
ڈاکٹر کے علاج سے مریض فوت ہو جائے تو کیا دیت لازم ہوگی؟
سوال… اگر ایک ڈاکٹر کسی مریض کا علاج کرے اور مریض فوت ہو جائے، تو کیا اس ڈاکٹر پر دیت یا کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟ اس کا مفصل جواب دلائل کے ساتھ درکار ہے۔
جواب… واضح رہے کہ اگر طبیب حاذق، مریض یا اس کے اولیاء کی اجازت سے طبی اصولوں کے مطابق علاج کرے، پھر اگر مریض ہلاک ہو جائے تو اس پر ضمان نہیں آئے گا اور اگر اولیاء کی اجازت کے بغیر اور طبی اصولوں کے خلاف علاج کرے تو اس پر ضمان واجب ہوگا، پھر اگر پورا علاج طبی اصولوں کے خلاف کیا ہو تو پوری دیت لازم ہوگی اور اگر کچھ علاج طبی اصولوں کے موافق اور کچھ مخالف کیا ہو تو نصف دیت لازم ہوگی، لیکن اگر طبیب حاذق نہ ہو تو اس کے لیے علاج کرنا جائز نہیں، چاہے اولیاء کی اجازت ہو یا نہ ہو اور اگر اس کے علاج سے مریض ہلاک ہو جائے تو پوری دیت لازم ہوگی۔ یہ تفصیل اس وقت ہے کہ علاج میں ڈاکٹر نے اپنا ہاتھ استعمال کیا ہو، مثلاً (آپریشن، انجکشن یا اپنے ہاتھ سے دوا پلائی ہو) لیکن اگر لکھ کردیا ہو اور مریض نے خود دوا استعمال کی ہو تو کسی پر ضمان نہیں۔
پھلوں میں بیع سلم، خیار روٴیت، خیار عیب اور درآمدات میں نقصان سے متعلق چند احکام
سوال… پھل فروٹ اور سبزی وغیرہ میں بیع سلم کا کیا حکم ہے؟ اس کی شرائط کیا ہیں؟ نیز اس میں فقہائے کرام کا کیا اختلاف ہے؟ اور مفتی بہ قول کس کا ہے؟
اگر مشتری مبیع میں کوئی عیب یا اس میں کسی وصف کی کمی دیکھتا ہے، تو مشتری کو خیارِ وصف یا خیار عیب حاصل ہوتا ہے، بلکہ فتاویٰ ہندیہ میں تو یہاں تک صراحت کی گئی ہے کہ اگر مشتری مبیع دیکھنے کے بعد اس میں کوئی عیب یا وصف کی کمی نہیں پاتا ہے، بلکہ مبیع مشتری کی ذکر کردہ شرائط کے موافق ہو، تب بھی مشتری کو بیع فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
من اشتریٰ شیئا لم یرہ فلہ الخیار اذا راہ، ان شآء أخذہ بجمیع الثمن، وان شاء ردہ، سواء راٰہ علی الصفة التی وصفت لہ أو علی خلافھا․ (الھندیہ: کتاب البیوع، الباب السابع، فی خیار الروٴیة، 3/ 75، ط: رشیدیہ، کوئٹہ)
اس بابت چند سوالات درج ذیل ہیں:
1- فقہ حنفی کے مطابق اگر مشتری مبیع کو اپنی شرائط کے مطابق نہیں پاتا، تو مشتری کو اختیار ہے کہ یا توکل ثمن کے عوض کل مبیع کو روک لے، یا پھر کل ثمن واپس لے کر کل مبیع واپس کردے۔ اگر مشتری بعض ثمن کے عوض بعض مبیع روکنا چاہے، تو شرعا مشتری کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
2- مگر آج کل مارکیٹ میں یہ چیز بہت زیادہ عام ہے کہ مشتری کے پاس جب بعض مبیع صحیح اور بعض عیب دار ہوتی ہے، تو مشتری عیب دار مبیع واپس کر کے صحیح مبیع کے مطابق قیمت ادا کرتا ہے، جو عیب دار مبیع واپس کیا ہوتا ہے، اس کی قیمت ادا نہیں کرتا اور ایسا کرنے میں بائع بھی راضی ہوتا ہے، تو کیا بائع کی رضامندی کے باوجود بھی مشتری بعض ثمن کے عوض بعض مبیع روکنے کا استحقاق نہیں رکھتا؟
