مسلمان معلمین عصری علوم کیسے پڑھائیں؟

idara letterhead universal2c

مسلمان معلمین عصری علوم کیسے پڑھائیں؟

محترم اسعد زمان

1- مسلم معلم کا منصب: نبوت کی وراثت

ہم جو تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں، دراصل ایک نہایت مقدس اور بھاری امانت اٹھائے ہوئے ہیں – وہی امانت جو انبیاء علیہم السلام کے سپرد کی گئی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم بنا کر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”إنما بعثت معلماً“ مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔

ہم سب نے یہ بھی سنا ہے کہ قیامت کے دن علما کے قلم کو شہداء کے خون کے ساتھ تولا جائے گا۔ یہ وعدہ بہت عظیم ہے لیکن اس کے ساتھ ایک سوال اُبھرتا ہے، جو نہایت قابلِ غور ہے: کیا ہم جو پڑھا رہے ہیں اور جس انداز سے پڑھا رہے ہیں، وہ واقعی اس اجر کے لائق ہے؟

اکثر ہم اپنی تدریس کو محض ایک پیشہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں سلیبس(Syllabus) مکمل کرنا، امتحان کی تیاری کروانا، طلبہ کو ملازمت کے قابل بنانا۔ مگر سوال اٹھتا ہے کہ:

ہماری کلاسوں میں اللہ کہاں ہے؟ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ آخرت کی تیاری کہاں ہے؟اگر یہ سب غیر حاضر ہیں تو کیا ہماری تدریس عبادت کہلا سکتی ہے؟

بطور مسلمان ہم یقین رکھتے ہیں کہ قرآن ایک کامل اور ہمہ گیر ہدایت ہے، جو ہر دور کے لیے نازل ہوئی۔لیکن اپنی عملی زندگی میں ہم نے گویا یہ مان لیا ہے کہ جو علم ہم پڑھاتے ہیں ریاضی، سائنس، معاشیات، عمرانیات اس کا قرآن وسنت سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے طلبہ کو وہ سب سکھاتے ہیں جو اُن کو ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے تیار کرتا ہے ، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ کیا یہ علم ان کے ایمان، ان کے کردار اور ان کی روح کو بہتر بناتا ہے؟

یہ مسئلہ صرف کسی ایک کلاس یا ایک مضمون کا نہیں پورا تعلیمی نظام ایسے ڈھانچے پر قائم ہے جس میں اللہ کا ذکر نہیں، آخرت کا تصور نہیں اور علم کا مقصد صرف دنیاوی کام یابی ہے۔ہماری خاموشی، نادانستہ طور پر، یہی پیغام دیتی ہے کہ اسلام کا علم سے، زندگی سے اور ترقی سے کوئی تعلق نہیں۔

میں چالیس سال سے زیادہ مغربی تعلیمی اداروں میں پڑھاتا رہا ہوں اور میری ساری زندگی ہی اس کشمکش میں گزری ہے۔ابتدا میں مجھے یہ سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ اسلامی تعلیمات کو اپنی کلاسوں میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے؟ ایسا لگتا تھا جیسے مغربی علم اور ہماری اسلامی علمی میراث دو الگ دنیائیں ہوں، جن کا ایک دوسرے سے کوئی رابطہ ممکن نہیں۔ ریاضی، شماریات، اکنامکس اور اکنامیٹری جیسے مضامین پڑھاتے ہوئے، میں ہزارہا جستجو اور آرزو کے باوجود، اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق ڈھونڈ نہیں سکا۔ یہ میرے لیے ایک گہرا معمہ بن گیا۔ آخر ہمارا دین، جو مکمل اور ہمہ گیر ہدایت ہے، اس دنیا کے اہم ترین معاملات پر کیسے خاموش ہو سکتا ہے؟

لیکن جب میں نے اس سوال پر سنجیدگی سے غور کیا اور اپنی تدریس میں ایسے چھوٹے مواقع تلاش کیے جہاں اسلامی نقطہٴ نظر کو کسی نہ کسی انداز میں شامل کیا جا سکتا تھا، تو یہ معمہ آہستہ آہستہ حل ہونے لگا۔ دہائیوں کے تجربات سے میں نے یہ سیکھا کہ مغربی، سیکولر مضامین میں بھی اسلامی تعلیمات کو اس طرح شامل کیا جا سکتا ہے کہ وہ علم کو گہرا اور بامعنی بنائیں نہ کہ صرف کسی غیر متعلقہ آیت یا دعا سے آغاز و اختتام کر کے دکھاوے کی حد تک مذہب کو جوڑ دیا جائے۔یہی وہ تجربات ہیں جن کا نچوڑ میں نے اس مضمون میں پیش کیا ہے اُن تمام اساتذہ کے فائدے کے لیے جو اپنی تدریس کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں، جو چاہتے ہیں کہ ان کا پڑھایا ہوا علم ”علمِ نافع“ بنے، ایسا علم جو طلبہ کے دلوں میں مغرب کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی علمی روایت پر اعتماد اور فخر پیدا کرے۔

