
”میں نے فیصلہ دیا“ کہنے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
سوال… ایک شخص نے اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں یہ جملہ کہا کہ ”میں نے فیصلہ دیا“۔ اب اس جملے سے بیوی پر طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟ اس شخص کا کہنا ہے کہ اس کی طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی۔ نیز اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک مفتی صاحب نے فتاوی عثمانی کے حوالے سے جواب دیا ہے کہ ”فیصلہ دیا“ کے الفاظ میں نیت ضروری نہیں، بغیر نیت طلاق کے بھی اس سے طلاق واقع ہوتی ہے۔
جواب… واضح رہے کہ شوہر کا اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں ”میں نے فیصلہ دیا“ کے الفاظ کہنے سے طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے، کیوں کہ ”میں نے فیصلہ دیا“ کے الفاظ ان کنایات میں سے ہیں جن سے حالتِ غضب میں بلا نیت بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا دوبارہ رجوع کرنے کے لیے تجدیدِ نکاح ضروری ہے۔(102/ 195)
پراپرٹی کی فائل کو بیچنا
سوال… میرے ایک قریبی جاننے والے ہیں، جو پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں، وہ عمو ماًنئے پراجیکٹس کی فائلیں حاصل کرتے ہیں اور انہیں آگے بیچ کر اپنا کمیشن حاصل کرتے ہیں، میرے پاس کچھ رقم موجود تھی تو میں نے ان سے کہا کہ میں بھی کوئی چیز خریدنا چاہتا ہوں،اس پر انہوں نے مجھے ایک زیر تعمیر پراجیکٹ کی فائل دکھائی، جس میں 3 لاکھ روپے کی ابتدائی ادا ئیگی ہو چکی تھی، انہوں نے کہا کہ یہ فائل 4لاکھ 75 ہزار روپے میں ملے گی، یعنی 1لاکھ 75 ہزار روپے کا لون تھا، میں عام طور پر اقساط پر چیزیں نہیں لیتا، لیکن انہوں نے کہا کہ صرف تین مہینے کے لیے رکھ لو، میں آگے کسی کو یہ فائل بکوا دوں گا اور تمھیں نفع ہو جائے گا، میں نے ان کی بات پر اعتماد کرتے ہوئے 4لاکھ 75 ہزار روپے کی ادائیگی کر کے وہ فائل لے لی، یہ فائل ایک اوپن فائل تھی، یعنی کسی کے نام پر رجسٹرڈ نہیں تھی، البتہ اس پر پلاٹ نمبر درج تھا، انہوں نے مجھے نقشے میں پلاٹ نمبر دکھایا، لیکن جب میں موقع پر گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں پلاٹنگ ہوئی ہی نہیں ہے اور بتایا گیا کہ آپ کا پلاٹ ممکنہ طور پر اس جگہ کے آس پاس کہیں ہو گا، میں نے اس پراجیکٹ کی ایک قسط بھی جمع کروائی، لیکن مالی حالات کی وجہ سے مزید اقساط نہ دے سکا، میرے اس عزیز نے مجھ سے زبانی وعدہ کیا تھا کہ وہ تین ماہ بعد یہ فائل خود ہی آگے بکوا دیں گے اور چوں کہ فائل اوپن ہے، اس لیے جس کے نام پر وہ بیچی جائے گی اس کے نام پر منتقل کر وائیں گے، اب جیسا کہ سب جانتے ہیں گزشتہ کئی سالوں سے پراپرٹی مارکیٹ نیچے جارہی ہے، پہلے تو وہ مجھے تسلیاں دیتے رہے، لیکن اب وہ میری کالز تک اٹھانا چھوڑ چکے ہیں، ان کا مؤقف یہ ہے کہ میں کیا کروں مارکیٹ نیچے چلی گئی ہے، اس بات کو اب تین سال ہو چکے ہیں اور وہ پراجیکٹ آج تک تعمیر کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا اور میری ساری رقم ڈوبنے کے قریب ہے، میرے دو سولات ہیں:
(1) مجھے ایک شخص نے بتایا ہے کہ جس فائل کو میں نے خریدا، اس پر جو لَون (1لاکھ 75 ہزار روپے) دیا گیا، وہ شرعی طور پر ناجائز ہے، کیوں کہ ایسی چیز جس پر نہ قبضہ حاصل ہو اور نہ کسی کے نام پر ہو، اس کی خرید وفروخت جائز نہیں ہوتی اور اگر نا جائز ہے تو گناہ صرف بیچنے والے پر ہو گا یا خریدار بھی اس میں شامل ہے؟
