مفہوم قرآن اور مصنوعی ذہانت

idara letterhead universal2c

مفہوم قرآن اور مصنوعی ذہانت

ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے، جو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے انسان وجنات کی رہ نمائی کے لیے آخری نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعہ نازل فرمایا۔ قرآن پاک کا مفہوم وہی معتبر اور صحیح ہوگا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا ہو۔ قرآن پاک کی تفسیر کا کام نہایت احتیاط کا متقاضی ہے اور ہرکس وناکس کا یہ کام نہیں کہ وہ محض قرآنی تراجم پڑھ کر، عقلی طور پر، قرآن پاک کی تفسیر وتشریح کرنے بیٹھ جائے۔ اگر کوئی شخص محض اپنی عقل کے بل بوتے پر قرآن کا مفہوم سمجھے اور پھر اس کو منشائے الٰہی قرار دے تو اس کو قرآن دشمنی پر محمول کیا جائے گا۔ نیز اگر کوئی چاہے کہ لغت کی کوئی کتاب لے کر بیٹھ جائے اور اس میں الفاظ کے معنی دیکھ دیکھ کر قرآن کا مفہوم سمجھنا شروع کرے تو قیامت تک قرآن کا صحیح مفہوم نہیں سمجھ سکتا۔

آج کل مصنوعی ذہانت کا بہت چرچا ہے اور یہ بات عوام میں پھیلائی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سسٹم انسانی ذہانت سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے عنوان سے دین اور دینی علوم کی اساس کو نشانہ بنانے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں۔ باطل قوتوں کی یہ کوشش اور سوچ ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے قرآنِ پاک کی جدید تفسیر وترجمہ کیا جائے، اس کے لیے براہِ راست اگر یہود ونصاریٰ کو استعمال کیا جائے گا تو مسلمانوں میں اس تفسیر وترجمہٴ قرآن کو مقبولیتِ عامہ نہ مل سکے گی، البتہ اگر یہی تفسیر وترجمہ کسی مسلمان، بالخصوص برِصغیر پاک وہند سے تعلق رکھنے والے کسی مسلمان نے کیا ہو تو اس تفسیر وترجمہٴ قرآن کو برِصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں قبولیت ملنے کے زیادہ امکانات ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم مسلمانوں ہی میں سے کچھ صاحبانِ علم، باطل قوتوں اور مستشرقین کے غیر دانستہ طور پر آلہ کار بن رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے قرآن پاک کی تفسیر وترجمہ پر کام کررہے ہیں اور ایسے سوالات اُٹھا رہے ہیں جو کہ بالکل نئی طرز کے ہیں۔ گو کہ ایسے حضرات بڑے اخلاص سے ان باتوں کی ترغیب دیتے ہیں کہ ہم تو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو قرآن فہمی کے لیے استعمال کررہے ہیں اور مصنوعی ذہانت کو علومِ قرآن میں استعمال کرکے کئی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں، مثلاً: اس سے مدارسِ دینیہ کے طلبائے کرام میں علمِ تفسیر میں علمی رسوخ، استعداد اور صلاحیت بڑھے گی، مگر حقیقتِ حال یہ ہے کہ چوں کہ ایسے لوگوں کو سائنسی علوم میں رسوخ نہیں، مصنوعی ذہانت کی تکنیکی باریکیوں اور خامیوں کا علم نہیں، غالباً اسی وجہ سے وہ نادانستہ طور پر مصنوعی ذہانت کو قرآن فہمی میں استعمال کرنے کو فروغ دے رہے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ملکی وعالمی سطح پر ایسی کوششیں جاری ہیں کہ کس طریقے سے مصنوعی ذہانت کو علومِ قرآنی میں استعمال کیا جائے۔

اس مضمون میں ہم مفہومِ قرآن اور مصنوعی ذہانت سے متعلق کچھ سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کریں گے۔ اول: مصنوعی ذہانت کے علومِ قرآنی میں استعمال سے کیا مراد ہے؟ دوم: مصنوعی ذہانت میں کتنی ذہانت ہے؟ سوم: کیا مصنوعی ذہانت سے قرآن کا صحیح مفہوم سمجھا جاسکتا ہے؟ چہارم: کیا مصنوعی ذہانت سے قرآنِ پاک کا ترجمہ وتفسیر کی جاسکتی ہے اور کیا ایسا ترجمہ و تفسیر مسلمانوں کے نزدیک معتبر ٹھہرے گا؟

