
”علم الفرائض“ یعنی علم میراث سے متعلق قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں واضح احکامات موجود ہیں۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! علم الفرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، کیوں کہ یہ نصف علم ہے اور اس کے مسائل جلد بھول جاتے ہیں، یہ پہلی چیز ہو گی جسے میری امت سے اٹھایا جائے گا“۔ آسان الفاظ میں مرنے والے کے چھوڑے ہوئے مال کو ترکہ کہتے ہیں اور علم الفرائض میں وارثین کے درمیان ترکہ کی تقسیم کے احکامات اور طریقہٴ کار بیان کیا جاتا ہے۔ نیز ورثاء کی اقسام، ورثاء کے حصوں کا تعین، مختلف صورتوں، مثلاً لاپتہ شخص کی میراث، مرتد کی میراث، قیدی کی میراث، ایک ساتھ مرنے والوں کی میراث، حمل کی میراث اور دیگر مسائل کا احاطہ کیا جاتا ہے۔
علم الفرائض کی اہمیت کے پیش نظر مدارس دینیہ میں اس موضوع کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ درس نظامی یعنی عالم کے کورس کے اندر طلبہٴ کرام ابتدائی درجات میں جب علم تفسیر، علم حدیث اور علم فقہ پڑھتے ہیں تو جزوی طور پر میراث کے مسائل بھی اُن کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ پھر درس نظامی کے درجہٴ عالیہ میں ”سراجی“ پڑھتے ہیں، جو کہ علمِ الفرائض کے موضوع پر ہے۔ درس نظامی سے فراغت کے بعد جب علمائے کرام تخصص فی الفقہ، یعنی مفتی کا کورس کرتے ہیں تو میراث کے مسائل کی انہیں مشق کرائی جاتی ہے اور اس میں مناسخہ یعنی ”کسی مورث کے ترکے کی تقسیم سے قبل ایک یا کئی وارث فوت ہو جائیں اور ان فوت شدہ وارثوں کا حصہ ان کے وارثوں میں تقسیم کرنے کا عمل“، جیسے پیچیدہ مسائل بھی شامل ہوتے ہیں۔ نیز علم فرائض کے مسائل کے حل کے لیے چوں کہ ریاضی بھی کسی حد تک استعمال ہوتی ہے؛ لہٰذا علمائے کرام اس پر بھی عبور رکھتے ہیں۔
علم الفرائض کی اہمیت کے پیشِ نظر صدیوں سے علمائے کرام اس فن کی خدمت کرتے آئے ہیں اور بلا مبالغہ بیسیوں کتا بیں ہمیں اس موضوع پر مل جاتی ہیں۔ نیز علمائے کرام نے اپنی زندگیاں کھپا کر اس فن کو سہل بنانے کی کوشش فرمائی ہے۔ فقہائے کرام کو خاص طور پر اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے کہ جنہوں نے شریعت کی روشنی میں وراثت کے پیچیدہ مسائل بیان کیے اور آج ہمارے سامنے مختلف فتاوی وکتب کی شکل میں وہ عظیم الشان ذخیرہ موجود ہے جس میں ہر طرح کے وراثت کے مسائل کے جواب موجود ہیں۔
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں اور موت چوں کہ ہر شخص کو آنی ہے لہٰذا میراث کے مسائل سے ہر ایک عام وخاص کا واسطہ رہتا ہے۔ میراث کے مسائل کے سیکھنے کی ترغیب چوں کہ احادیث میں وارد ہوئی ہے لہٰذا نو جوانوں کو بالخصوص اس علم الفرائض کو مستند علمائے کرام سے سیکھنا چاہیے۔ اسی بات کے پیش نظر عصری جامعات میں پڑھنے والوں سمیت انجینئر، وکلا ، ڈاکٹر اور تاجر حضرات کی استعداد کو سامنے رکھتے ہوئے حضرت مفتی محمدنعیم میمن صاحب دامت برکاتہم نے ایک مختصر مگر جامع کتاب بعنوان ”آسان احکام میراث“ لکھی ہے، جس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ میراث کی کتاب سوال جواب کی صورت میں لکھی گئی ہے، جو کہ دینی مدارس کے طلبائے کرام اور عصری جامعات میں پڑھنے والوں، دونوں کے لیے یکساں مفید ہے اور انٹرنیٹ پر بآسانی مفت مل جاتی ہے۔
کیا مصنوعی ذہانت کی حامل مشینیں سند اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی کے متبادل ہوسکتی ہیں؟
بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے حامل کمپیوٹر (مشین) کی سند تسلیم کی جائے گی؟ کیا یہ مصنوعی ذہانت کے حامل کمپیوٹر (مشین) اور سافٹ وئیر سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی کے متبادل قرار دیے جاسکتے ہیں؟ جب بعض صاحبانِ علم مصنوعی ذہانت کے ذریعے دینی علوم اور بالخصوص علم الفرائض کی ترویج واشاعت اور علم الفرائض کے مسائل کو مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر سے معلوم کرنے اور اسے استعمال کرنے کی ترغیب دیتے ہیں تو یہاں پر ایک بنیادی خامی پیدا ہورہی ہے اور وہ یہ ہے کہ کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت کے پروگرامز، روبوٹس اور دیگر الیکٹرانک آلات اپنی اصل اور حقیقت میں صرف مشین ہیں اور مشین اشرف المخلوقات انسان کا متبادل ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتی، لہٰذا اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت نے اتنی ترقی کر لی کہ وہ دینی علوم اور علم الفرائض سے متعلق صحیح رہ نمائی فرا ہم بھی کرنے لگے (جو کہ سائنسی و تکنیکی طور پر ممکن بھی نہیں) تو بھی مشین تو مشین ہی رہے گی اور ان مشینوں میں ”سند“، ”سینہ بہ سینہ“ علوم کو منتقل کرنے کا عنصر، ”نورانیت“، ”تقوی“ اور ”للہیت“ ہمیشہ عنقا ہی رہے گا، جو کہ دینی علوم کی بنیا د اور خاصہ ہے۔ لہٰذا مصنوعی ذہانت کو دینی علوم اور بالخصوص علم الفرائض میں استعمال کرنے کی بنیاد ہی غلط ہے اور اس غلط بنیاد پر تعمیر کی گئی عمارت کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ ٹیکنالوجی، جدیدیت اور مصنوعی ذہانت سے حد درجہ متاثر صاحبان علم اور بہی خواہان امت مسلمہ سے ہم درد دل سے گزارش کرتے ہیں کہ خدارا! دینی علوم میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے سے احتراز فرمائیے، اس سے گم راہی اور ضلالت کے نئے دروازے کھل رہے ہیں اور خدانخواستہ مزید گم راہی کے راستے کھلیں گے۔ آپ صاحبان علم تو علوم نبوی کے اصل وارثین ہیں، جب آپ ہی ”سند“، ”سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی“، ”نورانیت“ ”تقویٰ “اور ”للہیت “کی ترغیب و عمل کے بجائے مادیت اور مشینوں کے دینی علوم میں استعمال و انحصار کی ترغیب دیں گے تو عام مسلمان کس طرف دیکھیں؟
کیا مصنوعی ذہانت کی مشین جواب دہ ہوگی؟
پھر یہ بھی سوال اٹھے گا کہ کیا مشین جواب دہ ہو گی؟ نہیں، ہر گز نہیں! مشین جواب دہ نہیں ہو سکتی۔ مصنوعی ذہانت کے عالمی اور مستند سائنسی ماہرین مصنوعی ذہانت کی خامیاں اور کم زوریاں گنواتے نہیں تھکتے۔ مثلا یونیورسٹی آف گلاسکو، برطانیہ کے ڈاکٹر جو سلیٹر یہ کہتے ہیں:
”چیٹ جی پی ٹی خود سے مواد بنادیتا ہے، جسے لوگ ہیلوسینیشن سے تعبیر کرتے ہیں؛ جب کہ اس کے لیے یہ اصطلاح استعمال کرنا صحیح نہیں ہے؛ بلکہ اس کے لیے جو درست اصطلاح ہوگی وہ فضول، لغو یا بکواس کہا جائے اور اسے وہ ”فضول، لغو یا بکواس مشینوں“ سے تعبیر کرتے ہیں۔“
مصنوعی ذہانت کی تکنیکی اساس اور بنیادیں رکھنے والے سائنسدانوں میں پروفیسر یان لی کن Professor Yann LeCun شامل ہیں۔ یہ پروفیسران کمپیوٹر سائنسدانوں میں شامل ہیں جن کے سائنسی تحقیقی کاموں کی بدولت انہیں ”بابائے مصنوعی ذہانت“ بھی کہا جاتا ہے۔ انھیں کمپیوٹر سائنس کی دنیا کا سب سے بڑا ایوارڈ یعنی ٹیورنگ ایوارڈ Turing Award سن 2018ء میں دیا گیا۔ ٹیورنگ ایوارڈ کو کمپیوٹر سائنس کا نوبل پرائز بھی کہا جاتا ہے۔ پروفیسر یان لی کن فرانسیسی نژاد امریکی کمپیوٹر سائنسدان ہیں اور نیو یارک یو نیورسٹی، امریکہ میں اپنی خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔ یہ میٹا کمپنی (فیس بک کا نیا نام) میں چیف اے آئی سائنٹسٹ ہیں۔ پروفیسر یان لی کن یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ مصنوعی ذہانت کسی بھی معنوں میں ذہین نہیں ہے۔ پروفیسر یان لی کن کہتے ہیں:
”گھر یلو پالتو بلی کے اندر جو صلاحیت، صفات اور ذہانت پائی جاتی ہے، مثلا وہ اپنے دماغ میں حقیقی دنیا کا ایک ماڈل بناتی ہے، اس کی قائم رہنے والی یاداشت، استدلال کی صلاحیت اور منصوبہ بندی کی استعداد، یہ سب چیزیں مروجہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز میں نہیں پائی جاتیں، حتی کہ ”میٹا“ کمپنی کے اپنے بنائے گئے ماڈلز میں بھی نہیں“۔
کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کو مصنوعی ذہانت کی خامیوں اور حدود و قیود کا بخوبی علم ہے۔ مصنوعی ذہانت کے عالمی ماہرین، سائنسدان ومحققین جانتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت میں حقیقی طور پر کتنی ”ذہانت“ موجود ہے؛ لہٰذا سنجیدہ عالمی مستند سائنسدان مصنوعی ذہانت سے متعلق بہت ہی واضح موقف رکھتے ہیں۔ مسئلہ جب سے شروع ہوا ہے کہ جب عالمی سرمایہ کاروں نے اپنی ٹیکنالوجیکل کمپنیوں کے ذریعے اپنے سرمائے کو بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے غبارے میں بے تحاشہ ہوا بھری ہے اور عالمی ریگولیٹری اداروں اور حکومتوں پر اثر انداز ہو کر اس کو وسیع پیمانے پر رائج کرنے کی کوششیں شروع کر چکے ہیں۔
عالمی سرمایہ کاروں، حکومتوں اور ٹیکنا لوجیکل کمپنیوں کی اتنی وسیع سرمایہ کاری کی وجہ سے ہر طرف مصنوعی ذہانت کے چرچے ہیں اور عوام الناس کے سامنے سے مخلص ومستند عالمی سائنسدانوں ومحققین کی سائنسی تحقیقات اور مصنوعی ذہانت کی خامیاں اور حدود وقیود اوجھل ہوتے جارہے ہیں۔
خلاصہٴ کلام یہ کہ مصنوعی ذہانت کی رسی اب عالمی معیشت پر کنٹرول کرنے والوں کے ہاتھ میں ہے اور وہی اس وسیع وعریض پروپیگنڈے کے پیچھے کارفرما ہیں۔
اس سے اندازہ لگایئے کہ بعض صاحبان علم کس پروپیگنڈہ سے متاثر ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے عالمی ماہرین، سائنسدان اور محققین مصنوعی ذہانت کو” فضول، لغو یا بکواس مشینوں“ سے تعبیر کرتے ہیں اور جو اس سے کمانے والے لوگ ہیں وہ اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں کہ آئندہ زمانہ مصنوعی ذہانت کا ہوگا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اہل علم کو کن سے متاثر ہونا چاہیے؟ مصنوعی ذہانت سے کمانے والوں کے پروپیگنڈہ سے یا مصنوعی ذہانت کی ایجاد کرنے والے سائنسدان اور محققین کی باتوں سے؟ اہلِ علم حضرات کے نزدیک کس کی بات کی اہمیت ہوگی؟ یہ صاحبان علم خود فیصلہ فرمالیں!
