(1) صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مشہور روایت ”اکتبوا لابی فلان ای لابی شاہ“ (ج1 ص 21) سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم واجازت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زمانہ میں لکھ کر محفوظ کیے جانے والی احادیث کا اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھ سے زیادہ یاد ہوں، سوائے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے کہ وہ حدیثیں لکھ لیا کرتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا (صرف یاد کیا کرتا تھا)۔
عمدة القاری ج 1 ص 146 میں آیا ہے ”کان حدیث ابی ہریرة خمسة آلاف وثلاث مائة واربعة وسبعون“ کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے 5374احادیث مروی ہیں تو اس لحاظ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی مکتوب احادیث کی تعداد سات یا آٹھ ہزار ہونی چاہیے۔
طبقات ابن سعد ج 7 ص 498 میں خود عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ”عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال ھذہ الصادقة منھا ما سمعت عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولیس بینی وبینہ احد“ اور خود حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بھی منقول ہے کہ:
کنت أکتب کل شیء اسمعہ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ارید حفظہ․ (توجیہ النظر ص 39) جب کہ کل مدون صحیح احادیث کے بارے میں آیا ہے:
”الاحادیث التی فی الدرجة الاولی لا تبلغ عشرة الآف“ تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زمانہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے احادیث کا کتنا بڑا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔
(2) حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں ”صحیفہ صادقہ“ کا ذکر آتا ہے، طبقاتِ ابن سعد میں ہے کہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنے جمع کردہ ذخیرہٴ حدیث کا نام ”الصحیفہ الصادقہ“ رکھا اور کہتے ہیں کہ اس میں ایک ہزار احادیث تھیں، یہ نسخہ ان کے خاندان میں عرصے تک محفوط رہا، چناں چہ ان کے پوتے عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اس کو ہاتھ میں رکھ کر روایت کرتے اور درس دیتے تھے، امام احمد بن حنبل نے اس کو اپنی مسند میں شامل فرما کر امت کے لیے محفوظ فرما لیا ہے۔
(3) ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے، ان سے پوچھا گیا کہ کون سا شہر پہلے فتح ہوگا قسطنطنیہ یا رومیہ؟ تو انہوں نے ایک پرانا صندوق منگوایا اور ایک کتاب نکال کر نظر ڈالی اور فرمایا کہ ایک روز ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرما رہے تھے ہم لکھتے جاتے تھے، اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا شہر پہلے فتح ہوگا قسطنطنیہ یا رومیہ؟ اس پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر قل کے بیٹے کا شہر پہلے فتح ہوگا یعنی قسطنطنیہ۔ (مقدمہ صحیفہ ہمام بن منبہ)
یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ صرف عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہی نہیں بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت ارشادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا کرتی تھی۔
(4) حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ ابھی نو عمر بچے تھے کہ لکھنا جانتے تھے، ان کو والدین نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ کہہ کر پیش کیا کہ
”یا رسول اللّٰہ، ھذا ابنی وھو غلام کاتب“․ (اسد الغابہ ج 1 ص 128)
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس سال گزارے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمہ وقتی خادم تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 91 ئھ تک زندہ رہے، دارمی کی روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو علم حدیث قلم بند کرنے کی تاکید فرماتے تھے۔ مستدرک حاکم کی روایت ہے، جس کو علامہ مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ نے تدوین حدیث میں نقل کیا ہے۔ سعید بن ہلال روایت کرتے ہیں کہ جب ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے زیادہ اصرار کرتے تو وہ ہمارے لیے ایک چونگا نکالتے اور کہتے کہ یہ وہ حدیثیں ہیں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کی ہیں، یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنے قلم بند کردہ ذخیرہٴ حدیث کو باقاعدہ طور پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے اور حسب ضرورت تصحیح واصلاح لیتے۔
سرکاری دستاویزات
سیر وسیرت پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ابھی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت نہیں فرمائی تھی کہ سرکاری دستاویزات اور قانونی وثائق کا سلسلہ شروع فرما دیا تھا۔