مصنوعی ذہانت کے علومِ قرآنی میں استعمال سے مراد

قارئین کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ کمپیوٹر تو سہولت لے کر آیا ہے اور کمپیوٹر کے استعمال سے تو علوم القرآن کی خدمت کی گئی ہے، مثلاً قرآن پاک کی طباعت کے اندر کمپیوٹر کے استعمال سے کس قدر امُت کو فائدہ حاصل ہوا ہے۔ کمپیوٹر کے استعمال سے کسی خاص آیت، مضمون یا حرف کو قرآن پاک میں ڈھونڈنا کتنا آسان ہوگیا ہے۔ لیپ ٹاپ یا موبائل فون پر قرآن پاک کی کوئی ایپلی کیشن کھولیے، کسی بھی آیت تک سیکنڈوں سے بھی کم وقت میں پہنچ جائیے، اُس آیت کا شانِ نزول اور تفسیر مع حوالہ جات دیکھے جاسکتے ہیں۔ کمپیوٹر کی مدد سے مختلف قراء ات میں قرآن کی تلاوت سنی جاسکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت میں ہونے والی ترقی کو مختلف طریقوں سے علوم القرآن میں استعمال کیا جارہا ہے، مثلاً مختلف قاری حضرات کی تلاوت آڈیو میں موجود ہوتو مصنوعی ذہانت کے ذریعے پتہ چلایا جاسکتا ہے کہ کون سی قراء ت کس قاری نے کس لہجے میں کی ہے۔ آج کل تو مصنوعی ذہانت کے ایسے سافٹ وئیر دست یاب ہیں جن میں اگر کوئی شخص قرآن پاک کی تلاوت کرے تو کمپیوٹر یا موبائل اسکرین پر وہ سافٹ وئیر تلاوت کی گئی قرآنی آیات لکھنا شروع کردے گا، جیسے جیسے وہ شخص تلاوت کرتا جائے گا، کمپیوٹر اسکرین پر وہ قرآنی آیت لکھتا چلا جائے گا، اگر کہیں غلطی ہوگی تو اس کی نشان دہی کردے گا۔ اس طرح کے سافٹ وئیر بنانے والے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اُن کی تیار کردہ ایپلی کیشن قرآن پاک حفظ کرنے والوں کو حفظِ قرآن میں مدد فراہم کرے گی۔ نیز مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے اگر کوئی قاری کسی آیت کے پہلے حصے کی تلاوت کررہا ہے تو اگلا جملہ یا لفظ کون سا آئے گا، یہ صلاحیت بھی آج کل سافٹ وئیر کے اندر موجود ہے۔ اس سے بڑھ کر مصنوعی ذہانت سے قرآن پاک سے متعلق مختلف آرا، تفاسیر اور تراجم، چند لمحوں میں ہمارے سامنے آجاتے ہیں، بلکہ یہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر ان کا تجزیہ بھی پیش کردیتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت سے متاثر ہو کر بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ: ”مصنوعی ذہانت ہمیں قرآن کے ایسے پہلوٴوں کو سمجھنے میں مدد کرسکتی ہے جو پہلے اوجھل تھے۔ اس سے ہر زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا جاسکتا ہے، جس سے دنیا بھر کے لوگ قرآن کو اپنی زبان میں سمجھ سکتے ہیں“۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے علومِ قرآنی میں استعمال سے ہماری کیا مراد ہے؟ کیا مصنوعی ذہانت کو علوم القرآن میں استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر کیا جاسکتا ہے تو پھر مفتیانِ کرام اس کی حُدود وقیود کیا بتاتے ہیں؟ اگر نہیں کیا جاسکتا تو کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ نیز بطور کمپیوٹر سائنس دان ہم کیوں یہ کہہ رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کو دینی علوم بالخصوص قرآنِ پاک کی تفسیر و ترجمہ کے لیے ہرگز ہرگز استعمال نہ کیا جائے؟قارئین کو یہ واضح رہنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کو علوم القرآن میں ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر خود سے مواد بنا رہے ہوتے ہیں۔ ”خود سے مواد“ بنانے سے مراد یہ نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر میں کوئی اشرف المخلوق انسانوں جیسی تخلیقی صلاحیت و ذہانت آگئی ہے، بلکہ مصنوعی ذہانت کے سسٹم، بالخصوص، لارج لینگویج ماڈلز، چوں کہ ”اگلے ٹوکن کی پیشن گوئی“ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، یعنی اگلے جملوں کی پیشین گوئی کررہے ہوتے ہیں، لہٰذا ان سافٹ وئیرز کا کام کرنا قطعی طور پر بھی انسانوں کے سوچنے، سمجھنے اور انسانی ذہانت کے مقابل نہیں ہوسکتا۔ الغرض، سائنس دانوں اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ان کمپیوٹر پروگرامز کو انسانی ذہانت کے برابر تسلیم کرنا سائنسی وتکنیکی طور پر درست نہیں۔

جب ہم مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرز سے قرآن پاک کا ترجمہ وتفسیر یا خلاصہ وتجزیہ کروارہے ہوتے ہیں تو دراصل مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر یہ ترجمہ، تفسیر یا تجزیہ ”اگلے حُروف کی پیشین گوئی“ کی بنیاد پر کرتے ہیں اور اس ترجمہ، تفسیر، تجزیہ، خلاصہ وغیرہ سے عام انسان کو یہ تأثر ملتا ہے کہ یہ سافٹ وئیر خود سے کوئی بہت ہی زیادہ ذہانت والا مواد تخلیق کررہے ہیں۔ دیکھیے! اگر کمپیوٹر میں ہم قرآن پاک کی کئی عربی تفاسیر، مثلاً تفسیر کبیر، تفسیر روح المعانی، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر ابی السعود اور پھر متاخرین علماء کی اردو تفاسیر، مثلاً معارف القرآن، بیان القرآن، تفسیر عثمانی اور آسان تفسیرِ قرآن از حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم مہیا کردیں اور پھر کوئی کسی آیت کا کمپیوٹر سے ترجمہ پوچھے اور پھر کمپیوٹر‘ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے ہمیں اس آیت کی تفسیر اور ترجمے ان تمام پہلے سے کمپیوٹر کو مہیا کی گئی تفاسیر سے لاکر دکھا دے تو علمائے کرام کے مطابق ایسا کرنا درست ہے اور اس طرح سے کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت سے علوم القرآن میں استفادہ کرنا درست ہے۔ اس کے برعکس اگر مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کمپیوٹر میں مہیا کی گئی تمام تفاسیر، حتی کہ پوری دنیا میں قرآن پاک کی جتنی تفاسیر آج تک لکھی گئی ہیں، ان سب سے استفادہ کرے اور پھر مصنوعی ذہانت خود سے ”اگلے حُروف کی پیشین گوئی“ کی بنیاد پر اپنا تخلیق کردہ ترجمہ و تفسیر تیار کرے تو علمائے کرام کے مطابق ایسی کوئی بھی کوشش کسی بھی درجے میں قابلِ قبول نہیں۔ بس آج کل کے مصنوعی ذہانت کے پروگرامز و سافٹ وئیر مثلاً چیٹ جی پی ٹی وغیرہ کی یہی وہ صلاحیت اور طریقہ کار ہے، جس کی جانب ہم اپنے اس مضمون میں قارئین کو توجہ دلارہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت میں کتنی ذہانت ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت سے تجاوز کرجائے گی؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں کتنی ذہانت ہے؟ اور کیا مصنوعی ذہانت کے سسٹم انسانی ذہانت سے کہیں آگے نکل چکے ہیں یا نکلنے والے ہیں اور کیا مصنوعی ذہانت کے پروگرام (اور روبوٹس یا مشین) مستقبل میں اتنی ذہین ہوجائیں گے کہ انسانیت کو اس سے خطرہ لاحق ہوجائے گا؟ ان سوالات کا جواب ہم مصنوعی ذہانت کے ماہرین کمپیوٹر سائنس دانوں کی آرا کو سامنے رکھ کر سمجھتے ہیں۔