پھر ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا میراث کے انتہائی اہم مسائل جن کے جواب پر عمل کرنے اور نہ کرنے پر ہمیشہ ہمیشہ کی آخرت کی زندگی کا مدار ہے (اور اس دنیاوی زندگی کا بھی مدار ہے، مثلاً غلط جواب دینے کی صورت میں کوئی وارث حق سے محروم ہوسکتا ہے)، اس کے لیے ہم ایسی ”فضول لغویا بکواس مشینوں“ پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ اور کیا ہم اپنی آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کو داؤ پر لگا سکتے ہیں؟ نیز، آخرت میں ان مصنوعی ذہانت کی حامل مشینوں سے اللہ رب العزت کی طرف سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی اور نہ ہی دنیاوی قوانین کے تحت یہ مصنوعی ذہانت کی مشینیں جواب دہ ہیں۔
مغربی ممالک اور وراثت کے قوانین
وراثت کے قوانین صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں؛ بلکہ مغربی ممالک، مثلاً امریکہ، کینیڈا، فرانس، برطانیہ وغیرہ میں بھی وراثت کے قوانین موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی صاحب علم مغربی ممالک میں رائج ان وراثت کے قوانین کا تقابل اسلامی قانونِ وراثت سے کرے اور مغربی ممالک میں رائج انسانی عقل سے بنائے گئے وراثت کے قوانین کے نقائص کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں واضح کرے۔ مثلاً اسلام میں مختلف وارثین کے حصے اور بہت ہی گہرائی میں میراث کی تقسیم کے قواعد وضوابط بیان کیے گئے ہیں۔
انہیں وارثین سے متعلق مغربی ممالک میں رائج وارثت کے قوانین کو دیکھا جائے اور پھر دونوں قوانین (اسلامی و مغربی) کا تقابل کیا جائے اور یہ عقلی دلائل سے ثابت کیا جائے کہ اسلام کے قانونِ وراثت کو اختیار کرنے سے معاشرے میں انصاف قائم ہوتا ہے، فیملی سسٹم پنپتا ہے اور وارثین کو ان کے جائز حقوق ملتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ یہ عقلی دلائل غیر مسلم لوگوں کے لیے ہوں گے، ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر مسلم ان دلائل کو پڑھ کر اسلام کی روشنی میں داخل ہو جائے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمان کو تو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرنا ہے، خواہ وہ حکم اس کی عقل میں آئے یا نہ آئے؛ کیوں کہ وحی کا آغاز ہی وہاں سے ہوتا ہے جہاں جا کر انسانی عقل کی انتہا ہو جاتی ہے۔
مصنوعی ذہانت سے علم الفرائض کی خدمت اور اُس کے حدود و قیود
کمپیوٹر سائنس میں ترقی کی وجہ سے بعض لوگوں کو یہ فکر ہوئی کہ کیوں نہ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے علمِ الفرائض کی بھی خدمت کی جائے۔ اس تناظر میں کئی جہتوں پر کام ہوا۔ اول کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہوئے وراثت کے مسائل کو کاغذ پر پرنٹ کیا جانے لگا۔ دوم، علمِ الفرائض کی کتابوں کو ڈیجٹیلائژڈ کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ سوم ایسے سافٹ وئیر بنائے گئے جن میں شریعت کے متعین کردہ اصول پروگرام (اندراج) کر دیے جاتے اور پھر وہ سافٹ وئیر ان قوانین کی روشنی میں ورثاء کے حصے بتا دیتا۔ بات یہاں پر نہ رُکی؛ بلکہ جیسے جیسے کمپیوٹر سائنس میں مزید ترقی ہوتی گئی، بعض لوگوں نے کمپیوٹر سائنس کی اس ترقی کو علم الفرائض پر بھی لاگو کرنا شروع کر دیا اور یہ رجحان عصری یونی ورسٹیوں میں بالخصوص نظر آیا، جہاں طلباء اپنی پی ایچ ڈی کے دوران علمِ الفرائض کو اپنا تختہٴ مشق بناتے نظر آتے ہیں۔ بالخصوص مسلمان ممالک میں موجود عصری تعلیمی یونی ورسٹیوں کی کلیة الشریعہ وکلیة اصول الدین اور مغربی ممالک کے لادینی عصری اداروں میں اسلامی دینی تعلیم کے ڈیپارٹمنٹس، غرض دونوں ہی قسم کے اداروں میں موجود مدرسین اور طلبہ کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کا علم الفرائض میں اطلاق کر کے تحقیق کرتے نظر آتے ہیں اور اس کے لیے وہ انگریزی مجلات وسائنسی تحقیقی جرائد میں اپنے مقالے چھاپتے ہیں۔ ان تحقیقی مقالوں کو پڑھ کر بہت افسوس ہوتا ہے؛ کیوں کہ ان میں زیادہ تر تحقیقی مقالوں میں کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کی بہت ہی سطحی تکنیکی معلومات کی بنیاد پر مقالہ تحریر کیا گیا ہوتا ہے۔ الغرض، ایک طرف ایسی کوششیں کی گئیں جن کے ذریعے علم الفرائض کے مسلمہ قوانین کو پسِ پُشت ڈالا گیا؛ جب کہ دوسری طرف یہ بات پھیلائی گئی کہ اب چوں کہ کمپیوٹر سافٹ وئیر کی مدد سے ہم خود ہی وراثت کے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں؛ لہٰذا علم الفرائض کے مسائل معلوم کرنے کے لیے مفتیان کرام سے رجوع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں!