(1) حلبی، مقریزی اور قسطلانی وغیرہ میں تمیم داری کے متعلق یہ نقل کیا گیا ہے کہ ان کو ایک سرکاری دستاویز کی شکل میں فلسطین کا شہر ”بیت حبرون“ بطور جاگیر دار دیا گیا تھا اور ان سے یہ کہا گیا تھا کہ جب یہ شہر خدا کے فضل وعنایت سے فتح ہوگا تو تمہارا ہوگا۔ تمیم داری کے نام یہ دستاویز ہجرت سے پہلے لکھی گئی تھی، جیسے ”الوثائق السیاسیہ“ میں بھی نقل کیا گیا ہے۔
(2) ابوداوٴد کتاب القطائع، موطأ کتاب الزکوٰة وکتاب الاموال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سند کا پورا متن منقول ہوا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث المزنی کو قبیلہ کی معدنوں کا ٹھیکہ دینے کے سلسلہ میں لکھ کر عنایت فرمائی تھی، کتابوں میں اس سند کے حضرت عمر بن عبد العزیز تک پہنچنے کا ذکر آیا ہے۔ موٴرخ بلاذری نے فتوح البلدان ص 13 میں اور ابوعبید قاسم بن سلام نے بیان کیا ہے کہ بلال بن حارث المزنی کی اولاد نے ایک مرتبہ ایک جریدہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان پیش کیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس فرمان مبارک کو بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا۔
(3) ابن ہشام نے لکھا ہے کہ ہجرت کے موقعہ پر جب سراقہ بن مالک المدلجی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے امن کی درخواست کی تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے امن کی ایک دستاویز لکھ کر عنایت فرمائی۔
(4) ہجرت کے دوسرے سال صفر کے مہینہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بنی ضمرہ سے ایک معاہدہ کیا تھا۔ جس کا متن سہیلی نے روض الانف ج 2 ص 85 میں یوں نقل کیا:
”یہ ایک تحریر ہے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بنی ضمرہ کے لیے…“
(5) ہجرت کے پانچویں سال بنو خزاعہ اور غطفان سے ایک مراوضہ (مسوٴدہ معاہدہ) ہوا، جو بعد میں محو کر دیا گیا۔
(6) ہجرت کے چھٹے سال حدیبیہ کے مقام پر صلح نامہ لکھا گیا، جس کے بعض الفاظ مٹا دینے کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا۔
(7) ہجرت کے نویں سال دومة الجندل کے حکمران سے معاہدہ ہوا۔ ابو عبید قاسم بن سلام فرماتے ہیں کہ میں نے خود اس تحریر کو پڑھا، وہ ایک سفید چمڑے پر لکھا ہوا تھا۔ اور میں نے حرف بہ حرف اس کی نقل لی۔
طبقات ابن سعد ج 2 ص 420 میں ہے: ختمہ بظفرہ کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دستاویز پر اپنے ناخن سے مہر لگائی (جیسا کہ زمانہ قدیم میں مہر لگانے کا یہی رواج تھا)۔
(8) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں حکمرانوں، نجاشی، مقوقس اور قیصر وکسریٰ وغیرہ کو مختلف تبلیغی خطوط بھیجے، جو احادیث کی کتابوں میں نقل ہوتے چلے گئے ہیں۔
(9) مورخ بلاذری نے فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے، جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کا تب تھے، یہودیوں کی زبان اور تحریر سیکھ لی تھی۔
امام بخاری، ابوداؤد اور موٴرخ طبری نے بھی لکھا ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کی کتابت سیکھ لی تھی اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جو مراسلے لکھتے یا جو مراسلے وہ لکھتے حضرت زید رضی اللہ عنہ وہ پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔
(10) سنن ابوداؤد کتاب الزکوة اور ترمذی کتاب الزکوة میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوة کی کتاب لکھی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اپنے عاملوں کو بھیجنے نہ پائے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی تلوار سے لٹکا رکھا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس پر عمل کیا، ان کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عمل کیا، یہاں تک کہ وفات پائی۔
ابن شہاب الزہری فرماتے ہیں کہ میں نے اس تحریر کو پڑھا اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اولاد کے پاس تھی۔ جیسا کہ امام ابو داؤد نے یہی نقل کیا ہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرة العرب کے اطراف واکناف ریاست کے ہر جگہ کے گورنروں اور قاضیوں کو ہدایات بھیجیں۔ جو سیرت وتاریخ کی کتابوں میں محفوظ چلی آرہی ہیں۔
(11) اس نوع کی تمام احادیث کو ہم سرکاری دستاویزات سے تعبیر کرسکتے ہیں، جن پر باقاعدہ طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مہر ثبت فرماتے تھے۔