2- ہم دراصل کیا پڑھا رہے ہیں؟ چھپے ہوئے نصاب کی نقاب کشائی

جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ ہماری تدریس کا رشتہ وحی اور ایمان سے کٹ چکا ہے، تو اگلا سوال یہ بنتا ہے کہ: آخر ہم دراصل پڑھا کیا رہے ہیں؟

مغربی علوم اپنے آپ کو ایسی آفاقی حقیقتوں کے طور پر پیش کرتے ہیں جنہیں تمام ذی عقل لوگوں کو قبول کرنا چاہیے۔ مگر دراصل، ان علوم کے پیچھے ایک مخصوص طرزِ فکر ہے، جو مغرب میں دین کے انکار کے بعد اُبھرا تھا۔ اس بات کو پہچانے بغیر، ہم اسی طرزِ فکر کو اپنے طلبہ میں منتقل کر دیتے ہیں۔

مغربی علوم کے چھپے ہوئے پیغامات میں سے سب سے زیادہ اہم، مرکزی اور کلیدی حیثیت رکھنے والی چیز”علم“ کی تعریف ہے۔ گو کہ مغربی فلاسفہ نے اس پر بحث کی ہے، ہمارے بچے فلسفہ نہیں سیکھتے، جہاں اس فکر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے تعلیمی تجربے سے سیکھتے ہیں علم تو وہ ہے جو اُنہیں پڑھایا جاتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ بارہ، سولہ یا بیس سال تک انہیں صرف وہی علم سکھایا جاتا ہے جو اہلِ مغرب نے پچھلی چند صدیوں میں پیدا کیا۔ اسلامی علوم کا نام و نشان نہیں۔ ملازمتوں کے لیے بھی یہی علوم کارآمد ہیں۔ اور دنیا پر اہلِ مغرب ہی کا غلبہ ہے۔ یہ سب باتیں اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ آج کی دنیا میں صرف مغربی علوم ہی کارآمد ہیں۔ اسلامی علوم کا تعلق صرف آخرت کی کام یابی سے ہے دنیوی معاملات میں وہ ہماری کوئی رہ نمائی نہیں کرتے۔یہی وہ غیر محسوس پیغام ہے جسے ماہرینِ تعلیم ”چھپا ہوا نصاب” Curriculum Hidden“ کہتے ہیں۔

یہ ایک حیران کُن معمہ ہے۔قرآن کے پیغام نے صحرا نشین بدووٴں کو، دورِ جہالت کی پستیوں سے نکال کر، دنیا کا سردار بنا دیا تھا۔ کیا وہ آج ہمارے دنیوی مسائل کے بارے میں کوئی رہ نمائی نہیں کرتا؟جس طرح پریستان کی داستانوں میں، جن کی جان ایک طوطے میں بند ہوتی تھی، اسی طرح ہمارے عقدہ کی گِرہ بظاہر ایک غیر متعلق مضمون، یعنی یورپ کی تاریخِ قدیم میں چھپی ہوئی ہے۔ اس کی تفصیل تو ممکن نہیں، مگر ایک مختصر خاکہ پیش کرنا ضروری ہے۔

3- مغربی تاریخ کا مغربی فکر پر اثر

یورپ میں تقریباً ایک ہزار سال تک کلیسا کو مکمل اقتدار حاصل رہا۔ بادشاہ بھی پاپائے روم کی مرضی سے حکومت کرتے تھے۔ اس اقتدار کا انوکھا پہلو یہ تھا کہ کلیسا نے علم پر اجارہ داری قائم کر رکھی تھی اور تعلیم صرف کلیسا کے دائرے میں محدود تھی۔ لیکن گیارہویں صدی سے مسلمان دنیا کے مختلف علوم سائنس، طب، فلسفہ کے تراجم یورپ پہنچنے لگے۔ یہ علمی خزانہ یورپ کی تاریک صدیوں کے لیے روشنی کا پیغام تھا، مگر کلیسا کے لیے خطرہ۔ اس نے ان تراجم کی سخت مزاحمت کی، کیوں کہ یہ کلیسا کی علمی بالادستی اور گویا ان کے اقتدار کے لیے خطرہ تھے۔ بالآخر، اس کشمکش سے ایک نیا عیسائی فرقہ پیدا ہوا پروٹسٹنٹس، جنہوں نے کلیسا کی تاریخی روایات کو ٹھکرا دیا، تاکہ اس نئے علم کے لیے عیسائیت میں جگہ پیدا کی جا سکے۔