آج کل جو مصنوعی ذہانت کا چرچا ہمیں نظر آتا ہے، اس کی تکنیکی اساس اور بنیادیں رکھنے والے سائنس دانوں میں پروفیسر یان لی کن Professor Yann LeCun شامل ہیں۔ یہ پروفیسر ان کمپیوٹر سائنس دانوں میں شامل ہیں، جن کے سائنسی تحقیقی کاموں کی بدولت انہیں ”بابائے مصنوعی ذہانت“ بھی کہا جاتا ہے۔

انہیں کمپیوٹر سائنس کی دنیا کا سب سے بڑا ایوارڈ یعنی ٹیورنگ ایوارڈ Turing Award سن 2018ء میں دیا گیا۔ ٹیورنگ ایوارڈ کو کمپیوٹر سائنس کا نوبل پرائز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کمپیوٹر سائنس دان دراصل ”نیورل نیٹ ورک“ (مصنوعی ذہانت کا ایک شعبہ) کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، جس کی بنیاد پر بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں Cars Driving Self اور چیٹ جی پی ٹی کام کرتے ہیں۔ پروفیسر یان لی کن فرانسیسی نژاد امریکی کمپیوٹر سائنس دان ہیں اور نیویارک یونیورسٹی امریکہ میں اپنی خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔ یہ میٹا کمپنی (فیس بک کا نیا نام) میں چیف اے آئی سائنٹسٹ ہیں۔ اس کے ساتھ یہ اے سی ایم فیلو Fellow ACM بھی ہیں۔ نیچر جرنل، جو کہ دنیا کے بہترین سائنسی جرائد میں سے ایک سائنسی جریدہ ہے، میں ان کا 2015 میں چھپنے والا ”ڈیپ لرننگ“ کے موضوع پر سائنسی تحقیقی مقالہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی مآخذ میں سے ایک ہے، جس کو سائنسی دنیا میں بہت زیادہ پذیرائی ملی۔

مشہور کاروباری شخصیت اور سرمایہ کار ایلون مسک، جو کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی بھی ہیں، سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کچھ ہی عرصے میں لارج لینگویج ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹی انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی، جسے”آرٹیفیشل جرنل انٹیلی جنس“ Artificial General Intelligence یعنی ”مصنوعی عمومی ذہانت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پھر اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس اتنے ذہین ہوجائیں گے کہ ان کو کنٹرول کرنا انسان کے بس سے باہر ہوجائے گا، جب کہ اس کے برعکس پروفیسر یان لی کن کہتے ہیں:

“It seems to me that before‘urgently figuring out how to control AI systems much smarter than us’we need to have the beginning of a hint of a design for a system smarter than a house cat,”he replied on X.”

“LeCun also has publicly disagreed with Hinton and Bengio over their repeated warnings that AI is a danger to humanity.

At the same time, he is convinced that today’s AIs aren’t, in any meaningful sense, intelligent.

”مجھے ایسا لگتا ہے کہ فوری طور پر یہ معلوم کرنے سے پہلے کہ مصنوعی ذہانت کے پروگرامز جو کہ ہم انسانوں سے زیادہ ذہین ہوں کو کیسے کنٹرول کیا جائے، ہمیں ضرورت ہے کہ کوئی ایسا اشارہ ملے کہ کس طریقے سے ایسا مصنوعی ذہانت کا نظام بنایا جائے جس میں گھریلو بلی جتنی ذہانت ہو۔“

پروفیسر یان لی کن کہتے ہیں گو کہ مصنوعی ذہانت کے کمپیوٹر پروگرامز (الگوریتھم) بہت طاقت ور ہیں، مگر وہ نہیں سمجھتے کہ مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ مصنوعی ذہانت کسی بھی معنوں میں ذہین نہیں ہے۔ (1) نہایت اہم بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے کمپیوٹر پروگرامز (الگوریتھم) بنانے والے ہی یہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے اندر ایک عام سے جانور یعنی بلی جتنی بھی ذہانت نہیں ہے۔

He likes the cat metaphor. Felines, after all, have a mental model of the physical world, persistent memory, some reasoning ability and a capacity for planning, he says. None of these qualities are present in today’s“frontier”AIs, including those made by Meta itself.

