؟ نیز کنویں کی گہرائی 750 فٹ ہے اور 11 انچ چوڑائی ہے، موٹر روزانہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک مسلسل چلتی ہے۔ ( 2 انچ پائپ لگا ہوا ہے) اور ان دس دنوں میں بھی چلتی رہی اور اس کے بعد اب تک جاری ہے، لیکن ہم نے صرف 10 دن استعمال کیا، اس کے بعد سے ہم نے خود استعمال نہیں کیا، بلکہ کھیتوں کو سیراب کرتے رہے اور بچے کے گرنے کے تقریباً 25 دن ہوگئے۔ آیا یہ کنواں پاک ہو گیا ہے یا نہیں؟
تنقیح : بچہ نکالنے کی کوئی ممکن صورت نہیں اور پانی کے اوصاف متغیر نہیں ہوئے۔
جواب… صورت مسئولہ میں سب سے پہلے بکری کے بچے کے اعضاء کو نکالنے کی کوشش کی جائے، تاہم اگر نکالنا ممکن نہ ہو تو نجاست کے ہوتے ہوئے موٹر چلانے کے بعد پانی کے جاری ہونے کی وجہ سے سارا پانی پاک شمار کیا جائے گا، بشر طیکہ اس پانی میں نجاست کے اثرات (رنگ، بو ، ذائقہ) میں سے کوئی اثر نہ پایا جاتا ہو ، اگر اثر ہو تو پانی ناپاک رہے گا، البتہ موٹر کے رک جانے پر چوں کہ پانی جاری نہیں رہے گا تو نجاست کے موجود ہونے کی وجہ سے وہ ناپاک شمار ہو گا اور جب نجاست کے تمام ذرات نکل جانے یا گل سڑ کر مٹی بن جانے کا یقین ہو جائے تو موٹر کے رکنے کے بعد بھی کنویں کا پانی پاک رہے گا۔
بیوی کو طلاق دینے کے بعد دل میں گناہ کا وسوسہ آنے کا حکم
سوال… میں نے شادی کی پہلی رات اپنی بیوی کو طلاق کے اختیارات دیے، لیکن کتنی طلاقوں کے اختیارات دیے یا جب چاہے کے الفاظ استعمال کیے، یہ اب نہ تو مجھے یاد ہے اور نہ ہی میری بیوی کو یاد ہے ، میں نے اپنی مالی حالات کی وجہ سے اپنی بیوی کو کہا کہ آپ اپنے میکے جا کے جھوٹ بولیں کہ میں نے آپ کو طلاق دے دی ہے ، جب کہ میں نے نہیں دی تھی، پھر فتوی لیا کہ یہ طلاق نہیں ہوئی، کچھ وقت گزرنے کے بعد میں نے خود اپنی بیوی سے طلاق کی تفویض لکھوائی اور اسے کہا کہ نہ آپ یہ الفاظ زبان سے دوہرائیں اور نہ نیت کریں اور اس میں، میں نے جب چاہے کہ الفاظ بھی لکھوائے، جب کہ میری بیوی نے نہ ہی زبان سے دوہرائے اور نہ ہی نیت کی طلاق کے اختیارات استعمال کرنے کی، پھر فتوی لیا کہ طلاق نہیں ہوئی۔
پھر کچھ دنوں بعد میں نے اپنے دل ہی دل میں ایک طلاق رجعی دی اور اپنی بیوی کو بتا دیا کہ میں نے آپ کو ایک طلاق رجعی دی ہے، پھر ہم نے رجعت کر لی، پھر کچھ وقت بعد میں نے اپنی بیوی کو ایک اور طلاق بائن دل ہی دل میں دی اور اپنی بیوی کو بتایا کہ میں نے اسے ایک اور طلاق بائن دی ہے، اس بات پر فتوی لیا کہ نئے حق مہر کے ساتھ آپ تجدید نکاح کر سکتے ہیں اور ہم نے تجدید نکاح کر لیا، لیکن اب میرے دل سے وسوسے نہیں جارہے ہیں کہ کہیں میں شرعا گناہ گار تو نہیں ہو رہا، براہ کرم شرعی حکم کے مطابق رہ نمائی فرمائیں۔