(2) میرے قریبی عزیز نے مجھ سے زبانی وعدہ کیا تھا کہ وہ تین مہینے بعد فائل آگے بکوا دیں گے، لیکن اب وہ نہ صرف و عدہ پورا نہیں کر رہے، بلکہ سامنا بھی نہیں کرتے، کیا شریعت ایسے وعدے کو پورا کرنے کا پابند بناتی ہے؟ کیا مارکیٹ نیچے جانے کی وجہ سے وہ اس وعدے سے بری ہو سکتے ہیں؟ جب کہ وعدہ کرتے وقت کسی بھی اتار چڑھاؤ کی کوئی شرط شامل نہیں کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ نقشے میں پلاٹ کا نمبر بھی موجود ہے اور گز وغیرہ کے اعتبار سے جگہ اور حدود بھی متعین ہیں۔
جواب… (1) واضح رہے کہ پلاٹ کی فائل کو آگے بیچنے کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر بیع کے دوران پلاٹ کی مکمل حقیقت واضح کر دی گئی ہو اور اس کا محل وقوع بھی متعین ہو کہ خریدار نقشے کی مدد سے اپنے پلاٹ کی حدود کا اندازہ لگا سکتا ہو، تو اس صورت میں پلاٹ کی خرید وفروخت نفع کے ساتھ فائل کی صورت میں جائز ہے، کیوں کہ یہ فائل کی خرید وفروخت نہیں، بلکہ وہ فائل جس متعین پلاٹ کی نمائندگی کر رہی ہے، اس کی خرید وفروخت کا معاملہ ہے، البتہ اگر پلاٹ کی حقیقت واضح نہ ہو اور اس کی حدود اربعہ متعین نہ ہوں، تو ایسی صورت میں پلاٹ کے مجہول ہونے کی وجہ سے محض فائل کی خرید وفروخت جائز نہیں، لہٰذا صورت مسئولہ میں چوں کہ نقشے میں پلاٹ کا نمبر موجود ہے اور گز وغیرہ کے اعتبار سے جگہ اور حدود بھی متعین ہیں، اس لیے یہ بیع جائز ہے۔
(2) چوں کہ وعدہ اس لیے کیا تھا کہ اس وقت مارکیٹ کا ریٹ صحیح تھا، آگے فروخت کر کے نفع کا حصول ممکن تھا، اب مارکیٹ ریٹ نیچے آگیا ہے، اس لیے اس وعدہ کا پورا کرنا شرعاً ضروری نہیں۔(347، 348/ 192)
پہلی بیوی کے دباوٴ کی وجہ سے دوسری بیوی کو طلاق دینا
سوال… مفتی صاحب کیا حال ہے؟ اچھا مفتی صاحب ایک بندے نے خفیہ دوسری شادی کی ہے، اس کا کہنا ہے کہ میں نے پہلی وائف سے تھوڑی سی بات کی تو مجھے بول رہی تھی کہ آپ قرآن پہ ہاتھ رکھ کے یہ بتاؤ کہ آپ کا دوسری بیوی سے تعلق نہیں اور آپ کال نہیں کرتے ہیں، تو میں ابھی کیا بولوں؟ اور پھر وہ مجھے بولتی ہے کہ آپ کا اس سے تعلق نہیں، لیکن آپ بات کرتے ہیں۔ ابھی مجھے بول رہی ہے کہ ویڈیو کال کر کے مجھے جو ہے ناقرآن پہ ہاتھ رکھ کے بولو، تو میں کیا کروں؟ اس کو میں نے کہا ٹھیک ہے، میں نے کہا پہلے بول دوں گا کہ یا اللہ! تو میرے دل کا حال جانتا ہے، لیکن میں تو تجھے پتہ ہے کہ گھر بسانا چاہتا ہوں تو میں کیا کروں؟ اور تجھے تو یا اللہ پتہ ہے، لیکن پہلی بیوی کو خاموش کرانے کے لیے بول رہا ہوں تو کیا ایسا کر سکتاہوں؟ جیسے پہلی بیوی بول رہی ہے کہ طلاق جو ہے ناوہ دوسری بیوی کو میرے سامنے دو، پہلی بیوی بہت شک کرتی ہے اور بہت تنگ کرتی ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے شک کرناشروع کر دیتی ہے، تو ایسی صورت میں میں کیا کروں، میں کیسے اس کو مطمئن کراؤں؟ بولتی ہے آپ اس کو چھوڑ بھی دیں گے تو مجھے یقین نہیں آئے گا کہ آپ نے چھوڑ دیا ہے تو ایسی صورت میں میں کیسے اس کو یقین دلاؤں؟ یہ ذرا مجھے بتانا کہ پہلی بیوی اگر پوچھتی ہے تو میں کیا بولوں؟ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں جیسے میں نے بولا کہ اللہ سے بولوں کہ یا اللہ! آپ کو تو پتہ ہے، لیکن اس کو تسلی دینے کے لیے میں جھوٹ بول رہا ہوں اور دوسری بیوی کو طلاق دے رہا ہوں تو کیا میں ایسا کر سکتا ہوں کہ نہیں؟ مجھے بتانا آپ کی مہربانی ہو گی۔