Today’s models are really just predicting the next word in a text, he says. But they’re so good at this that they fool us. And because of their enormous memory capacity, they can seem to be reasoning, when in fact they’re merely regurgitating information they’ve already been trained on )2”(

”گھریلو پالتو بلی کے اندر جو صلاحیت، صفات اور ذہانت پائی جاتی ہے، مثلاً کہ وہ اپنے دماغ میں حقیقی دنیا کا ایک ماڈل بناتی ہے، اس کی قائم رہنے والی یادداشت، اس کی استدلال کی صلاحیت اور منصوبہ بندی کی استعداد، یہ سب چیزیں مروجہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز میں نہیں پائی جاتیں، حتی کہ ”میٹا“ کمپنی کے اپنے بنائے گئے ماڈلز میں بھی نہیں۔“

”آج کل کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز صرف متن کے اگلے حروف کی پیشین گوئی کرتے ہیں، لیکن وہ ایسا کرنے میں اتنے اچھے ہیں کہ وہ ہمیں بے وقوف بناتے ہیں اور ان کی یاداشت کی بہت زیادہ صلاحیت کی وجہ سے، وہ استدلال کرتے دکھائی دے سکتے ہیں، جب کہ درحقیقت وہ معلومات کو محض اُگل رہے ہوتے ہیں (یعنی معلومات کو دُہرا رہے ہوتے ہیں، بغیر تجزیہ یا سمجھے ہوئے) جس پر وہ پہلے ہی تربیت پاچکے ہوتے ہیں۔“

مصنوعی ذہانت اور ذہانت کی آخری انتہا؟

مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کی کتنی استعداد اور صلاحیت ہے؟ اور اس مصنوعی ذہانت کی آخری انتہا کیا ہوسکتی ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس انگریزی کی ایک سب سے بڑی ڈکشنری (قاموس، لغت، فرہنگ) موجود ہے، جس میں انگریزی زبان کے تمام حروف و الفاظ موجود ہوں تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ پوری دنیا میں آج تک جتنا بھی مواد انگریزی زبان میں لکھا اور بولا گیا، وہ اس ڈکشنری میں موجود لفظوں کے ہیر پھیر (یعنی ایک خاص ترتیب سے ان لفظوں اور حرفوں کو قواعدِ زبان یعنی گرامر کے حساب سے یکجا کرنا) سے ہی لکھا اور بولا گیا ہے؟ یقیناً اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزی زبان میں آج تک جتنے ناول، افسانے، اشعار، سفرنامے، مکتوبات، تدریسی کُتب، تحقیقی کُتب، سوانح اور ڈرامے وغیرہ لکھے گئے ہیں، انہیں اس ڈکشنری میں موجود لفظوں کی مدد سے ہی تحریر کیا گیا ہے، مگر ہم یہ دیکھیں گے کہ اس انگریزی تحریر کا لکھنے والا مصنف کون ہے؟ اس کی تعلیمی قابلیت کیا ہے؟ اس کا علمی مقام کیا ہے؟ اس کا تجربہ کیا ہے؟ اور وہ اپنے لکھے ہوئے مضمون پر کتنا اختصاص رکھتا ہے؟ اس کی لکھی گئی تحریر کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

اگر کوئی آسکر وائلڈ کی تحریروں کو یہ کہہ کر مسترد کردے کہ اس کی تحریروں میں کیا کمال ہے؟ صرف انگریزی ڈکشنری کے لفظوں کے ہیر پھیر سے ہی تو آسکر وائلڈ نے اپنی تحریریں لکھیں ہیں، تو کیا کوئی عقل مند اس کو تسلیم کرے گا؟ اسی طریقے سے کوئی بخاری شریف کے بارے میں معاذ اللہ! یہ کہے کہ امام بخاری رحمة اللہ کا بخاری شریف لکھنے میں کیا کمال ہے؟ یہ تو صرف عربی قاموس کے لفظوں کا ہیر پھیر ہے۔ اس طریقے کی بات کہنا کفر تک لے جاتا ہے۔ اگر کوئی حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی قدس سرہ کی ”صحیح مسلم“ پر شہرہٴ آفاق شرح ”فتح الملہم“ کے بارے میں یہ کہے کہ یہ تو صرف عربی قاموس کے لفظوں کا ہیر پھیر ہے۔ اسی طریقے سے کوئی یہ کہے کہ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے جو 1976 میں اس شرح کی تکمیل کا کام ”تکملة فتح الملہم“ کے نام سے شروع کیا اور اَٹھارَہ سال نو مہینے کے بعد3/ اگست 1994ء کو ”تکملة فتح الملہم“ کا کام چھ جلدوں کی صورت میں پایہٴ تکمیل کو پہنچایا۔ (حوالہ: حضرت مفتی محمد تقی عثمانی، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمة اللہ علیہ، نوائے وقت، 8 جنوری 2012) اس میں حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے کیا کمال کیا؟ یہی کام تو مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر بہت ہی قلیل عرصے میں انجام دے لیں گے، آپ صرف ان مصنوعی ذہانت کے کمپیوٹر پروگرامز کو حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی قدس سرہ کی تحریر کا اسلوب بتا دیجیے، پھر دیکھیے ان سافٹ وئیرز کا کمال، کیسے وہ اس شرح کی تکمیل کرتے ہیں۔ قارئین !یاد رکھیں کہ ہم یہ فرضی باتیں نہیں کہہ رہے، بلکہ اسی دنیا میں ایسے صاحبِ علم حضرات موجود ہیں جو یہ باتیں کہتے ہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر وہ قرآن پاک کی تفسیر سے متعلق ایسی باتیں کہتے ہیں، معاذاللہ۔