بخاری، کتاب اللباس اور مسلم، کتاب اللباس میں آیا ہے کہ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عجم کے لوگوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا توصحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ صرف مہر شدہ خطوط پڑھتے ہیں۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس پر ”محمد رسول اللہ“ کندہ تھا اور اس کا نگینہ حبشی عقیق تھا۔ ہم نے یہاں بطور نمونہ گیا رہ دستاویزات پیش کر دیے ہیں۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب نے اس موضوع پر الوثائق السیاسیہ فی العہد النبوی والخلافة الراشدة کے نام سے مستقل کتاب لکھی ہے اور اس میں دو سو سے زائد ایسی دستاویزیں جمع کی ہیں، کتابت کی اتفاقی صورتیں جیسا کہ بخاری میں ہے کہ ابو شاہ یمنی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مسائل لکھنے کا حکم دیا اس کے علاوہ ہیں اور تتبع سے ان کا بھی ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع کیا جاسکتا ہے۔
جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ میں ایک وفاقی مملکت قائم کی جو دس سال کے اندر دس لاکھ مربع میل پر پھیل گئی۔ آخر اتنی بڑی مملکت کے لیے دفتری تنظیم، شعبہ داری، تقسیم عمل، حکومت کی مشینری کی کارکردگی، سرکاری وثیقے اور دستاویزات، خارجہ تعلقات، اندرونی معاملات، مختلف زبانوں میں ترجمانی اور پیغام رسانی یہ سب ایسے امور ہیں جو اعلی تعلیم اور کتابت کے بغیر نہیں انجام دیے جاسکتے۔ جب عہد رسالت میں مملکتی نظام کام یاب رہا اور ایسا کام یاب رہا کہ اول وآخر دنیا اس کی نظیر نہیں پیش کرسکتی تو یہ ماننا پڑے گا کہ نظام مملکت چلانے والے رجال کار اور خصوصیت وکمالات کے ساتھ تعلیم یافتہ ضبط وکتابت اور نظم وربط کا خوب تجربہ رکھتے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین
بہتر ہوگا کہ یہاں ابن الاثیر الجزری کی تاریخ کامل (ج 2 ص 151 ذکر من کان یکتب لرسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم) اور مشہور سیاح و موٴرخ مسعودی کی ”التنبیہ والاشراف“ سے کا تبان حضرت نبوی کے ایک دو حوالے بھی نقل کر دیے جائیں۔
الف – ابن الاثیر جزری کا بیان ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابت کیا کرتے تھے اور سب سے پہلے ابی بن کعب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابت کا کام انجام دیا تھا۔
ب – موٴرخ مسعودی کا بیان ہے کہ خالد بن سعید بن العاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے، ہر قسم کے کام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو پیش آتے سب وہی کتابت کرتے تھے۔ مغیرہ بن شعبہ اور حصین بن نمیر، یہ صاحبان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضروریات لکھتے تھے۔
عبد اللہ بن ارقم اور علاء بن عقبہ یہ دونوں صاحب، قرض کے وثیقے، دستاویزیں اور ہر قسم کے شرائط اور معاملات کے کاتب تھے، زبیر بن العوام اور جہیم بن الصلت، یہ دونوں صاحب زکوٰة کی آمدنی اور صدقات کے کاتب تھے۔
حذیفہ بن یمان حجاز کی آمدنی کا تخمینہ (موازنہ) لکھتے تھے۔
معیقب بن ابی فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے مامور تھے۔
حضرت زید بن ثابت انصاری بادشاہوں کو (حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے) خط لکھتے تھے، ان کا یہ کام بھی تھا کہ فارسی، رومی وقبطی، حبشی زبانوں کے خطوط کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ترجمہ کرتے تھے۔ جب نبوی بارگاہ میں کاتبوں میں سے کسی شعبہ کا کوئی کا تب موجود نہ ہوتا تو حضرت حنظلہ بن ربیع ان سب کی نیابت کرتے تھے۔ اس طرح حنظلہ کاتب کے لقب سے مشہور ہو گئے۔
شرحبیل بن حسنہ، ابان بن سعید اور علاء الحضرمی نے بھی کبھی کبھی پیش گاہ نبوی میں کتابت کی ہے۔ رحلت نبوی سے چند ماہ قبل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی کتابت کی تھی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور کتابت و تدوین حدیث
لکھنے پڑھنے اور تعلیم حاصل کرنے سے متعلق قرآنی تعلیمات اور نبوی ارشادات و تاکیدات اور سرکاری دستاویزات کے جو چند ایک حوالے بطور نمونہ عرض کر دیے ہیں یہ تو اس سلسلہ کی ایک ادنی سی جھلک ہے، ور نہ تتبع اور تلاش سے ایسے سینکڑوں نظائر پیش کیے جا سکتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ فن کافی اہمیت حاصل کرچکا تھا اور روبہ ترقی تھا۔ اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں، مستعد جاں نثاروں نے اس سلسلہ میں کہاں تک عمل بڑھایا اور اس اہم ذمہ داری سے کس طرح عہدہ برآ ہوئے۔
تاریخ عالم کا سب سے پہلا تحریری دستور مملکت
1- حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ منورہ میں ایک حکومت اور شہری مملکت کی بنیاد رکھی تو مہاجرین وانصار اور یہود سے مشورہ کر کے ایک دستور مملکت نافذ کیا، جس کے متن کو ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب نے ”الوثائق السیاسیة“ میں نقل کیا ہے اور تاریخی اعتبار سے دنیائے انسانیت میں اس کو پہلا تحریری دستور مملکت قرار دیا گیا ہے۔ جس میں کل دفعات باون 52 ہیں اور متن میں پانچ مرتبہ ”اہل ھذہ الصحیفة“ (اس دستاویز والوں) کے الفاظ دہرائے گئے ہیں اور مسند احمد بن حنبل ج 1 ص 141 میں رافع بن خدیج کی ایک روایت سے بھی اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