اسی پر بس نہیں؛ بلکہ اب تو یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ مدارسِ دینیہ کے اندر کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کو اس حد تک رواج دیا جائے کہ خود مفتیانِ کرام ہی وراثت کے مسائل کا حل کمپیوٹر سے پوچھیں۔ نیز اس موضوع پر سوشل میڈیا پر کئی پوڈ کاسٹ بھی کی گئی ہیں اور کہا گیا کہ آنے والا زمانہ ٹیکنالوجی کا ہے اور ”لوگوں کا سب سے بڑا عالم چیٹ جی پی ٹی ہوگا“۔ یعنی بعض صاحبانِ علم کی جانب سے یہ ترغیب دی جارہی ہے کہ مدارسِ دینیہ میں پڑھنے والے طالب علم حضرات علم الفرائض سے متعلق سوالات مصنوعی ذہانت کے پروگرامز مثلاً چیٹ جی پی ٹی وغیرہ سے پوچھیں۔ مدارس دینیہ کے طلبائے کرام کو یہ ترغیب دی جا رہی ہے کہ وارثت کے مسائل کی تخریج ہو یا قرآن پاک کی کسی آیت کی تفسیر، حدیث کا متن تلاش کرنا ہو یا کسی فقہی عبارت کا خلاصہ بیان کرنا، غرض یہ تمام کام مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر مثلا چیٹ جی پی ٹی سے کر لیا جائے۔ حتی کہ اگر جمعہ کا خطبہ تیار کرنا ہے تو اس کے لیے موضوع کا انتخاب اور اس پر دینی مواد کا حصول چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے کر لیا جائے۔ یعنی مصنوعی ذہانت کے پروگرام چیٹ جی پی ٹی سے کہا جائے کہ ہمیں دو صفحات کا ایک خطبہ مہیا کرے، جس میں دو قرآنی آیات، تین احادیث اور دو صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال کی روشنی میں عورتوں میں وراثت کی تقسیم کی اہمیت پر بات کی گئی ہو۔
نیز بعض صاحبان علم کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ چوں کہ جدید دور ہے اور عوام الناس کی اکثریت اب علمائے کرام، مفتیان کرام اور دار الافتاء سے رہ نمائی نہیں لیتی، لہٰذا وہ لامحالہ اب چیٹ جی پی ٹی سے ہی دینی مسائل پوچھیں گے؛ چوں کہ ان مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کو بنانے والے مغربی ممالک ہیں اور اگرچہ ابھی یہ کمپیوٹر پروگرامز بعض صورتوں میں صحیح جواب دے رہے ہیں، مگر مستقبل میں اگر انہوں نے ان سافٹ ویئرز میں جوہری تبدیلی کر دی تو شریعت کی تعلیمات بالکل تبدیل ہو جائیں گی۔ لہٰذا اگر ہم خود ایسے مصنوعی ذہانت کے پروگرامز بنا لیں جو کہ صحیح دینی مسائل بتا سکیں تو اس سے اُمتِ مسلمہ کو رہ نمائی ملے گی۔ اس سلسلے میں ایک نوجوان صاحب علم نے سوشل میڈیا پر اشتہار نشر کیا کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ماہرین درکار ہیں، جو کہ چیٹ جی پی ٹی جیسے سافٹ ویئر بنا سکیں؛ تاکہ جب کوئی ان سافٹ ویئر سے دینی مسئلہ پوچھے تو یہ سافٹ ویئر صحیح رہ نمائی کر سکیں۔
قارئین! یاد رکھیے کہ جو لوگ مصنوعی ذہانت سے متاثر ہیں وہ تاویلات کے دروازے کھولیں گے کہ مصنوعی ذہانت کا رد کیا جائے، اس کے مقابل پروگرامز بنائے جائیں اور مصنوعی ذہانت کا تدارک کیا جائے۔ اصولی طور پر بالکلیہ مصنوعی ذہانت کا رد کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اور اگر رد کرنا بھی ہے تو اس کے لیے بہت اعلی معیار کی سائنسی تحقیق درکار ہوگی، جو کہ ہندو پاک میں موجود نہیں۔ نیز جو لوگ مدارس دینیہ میں رہتے ہوئے دینی ودنیاوی تعلیم کے حسین امتزاج کے عنوان سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی تحقیق میں چوٹیاں سر کرلی ہیں تو ان کو سراسر دھوکہ ہوا ہے، وہ خود بھی گم راہ ہو رہے ہیں اور عوام کو بھی دھوکہ میں ڈال رہے ہیں۔ باتیں اونچے درجے کی کرتے ہیں؛ مگر عملی تحقیق سے کوسوں دور ہیں۔ ہمیں ایسے صاحبان علم کی نیت اور خلوص پر شک نہیں؛ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ چوں کہ یہ حضرات جدید سائنسی علوم کے ماہر نہیں ہیں؛ لہٰذا ان حضرات کو مصنوعی ذہانت سے متعلق شدید دھوکہ ہو گیا ہے اور وہ شاید مصنوعی ذہانت سے اتنے متاثر و مرعوب ہوچکے ہیں کہ بس ہر قیمت پر اس ٹیکنالوجی کا استعمال علم الفرائض اور دیگر دینی علوم میں کرنا چاہتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے متعلق اُصولی حکم
مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق مفتیانِ کرام اصولی طور پر ارشاد فرماتے ہیں:
”آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مشینوں اور کمپیوٹرز میں ذہانت اور انسانی فکری مہارت کا ملکہ پیدا کرنا اور ان سے کام لینا ایک مباح امر ہے، جس میں فی نفسہ کوئی شرعی قباحت نہیں؛ لہٰذا روز مرہ کے کاموں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال جائز ہے؛ البتہ جس طرح دیگر مباح اشیاء کا حکم ہے کہ اگر اسے حرام اور ممنوع طریقہ پر استعمال کیا جائے یا ممنوع کام کے لیے استعمال کیا جائے تو نا جائز ہوگا، بعینہ وہی حکم اس کا بھی ہے۔ باقی اگر جان دار کی صورت یا تصویر پر مشتمل روبوٹ بنایا جائے تو یہ شرعًا ناجائز ہے“۔ (حوالہ: فتوی نمبر: 144503100953 دار الافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)
حضرات مفتیانِ کرام مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے علم الفرائض میں جائز استعمال بیان کرتے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: دار الافتاء کے اندر سائلین جو وراثت کے مسائل پوچھتے ہیں ان کو جب جواب تحریر کیا جائے تو وہ جواب کمپیوٹر پر ٹائپ کر کے دیا جا سکتا ہے، یعنی خوش خطی کے لیے کمپیوٹر ٹائپنگ کا سافٹ ویئر مثلاً ان پیج یا مائیکروسافٹ ورڈ کا استعمال کرتے ہوئے جواب تحریر کر دیا جائے (ان سافٹ وئیرز میں سے کچھ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال پہلے ہی سے ہو رہا ہے، مثلاً گرامر کی غلطیوں وغیرہ کی نشان دہی کے لیے)۔ پھر اس جواب کو پرنٹ کر کے مفتیان کرام اس پر دستخط اور دار الافتاء کی مہر لگا کے سائل کے حوالے کر دیں۔ اب یہاں پر ایک طرف تو کمپیوٹر کا استعمال کر کے ٹائپنگ کی سہولت میسر آ گئی، نیز جاری کیے گئے فتاوی کا ریکارڈ مرتب کرنے میں بھی آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طریقے سے علم الفرائض کے ان جوابات کو انٹرنیٹ کے ذریعے دار الافتاء کی ویب سائٹ پر بھی نشر کیا جا سکتا ہے، جو کہ آج کل دار الافتاء کر بھی رہے ہیں۔ کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کے یہ استعمال نہ صرف یہ کہ رائج ہیں؛ بلکہ بڑے بڑے دارالعلوم اور دار الافتاء اس کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔
مفتیانِ کرام کے بتائے ہوئے اس جائز استعمال سے آگے بڑھ کر بعض لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ کیوں نہ ایک کمپیوٹر سافٹ ویئر بنا لیا جائے اور اس میں وارثین کے حالات اور مختلف صورتوں میں ان کے وراثت میں حصوں کا اندراج کر دیا جائے اور پھر کمپیوٹر ان بتائے گئے اصولوں کے تحت مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے خود کار طریقے سے وارثین کے حصے بتا دے اور پھر عوام اس سافٹ وئیر سے استفادہ کرلیں۔ علمائے کرام عوام الناس کو ایسے سافٹ وئیر سے استفادہ کرنے سے منع فرماتے ہیں؛ کیوں کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور دینی مسائل علمائے کرام سے ہی پوچھنے چاہییں۔ نیز علم الفرائض کی بقا اور اسے اگلی نسل کو منتقل کرنے کے لیے ”خیر القرون“ میں جو طریقہٴ کار اختیار کیے گئے ہیں، یعنی ”سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی“ اور ”سند“ انہیں پر انحصار کرنا چاہیے۔
کوئی یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ ایسے سافٹ وئیر بنانے سے طلبائے کرام کو وراثت کے مسائل کی مشق کروانے میں مدد ملے گی، مگر ہماری رائے میں ایسا کرنے سے طلبائے کرام میں سستی، کاہلی اور کام چوری بڑھے گی اور علمی استعداد وصلاحیت بھی نہ بن سکے گی۔ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ جمع، نفی، ضرب اور دیگر ریاضی کے بنیادی قواعد اسکولوں میں بچوں کو سکھائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ مغربی ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ رائج ہے، مگر کوئی یہ اعتراض نہیں کرتا، چوں کہ کیلکولیٹر موجود ہے تو بچوں کو یہ ریاضی کے بنیادی قواعد کیوں سکھائے جا رہے ہیں؟ ترقی یافتہ ممالک کی معیاری یونی ورسٹیوں میں بعض امتحانات میں کیلکولیٹر کا استعمال یکسر ممنوع ہوتا ہے؛ کیوں کہ یونی ورسٹی کے طلباء میں بنیادی مضامین اور اسکلز میں صلاحیت اور استعداد پیدا کرنی ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ اعتراض بے معنی ہے کہ ابھی تک مدارسِ دینیہ کے طلبائے کرام کو وراثت کے مسائل سکھائے جاتے ہیں۔ خوب غور سے سمجھیے کہ اصل مقصد طلبائے کرام کو علم وراثت کے مسائل حل کرانے کی مشق کروانا اور علمی رسوخ پیدا کرنا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور علم الفرائض کی سادہ مثال