دیکھیے! قرآن پاک کے متعلق بھی تو کچھ لوگ یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی تو ڈکشنری کے لفظوں پر مشتمل ایک تحریر ہے، مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ قرآن پاک کو دنیا کی تمام تحریروں پر فوقیت حاصل ہے، کیوں کہ یہ ڈکشنری کے لفظوں کا ہیر پھیر نہیں، بلکہ یہ ”کلام اللہ“ ہے۔ قرآن پاک کے ہر ہر لفظ کی عظمت ہے، اسی لیے”قرآنِ مجید مصحف میں دیکھ کر پڑھنا افضل ہے، اس لیے کہ مصحف کو دیکھنا، اس کو چھونا اور اس کو اُٹھانا، یہ اس کا احترام ہے اور اس میں معانی میں زیادہ تدبر کا موقع ملتا ہے، نیز اس میں ادب بھی زیادہ ہے۔“ (حوالہ: دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاوٴن) نیز ”قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے، جو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے انسان وجنات کی رہ نمائی کے لیے آخری نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے ذریعہ نازل فرمایا۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مخلوق نہیں۔ قرآن کریم لوحِ محفوظ میں ہمیشہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے جو فیصلے ملأ اعلیٰ یعنی آسمانوں کے اوپر تحریرہیں، وہ کسی بھی تبدیلی سے محفوظ ہونے کے ساتھ شیاطین کے شر سے بھی محفوظ ہیں، اس لیے اس کو لوحِ محفوظ کہا جاتا ہے۔ اس کی شکل وصورت وحجم کیا ہے؟ ہم نہیں جانتے، مگر قرآن وحدیث کی روشنی میں ہم اس پر ایمان لائے ہیں۔“ (حوالہ: مفتی محمد نجیب قاسمی سنبھلی، قرآن کریم کا تعارف اور ہماری ذمہ داری، ماہنامہ بینات، اپریل – مئی 2020)

اسی طریقے سے احادیث مبارکہ کے متعلق بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ صرف ڈکشنری کے لفظوں کے ہیر پھیر سے کلام بنایا گیا ہے، مگر یہ کہنا درست نہیں، کیوں کہ عام محدثین کی اصطلاح میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہر چیز کو حدیث کہا جاتا ہے۔ (حوالہ: دارالافتاء دارالعلوم دیوبند)، جب کہ ایک عام آدمی حدیث سے یہ مراد لیتا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کلام ہے۔ اسی طریقے سے فقہائے کرام کے اقوال پر بھی کوئی یہ غلط منطق لگاسکتا ہے۔ آج کل کے مروجہ عالمی قوانین کی مثال لے لیتے ہیں، کوئی یہ بھی تو کہہ سکتا ہے کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور پاکستان کے آئین بھی تو اسی ڈکشنری کے لفظوں کی مرہونِ منت ہیں، مگر ان ملکوں کے آئین کی قانونی حیثیت سب کو معلوم ہے۔ اسی طریقے سے سپریم کورٹ سے جاری ہونے والے فیصلے بھی تو اسی ڈکشنری کے لفظوں کی ہیر پھیر ہیں، مگر ان لفظوں کی اپنی افادیت، اثر اور قانونی حیثیت ہے۔ دیکھیے! اگر کسی جرم کی سزا میں سپریم کورٹ کا جج فیصلہ کرتا ہے اور مجرم کو عمر قید کی سزا ملتی ہے تو کیا کوئی اس سزا کو ٹال دے گا؟ اور کہے گا کہ یہ تو محض ڈکشنری کے لفظوں کا ہیر پھیر ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ اس سپریم کورٹ کے جج کی اس تحریر کی اپنی ایک قانونی حیثیت ہے اور اس تحریر کا ایک اثر پڑتا ہے اور ایک مجرم کو عمر قید کی سزا ملے گی۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کے پروگرام مثلاً چیٹ جی پی ٹی سے اسی طریقے کا فیصلہ لکھوالیتے ہیں، جو کہ اس سپریم کورٹ کے جج کے فیصلے کے متن سے شاید زیادہ فصیح وبلیغ ہو، مگر کیا اس تحریر کی کوئی قانونی، اخلاقی، سیاسی اور علمی و عملی حیثیت ہوگی؟ نہیں! بس اسی طریقے سے کلام اللہ، احادیثِ مبارکہ، فقہائے کرام کے اقوال اور دیگر اہم تحریروں کو ہم چیٹ جی پی ٹی سے لکھوا کر اصل کلام اللہ، اصل احادیثِ مبارکہ اوراصل فقہائے کرام کے اقوال کے مساوی ہر گز ہرگز قرار نہیں دے سکتے۔ جو لوگ مصنوعی ذہانت اور چیٹ جی پی ٹی سے حد درجہ تک متاثر ہیں تو کیا وہ لوگ خود اپنی عملی زندگی میں بھی اس کو ہر شعبے میں استعمال کرتے ہیں؟ کیا ایسے لوگوں نے ڈاکٹر و سرجن کے پاس جانا چھوڑ دیا؟ کیا اپنے قانونی معالات کے تَصْفِیَہ کے لیے کورٹ کچہریوں میں جانا چھوڑ دیا؟ کیا گھر میں پلمبر، الیکٹریشن اور بڑھئی کو بلوانا چھوڑ دیا؟ کیا اپنے بچوں کو یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا؟ یقیناً ایسے لوگ بھی اپنے سارے کام چیٹ جی پی ٹی سے نہیں کرواتے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ دینی علوم کو ہی اپنا تختہٴ مشق بناتے نظر آتے ہیں؟