3- فقہ اسلامی نے مشتری کو اختیار دیا ہے کہ اگر مشتری مبیع میں کوئی عیب نکالے بغیر یہ کہہ کر مبیع واپس کرنا چاہے کہ: مجھے یہ مبیع پسند نہیں ہے، تو مشتری کے لیے ایسا کر نا جائز ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آج کل بڑے بیوپاری باہر ممالک سے کھیت کے لیے بیج یا پیاز، لہسن وغیرہ سے لدے کنٹینرز منگواتے ہیں، لیکن کسی عیب کی وجہ سے یا پھر بغیر کسی عیب کے واپس کر دیتے ہیں، تو مشتری کے لیے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے، تو مثلا ایران سے کوئٹہ تک کنٹینر کی آمدورفت کے اخراجات کس کے ذمے ہوں گے؟
4- بالخصوص اگر مبیع ایسی ہو، جو زیادہ وقت گزرنے سے خراب ہوتی ہو، جیسے مختلف سبزیاں اور مشتری ایسی مبیع واپس کردے تو سبزی وغیرہ خراب ہونے کی صورت میں نقصان کس کے ذمے ہوگا؟
5- اور اگر مشتری کو مبیع میں عیب نہ ہونے کی صورت میں مبیع واپس کرنے کا اختیار نہیں ہے، تو ہندیہ کی درج بالا عبارت کا کیا مطلب ہے؟
جواب… صورت مسئولہ میں پھلوں اور سبزیوں میں بیع سلم چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:
• جو سبزی تولی نہیں جاتی، بلکہ اس کی گٹھڑی بنائی جاتی ہے، تو ان گٹھڑیوں کا حجم معلوم ہو کہ گٹھڑی ایک بالشت ہوگی یا اتنی موٹی ہوگی وغیرہ اور جو تولی جاتی ہیں ان کا وزن اور مقدار معلوم ہو۔
• پھل کے ظاہر ہونے کے بعد بیع ہو۔
• وہ ایسی سبزی یا پھل ہو جو عقد کے وقت سے لے کر مدت پوری ہونے تک مارکیٹ میں موجود ہو۔
• سبزی اور پھل کی جنس معلوم ہو، مثلا سیب، کیلا، انگور وغیرہ۔
• اسی طرح نوع بھی معلوم ہو، مثلا گاجا سیب ہے یا گولڈن وغیرہ۔
• عقد کے وقت مدت طے ہو۔
• عقد کے وقت وہ جگہ بھی طے کرنا ضروری ہے جہاں مبیع حوالہ ہوگی۔
2- واضح رہے کہ اگر مشتری مبیع دیکھنے کے بعد اس مبیع میں کوئی عیب پائے، تو عیب کی وجہ سے اس مبیع کو واپس کرنا خیار عیب ہے اور دیکھنے کے بعد اس میں کوئی عیب نہ پائے اور مبیع کو اسی طرح پائے جیسے اس کے اوصاف بیان کیے گئے تھے، لیکن پھر بھی اس کو پسند نہیں آئی، تو مشتری اپنا خیارِ روٴیت استعمال کر کے بیع فسخ کر سکتا ہے، ہندیہ کی عبارت کا یہی مطلب ہے۔
3- خیارِ روٴیت ہو یا خیارِ عیب، مشتری نے اگر مبیع میں عیب پایا، تو اس کو دو اختیار ہیں: 1- کل ثمن ادا کر کے مبیع اپنے پاس روک لے۔ 2- پوری مبیع واپس کردے۔
مشتری یہ نہیں کر سکتا کہ عیب دار مبیع واپس کر کے صحیح اپنے پاس رکھ لے، ہاں! اگر بائع راضی ہو تو جائز ہے، لہٰذا آج کل جو مارکیٹ میں عام ہے کہ بائع عیب پر راضی ہو کر عیب دار مبیع واپس لے لیتا ہے، یہ صورت جائز ہے۔
4- واضح رہے کہ درآمدات کے معاملے کی بظاہر تین صورتیں ہیں:
پہلی صورت: بائع اور مشتری یہ طے کر لیں کہ مبیع پہنچانا بائع کے ذمے ہوگا، اس صورت میں کنٹینر والا بائع کا وکیل ہوگا، لہٰذا اخراجات بھی بائع کے ذمے ہوں گے۔