ایک مثال کے ذریعے سے مزید واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ کس طریقے سے کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کو علم الفرائض کے مسائل حل کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر مرنے والی ایک عورت ہو اور اس کی وراثت تقسیم کرنی ہو تو شریعت کے مطابق شوہر کے حق میں اس کی وراثت تقسیم کرنے کی دو ہی صورتیں ہیں: اوّل اگر اولاد نہ ہو تو شوہر کو نصف حصہ ملے گا اور دوم، اگر اولاد ہو تو شوہر کو رُبع حصہ ملے گا اور اس کو علم الفرائض کی اصطلاح میں ”شوہر کے حالات“ کہا جائے گا۔ جب بھی کسی طالب علم کے سامنے وراثت کا مسئلہ آئے گا اور اُس میں مرنے والی عورت ہوگی اور وارثین میں شوہر ہوگا، تو فوراً ہی اس طالب علم کا ذہن ان دو اُصولوں کی طرف جائے گا اور انہی دونوں اُصولوں کو ہمیشہ سامنے رکھتے ہوئے وہ شوہر کے لیے وراثت تقسیم کرے گا۔ نیز طالبِ علم کو علم الفرائض کی مشق کروائی جائے گی اور علم الفرائض کو محفوظ کرنے اور اگلی نسل تک منتقل کرنے کے لیے اس طالبِ علم کو ”شوہر کے حالات“ اَزبر ہوں گے۔
اب ہم نے کمپیوٹر کے اندر انسان جیسی یہ صلاحیت اور ذہانت پیدا کرنی ہے کہ جب بھی اس کے سامنے عورت کے مرنے پر شوہر کے لیے وراثت تقسیم کرنے کا مسئلہ آئے تو وہ انسانی ذہن کی طرح بالکل درست جواب دے۔ اس کے لیے پچھلی کئی دہائیوں میں کمپیوٹر سائنس دانوں نے اپنی ایجادات اور سائنسی تحقیقات کی بنیاد پر کمپیوٹر کو تدریجاً مصنوعی طور پر ذہین بنایا ہے اور اس کی بہت تفصیل ہے؛ مگر ہم اختصار کے ساتھ اس کا بیان کرتے ہیں۔ لہٰذا جب اس اُصول کو مد نظر رکھ کر ہم کمپیوٹر کو پروگرام کریں گے تو بہت سے طریقوں سے کمپیوٹر کو پروگرام کیا جاسکتا ہے۔
پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ کمپوٹر کو صرف ”ہاں“ یا ”ناں“ میں اولاد کے ہونے نہ ہونے کے بارے میں بتایا جائے اور اس بنیاد پر وہ شوہر کا حصہ بتا دے۔ پہلے طریقے میں کمپیوٹر کو جو معلومات فراہم کی جائیں گی وہ کچھ اس طریقے سے ہوں گی ”مرنے والی عورت: ہاں“ اور ”اولاد: ہاں“۔ اس سادہ سی معلومات پر کمپیوٹر سادہ سے الگوریتھم کو استعمال کرتے ہوئے وراثت کا مسئلہ بیان کر دے گا اور اس کا جواب یہ ہوگا کہ ”شوہر کا حصہ ربع“، یہاں پر یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ کمپیوٹر کو خود سے یہ اُصول اِلقا نہیں ہوئے؛ بلکہ کمپیوٹر پروگرامرز و سائنس دانوں نے پہلے اس اُصول کو خود کمپیوٹر میں درج کر دیا (پروگرامنگ لینگویج کے ذریعے) اور اب کمپیوٹر اس اصول کو ذہن میں سامنے رکھ کر جواب دے رہا ہے۔ اب اس سارے تعامل کو عام انسانوں کے لیے قابل سمجھ اور دیدہ زیب دکھانے کے لیے سافٹ وئیر انجینئر نگ کو استعمال کیا جائے گا اور ایک اچھا یوزر ا نٹر فیس Graphical User Interface (GUI) بنا لیا جائے گا۔ مثلاً ایک سافٹ وئیر انٹرفیس بنایا جائے، جس میں اردو میں لکھا ہوا ہو، مگر پیچھے جو پروگرامنگ لینگویج ہو وہ سادہ طرز کی ہو، یعنی عمومی مقاصد کے استعمال کی پروگرامنگ لینگویجز مثلاً پائیتھن Python، آر R، لسپ Lisp، سی پلس پلس ++C، جاوا Java وغیرہ اور پھر اس پروگرامنگ لینگویج کے ذریعے کمپیوٹر کو صرف ”ہاں“ یا ”ناں“ میں اولاد کے ہونے نہ ہونے کے بارے میں بتایا جائے اور اس بنیاد پر وہ شوہر کا حصہ بتا دے۔
دوسرا طریقہ کار یہ ہو سکتا ہے کہ کمپیوٹر سے نیچرل لینگویج یعنی انسانی طرز تکلم کی طرح سوالات کیے جائیں اور اس کے لیے مصنوعی ذہانت کی مخصوص پروگرامنگ لینگویجز مثلاً پرولاگ Prolog، جو کہ منطق یعنی لاجک Logic کو بھی سپورٹ کرتی ہے، کا استعمال کیا جائے۔ اس طریقے کی پروگرامنگ لینگویجز کے استعمال سے کمپیوٹر کو منطقی سوالات کے جوابات دینے آجاتے ہیں اور وہ منطق کو استعمال کرتے ہوئے نتیجہ بھی اخذ کر سکتا ہے۔ نیز مصنوعی ذہانت کے خاص شعبہ ”جنریٹیو اے آئی“ یا ”لارج لینگویج ماڈلز“ کو کمپیوٹر کو پروگرام کرنے میں استعمال کیا جائے۔ خیر اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ جس طریقے سے انسان باتیں کرتے ہیں، مختلف اُسلوب میں سوال پوچھتے ہیں، مختلف زبانوں میں سوال پوچھتے ہیں، اس طریقے سے اس مسئلے کے بارے میں کمپیوٹر سے انسانی طرز پر سوالات پوچھے جاسکیں گے۔