اس اُمت نے منکرینِ حدیث کا فتنہ بھی دیکھا ہے۔ انکارِ حدیث کا عبرت ناک انجام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمة اللہ علیہ کچھ اس طرح بیان فرماتے ہیں:

”حدیث پر اعتماد نہ کرنے والوں کو معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ذاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا پوری امت میں سے ایک کو ناقابلِ اعتماد قرار دینا ہوگا، استغفراللہ۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ زیدکا کلام عمرو نقل کرے، سننے والے کو زید کے صدق کا یقین ہو اور عمرو پر اعتماد ہو کہ وہ نقل میں جھوٹا نہیں، لیکن اس کے باوجود کہے کہ یہ کلام جھوٹا ہے۔ بہرحال یہاں یہ سوال کسی خاص حدیث کا نہیں، بلکہ مطلق حدیث کا ہے۔ جب اس کا انکار کیا جائے گا اور اسے ناقابل اعتماد قرار دیا جائے گا تو اس صورت میں یا خود صاحب حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اعتماد اُٹھانا ہوگا یا پوری امت کو غلط کار اور دروغ گو کہنا ہوگا۔ انکارِ حدیث کی تیسری کوئی صورت نہیں اور ان دونوں کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اگر معاذ اللہ! خود صاحبِ حدیث صلی اللہ علیہ وسلم یا چودہ سو سالہ امت سے اعتماد اٹھالیا جائے تواس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ اسلام اور قرآن پر بھی ان کا اعتماد نہیں اور دین وایمان کے ساتھ بھی ان کا کچھ واسطہ نہیں۔ ان احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بے اعتمادی کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو ایک لمحہ کے لیے بھی یہ خیال دل میں نہ لانا چاہیے کہ اس تمام تر سعی مذموم کے باوجود وہ اسلام اور قرآن کو بے اعتمادی کے جھگڑے سے محفوظ رکھ سکیں گے۔“ (حوالہ: حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، انکار حدیث کیوں؟ ماہنامہ دارالعلوم، شمارہ 9-10، جلد: 94، رمضان،ذیقعدہ 1431 ھ مطابق ستمبر، اکتوبر 2010ء)

کلام اللہ شریف یا احادیث کی صحیح سمجھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آئی، نیز آج کا انسان قرآن و حدیث کو صحابہ کرام سے زیادہ نہیں سمجھ سکتا، لہٰذا ہمیں ہر صورت صحابہ کرام پر اعتماد کرنا پڑے گا، ورنہ ہم گم راہی کے دلدل میں پھنس جائیں گے۔ اگر کوئی یہ ترغیب دے کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ کسی حدیث کی تشریح کردے، اس کا سیاق وسباق بیان کردے، اس سے مسائل کی تخریج کرلے تو یہ بات بالکل غلط ہوگی، کیوں کہ مشین کے اندر صحابہ کرام سے زیادہ سمجھ نہیں ہوسکتی اور نہ ہی مصنوعی ذہانت کی مشینوں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہے۔ لہٰذا مفتیانِ کرام کے مطابق مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کو علومِ وحی کے سمجھنے، سیکھنے سکھانے اور ترویج و اشاعت کے لیے ہرگز ہرگز استعمال نہ کیا جائے، بلکہ جو ”خیر القرون“ میں طریقہ کار اختیار کیے گئے ہیں، یعنی ”سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی“ اور ”سند“، انہی پر انحصار اور انہی کے ذریعے دینی علوم کو اگلی نسل تک منتقل کرنا چاہیے۔

قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر کا کام انسانوں نے انجام دیا ہے۔ بڑے بڑے مفسرین نے قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر کی ہے، مگر وہ لوگ اللہ کے ولی تھے، دینی علوم میں مہارت رکھتے تھے اور ان میں تقویٰ و للہیت تھی۔ اس کے علاوہ جن لوگوں نے عقل لڑا کر قرآن کا ترجمہ و تفسیر کی، وہ لوگ خود بھی گم راہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گم راہ کیا۔ لہٰذا جن لوگوں نے صحابہ کرام y کو چھوڑ کر اپنی رائے پر ترجمہ و تفسیر کیا، ان لوگوں میں للہیت، اتباعِ سنت، تقویٰ اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی نہیں ہوئی تھی، اسی وجہ سے ان کے ترجمہ و تفسیر کو اُمت نے بحیثیتِ مجموعی تسلیم نہیں کیا۔ آج کے دور میں اگر کوئی مصنوعی ذہانت کے پروگرامز سے یہ توقع رکھتا ہے کہ ان سے ہم قرآن پاک کا ترجمہ، تفسیر، خلاصہ اور کسی آیت سے حکم نکال سکتے ہیں تو ایسا کرنا غیر مناسب ہوگا۔

