نعت النبی الخاتم صلی اللہ علیہ و

نعت النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم

مفتی جمیل احمد تھانویؒ

نور مجسم، فخر دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم

ہر ہر وصف کے مظہر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم

گلشن عشق خدا کے مالی ملک محبیّت کے والی

ختم رُسل سردار خلائق اشرفِ عالم سب سے فائق

صدر نبوت، فخر رسالت، مایہٴ نازِ عز وجلالت

ہادی جن وانس وملک کے، رہبر اہل ارض وفلک کے

فرش زمین پہ رعب مکمل، عرش پہ چرچا، چرخ پہ ہلچل

باعث خلقِ کون ومکاں بھی، ابر رحمت ہر دوجہاں بھی

چہرہ انور، مہر منّور، قلب مصفّٰی، پاک ومطہر

روح پہ وہ اسراء کی بارش، قلب پہ یوں انوار کی بارش

دوش پہ کمبل گھر میں فاقے نذر وسخا جو آئے خزانے

مسجد میں ریزش پہ تو غصہ، طائف میں زخموں پہ تحمل

دنیا عقبیٰ ارض وسما میں افضل اعلیٰ ہر دو سرا میں

امّی لیکن علم لدنّی، اول وآخر سب سے عالی

ساقی ازل سے لے کے ابد تک، مینا ساغر عام بلاشک

امت جن کی خیر امت، جس پہ نبیوں تک کو حیرت

دہر کے نجم وکوکب سارے شمس وقمر پر حسن کے جلوے

عاصی خاطی، بیوہ بے کس طفل یتیم ومسکین بے بس

عہد حیات ہر عہد سے بڑھ کر حشر میں رتبہ سب سے برتر

نور نبوّت قبل از آدم سارے نبیوں کے پھر خاتم

جن وانس وملک کے آقا، بعد خدا ہے جن کا رتبہ

فرش زمیں سے عرش بریں تک، عرش بریں سے فرش زمیں تک

قرب وخطابِ لُطف سے فائز، روح القدس بھی جس سے عاجز

کعبے سے اقصی پر رحمت قدس میں قدسیوں کی امامت

فطرت رب کا ایسا نمونہ جس کا مثیل آئے گا نہ آیا

ہر ہر وصف اعجاز کی صورت، ہر ہر قول آئین شریعت

فرق فلک جن پر کے قدم تھے ساتوں چرخ بھی آگے خم تھے

خلقِ عظیم آیا ہے ازل سے دنیا کو اخلاق سکھانے

حق نے خود تعلیم عطا کی، رب نے خود تہذیب سکھا دی

سوتی دنیا جس نے جگا دی حق کی پھر آواز سنا دی

آپ کو حاصل معجزے سارے لائے تھے جو آپ سے پہلے

کملی میں وہ رعب شاہاں، قیصر وکسری جس سے لرزاں

شان ہے جن کی سب سے عالی، امت جن کی سب سے نرالی

علم وحکمت تزکیہ تقویٰ ایک نظر میں سب کچھ پیارا

معصوم اور مغفور ہمیشہ عشق سے دل معمور ہمیشہ

جب تک امت بخشی نہ جائے سجدے سے سر اٹھنے نہ پائے

کامل ایماں اس وقت ہوگا باپ سے اور بیٹے سے زیادہ

پیرو ہو جو آپ کا کامل بے شک اس کو ہوگی حاصل

جس کو میسر اُن کی غلامی دنیا ہے سب اس کی سلامی

دھکے کھا کر دُر دُر سن کر اب تو آوٴ اُن کے در پر

 

فیض مسلسل، رحمتِ پیہم صلی اللہ علیہ وسلم

شان الہٰی صورت آدم، صلی اللہ علیہ وسلم

محبوب اور محبِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم

رشکِ مسیح و نازش آدم صلی اللہ علیہ وسلم

ساری بزرگی جن میں فراہم صلی اللہ علیہ وسلم

بزم ہُدیٰ کے صدر معظم صلی اللہ علیہ وسلم

زیرنگیں ہیں دونوں عالم صلی اللہ علیہ وسلم

بخشش ورحمت جن کی مسلّم صلی اللہ علیہ وسلم

ہر ہر لفظ ہے جن کا ملہم صلی اللہ علیہ وسلم

ہر دن ہر دم چھم چھم، چھم چھم صلی اللہ علیہ وسلم

کیسے فقر وشاہی باہم صلی اللہ علیہ وسلم

نفس پر صبر اور دین میں برہم صلی اللہ علیہ وسلم

سب سے اونچا آپ کا پرچم صلی اللہ علیہ وسلم

سب سے اعلی سب سے اعلم صلی اللہ علیہ وسلم

جن کے کرم میں کوثر بھی کم صلی اللہ علیہ وسلم

جن کے پیر وعیسے مریم صلی اللہ علیہ وسلم

جس کے نور کے آگے مدھم صلی اللہ علیہ وسلم

زخم جگر پر سب کے مرہم صلی اللہ علیہ وسلم

عرش سے افضل مرقد اعظم صلی اللہ علیہ وسلم

سب کے آخر سب سے مقدم صلی اللہ علیہ وسلم

انسان اور اس درجہ معظم صلی اللہ علیہ وسلم

عشق ومحبت کتنے محکم، صلی اللہ علیہ وسلم

ایسے خاص اسرار کے محرم صلی اللہ علیہ وسلم

قدس وفلک پر خیر مقدم صلی اللہ علیہ وسلم

سارے کمالوں کے لیے خاتم صلی اللہ علیہ وسلم

ہر ہر فعل ہے دین کا ایک تھم صلی اللہ علیہ وسلم

جبریل آگے بھر نہ سکے دم صلی اللہ علیہ وسلم

شفقتِ کامل، رحم مجسم صلی اللہ علیہ وسلم

اور کہاں ہیں ایسے دم خم صلی اللہ علیہ وسلم

دنیا بھر کے ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم

عیسی موسی نوح اور آدم صلی اللہ علیہ وسلم

کفر میں بچھ گئی صف ماتم صلی اللہ علیہ وسلم

دونوں جہاں میں اعظم واکرم صلی اللہ علیہ وسلم

دنیا کر دی دین میں منضم صلی اللہ علیہ وسلم

امت کا مگر ہر وقت رہا غم صلی اللہ علیہ وسلم

حشر میں یوں ہمدرد وہمدم صلی اللہ علیہ وسلم

آپ ہوں محبوب اور مکرم صلی اللہ علیہ وسلم

محبوبی خالق عالم صلی اللہ علیہ وسلم

ایسے معزز ایسے مکرم صلی اللہ علیہ وسلم

آپ ہیں شافع، عاصی ہیں ہم صلی اللہ علیہ وسلم

اشعار سے متعلق