ان دونوں فرقوں میں زبردست خون ریز جنگیں ہوئیں، جنہوں نے صدیوں تک یورپ میں تباہ کاریاں پھیلائیں۔ ہر طبقہٴ زندگی امیر وغریب، عوام وحکم ران ان جھگڑوں کی لپیٹ میں آیا۔ ان طویل خانہ جنگیوں نے ایک فکری بحران کو جنم دیا، کچھ یورپی مفکرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جب علم کی بنیاد وحی یا مذہب پر رکھی جاتی ہے، تو ہر گروہ اپنی تعبیرِ دین کو ”واحد حق“ سمجھ کر دوسرے کو باطل قرار دیتا ہے اور یہی اختلافات جنگوں کی اصل جڑ ہیں۔ ان مفکرین کا خیال تھا کہ اگر ہم مذہب کو نجی دائرے تک محدود کر دیں اور اجتماعی زندگی کو ایسے علم کی بنیاد پر استوار کریں جو تمام انسانوں کے لیے یکساں قابلِ قبول ہو مشاہدہ، تجربہ اور عقل تو ہم مستقل اختلافات اور خون ریزی سے بچ سکتے ہیں۔

اسی خیال نے ایک نئے فکری دور کو جنم دیا، جسے ”عہدِ روشن خیالی“ (Enlightenment) کہا جاتا ہے۔ اس دور میں سچائی کا معیار وحی، ضمیر یا وجدان نہیں، بلکہ انسانی عقل اور تجربہ قرار پایا۔ صرف وہی چیز ”علم“ سمجھی گئی جسے ماپا، دیکھا اور تجربے سے دہرایا جا سکے۔ مذہبی یا روحانی علم کو ”ذاتی“ اور”ناقابلِ اعتبار“ کہہ کر اجتماعی علم کے دائرے سے خارج کر دیا گیا تاکہ معاشرے میں اتفاقِ رائے پیدا ہو اور ماضی جیسے مذہبی فسادات سے نجات ملے۔

دین کو اجتماعی زندگی سے نکالنے کا لازمی اثر یہ ہوا کہ دنیاوی مقاصد کی اہمیت بہت بڑھ گئی۔اس فکری انقلاب کا ایک اور اثر یہ تھا کہ علم کا مقصد بھی بدل گیا۔ پہلے علم کا مقصد انسان کی تربیت، تزکیہ اور آخرت کی تیاری تھا۔ اب اس کا ہدف دنیاوی طاقت، دولت اور آرام بن گیا۔ لادینی (سیکولر) سوچ نے بائبل کی آیت ”پیسہ تمام برائیوں کی جڑ ہے“ کو بدل کر ”پیسے کی کمی ہر برائی کی جڑ ہے“ اپنا موٴقف بنا لیا۔اس تبدیلی نے پوری تعلیمی اور علمی عمارت کو بدل کر رکھ دیا۔ معاشرے کا اجتماعی مقصد دولت اور طاقت کا حصول بن گیا۔ مفید علم بھی وہی کہلایا جو اس مقصد کے حصول میں مددگار ہو۔ سائنسی ترقی دنیاوی طاقت کے حصول کے لیے مقبول ہوئی۔ معاشرتی علوم بھی انفرادی اور اجتماعی سطح پر دولت اور طاقت کے حصول کے لیے بنائے گئے۔

یہی وہ فکری اساس ہے، جس پر آج کی جدید تعلیم قائم ہے اور جو اسلامی تصورِ علم سے براہ راست متصادم ہے۔اسی پس منظر کو سمجھنا اصلاح کا پہلا قدم ہے۔ جب تک ہم یہ نہ پہچانیں کہ مغربی تعلیم کے اندر کیسے سیکولر مفروضے خاموشی سے شامل ہو چکے ہیں، ہم اپنے دروس کو اسلامی اقدار سے ہم آہنگ کرنے کا راستہ تلاش نہیں کر سکتے۔