عن رافع بن خدیج… فان المدینة حرم حرمھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وھو مکتوب عندنا فی ادیم خولانی․
اسلام میں سب سے پہلی تحریری مردم شماری
2- ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی ریاست کی تشکیل کا کام شروع فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان لوگوں کے باقاعدہ طور پر نام لکھ دیے جائیں جو اسلام میں داخل ہوچکے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری (کتاب الجہاد والسیر، باب کتابة الامام للناس) میں روایت منقول ہے: ”اکتبوا لی من تلفظ بالاسلام من الناس، فکتبنا لہ الفا وخمس مائة رجل“․
پندرہ سو آدمیوں کے نام لکھے گئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مردم شماری عام تھی، جس میں مرد، عورت، بچے اور بڑے سب شامل تھے۔
3- مولانا مناظر احسن گیلانی نے تدوین حدیث میں صحیح مسلم کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے حج پر ایک رسالہ تالیف کیا تھا، جسے مسند احمد بن احمد، باب جابر میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اصابہ ج 1 ص 43 میں ہے کہ مسجد میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا ایک حلقہ بھی تھا، جہاں لوگ ان سے علم حاصل کرتے تھے، وہب بن منبہ کو انہوں نے احادیث بھی املا کرائی تھیں۔
مولانا مناظر احسن گیلانی نے امام بخاری کی تاریخ کبیر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ مشہور تابعی حضرت قتادہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سورة بقرہ کے مقابلے میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا صحیفہ زیادہ حفظ ہے۔
4- طبقات ابن سعد ج 5 ص 133 کے علاوہ تہذیب التہذیب اور مصنف عبد الرزاق میں روایت آئی ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی حدیثیں لکھ لی تھیں، مگر جنگ حرہ کے زمانہ میں ان کا یہ مسودہ تلف ہوگیا۔ جس پر حضرت عروة کو تمام زندگی افسوس ہوتا رہا اور فرماتے ہیں: کاش میں اپنے بال بچوں اور تمام اسباب کو ان کتابوں کے عوض فدا کردیتا۔
5- حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا تھا اور ایک رسالہ لکھا تھا، جس میں پانچ سو حدیثیں تھیں، مگر حزم واحتیاط اور کمالِ دیانت کی وجہ سے یہ خیال غالب ہوا کہ کہیں سہو سے کوئی غلط لفظ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ ہو گیا ہو، چناں چہ اس رسالہ کو تلف کر دیا۔ (تذکرة الحفاظ)
6- علامہ مناظر احسن گیلانی نے حضرت سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ زمانہ جاہلیت میں لکھنا پڑھنا جاننے کی وجہ سے مرد کامل سمجھے جاتے تھے اور کتابت کے ساتھ تیر اندازی اور شناوری بھی جانتے تھے، ان کے پاس ایک صحیفہ تھا، جس میں انہوں نے بہت سی حدیثیں جمع کی تھیں اور اس کی روایت ان کے بیٹے نے کی ہے۔
7- علامہ ابن حجر تہذیب التہذیب ج 4 ص 194 میں لکھتے ہیں کہ سلیمان نے اپنے باپ سمرہ بن جندب کے حوالے سے ایک بڑا رسالہ (نسخہ کبیرہ) روایت کیا ہے، علامہ ابن سیرین فرمایا کرتے تھے کہ سمرة نے اپنے بیٹوں کے لیے جو رسالہ لکھا اس میں بہت علم (علم کثیر) پایا جاتا ہے۔
8- علامہ مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو اتنی تالیفیں چھوڑیں کہ ایک اونٹ پر لادی جا سکتی تھیں۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں ان کے مولیٰ اور شاگرد عکرمہ کے حوالے سے روایت کی ہے کہ طائف کے کچھ لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کی کتابوں کو نقل کرنا چاہا، چناں چہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ان کو پڑھ کر املا کراتے گئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جو املا کراتے تھے اسے وہ لکھتے جاتے تھے، بعض اوقات دوران درس کاغذ ختم ہو جاتا تھا تو وہ اپنے لباس پر، ہتھیلیوں پر، حتی کہ اپنی چپل پر بھی لکھ لیتے تھے، پھر گھر جا کر نقل کرلیتے۔
9- طبقات ابن سعد ج 7 ص 157 میں ہے کہ مسند ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نسخے عہد ِ صحابہ رضی اللہ عنہم ہی میں لکھے گئے۔ چناں چہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مسند کا نسخہ عمر بن عبد العزیز کے والد عبد العزیز بن مروان گورنر مصر کے پاس بھی تھا، انہوں نے کثیر بن مرہ کو لکھا کہ تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی جو حدیثیں ہوں انہیں لکھ کر بھیج دو الا حدیث ابی ہریرة رضی اللّٰہ عنہ؛ فانہ عندنا.