جواب… واضح رہے کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے طلاق کے الفاظ بولنا یا لکھنا ضروری ہے ، الفاظ بولے بغیر صرف دل میں سوچنے یا طلاق کے وساوس آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، لیکن جیسے ہی آپ زبان سے ان الفاظ کو ادا کریں گے تو طلاق واقع ہو جائے گی، لہٰذا صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی کو طلاق رجعی اور اس کے بعد طلاق بائن کی اطلاع دینے کی وجہ سے طلاق رجعی اور طلاق بائن واقع ہو گئی ہیں، آئندہ آپ کے پاس ایک طلاق کا اختیار باقی ہے ، لہٰذا طلاق دینے سے آپ گناہ گار تو نہیں ہوئے، لیکن نکاح کرنے کے بعد جب تک واقعی کوئی دشواری نہ ہو بیوی کو طلاق نہیں دینی چاہیے ، خصوصاً جب کہ نباہ کی صورت موجود ہو، تو بلا کسی شرعی وجہ کے طلاق دینا شرعاًناپسند اور اللہ تعالی کے نزدیک مبغوض چیز ہے ، اس لیے آئندہ کے لیے احتیاط کریں، زوجین کو چاہیے ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔
عصری تعلیمی اداروں میں زکاة ادا کرنا
سوال… ہم ایک فلاحی فاوٴنڈیشن کے تحت ایک اسکول چلا رہے ہیں، جس میں مستحق اور غریب بچوں کواو لیول (Level – O) کی تعلیم دی جاتی ہے، یہ بچے کم عمر اور نا بالغ ہوتے ہیں، ان کے والدین صاحب نصاب نہیں ہوتے ، ہم چاہتے ہیں کہ ان بچوں کی تعلیم پر آنے والے اخراجات کو زکاة کی رقم سے پورا کریں، اس سلسلے میں چند امور کے بارے میں شرعی رہ نمائی مطلوب ہے۔
1- کیا ہم ایک فارم تیار کر سکتے ہیں جس میں ان بچوں کے والدین سے دستخط لے لیں کہ ان کے بچے کی تعلیم پر جو خرچ آئے گاوہ زکاة کی رقم سے ادا کیا جائے گا؟
2- اگر ہم زکاة کی رقم سے ایک ماہانہ فیس (مثلا 20000 روپے) طے کر لیں اور والدین سے اس پر بھی دستخط لے لیں، لیکن بعد میں حقیقت میں خرچ کم ہو، کیا اضافی رقم ہم کسی اور مقصد میں استعمال کر سکتے ہیں یاوہ ر قم طلبہ کو واپس کر نالازم ہو گا ؟ یا ہم اس مہینے پھر اتنی ہی رقم بچوں سے فیس کی مد میں لیں جتنا خرچہ ہو، مثال کے طور پر اگر ایک بچہ پر چھ سوروپے یا آٹھ سو روپے یا ہزار روپے خرچہ آرہا ہے ، ہم ہزار ہی لیں بیسں ہزار کے بدلے تو یہ بھی ٹھیک ہو گا، کیوں کہ دستخط ہم نے بیسں ہزار پر کرایا تھا، لیکن ہم لیں ہزار روپے۔
3- اگر دستخط شدہ فارم میں مکمل فیس (مثلا 20000 روپے) درج ہو چکی ہو، لیکن حقیقت میں کم خرچ ہو، تو کیا ہم اصل خرچ کے مطابق ہی زکاة کی رقم استعمال کر سکتے ہیں؟ یا فارم میں طے شدہ رقم کی وجہ سے مکمل رقم لینا ضروری ہے؟
4- اس صورت میں کہ اسکول کے منتظمین اور زکاة دینے والے افراد ایک ہی ہوں ، یعنی اسکول بھی وہی چلار ہے ہوں اور زکاة بھی وہی دے رہے ہوں، تو کیا اس سے شرعی حکم میں کوئی فرق آئے گا؟ نیز اس میں ہمارا نظام یہ ہے کہ ہم نے دو الگ الگ کمپنیاں بنا دیں، اونر تو ایک ہی ہے ، بس ایک کمپنی زکاة دیتی (نکالتی) ہے اور کاتب فاوٴنڈیشن جو دوسری کمپنی بنائی ہے اس کے پاس چلی جاتی ہے اور پھر بچوں سے جو سائن لیے ہیں اس کے عوض واپس اپنے پاس وصول کر لیتے ہیں، یہ طریقہ کار ہے۔
5- اگر اساتذہ کی تنخواہیں، طلبہ کے دیگر تعلیمی اخراجات یا کاغذی وتعلیمی ضروریات کا خرچ طے شدہ اندازے سے کم ہو جائے تو کیا بچی ہوئی زکاة کی رقم سے اسکول کی دوسری ضروریات میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا اسے واپس مستحق طلبہ کی طرف لوٹانا لازم ہے ؟
ان تمام نکات پر تفصیلی شرعی رہ نمائی درکار ہے ، تاکہ زکاة کی رقم کے درست استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔
جواب… واضح رہے کہ زکوة کی رقم مستحقین زکاة کے حوالے کرنا ضروری ہے ، نیز زکوة کی رقم عصری تعلیمی اداروں اور دیگر کاروباری اداروں میں صرف کرنا مناسب نہیں، بلکہ ان کے مقابلہ میں غرباء اور طلباءِ علوم اسلامیہ زکوة کے زیادہ مستحق ہیں اور ان میں خرچ کرنا دگنے ثواب کا باعث ہے۔
البتہ اگر کہیں سے زکوة کی رقم آجائے تو بالغ غریب طلباء پر خرچ کر سکتے ہیں، لیکن اس طرح کاروباری مقاصد میں زکوة کی رقم جمع کرنے اور پھر حیلہ کے ذریعے استعمال کرنے سے اجتناب کیا جائے۔
میراث سے متعلق
سوال… محترم علمائے کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔ ہماری آبائی طور پر تین قسم کی زمینیں ہیں: (1) پہلی وہ زمین ہے جس میں ہمارا آبائی گھر اور کھیت وغیرہ شامل ہیں، جو مین روڈ سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ (2) دوسری وہ زمین ہے جو روڈ کے کنارے دکانوں اور گوداموں کی صورت میں موجود ہے۔ یہ جگہ والد صاحب کے زمانے میں ضلعی حکومت کے پاس بطور ”گودام“ (کمر شل کرایہ پر) تھی۔ والد صاحب کی وفات کے بعد جب حکومت نے اپنے لیے مستقل گودام تعمیر کیا تو ہمارے بھائی نے ڈپٹی کمشنر کے نام درخواست دے کر وہ دکانیں واپس حاصل کیں۔ درخواست میں صاف الفاظ میں لکھا گیا تھا کہ یہ ہماری پدری (آبائی) زمین ہے اور اس بنیاد پر ڈی سی نے وہ زمینیں واپس کر دیں۔ (3) تیسری زمین دریا کے کنارے واقع ہے جو والد صاحب کی زندگی میں دو قبیلوں کے درمیان متنازعہ تھی۔ اس معاملے میں طویل عرصہ عدالتی مقدمہ چلتا رہا۔ ابتدا میں ہمارے قبیلے کی جانب سے والد محترم وکیل مختار تھے ، بعد ازاں ہمارے بھائی نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ بالآخر عدالت نے فیصلہ ہمارے قبیلے کے حق میں جاری کیا اور اس زمین کو قبیلے کے تمام افراد میں تقسیم کر دیا گیا، جس میں ہمارے والد کے نام پر بھی حصہ آیا۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ والد صاحب کی وفات کے بعد ہمارے بھائیوں نے ہم بہنوں کو وراثت سے محروم رکھتے ہوئے ساری جائیداد آپس میں تقسیم کرلی۔ جب ہمیں بعد میں اس کا علم ہوا اور ہم نے اپنے حق کا مطالبہ کیا تو بھائیوں نے صرف آبائی گاوٴں والے گھر اور کھیتوں کے قریب کی زمین میں سے ہمیں حصہ دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ باقی دو جگہوں یعنی (1)دکانوں والی زمین اور(2) عدالت کے ذریعے حاصل شدہ زمین میں سے وہ ہمیں حصہ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دکانیں ان کی ذاتی ملکیت ہیں، حالاں کہ ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں، بلکہ حکومت سے زمین واپس لیتے وقت خود اقرار کر چکے ہیں کہ یہ آبائی زمین ہے ۔ اسی طرح عدالتی زمین سے حصہ نہ دینے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے مقدمے پر خرچ کیا تھا، لہٰذا وہ اس کے مالک ہیں۔ حالاں کہ ہم بہنوں نے گھر کے تمام کام سنبھالے، بھائیوں کی خدمت کی اور ہمیں تعلیم سے بھی محروم رکھا گیا۔ لہٰذا گزارش ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں رہ نمائی فرمائیں کہ کیا ان دو جگہوں یعنی (1) دکانوں کی زمین اور(2) عدالت کے فیصلے کے ذریعے حاصل شدہ زمین… میں ہم بہنوں کو وراثت کا حصہ ملے گا یا نہیں ؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب… واضح رہے کہ بہنوں کا حصہ اللہ تعالیٰ نے متعین کیا ہے، اگر بھائی مال کو آپس میں تقسیم کرتے ہیں اور بہنوں کو حصہ نہیں دیتے تو یہ بہنوں پر ظلم ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں بہنیں بھی بھائیوں کے ساتھ والد کے ترکہ میں شریک ہوں گی۔ حدیث شریف میں ہے: اگر کسی شخص نے ناحق ایک بالشت زمین پر قبضہ کیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات زمینوں کے بقدر طوق اس کو پہنائیں گے۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں جو زمین دکانوں اور گوداموں کی شکل میں موجود ہے اگر وہ حقیقتاً والد کی ملکیت ہے تو وہ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان مشترک ہوگی، تیسری زمین بھی دونوں کے درمیان مشترک ہوگی، باقی مقدمے کا خرچ تو اس پر ہوگا جس نے ناحق دعویٰ کیا ہے، البتہ اگر ان سے لینا ممکن نہ ہو تو سب وارثوں پر ان کے حصوں کے بقدر برابر تقسیم ہوگا۔
سیکورٹی گارڈ کا چوکیداری کے اوقات میں کوئی اور کام کرنا
سوال… میں بلڈ نگ میں سکیورٹی کا کام کرتا ہوں۔ ہمارے ہاں یہاں پر ایک کرایہ دار ہے تو اس نے مجھ سے کہا کہ میری گاڑی دھلوا دو، میں نے بلڈ نگ کے کلینر سے کہہ کر اس کی گاڑی صاف کروائی، اس نے مجھ سے پیسے پوچھے تو میں نے کہا جو مرضی دے دو، میں اس کو دے دوں گا۔ اس نے کہا: میں تو تمہیں ہر بار گاڑی صاف کرنے پر 100 روپے دوں گا، آپ جو مرضی اس میں سے آپ اس کلینر کو دے دو اور باقی خود رکھ لو، میری اور کلینر کے درمیان 30 روپے کی بات طے ہے، میں اسے 30 روپے دیتا ہوں گاڑی صاف کرنے کے، باقی میں خو درکھ لیتا ہوں۔
کیا یہ پیسے میرے لیے جائز اور حلال ہیں؟ اس کے متعلق میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بہت سی بلڈنگ میں مینجمنٹ کی طرف سے ایسے کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی (اور یہ بھی رہ نمائی فرما دیں کہ اگر مینجمنٹ کی طرف سے اجازت نہیں ہے، ہم چوری چھپے یہ کام کر دیتے ہیں تو کیا وہ پیسے لینا ہمارے لیے حرام ہوں گے یا نہیں؟) لیکن ہماری بلڈنگ کا جو منیجر ہے اس نے ہمیں اجازت دی ہے کہ چھوٹا موٹا کام آپ کر سکتے ہیں۔ اس مسئلے میں میری واضح رہ نمائی فرمائی جائے، تاکہ میں حلال اور حرام کی تمیز کرسکوں۔
جواب… صورت مسئولہ میں جب آپ کو بااختیار مینجمنٹ کی طرف سے کام کرنے کی اجازت ہے ، تو آپ کے لیے یہ پیسے حلال ہیں اور اگر مینجمنٹ کی طرف سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہے یا اجازت دینے والا خود با اختیار نہیں تو آپ کے لیے دوسرا کام کر نادرست نہیں ہے، لیکن پھر بھی آپ نے چوری چھپے کام کر لیا تو پیسے حلال ہوں گے، لیکن آپ گنہگار ہوں گے، تاہم منیجر کو آپ کی تنخواہ دوسرے کا کام کرنے کے بقدر کاٹنے کا حق حاصل ہے۔