دوسری صورت: بائع کے ذمے صرف گاڑی والے تک مبیع پہنچانا اور حوالے کرنا ہو، اس صورت میں راستے کے اخراجات مشتری کے ذمے ہوں گے۔
تیسری صورت: عقد میں صراحت نہ ہو کہ مبیع کے اخراجات کس کے ذمے ہیں، اس صورت میں معاملہ عرف پر محمول ہوگا، اگر تاجروں کے ہاں عرف یہ ہے کہ کنٹینر والا بائع کا وکیل ہے تو اخراجات اور ضمان بائع پر ہوگا اور اگر اس بات کا عرف ہے کہ بائع کنٹینر والے تک مبیع پہنچانے کا ذمہ دار ہے، تو مبیع کنٹینر والے کو حوالہ کرنے کے بعد مشتری کے ضمان میں داخل ہو جائے گی۔
5- جہاں تک نقصان کی بات ہے تو دیکھا جائے گا کہ کنٹینر والا بائع کا وکیل ہے یا مشتری کا؟ اگر بائع کا وکیل ہے تو ضمان بائع پر اور مشتری کا وکیل ہے تو ضمان مشتری پر ہوگا اور اگر عقد میں صراحت نہیں تو معاملہ عرف پر محمول ہوگا۔
ضمان سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ مشتری کنٹینر والے کو اپنا وکیل بالقبض (مبیع قبضہ کرنے کا وکیل) بنالے اور اس سے کہے کہ آپ مبیع کو دیکھ کر اس پر قبضہ کریں، اگر صحیح ہے تو قبضہ کر کے لے آئیں، ورنہ نہیں، اس طرح راستے کے اخراجات اور ضمان سے ہر ایک بچ جائے گا۔
جھوٹے مقدمے میں گرفتار قیدی کو قانونی مدد فراہم کرنا
سوال… 1- کیا کسی قیدی کو جیل سے چھڑوانا شرعًا جائز ہے؟
2- اگر کوئی شخص بے گناہ ہو یا اس پر جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا ہو، تو کیا شریعت کی رُو سے ایسے قیدی کی رہائی کے لیے قانونی مدد فراہم کرنا درست اور باعثِ اجر ہے؟
3- کیا ایک فلاحی تنظیم یا ادارے کے لیے یہ شرعی طور پر درست ہے کہ وہ ایسے قیدیوں کی رہائی میں مدد کرے جو بے گناہ ہوں، محض جرمانہ یادیت ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے قید میں ہوں؟
جواب… یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلام عدل وانصاف پر مبنی دین ہے، اس کے احکامات روا داری، خدا ترسی اور بلند مرتبہ اخلاقی اقدار کے حامل ہیں۔ اسلام اپنے نام لیواوٴں کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ وہ عدل وانصاف کا دامن لازم پکڑیں اور بقدر استطاعت ظلم وجور کے خلاف سینہ سِپر ہوں اور اسلام کسی بھی مسلمان کی حاجت روائی کی بے حد حوصلہ افزائی کرتا ہے، چناں چہ حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے: ”مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے (ظالموں کے) سپرد کرتا ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، اللہ تعالی اس کی حاجت روائی فرماتا ہے۔ جو کسی مسلمان سے اس کی ایک تکلیف دور کرتا ہے، اللہ تعالی اس سے قیامت کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور کرتا ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالی قیامت کے دن اس (کے عیبوں) کی پردہ پوشی فرمائے گا“۔ (صحیح مسلم)