10- علامہ مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ نے دارمی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ بشیر بن نہیک فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو کچھ سنتا تھا لکھتا جاتا تھا، جب میں نے ان سے رخصت ہونا چاہا تو ان کے پاس ان کی کتاب لایا اور انہیں پڑھ کر سنائی اور ان سے کہا یہ وہ چیز ہے جو میں نے آپ سے سُنی ہے۔ انہوں نے کہا: ہاں۔
11- فتح الباری ج 1 ص 184 میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ ابن وہب کہتے ہیں مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنی کتابیں دکھائیں۔
12- صحیفہٴ ہمام بن منبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یادگار تالیف ہے، جس میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لائق شاگرد ہمام کے لیے ڈیڑھ سو احادیث جمع فرمائیں، پہلی صدی ہجری کے وسط کی یہ تالیف ایک گراں قدر مایہٴ یادگار ہے اور عہد صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ عظیم یادگار امت کے ہاتھوں میں ہے۔ صحیفہٴ ہمام کی ہر حدیث نہ صرف یہ کہ صحاح ستہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ملتی ہے، بلکہ مفہوم دوسری کتابوں میں بھی ملتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انتسابِ حدیث حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو فرضی اور بے بنیاد نہیں۔
حضرت ہمام بن منبہ نے جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیفہ حاصل کیا تو ساری زندگی اس کا درس دیتے رہے، آپ کے بعد آپ کے لائق تلمیذ حضرت معمر بن راشد یمنی بغیر کسی حذف واضافہ کے اس رسالے کو اپنے شاگردوں تک پہنچاتے رہے۔ معمر سے عبدالرزاق نے یہ رسالہ لیا۔ یہ وہی عبد الرزاق ہیں جو امام بخاری کے اساتذہ میں سے ہیں اور ”مصنف عبدالرزاق“ کے موٴلف بھی ہیں۔ انہوں نے اس رسالہ کو بجنسہ محفوظ رکھا۔ امام عبد الرزاق سے امام احمد بن خلیل اور ابوالحسن احمد بن احمد بن یوسف السلمی جیسے لائق تلامذہ نے اس رسالہ کوحاصل کیا۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں باب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں مستقل طور پر اس کو نقل کر دیا، جب کہ احمد بن یوسف السلمی سے یہ رسالہ نسلاً بعد نسل منتقل ہوتا ہوا عبد الوہاب بن مندہ تک پہنچا، ان کے دو تلامذہ ابو الفرج مسعود بن الحسن الثقفی اور محمد بن احمد اصفہانی نے اس کا درس رکھا، اتفاق سے یہ اصل نسخہ محفوظ ہے، اس کا ایک نسخہ جرمنی میں برلن کے کتب خانہ میں موجود ہے، دوسرا نسخہ دمشق کے کتب خانہ مجمع علمی میں، جناب ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب نے ان دونوں نسخوں سے مقابلہ کر کے یہ صحیفہ شائع کردیا ہے۔ چناں چہ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں، مسند احمد بن حنبل اور ہمارے مخطوطات میں احادیث کی ترتیب یکساں ہے، بجز احادیث نمبر 13، 93، 126، 138 کے، جن میں تقدم وتأخر ہوا ہے، لیکن الفاظ بعینہ وہی ہیں۔