خنثی (خواجہ سرا) کو گھر سے نکالنا، میراث میں حصہ نہ دینا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ اگر کسی کے گھر میں بچہ پیدا ہو اور وہ خواجہ سرا (خنثی) ہو، تو بڑے ہو کر اس کو گھر سے نکالنا، بے یار ومددگار چھوڑنا، وراثت میں سے اس کو حصہ نہ دینا اور دوسرے بچوں کو اس پر فوقیت دینا وغیرہ تو شریعت میں اس کی کیا حقیقت ہے؟ اور شریعت میں خنثی کے کیا اور کیسے احکام ہیں؟
جواب… واضح رہے کہ بلا وجہ کسی سے بائیکاٹ کرنا، قطع تعلقی کرنا، گھر سے نکالنا، میراث سے محروم کر نا اور اس پر دوسروں کو ترجیح دینا شرعا ناجائز اور حرام ہے۔
خنثی کے بارے میں دیکھا جائے گا ، اگر اس میں مردوں والی علامات ہیں، جیسے : آلہ تناسل سے پیشاب کرنا، مردوں کی طرح احتلام کا ہونا، داڑھی کا نکلنا، عورت سے جماع پر قادر ہونا، تو وہ مرد ہے اور اس پر مردوں والے احکام جاری ہوں گے۔ اور اگر اس میں عورتوں والی علامات ہیں، جیسے : پستان کا ظاہر ہونا اور اس میں دودھ کا آنا، حیض کا آنا، حاملہ ہونا اور عورتوں کی طرح اس سے جماع کرنا ممکن ہو تو وہ عورت ہے اور اس پر عورتوں والے احکام جاری ہوں گے۔
اور اگر اس میں مرد وعورت دونوں کی علامات پائی جائیں تو وہ خنثی مشکل ہے ، اس کے احکام میں احتیاط سے کام لیا جاتا ہے، نماز میں مردوں کی صف کے بعد کھڑا ہو گا، غیر محرم مرد یا عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرنا اور سفر کرنا مکروہ ہے ، اسی طرح ریشمی لباس اور زیور پہننا بھی مکروہ ہے۔
میت کمیٹی کی شرعی حیثیت
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں … ہمارے بڑوں نے پشاور میں مقیم اپنی کمیونٹی کی غربت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ”البر کمیٹی“ کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے مخصوص اراکین ہیں اور ہر رکن سالانہ 3000 روپے باقاعدگی سے بطور چندہ جمع کراتا ہے، کمیٹی کا بنیادی مقصد درج ذیل خدمات انجام دینا ہے:
1- اگر ہمارے گاوٴں سے کوئی مریض (جو کمیٹی کے اراکین میں سے کسی کا قریبی رشتہ دار ہو ہمارے شہر (جہاں ہم مقیم ہیں) میں آکر فوت ہو جائے، تو گاوٴں تک میت کی منتقلی کے اخراجات کمیٹی برداشت کرتی ہے۔
2- اگر کمیٹی کے اراکین میں سے کوئی مسافر ساتھی فوت ہوجائے، تو اس کی تجہیز وتکفین اور گاوٴں پہنچانے کا بندوبست بھی کمیٹی کے ذمے ہوتا ہے۔
3- اسی طرح اگر کسی رکنِ کمیٹی کے قریبی رشتہ دار (جن کی فہرست پہلے سے طے شدہ ہے) گاوٴں میں فوت ہوجائیں، تو کمیٹی اس رکن کو گاوٴں جانے کے لیے سفری اخراجات مہیا کرتی ہے۔
4- بعض مواقع پر کمیٹی میت کے اہل خانہ کو ایک یاد وقت کا کھانا بھی فراہم کرتی ہے (جس پر کبھی کم رقم خرچ ہوتی ہے کبھی زیادہ)۔
5- یہ تمام سہولیات یعنی میت گاوٴں تک پہنچانے کا خرچہ، اسی طرح گاوٴں میں کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہوجائے گا تو گاوٴں جانے والے اراکین سفری اخراجات کمیٹی سے اپنا حق لازم سمجھ کر وصول کرتے ہیں، کمیٹی پر یہ سہولت مہیا کرنا لازم سمجھا جاتا ہے۔
6- میت گاوٴں تک پہنچانے کے لیے کمیٹی بعض اوقات ایک گاڑی کا بندوبست کرتی ہے اور بعض اوقات دوکا، یعنی میت پہنچانے کے لیے سہولت مہیا کرنا متعین نہیں، کبھی کم کبھی زیادہ۔