4- جدید علم کو اسلامی اقدار سے ہم آہنگ کرنا ایک فکری معرکہ

جب میں نے پہلی مرتبہ اسلامی معاشیات اور جدید معاشیات پر غور کیا تو دونوں مضامین کے درمیان بُعدُالمشرقین نظر آیا۔ پیچیدہ ریاضیات کی اُلجھنوں کے بارے میں اسلام کا کیا موٴقف ہو سکتا ہے؟ مگر اسلامی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ پتہ چلا کہ امت ایک بار پہلے بھی اسی علمی مرعوبیت کا شکار ہو چکی ہے اور اس علمی شکست کو فتح میں بدلنے کا راستہ ڈھونڈ چکی ہے۔

یونانی فلسفہ جب مسلم دنیا میں داخل ہوا تو اس نے صرف منطق اور طبیعیات ہی نہیں، بلکہ خدا کی صفات، تقدیر، وحی اور علم کی حقیقت جیسے بنیادی عقائد پر بھی مختلف قسم کے پیچیدہ نظریات پیش کیے۔ اسلامی تعلیمات کی سادگی اور یونانی فلسفے کی گہرائی و پیچیدگی دیکھ کر مسلمانوں کا ایک گروہ بہت متاثر ہوا۔ اس معتزلہ فرقے نے عقل کو وحی پر مقدم قرار دیا۔ یہاں عقل سے ان کی مراد یونانی فلسفہ تھی۔ مگر امت نے اس فتنہٴ اعتزال کا مقابلہ علم وبصیرت سے کیا۔ امام احمد بن حنبل کی استقامت، امام غزالی کی گہری تنقید اور صدیوں کی فکری محنت نے اس فلسفے کو تمام غیر اسلامی عناصر سے پاک کر دیا اور وہ حصے جو مفید تھے، انہیں اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کر لیا۔

یہی وہ طریقہ ہے جو ہمیں آج درکار ہے۔ اسلام علم کا دشمن نہیں، بلکہ اس کا رہ نما ہے۔ جب عقل و تجربہ وحی کے زیرِ سایہ رہیں تو دونوں مل کر ایک ایسا نظامِ علم پیدا کرتے ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کا ضامن ہے۔ یاد رہے کہ مسلمانوں نے صرف یونان ہی سے نہیں، بلکہ ایران، ہند، چین اور مصر سے بھی علم و فنون حاصل کیے طب، ریاضی، فلکیات اور انجینئرنگ اور انہیں اپنے اخلاقی و روحانی سانچے میں ڈھال کر علمِ نافع بنا دیا۔ جہاں کہیں عقیدہ متاثر نہیں ہوتا تھا، وہاں یہ علوم بغیر جھجھک اپنائے گئے۔ جہاں تضاد پیدا ہوا، وہاں تنقید اور تطہیر کے ذریعے ان کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا گیا۔

بدقسمتی سے، علمی محاذ پر یہ امت جس نے کبھی دنیا کی رہ نمائی کی، رفتہ رفتہ علم کے میدان میں پیچھے رہ گئی۔ اس کم زوری کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسویں صدی کے آغاز تک تقریباً نوّے فیصد مسلم دنیا استعمار کے تسلط میں آگئی۔ وقف کے ادارے جن سے تعلیم کو سہارا ملتا تھا، ختم کر دیے گئے اور ان کی جگہ ایسے نظامِ تعلیم نے لی جو مغربی اقدار اور افکار سے متاثر تھے۔ ان نظاموں کا مقصد نوجوانوں کے ذہنوں میں مغرب کے لیے عقیدت اور اپنی تہذیب کے لیے احساسِ کمتری پیدا کرنا تھا۔

اگرچہ زیادہ تر مسلم ممالک کو سیاسی آزادی حاصل ہوئے دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر فکری اور علمی آزادی اب بھی مفقود ہے۔ مغربی تعلیمی نظام اب بھی ہمارے اداروں میں گہرائی سے پیوست ہے اور نوجوانوں کے اذہان کو اسی زاویے سے تراش رہا ہے۔ لہٰذا آج کی اصل جدوجہد فکری آزادی کی ہے اور یہ جنگ ہماری درس گاہوں میں ہی لڑی جائے گی۔ اگر ہم اپنے طلبہ کو اسلام کے چشمہٴ ہدایت سے جوڑ دیں تو وہی درس گاہ اسلامی تہذیب کی تجدید کا نقطہٴ آغاز بن سکتی ہے۔

آج کے مسلمان معلم کا فرض صرف علم منتقل کرنا نہیں، بلکہ فکر ونظر کو بدلنا ہے تاکہ وہ اپنے طلبہ میں ایمان کے ساتھ غور و فکر اور دنیا کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ بیدار کر سکے۔ یہی تجدیدِ علم اور اصلاحِ امت کا راستہ ہے۔مگر یہ کام کیسے ہوگا؟اسلامی تعلیمات اور جدید معاشیات کے مسائل کے درمیان ایک ناقابلِ عبور خلیج نظر آتی ہے ۔