جواب… واضح رہے کہ شریعت میں مرد کو بیک وقت چار عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت ہے اور اس میں کسی سے اجازت لینا شرعاً ضروری نہیں ہے، لیکن دوسری طرف شریعت میں بیویوں کے درمیان انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور نکاح دوام (ہمیشہ) کے لیے ہوتا ہے، فسخ کرنے کے لیے نہیں ہوتا اور طلاق شرعاً بہت ہی ناپسندیدہ اور اللہ تعالی کے نزدیک مبغوض چیز ہے، اس لیے بغیر شرعی وجہ کے عورت کو طلاق دینا درست نہیں ہے۔
اسی طرح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: کوئی عورت اپنے شوہر سے اپنی بہن کو طلاق دینے کا مطالبہ نہ کرے اور ایسے ہی کسی کو بغیر شرعی وجہ کے طلاق دینے پر مجبور کرنا ظلم ہے، اس لیے نہ آپ کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے اور ناہی آپ کا اپنی ایک بیوی کے سامنے دوسری بیوی کے بارے میں کہنا کہ ”میں طلاق دے رہا ہوں“ درست ہے، بلکہ اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا آپ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کریں اور اپنی بیوی کو پیار ومحبت اور نرمی سے سمجھائیں کہ شریعت میں مرد کو بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے اور مرد شادی کرنے میں خود مختار ہے اور آپ اللہ کی طرف رجوع کریں۔ (328/ 192)
ایصال ثواب کا طریقہ
سوال… مرنے کے بعد ایصال ثواب کی غرض سے اجتماعی قرآن خوانی اگر منع ہے اسلام میں تو اس کا متبادل جائز طریقہ کیا ہوسکتا ہے کہ بطور ایصال ثواب قرآن پڑھا جائے؟
جواب… واضح رہے کہ میت کے ایصال ثواب کے لیے مروجہ اجتماعی قرآن خوانی شرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس میں کئی ساری بدعات ومنکرات پائی جاتی ہیں، نیز غیر لازم اور مباح چیزوں کو لازم وضروری (مثلاً: کوئی دن، تاریخ یا مہینہ مقرر کرنا وغیرہ) کیا جاتا ہے، اس وجہ سے اجتماعی قرآن خوانی جائز نہیں ہے۔
اس کا متبادل طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی نیک عمل مثلاً: تلاوت قرآن پاک، نوافل، خیرات، صدقات نافلہ وغیرہ اس نیت سے کیے جائیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب فلاں کو پہنچا دے، اگر شروع میں نیت نہ کی اور عمل کے بعد دعا کردی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کا ثواب فلاں کو پہنچا دے، تب بھی درست ہے۔ (254/ 193)
”KOI APP “ سے پیسے کمانے کا حکم
سوال… انٹرنیٹ پر ”KOI APP“ کے نام سے ایک کمپنی ہے، اس میں آن لائن لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے، اس کمپنی کا کام یہ ہے کہ دنیا بھر میں جو مختلف کمپنیز اور ایپس ہیں KOI ان سے اس بات کا کانٹریکٹ لیتی ہے کہ ہم آپ کی کمپنی/ ایپ کو لوگوں میں متعارف کروائیں گے اور اس کی تشہیر کریں گے اور آپ کے ڈاؤن لوڈرز بڑھائیں گے، اس کے لیے وہ ان کمپنیز سے پیسہ لیتی ہے اور پھر لوگوں کو آن لائن بھرتی کرتی ہے اور آن لائن بھرتی ہونے والوں سے بھی کچھ رقم انویسٹمنٹ کے طور پر لیتی ہے، جیسے: سب سے چھوٹی انویسٹمنٹ 6400 روپے کی ہے اور اس کے بعد اس سے بڑی، پھر اس سے بڑی اور سب سے آخر میں 20,000,000 تک کی انویسٹمنٹ ہے، سب سے چھوٹی انویسٹمنٹ میں روزانہ چار ٹاسک دیے جاتے ہیں کہ آپ کو چار مختلف ایپس ڈاؤن لوڈ کرنی ہیں، ایک ایپ کے 50 روپے ملیں گے، تو ایک دن کے 200 روپے بن جاتے ہیں، اس طرح جب آپ کے اکاؤنٹ میں کچھ رقم جمع ہو جائے تو آپ جب چاہیں نکال سکتے ہیں، انویسٹمنٹ کی مدت ایک سال ہے، ایک سال کے بعد جو رقم آپ نے انویسٹمنٹ کے لیے جمع کروائی تھی، وہ رقم آپ کو واپس مل جائے گی اور جو منافع کمایا ہے، وہ آپ کبھی بھی نکال سکتے ہیں۔ مذکورہ ایپ کے ذریعے پیسے کمانے کے متعلق شرعی رہ نمائی مطلوب ہے۔