مثلاً پہلا سوال یہ ہوگا کہ ”ایک عورت کا انتقال ہوگیا اور اس کی اولاد ہے تو شوہر کو وراثت میں کتنا حصہ ملے گا“؟ دوسرا سوال یہ ہوگا کہ ”ایک عورت کا انتقال ہو گیا اور اس کے وارثین میں دو بیٹے، ایک بیٹی اور شوہر ہے۔ اس صورت میں شوہر کو وراثت میں کتنا حصہ ملے گا“؟۔ غور کیجیے تو دونوں صورتوں میں ایک ہی بات پوچھی گئی ہے؛ مگر سوال مختلف طرز پر کیے گئے ہیں۔ انسانی ذہن میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اس طریقے کے سوالات پر غور کر کے جوابات دے دے، مگر کمپیوٹر میں تو یہ صلاحیت پہلے سے موجود نہیں تھی لہٰذا کمپیوٹر سائنس دانوں نے سائنسی تحقیقات کیں اور پھر کمپیوٹر میں ایسی صلاحیت پیدا کر دی ہے۔ اب کمپیوٹر بھی ان مختلف طرز کلام کے سوالات کے جوابات سے بنیادی سوال نکال کر اس کو انسانی طرز تکلم کو اختیار کرتے ہوئے نہایت شائستہ اُسلوب میں جواب دے گا۔
ہم نے تو صرف اپنی مثال میں صرف دو طریقوں سے ایک ہی سوال پوچھا، مگر بلا مبالغہ سیکٹروں زبانوں (عربی، فارسی، پشتو، سندھی، انگریزی، پنجابی، سرائیکی وغیرہ) میں یہی سوال پوچھا جا سکتا ہے۔ حتی کہ اگر ایک زبان عربی کی بات کی جائے تو اس کے مختلف ملکوں میں مختلف لہجے ہوتے ہیں تو لہجوں کے حساب سے بھی سوالات مختلف ہو سکتے ہیں، مگر بنیادی بات یہ ہے کہ کمپیوٹر کو اس کا ایک ہی جواب (وراثت میں اولاد کی موجودگی میں شوہر کا حصہ ربع ہوگا) دینا چاہیے۔ پھر ہم اپنے سوالات کو صرف تحریری طور پر ہی کیوں مقید رکھیں؟ ہم مختلف زبانوں اور لہجوں میں آڈیو میں یہ سوالات کریں۔ اس صورت میں کمپیوٹر کو مختلف آڈیوز کو پہچاننا، اس میں تفریق کرنا وغیرہ۔ اب یہ ہے وہ مصنوعی ذہانت کی سائنسی تحقیق جو کہ کمپیوٹر سائنس دانوں نے کی ہے۔
قارئین ایک اور پہلو ذہن میں رکھیں کہ شروع میں کمپیوٹر پروگرام میں جو صورتیں درج تھیں ان میں خاص طریقہٴ کار کے تحت شوہر کے لیے وراثت تقسیم کرنے کے اصول درج کیے گئے تھے، لہٰذا کمپیوٹر اب اس نئے طرز کے سوال کا جواب نہ دے سکے گا؛ کیوں کہ کمپیوٹر خود ہی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتا کہ دو بیٹے اور ایک بیٹی سے مراد اولاد ہے۔ اب اس صورت میں ہمیں یا تو سوال کرنے کی مختلف ممکنہ صورتیں کمپیوٹر کو بتانی پڑیں گی، جو کہ سیکڑوں یا ہزاروں میں ہو سکتی ہیں یا پھر کمپیوٹر مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرے کہ بیٹے اور بیٹی سے مراد اولاد ہے اور اس کے لیے بھی کمپیوٹر کو پہلے سے بتایا گیا ہے کہ جب بیٹا بیٹی کے لفظ آئے تو اس سے مراد اولا دلیا جائے۔ بنیادی اُصول پھر ہم دہراتے ہیں کہ کمپیوٹر کو خود سے کہیں یہ اُصول اور ذہانت اِلقا نہیں ہوتی؛ بلکہ کمپیوٹر پروگرامرز اور سائنس دان اس کو پروگرام کرتے ہیں۔
مدارس دینیہ میں مصنوعی ذہانت کا علم الفرائض میں استعمال
علمائے کرام کے مطابق مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر یا ایپلی کیشن مثلا چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی یا کو پائلٹ وغیرہ سے دینی فقہی مسائل، بالخصوص علم الفرائض کے انتہائی پیچیدہ اور سنجیدہ مسائل معلوم کرنا، قرآن پاک کی تفسیر وترجمہ کروانا، احادیث پر جرح و تعدیل کروانا، وراثت کی تقسیم کے اصول قرآن وحدیث سے اخذ کروانا وغیرہ سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں:
اول- یہ کہ ان مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئرز کے اندر کئی طرح کی ٹیکنیکل خامیاں موجود ہیں۔
دوم- یہ کہ آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی رہنے والی زندگی کا مدار اس دنیا کی زندگی کے اعمال پر منحصر ہے۔ اگر اس دنیا میں کوئی اچھا کام کیا تو اس کا بدلہ جنت کی صورت میں ملے گا اور اگر اس دنیا میں کوئی غلط کام کیا تو اس کا بدلہ دوزخ کی صورت میں ملے گا۔ لہٰذا جب عالمی سائنسی ماہرین واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر اس قابل نہیں ہیں کہ انسانی ذہانت کا مقابلہ کر سکیں اور ان میں کئی خامیاں ہیں تو پھر ان سے دینی رہ نمائی لینا، فقہی مسائل پوچھنا، قرآن پاک کی تفسیر وترجمہ کروانا، احادیث کی وضاحت کروانا ایسا ہے کہ کوئی اپنی آخرت کو خطرے میں ڈال کر اپنی ہمیشہ ہمیشہ کی آخرت کی زندگی کو داؤ پر لگا دے۔