پھر قیدی کو چھڑانے سے متعلق قرآن وحدیث میں خصوصی فضیلت اور تاکید آئی ہے۔ قرآن کریم میں ہے: ﴿فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ، وَمَا أَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَةُ، فَکُّ رَقَبَةٍ﴾ (سورة البلد: 11-13) ترجمہ: ”پھر وہ اس گھاٹی میں داخل نہیں ہوسکا اور تمہیں کیا پتہ کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟ کسی کی گردن چھڑا دینا ہے۔ (گھاٹی دو پہاڑوں کے درمیانی راستے کو کہتے ہیں، عام طور پر جنگ کے دوران ایسے راستے کو دشمن سے بچنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے اور یہاں گھاٹی میں داخل ہونے سے مراد ثواب کے کام کرنا ہے، ان کو گھاٹی میں داخل ہونا اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔) (آسان ترجمہ قرآن) یہاں ”کسی کی گردن چھڑا دینے میں“ قیدی کی رہائی بھی داخل ہے۔ (احکام القرآن للقرطبی)
اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”قیدی کو چھڑاوٴ، بھوکے کو کھانا کھلاوٴ اور مریض کی تیمارداری کرو“۔ (صحیح بخاری)
درج بالا مختصر تمہید کے بعد سوالات کے جوابات ملا حظہ ہوں:
1- جو شخص واقعی مجرم ہو اور اس کو بقدر جرم سزا ہوئی ہو، اسے چھڑانے کی کوشش کی اجازت نہیں ہے، ہاں! اگر کوئی بے گناہ ہے تو اسے چھڑانے کی کوشش کرنا باعث اجر وثواب ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
2- درست اور باعث اجر ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
3- اگر کوئی قیدی بے گناہ ہو اور دیت یا جرمانہ کی عدم ادائیگی کی بنا پر قید میں ہو تو اس کی رہائی کی کوشش باعث اجر وثواب ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
میڈیکل سٹور میں باجماعت نماز پڑھنا
سوال… ایک میڈیکل سٹور دوپہر 45 : 12 تک کھلا رہتا ہے، ایک بجے بند کر کے پھر تین بجے کھول دیا جاتا ہے، ایک حافظ صاحب اسی میڈیکل سٹور میں کام کرتے ہیں، وہ وہاں باجماعت نماز پڑھ رہے ہیں، تو کیا میڈیکل سٹور میں جماعت نماز پڑھنا جائز ہے؟
لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ یہاں با جماعت نماز نہیں ہوسکتی، رہ نمائی کیجیے۔
جواب… واضح رہے کہ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت موٴکدہ ہے، بغیر کسی عذر کے چھوڑنا جائز نہیں ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں میڈیکل سٹور میں باجماعت نماز پڑھنا اگر چہ جائز ہے، لیکن اس میں یقینا وہ ثواب نہیں ملتا جو ثواب مسجد میں جا کر نماز پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے ، اس کے ساتھ مسجد کا کردار اور مسلمانوں کا باہمی اتحاد واتفاق بھی متاثر ہوجاتا ہے، اس لیے بلا ضرورت میڈیکل سٹور میں جماعت کرنے کے بجائے مسجد میں باجماعت نماز پڑھنی چاہیے۔
ڈیری فارم کی بھینسوں پر زکوٰة کا حکم