قرآن پاک کا مفہوم وہی معتبر اور صحیح ہوگا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا ہو۔ قرآن پاک کی تفسیر کا کام نہایت احتیاط کا متقاضی ہے اور ہرکس و ناکس کا یہ کام نہیں کہ وہ محض قرآنی تراجم پڑھ کر عقلی طور پر قرآن پاک کی تفسیر و تشریح کرنے بیٹھ جائے۔ اگر کوئی شخص محض اپنی عقل کے بل بوتے پر قرآن کا مفہوم سمجھے اور پھر اس کو منشائے الٰہی قرار دے تو اس کو قرآن دشمنی پر محمول کیا جائے گا۔ مفہوم القرآن کی مزید وضاحت درج ذیل اقتباس سے ہوتی ہے:

”نہ یہ کہ بعض عقلیت زدہ متجددین کی طرح اپنی خالص ذہنی پرواز اور عقلی کاشت کو ادیبانہ وشاعرانہ رنگ آمیزیوں کے ذریعے بیان کرنے کا نام ”مفہوم القرآن“ رکھ دیا جائے، اس لیے کہ قرآن فہمی کے لیے اگر ایسی ہی کھلی چھٹی ہوتی اور ہر شخص کو اختیار ہوتا کہ وہ محض اپنی عقل کے بل بوتے پر قرآن کا مفہوم سمجھے اور جو مفہوم سمجھے بلا تکلف اس کو منشائے الٰہی قراردے اور فی الواقع وہ منشائے الٰہی نہ ہو تو سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نازل فرمانے کے لیے ایک رسول کا واسطہ کیوں بنایا؟ کیا اللہ اس پر قادر نہ تھا کہ وہ اپنی کتاب کو یکایک زمین پر اُتار دیتا؟ اور اس کا ایک نسخہ ہر فردبشر کے پاس آپ سے آپ پہنچ جاتا؟ اگر وہ اس پر قدرت نہیں رکھتا تو عاجز تھا؟ پھر ایسی عاجز ہستی کو خدا ہی کیوں مانیے؟ اور اگر وہ قادر تھا اور یقیناً قادر تھا تو اس نے اپنی اس کتاب کی نشر و اشاعت کا یہ ذریعہ کیوں نہ اختیار کیا؟ یہ تو بظاہر ہدایت کا یقینی ذریعہ ہوسکتا تھا، کیوں کہ ایسے صریح معجزے اور بیّن خوارقِ عادت کو دیکھ کر ہر شخص مان لیتا کہ یہ ہدایت خدا کی طرف سے آئی ہے، لیکن خدا نے ایسا نہ کیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے اپنی یہ کتاب بھیجی، ایسا کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب خود قرآن دیتا ہے، وہ ہمیں بتاتا ہے کہ خدا نے جتنے رسول بھیجے ہیں، ان کی بعثت کا مقصد یہ رہا کہ وہ فرامین خداوندی کے مطابق حکم دیں اور ان کے احکام کی اطاعت کریں، وہ الٰہی قوانین کے مطابق زندگی بسر کریں اور لوگ انہی کے نمونہ کو دیکھ کر اس کا اتباع کریں۔“ (حوالہ: خُلاصہ مضامینِ قرآنی، صفحہ: 19، تالیف: مولانا سلیم الدین شمسی، جمع و ترتیب و اضافات: مولانا عمر انور بدخشانی، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاوٴن کراچی، جنوری 2024)

محض لغت کی بنیاد پر تفسیرِ قرآن

جب محض لغت کی بنیاد پر قرآن پاک کی تفسیر کی بات آئے گی تو بہت بڑی خامی و خرابی پیدا ہوگی اور وہ یہ ہے کہ فہم رسول اور ایک عام آدمی کی فہم کو ایک ہی سطح پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ پھر جب کوئی مصنوعی ذہانت کے ذریعے قرآن پاک کی تفسیر کرنے کی کوشش کرے گا تو مزید خرابی ہوگی، کیوں کہ مصنوعی ذہانت میں فہمِ رسول کو ایک عام انسان سے بھی نیچے لے جاکر کمپیوٹر (مشین) کی فہم کے برابر لاکھڑا کیا گیا ہے۔ اور کمپیوٹر (مشین) کی یہ فہم انسان کی فہم سے زیادہ نہیں ہوسکتی، کیوں کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور انسان ہی نے مشین اور مصنوعی ذہانت کے الگوریتھم (پروگرامز) بنائے ہیں۔ دیکھیے! جب مصنوعی ذہانت کے ذریعے کمپیوٹر کو پروگرام کیا جائے گا تو اس کے پاس کیا طریقہ کار ہوگا کہ وہ اس کے ذریعے قرآن پاک کی تفسیر بیان کرے؟ مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر کی گئی ایسی تفسیر لغت کا حل تو ہوسکتی ہے (وہ بھی غلطیوں سے بھری ہوئی) مگر کلامِ الٰہی کی تشریح نہیں۔ مزید وضاحت درجِ ذیل اقتباس سے ہوتی ہے:

”کیوں کہ اگر کوئی چاہے کہ لغت کی کوئی کتاب لے کر بیٹھ جائے، اور اس میں الفاظ کے معنی دیکھ دیکھ کر قرآن کا مفہوم سمجھنا شروع کرے تو قیامت تک قرآن کا صحیح مفہوم نہیں سمجھ سکتا، کیوں کہ دنیا کی ساری زبانوں کی طرح، بلکہ ان سے کہیں زیادہ عربی زبان کے الفاظ اپنے معانی کے لحاظ سے سرمایہ دار ہیں، یعنی عربی کا ایک ایک لفظ اپنے اندر چار چار اور پانچ پانچ معنی رکھتا ہے، اس بنا پر ایسا کرنے والا اپنے ذوق و مزاج اور اپنی پسند ورجحان کے مطابق کوئی ایک معنی اخذ کرے گا، پھر کیا کوئی ایسا حتمی ذریعہ ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرسکے کہ یہی معنی و مفہوم فی الواقع منشائے الٰہی ہے؟ یہ صرف رسول کرسکتا ہے جو مہبطِ وحی ہوتا ہے، اس لیے وہ اپنے قول و عمل سے قرآن کریم کا جو مفہوم بتائے گا، حقیقتاً اور بالیقین وہ منشاء ومراد الٰہی ہوگا، اس بنا پر اطاعتِ الٰہی کی واحد شکل اتباعِ رسول ٹھہری، رسول کی یہی وہ ذمہ داری تھی جس کا اعلان قرآن کریم نے اس طرح کیا ہے کہ:ترجمہ: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر احسان کیا جب کہ اس نے ان میں ایک رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔“ (حوالہ: سورةآل عمران، آیت:164)

پھر ایسا شخص جو حدیث و سنت کو نظر انداز کر کے قرآن فہمی کو ممکن بناتا ہے، وہ دراصل فہمِ رسول اور ایک عامی انسان کی فہم کو ایک ہی سطح پر لاکھڑا کرتا ہے اور اپنے اس طرزِ عمل سے گویا وہ خم ٹھونک کر آتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ بھی ایک آدمی اور میں بھی ایک آدمی، جس خالق نے آپ کو پیدا کیا، اسی خالق نے مجھے پیدا کیا، بشریت کے جو جذبات و داعیات اور جو قوتیں اور صلاحیتیں اور تفکر و تعقل کی جو قابلیتیں خدا نے آپ کو دیں، وہ مجھے بھی دیں، لہٰذا قرآنی آیات کی تشریح و تفسیر کا مجھے بھی اتنا ہی حق ہے جتنا آپ کو، بلکہ ایٹم اور اسٹپنگ کے اس دورِ ارتقا میں فہمِ رسول (نعوذ باللہ) پرانی ہوچکی ہے۔

اس دور میں مے اور ہے، جام اور ہے جم اور

لیکن ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ رسول کی فہم محض ایک بشر کی فہم نہ تھی اور رسول کی تعلیم کتاب ”تاج العروس“ اور ”لسان العرب“ وغیرہ عربی لغت دیکھ دیکھ کر نہ تھی، بلکہ ازرُوئے وحی تھی، بس اس فرق کے ساتھ کہ الفاظ کی وحی کا تعلق ﴿یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ﴾ کے ساتھ ہے اور اس کی بعینہ تبلیغ پر رسول مامور تھے:

﴿بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ﴾ اور ان الفاظ کے معنی اور منشائے الٰہی کی تعلیم کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے الفاظ کا انتخاب فرماسکتے ہیں اور جہاں موقع و ضرورت ہوتی قول کے ساتھ عمل کرکے بھی بتاتے تھے۔“ (حوالہ: خلاصہ مضامینِ قرآنی، صفحہ: 21، تالیف: مولانا سلیم الدین شمسی، جمع وترتیب واضافات: مولانا عمر انور بدخشانی، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاوٴن کراچی، جنوری 2024)

کیا مصنوعی ذہانت کے حامل کمپیوٹر کی ذہانت ایک بشر کی ذہانت کے برابر ہوسکتی ہے؟ اور کیا کسی عام بشر کی فہم ایک رسول کی فہم کے برابر ہوسکتی ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں! قرآن فہمی و تفسیر کے لیے حدیث و سنت، صحابہ رضی اللہ عنہم اور سلف کے اقوال ضروری ہیں۔

خلاصہٴ مضمون

مصنوعی ذہانت اور خاص طور پر ایل ایل ایم (چیٹ جی پی ٹی وغیرہ) کے حوالے سے یہ بات پیش کی جارہی ہے کہ ایل ایل ایم کے ذریعے پوری دنیا کے ڈیٹا (مواد) تک رسائی ہوگئی ہے اور اس سے وہ چیزیں وجود میں آرہی ہیں کہ انسانی عقل دنگ ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اگر پوری دنیا کی مخلوقات یعنی جن و انس مل جائیں، جن میں اولیاء اللہ، قطب، ابدال، شیخ الحدیث، مفتی، عالم، مفسر، قاری، ریاضی دان، محقق، سائنس دان وغیرہ شامل ہوں اور ان تمام لوگوں کے علوم، فہم، فراست، تقویٰ، للہیت، خشوع، خضوع، تفقہ کو جمع کیا جائے تو وہ ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کے صحابی رضی اللہ عنہ کی فہم و فراست تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علمِ وحی عطا کیا گیا، یہ براہِ راست اللہ پاک کی طرف سے عطا ہوا اور انہوں نے براہِ راست صحابہ رضی اللہ عنہم کو قرآن پاک کا مفہوم سکھلایا۔ خلاصہ یہ کہ مصنوعی ذہانت قطعی طور پر قرآن پاک کا صحیح مفہوم نہیں بیان کرسکتی، لہٰذا ہم میں سے ہر ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآنِ پاک کی اُسی تفسیر اور مفہوم کو قبول کرے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے۔ نیز ہمیں چاہیے کہ ہم مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کو دینی علوم بالخصوص قرآنِ پاک کی تفسیر و ترجمہ کے لیے ہرگز ہرگز استعمال نہ کریں۔

عصر حاضر سے متعلق