جواب… صورت مسئولہ میں مذکورہ ایپ کے ذریعے پیسے کمانا درج ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے:
1- ایپ کا لوگوں کو آن لائن بھرتی کر کے ٹاسک دینا، جس کی اجرت بھی متعین ہے، یہ اجارہ ہے، لیکن اس کے لیے ایپ کو کچھ رقم دینا ضروری ہے، یہ شرط فاسد ہے، جو اجارے کو بھی فاسد کر دیتی ہے۔
2- ایپ کالوگوں سے پیسہ لینا قرض ہے، پھر اسی بنیاد پر لوگوں کو ٹاسک دیے جاتے ہیں، جس کا نفع بھی متعین ہے، جو قرض پر نفع کے معنی میں آتا ہے اور یہ سود کے مشابہ ہے، جو کہ حرام ہے۔
3- مذکورہ کمپنی (KOI APP) مختلف ایپس کی ڈاؤن لوڈنگ اور تشہیر کا ٹاسک دیتی ہے، اگر ان ایپس میں غیر شرعی مواد ہے، تو ان کی ڈاؤن لوڈنگ، تشہیر اور استعمال جائز نہیں ہے، لہٰذا ان وجوہات کی بنا پر مذکورہ ایپ کے ذریعے پیسے کما نا جائز نہیں اور سرمایہ کاری سے اجتناب ضروری ہے۔ (17/ 194)
کیا گھر کے مالک بننے کے لیے صرف نام پر کرانا کافی ہے؟
میرے والد صاحب کے انتقال کو 11 ماہ ہو چکے ہیں، ہم پانچ بہن بھائی ہیں اور الحمدللہ ہماری والدہ بھی حیات ہیں، ہمارے والد صاحب کا ایک فلیٹ ہے، جو کہ ہماری والدہ کے نام پر ہے۔ والد کے انتقال کے بعد دوسری بہنیں اور بھائی اور والدہ یہ کہتے ہیں کہ یہ گھر والدہ کے نام پر ہے، اس لیے یہ والد کی وراثت نہیں ہوگی، یہ والدہ کی وراثت کہلائے گا اور جب کہ یہ گھر والد صاحب نے اپنی ذاتی محنت کی کمائی سے خریدا تھا، لیکن نام پر والدہ کے کیا تھا۔ شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ یہ والد کی وراثت ہوگی یا والدہ کی ہوگی؟ جب کہ بہنیں کہتی ہیں کہ والد نے انتقال سے قبل وصیت کی تھی کہ میرے بعد میری تمام چیزوں پر حق میری بیوی کا ہے، جب کہ وصیت کی لکھائی موجود نہیں اور بھائیوں کو بھی اس وصیت کا پتہ نہیں۔
اگر یہ والد کی وراثت ہے تو کیا حکم ہوگا اور اگر والدہ کی ہے تو بھی کیا حکم ہوگا؟ اگر والد کی وراثت ہے اور دوسرے بہن بھائی اور والدہ مکان فروخت کرنے سے انکار کریں یا فروخت کرنے میں دیر کریں جب کہ ایک وارث کو رقم کی بہت شدید ضرورت ہو، تو کیا حکم ہے ہم سب کے لیے؟ نیز اس گھر کے علاوہ والد کی بینک میں موجود رقم اور والدہ کو دلائے ہوئے زیورات کا کیا حکم ہوگا؟ اور اگر والد کی کوئی جائیداد، رقم یا کوئی اور چیز جو وراثت میں شامل ہو، وہ دوسرے وارث سے چھپائی جائے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟ جزاک اللّٰہ خیرا۔
تنقیح: والد صاحب پراپرٹی کا کام کرتے تھے، جتنے بھی گھر لیتے، والدہ کے نام پر لیتے تھے اور کچھ عرصہ رکھ کر زیادہ پیسوں میں اس گھر کو بیچ دیتے تھے، لیکن اس گھر میں گزشتہ دس سالوں تک رکے رہے ، تو والدہ کے نام پر ہی گھر تھا، والد کے انتقال کو گیارہ ماہ گزر چکے ہیں، اب یہ والد کی وراثت ہوگی یا والدہ کا ہوگا؟ والدہ اسی گھر میں رہتی ہیں۔