سوال… ہمارے یہاں ایک بندے کا ڈیری فارم ہے اور اس نے بھینسوں کی دیکھ بھال کے لیے مزدور بھی رکھا ہے۔ جیسے کہ فتاوی محمودیہ اور دوسری کتابوں میں بھی یہ مسئلہ مذکور ہے کہ ڈیری فارم کی بھینسوں پر زکوة نہیں ہے، بلکہ اس کے عوائد اور آمدنی پر ہے۔ اب یہ مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ اگر ڈیری فارم والا سال کے درمیان میں بھینسوں میں سے چار پانچ کو فروخت کردیتا ہے اور بھینسوں کے پیسے بھی خرچ ہوجاتے ہیں تو کیا اس صورت میں بھینس فروخت کی ہے اس پر زکوة ہوگی یا نہیں؟ اگر زکوة ہے تو کیا عروضِ تجارت کی طرح ان پیسوں پر جو فروخت کرنے سے حاصل ہو ئے ہیں حولان حول شرط ہے یا یہ کہ ان پیسوں کو ڈیری فارم کی مجموعہ آمدنی کے ساتھ ضم کیا جائے گا؟
جواب… واضح رہے کہ بھینسیں تجارت کے لیے نہیں اور ان کو مالک خود پالتا ہے تو ان بھینسوں پر زکوة لازم نہیں ہوگی، اسی طرح دودھ جو ان بھینسوں سے حاصل ہو اور اس کی تجارت ہوتی ہو تو زکوة دودھ پر لازم نہیں ہوتی، بلکہ دودھ کی جو قیمت حاصل ہوتی ہے وہ اگر نصاب کے برابر ہو اور سال بھی گزر جائے تو اس پر زکوة لازم ہوگی۔ نیز جس مال زکوة کا نصاب پورا ہوجائے، پھر سال کے دوران اسی کی جنس سے جو مال حاصل ہوگا اس کو بھی نصاب سے ملایا جائے گا اور سال پورا ہونے پر مجموعہ مال سے زکوة ادائیگی لازم ہوگی۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں ڈیری فارم والے کو سال کے درمیان میں چار پانچ بھینس فروخت کرنے سے جو پیسے حاصل ہوئے ہیں ان پیسوں کو بھی ڈیری فارم کی مجموعی آمدنی سے ملایا جائے گا، البتہ سال کے دوران جو پیسے خرچ ہوئے ان کی زکوة ادا کرنا لازم نہیں، بلکہ آخر میں جو پیسے بچ جاتے ہیں صرف انہی پیسوں پر زکوة ہوگی۔
اسٹیٹس یا دیگر سوشل میڈیا ذرائع پر تصاویر اور ویڈیوز لگانا
سوال… 1- کیا واٹس ایپ اسٹیٹس یا دیگر سوشل میڈیا ذرائع پر کسی نا محرم مرد یا عورت کی تصویر یا ویڈیو لگانا شرعًا جائز ہے؟ جب کہ نتیجتاً کئی نا محرم مردوں کی نظر عورت کی تصویر پر یا کئی عورتوں کی نظر کسی نا محرم مرد کی تصویر پر پڑجاتی ہے۔
2- اگر کسی مرد نے عورت کی تصویر یا کسی عورت نے مرد کی تصویر لگائی اور دیگر نا محرم حضرات کی نظر اس پر پڑتی ہے تو اس پر شرعی حکم کیا ہوگا؟
اس معاملے کا کیا تقاضا ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے میں نظروں کی حفاظت اور فتنہ سے بچاوٴ کے شرعی اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن وسنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں شرعی راہ نمائی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور آپ کے علم وعمل میں برکت عطا فرمائیں، آمین۔
جواب… 1- واضح رہے کہ اسٹیٹس یا دیگر سوشل میڈیا ذرائع پر کسی بھی جان دار کی تصاویر یا ویڈیوز لگانا جائز نہیں ہے۔
2- جان دار کی تصاویر یا ویڈیوز لگانے والے پر گناہ ہوگا، لہذا ایسی تصاویر یا ویڈیوز جن میں جان دار کی شکلیں ہوں، ان کو اسٹیٹس پر نہ لگایا جائے اور اگر کسی بات کی خبر دینا ضروری ہو تو جان دار کی شکلوں کو مٹا دیا جائے یا چھپا دیا جائے یا تحریری صورت میں شیئر کردیا جائے۔