سوم- یہ کہ ان سافٹ وئیرز کے اندر جواب دینے کی صلاحیت بالکل نا پائیدار ہے؛ کیوں کہ ان میں ہیلوسینیشن پائی جاتی ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ ان سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں ان سافٹ وئیر سے مختلف جوابات آتے ہیں اور سوال کے اُسلوب سے جواب بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ اصولی طور پر جب سوال کسی ایک حقیقت سے متعلق ہے تو چاہے سوال کرنے کے اسلوب مختلف ہوں، جواب اسی حقیقت کو سامنے رکھ کر آنا چاہیے، مگر ایسا نہیں ہوتا، کیوں کہ یہ سافٹ وئیرز تکنیکی طور پر نیچرل لینگویج پروسسنگ کے ذریعے کام کرتے ہیں۔
چہارم- یہ کہ ان سافٹ وئیرز کے بتائے گئے جوابات کی نہ دنیاوی قوانین میں کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی کوئی ملک اور ادارہ ان کو قابل اعتبار سمجھتا ہے۔ مثلاً چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا گیا کوئی سوال کیا کسی ملک کے سپریم کورٹ میں تسلیم کیا جائے گا؟ نہیں، ہر گز نہیں! پھر کیا وجہ ہے یہ جوابات جو کہ اس دنیا کے کورٹس کچہریوں میں تو قابل قبول نہیں ہوں، وہ مختلف دار الافتا اور مفتیانِ کرام کے یہاں قابلِ اعتبار ٹھہر جائیں؟
سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ مدارس دینیہ کے اندر جب طلبائے کرام کو چیٹ جی پی ٹی یا دیگر مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر وایپلی کیشنز سکھائی جائیں گی اور طلبائے کرام سے روایتی طریقہٴ تدریس و تعلیم سے ہٹا کر مصنوعی ذہانت کو استعمال کروایا جائے گا تو اس سے ان کے اندر علمی و تحقیقی استعداد نہ بن پائے گی اور وہ نادانستگی میں علمی سرقہ کی باقاعدہ تربیت لے رہے ہوں گے۔ دیکھیے، مغربی ترقی یافتہ ممالک میں چیٹ جی پی ٹی یا دیگر مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر وایپلی کیشنز کے امتحانات میں استعمال کی تختی کے ساتھ پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسکولوں، کالجز اور یونی ورسٹیوں میں طلبائے کرام اگر چیٹ جی پی ٹی یا دیگر مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر وایپلی کیشنز کو استعمال کر کے کوئی مواد تیار کرتے ہیں تو اسے یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے؛ بلکہ اس عمل کو علمی سرقہ گردانا جاتا ہے۔
ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی یا دیگر مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر وایپلی کیشنز کے استعمال سے سستی، کاہلی اور کام چوری کو طلبائے کرام میں رواج دیا جائے گا اور ان کے اندر علمی گہرائی اور صحیح تحقیق کرنے کا جذ بہ ختم ہوتا چلا جائے گا اور وہ چیٹ جی پی ٹی یا دیگر مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر وایپلی کیشنز پر اپنی معلومات کا انحصار کرنے لگیں گے، جو کہ من گھڑت، جھوٹی اور حقائق کے منافی معلومات فراہم کرتی ہے۔
خلاصہٴ مضمون
خلاصہٴ مضمون اور چند گزارشات درج ذیل ہیں:
∗.. عوام مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر مثلاً چیٹ جی پی ٹی وغیرہ سے علم الفرائض کے مسائل ہرگز نہ پوچھیں اور نہ ہی ان سافٹ وئیر کی مہیا کی گئی معلومات پر بھروسہ کریں۔ عوام الناس کو چاہیے کہ وہ دینی مسائل کو مستند مفتیان کرام اور دارالافتاء سے معلوم کریں اور ان ہی حضرات کے بتائے گئے مسائل پر بھروسہ اور عمل کریں۔
∗.. مصنوعی ذہانت کے پروگرامز کو علوم وحی اور بالخصوص علم الفرائض کے سمجھنے، سیکھنے سکھانے اور ترویج و اشاعت کے لیے ہرگز ہرگز استعمال نہ کیا جائے؛ بلکہ جو خیر القرون میں طریقہ کار اختیار کیے گئے ہیں، یعنی سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی اور سند، انہیں پر انحصار اور انہیں کے ذریعے دینی علوم کو اگلی نسل تک منتقل کرنا چاہیے۔
∗.. مدارسِ دینیہ کے طلبائے کرام میں پختہ علمی وتحقیقی استعداد بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کے استعمال پر مدارس دینیہ میں سختی سے پابندی لگائی جائے۔ بالخصوص فقہی مسائل کی تحقیق، خلاصہ تفسیر، احادیث کی تخریج اور فتاویٰ نویسی کے لیے چیٹ جی پی ٹی ودیگر مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کو استعمال کرنے سے مکمل احتراز کیا جائے۔
∗.. مصنوعی ذہانت قطعی طور پر وحی کے علوم کا متبادل نہیں ہوسکتی؛ لہٰذا سختی کے ساتھ اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ مصنوعی ذہانت کو علوم وحی کے متبادل کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