جواب… 1- صورت مسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل اگر مبنی برحقیقت ہے اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا تو چوں کہ آپ کے والد صاحب نے والدہ کو یہ گھر بطور ہبہ نہیں دیا تھا، بلکہ صرف نام پر کیا تھا، اس لیے یہ بدستور والد صاحب کی ملکیت شمار ہوگا اور ان کے ترکہ میں ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصص کے بقدر تقسیم ہوگا، لہٰذا دوسرے بھائی وبہن، والدہ کا اس میں والدہ کی ملکیت کا دعویٰ کرنا درست نہیں ہے۔
2- واضح رہے کہ وراثت میں اگر کوئی ایک وارث بھی تقسیم کا مطالبہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، دیگر ورثاء کو اسے روکنے کا کوئی حق نہیں۔
3- نیز اگر اس گھر کے علاوہ والد صاحب کی ملکیت میں دیگر جائیداد، نقدی رقم یا کوئی اور چیز ہو تو وہ بھی ان کے ترکہ میں شمار ہوگی، جب کہ زیورات والدہ کے ہوں گے۔
4- واضح رہے کہ کسی وارث کا ترکہ کی چیزوں کو دوسرے ورثاء سے چھپانا ناجائز وحرام ہے۔ ترمذی شریف کی ایک حدیث ہے، جس میں آپ علیہ الصلاة والسلام نے ارشاد فرمایا: ”ملعون ہے وہ شخص جو کسی مسلمان کو تکلیف دے یا اس کے ساتھ مکر وفریب کرے“۔ (274 – 271/ 193)
کیا شادی شدہ عورت غیر محرم مرد کے ساتھ جانے سے مہر کی مستحق نہیں ہوتی؟
سوال… اگر عورت شوہر کی اجازت کے بغیر کسی نامحرم کے ساتھ چلی جاتی ہے، تو ڈیڑھ ماہ بعد ملنے کی صورت میں کیا وہ حق مہر کی حق دار ہے؟ حق مہر اس کا پچاس ہزار اور دو تولہ سونا ہے اور یہ معجل لکھا ہوا ہے۔ اس حوالہ سے شرعی رہ نمائی فرمائیں۔
جواب… واضح رہے کہ اسلام عورت کی عزت ووقار، پاک دامنی اور حفاظت کا خواہاں ہے، غیر محرم کے ساتھ جانا، بات کرنا یا خلوت اختیار کرنانہ صرف دین کی نافرمانی ہے، بلکہ دنیا و آخرت دونوں میں رسوائی کا سبب بن سکتا ہے، باوجود اس کے اگر کوئی عورت غیر شرعی تعلقات و حرکات کی مرتکب ٹھہرتی رہی، تو ایسی عورت کے بارے میں قرآن وسنت میں سخت احکام اور وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
چناں چہ ارشادِ ربانی ہے کہ: ”مؤمن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں“۔ (النور:31)
قرآن کریم میں ایک اور جگہ اللہ رب العزت کا ارشاد مبارک ہے کہ: ”اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) اپنے بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو“۔ (الاحزاب: 33)
اسی طرح آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ: ”کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہا نہ ہو، کیوں کہ ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے“۔ (ترمذی شریف)
جب کہ ایک اور حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ: ”کوئی عورت بغیر کسی محرم کے تین دن یا اس زیادہ سفر نہ کرے“۔ (بخاری شریف)
ان آیات اور احادیث میں جہاں عورت کو اپنی عزت وعفت کی حفاظت کی ترغیب دی گئی ہے، وہاں عورت کے لیے غیر ضروری اختلاط، باہر گھومنے پھرنے یا غیر محرم کے ساتھ جانے سے سخت ممانعت کا حکم بھی ہے۔
جہاں تک مہر کی ادائیگی کی بات ہے تو وہ شرعی رو سے بیوی کے ساتھ ہم بستری، خلوت صحیحہ اور میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہونے پر لازم ہو جاتی ہے، یعنی اس کی ادائیگی ضروری ہو جاتی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر چہ شوہر اپنی بات میں سچا ہو، تب بھی بیوی کو اس کے مہر کے حق سے محروم نہیں کرسکتا اور اس کی ادائیگی شوہر کے ذمہ جماع کی وجہ سے ضروری ہو چکی ہے۔ (109/ 195)