اور دیکھنے والے کو اگرمعلوم ہو کہ اسٹیٹس وغیرہ پر نا محرم کی تصاویر یا ویڈیوز لگائی گئی ہیں، تو وہ ہر گز اسٹیٹس نہ دیکھے اور اگر غلطی سے دیکھ لیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
پیشگی اطلاع کے بغیر ملازمت چھوڑنے والے ملازم کی تنخواہ ضبط کرنا
سوال… مختلف کمپنیوں (کار پوریٹ اداروں) میں مختلف ملازمین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جاتا ہے کہ پیشگی اطلاع کے بغیر اگر کوئی ملازمت ختم کرے گا تو اس کے آخری مہینے کی تنخواہ نہیں ملے گی، اسی طرح اگر کمپنی کے ذمے کوئی بونس وغیرہ ہو تو وہ بھی کمپنی ضبط کر لے گی اور ملازمت کے عہد میں یہ چیزیں شامل ہوتی ہیں اور تمام ملازمین اس پر دستخط بھی کرتے ہیں۔
1- ملازم کا اس معاہدے کی رو سے پیشگی اطلاع دیے بغیر ملازمت چھوڑنا کیسا ہے؟
2- مذکورہ صورت میں اپنی تنخواہ کے مطالبے کا حق رکھتا ہے یا نہیں؟
3- کسی کمپنی ادارے کا ایسا کرنا درست ہے؟ تنخواہ کے علاوہ مزید بونس وغیرہ کا کیا حکم ہے؟
4- اگر کمپنی کا نقصان ہو رہا ہو تو کس حد تک تلافی کی گنجائش ہے؟
5- کمپنی اگر معاہدہ نہ کرے تو اسے یہ خدشہ ہوتا ہے کہ ملازم بغیر اطلاع کے چھوڑ دے تو اس کا نقصان ہوسکتا ہے؟ اس کی وجہ سے کاموں میں تاخیر ہوسکتی ہے، اگر اس طرح درست نہیں ہے تو اس کی متبادل کیا صورت ممکن ہے؟
نوٹ: نوٹس پیریڈ یعنی پیشگی اطلاع کی مدت ایک، دو، تین مہینے ہوتی ہے۔
جواب… 1- واضح رہے کہ معاہدے کی پاس داری فریقین کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، معاہدے کو توڑنے اور خلاف ورزی کی صورت میں گناہ ہوگا، صورتِ مسئولہ میں ملازم کا معاہدے کی رُو سے پیشگی اطلاع دینا ضروری ہے، پیشگی اطلاع دیے بغیر ملازمت چھوڑنے کی صورت میں گناہ گار ہوگا۔
2- ملازم نے جتنا کام کیا اس کی اجرت کا وہ حق دار ہوگا، لہٰذا وہ اجرت دینا لازم ہوگا۔
3- صورتِ مسئولہ میں بونس وغیرہ اگر کمپنی کی طرف سے ہدیتًا، تبرعًا اور احساناً دیا جاتا ہو، تو وہ دینا نہ دینا کمپنی کی صواب دید پر ہے، لیکن اگر وہ ملازم کی ہر مہینہ کی تنخواہ میں سے کاٹ کر بعد میں ملازم کو بونس کے نام سے دیا جاتا ہو، تو وہ کمپنی کے ذمہ اس ملازم کو دینا لازم ہے، کیوں کہ یہ ملازم کا حق ہے۔ اور پیشگی اطلاع نہ دینے کی صورت میں آخری مہینہ کی تنخواہ نہ دینے کی شرط لگانا درست نہیں ہے۔
4- واضح رہے کہ کمپنی کے نقصان کی تلافی ملازم کی اجرت سے یا اس پر کوئی مالی جرمانہ ڈال کر کرنا جائز نہیں ہے۔
5- جائز صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کمپنی کوئی ایسا معاہدہ کرے کہ اگر کوئی پیشگی اطلاع دے گا تو کمپنی کی طرف سے اس کو تنخواہ کے ساتھ مزید بونس یا کوئی سر ٹیفکٹ جاری کیا جائے گا، جو اس کے اگلے روزگار کے لیے معین ومددگار ہوگا، لیکن اگر پیشگی اطلاع نہیں دے گا تو بونس یا سر ٹیفکٹ کا حق دار نہیں ہوگا۔