7- بعض اراکین ایسے ہیں جو کئی سالوں سے چندہ دے رہے ہیں، لیکن ابھی تک ان کے ہاں کوئی فوتگی نہ ہونے کی وجہ وہ کمیٹی سے کوئی سہولت نہیں لے سکے، جب کہ بعض ایسے ہیں جن کے ہاں کئی فوتگیاں ہونے کی وجہ سے وہ کئی بار کمیٹی سے سہولت لے چکے ہیں۔
ہم اس نظام کو منظم طریقے سے چلا رہے ہیں، تمام ارکان اس پر رضا مند ہیں اور کمیٹی کا دائرہ خدمات صرف انہی ممبران تک محدود ہے جو باقاعدہ چندہ جمع کراتے ہیں، البتہ بعض اوقات گاوٴں کا کوئی فرد جو کمیٹی کے ارکان میں سے کسی کا قریبی رشتہ دار نہیں ہوتا اور وہ پشاور میں فوت ہو جائے تو کمیٹی اس کے ساتھ بھی کچھ نہ کچھ تعاون کرتی ہے، اسی طرح یہاں پڑھنے والے طلبہ (جو چندہ دینے سے مستثنی ہیں) کے ساتھ حادثے کی صورت میں بھی مکمل تعاون کیا جاتا ہے۔ ہم شریعت کی روشنی میں یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں:
1- کیا ”البر کمیٹی“ کے اس نظم اور خدمات کی یہ شکل شرعی اصولوں کے مطابق درست ہے ؟
2- کیا ممبران سے مقررہ رقم (مثلاً 3000 روپے سالانہ) بطور شرط لینا اور صرف چندہ دینے والے اراکین کو فائدہ دینا جائز ہے ؟
3- کیا یہ نظام ”وقف علی النفس (فی النقود)“ یا ”قمار“ کی ممانعت میں تو نہیں آتا ؟
4- اگر کوئی شرعی قباحت ہو تو اس کا متبادل شرعی طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟
جواب… واضح رہے کہ معاشرے میں موجود اس طرح کی کمیٹیوں میں درج ذیل خرابیاں اور خلاف شرع امور پائے جاتے ہیں:
(1) شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
(2) سود اور جوا کے مشابہ ہونا۔
(3) اگر کوئی جمع کردہ فنڈ واپس لینا چاہے تو اسے واپس نہیں کیا جاتا۔
(4) یہ فنڈ حلال حرام کی تمیز کیے بغیر جمع کیا جاتا ہے۔
(5) یہ رقم میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بلا ضرورت منتقل کرنے میں خرچ کی جاتی ہے ، حالاں کہ نقل میت مکروہ ہے۔
(6) بعض مرتبہ کمیٹی کے ممبر مفلس اور غریب ہوتے ہیں، جو چندہ دینے کی وسعت نہیں رکھتے ، لیکن لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے مجبوراً چندہ جمع کرواتے ہیں، جس میں ان کی خوش دلی کا مادہ مفقود ہوتا ہے، جس سے وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلال نہیں ہوتا۔
(7) چندہ دینا مباح عمل ہے، کمیٹی کے ارکان پر لازم کیا جاتا ہے ، جس سے ایک مباح عمل مکر وہ بن جاتا ہے۔
(8) اس چندہ کو عام طور پر ناجائز امور میں صرف کیا جاتا ہے، جیسے دعوت تیجہ ، میت کی قبر کی پختگی ، میت کی منتقلی وغیرہ۔
(9) کسی کے مال کو اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں، واضح رہے اس اجازت میں خلوص نیت ضروری ہے ، اس کے پیچھے کوئی اور چیز کار فرمانہ ہو ، مثلاً طمع، دباوٴ۔
لہٰذا ان مفاسد کی وجہ سے اس طرح کی کمیٹیاں بنانا اور اس کے لیے فنڈنگ (چندہ جمع کرنا) نا جائز ہے، البتہ اس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ کوئی شخص انفرادی طور پر ثواب کی نیت سے، ریا ونمود سے ہٹ کر اور رسم ورواج بنائے بغیر، مسجد وغیرہ کے لیے یا میت اور اہل خانہ میت کی مدد ونصرت کے لیے جائز طریقے سے کرنا چاہے، تو جائز ہے، بلکہ مستحسن ہے، جس پر عند اللہ وہ ماجور ہوگا۔