ان دونوں علوم کے درمیان تعلق مقصد پر غور کرنے سے پیدا کیا جا سکتا ہے۔جب ہم اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرتے ہیں اور علم کی افادیت کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے تناظر میں دیکھتے ہیں، تو ہمیں اسلامی علوم اور جدید علوم کو ایک ہی جگہ لا کر مقابلہ اور موازنہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

5- عصری علوم کے دو ممکنہ مقاصد

جدید سرمایہ دارانہ تعلیم کا مقصد انسان نہیں، بلکہ ”ہیومن ریسورس“ پیدا کرنا ہے ایسے پرزے جو پیداوار کی مشین میں استعمال کیے جا سکیں۔ اس نظامِ تعلیم کا نصب العین انسان کو مکمل شخصیت کے طور پر پروان چڑھانا نہیں، بلکہ اسے ملازمت کے قابل بنانا ہے۔ مغربی تعلیم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کی قیمت اس کی تنخواہ کے مطابق طے ہوتی ہے۔ اس دھوکے میں ہماری اصل قدر چھپ جاتی ہے وہ قدر جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی بہترین تخلیق قرار دے کر عطا کی۔

مسلمان اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہچانیں کہ ہمارے طلبہ نے یہ دنیاوی نظریہ، بغیر سوچے جذب کر لیا ہے۔ یہ نظریہ ان کی امنگوں، ان کے خودی کے احساس اور ان کے مقصدِ زندگی کو متعین کرتا ہے۔ ہمیں اس خاموش اثر کو نمایاں کرنا، اس پر گفتگو کرنا اور ایمان و مقصد پر مبنی ایک متبادل سوچ پیش کرنا ہوگی۔ ہر مضمون کے آغاز میں ایک فطری اور سادہ سوال پر غور کرنے سے دُور رس نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ ہم یہ مضمون کیوں پڑھ رہے ہیں؟

یہ سوال فوراً دو مختلف نقطہٴ نظر سامنے لاتا ہے ایک وہ جو تعلیم کو ڈگری، ملازمت اور تنخواہ کا زینہ سمجھتا ہے اور دوسرا وہ جو تعلیم کو انسانی کمال کی تلاش کا سفر قرار دیتا ہے۔ ایک دوسرے سے تعلیم کے مقصد کے بارے میں جوابات سُن کر طلبہ میں احساس پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کا مقصد محض دنیاوی کام یابی نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی و روحانی منزل کی تلاش ہے۔ اس سوال پر غور اور فکر کے بعدہم اپنے طلبہ سے پوچھ سکتے ہیں:

کیا تم ڈگری لے کر اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ پیسہ دینے والی ملازمت کے لیے فروخت کر دو گے؟یا ایسا انسان بننا چاہتے ہو جس کی قیمت ساری دنیا کے خزانے ادا نہیں کر سکتے؟

یہ سوالات طلبہ کی غیرت کو بیدار کر دیتے ہیں اور انہیں تعلیم کے اور زندگی کے مقاصد کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایک ذہنی کشمکش جو عموماً چھپی رہتی ہے، سامنے آ جاتی ہے: ہماری تعلیم کا مقصد صرف دنیوی کام یابی ہے یا اسے ہم آخرت کی کام یابی کا ذریعہ بھی بنا سکتے ہیں؟ہم اساتذہ کا مقصد تبلیغ نہیں، بلکہ غور و فکر کا دروازہ کھولنا ہے ایسا بیج بونا جو وقت کے ساتھ دلوں میں جڑ پکڑ لے۔

میرے تجربے میں مختلف درس گاہوں میں اس گفتگو کے مختلف اثرات ہوتے ہیں۔ جہاں طلبہ کے ذہن میں دنیوی کام یابی کی طلب راسخ ہو چکی ہے، وہاں وہ یہ پیغام سن کر گھبرا جاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے دل کی سن لی اور اعلیٰ مقاصد کو اپنا لیا تو کھائیں گے کیسے؟ اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ شیطان تمہیں غربت سے ڈراتا ہے۔ مگر طلبہ کی اکثریت اس پیغام کو سنجیدگی سے سنتی ہے۔ یہ پیغام کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری زندگی کی قیمت ساری انسانیت کے برابر لگائی ہے، ان کے دل کی گہرائیوں تک اُتر جاتا ہے۔ ان کے اندر ایک سوچ بیدار ہوتی ہے کہ واقعی ہم بِکری کا مال نہیں ہیں۔ وہ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ قیمتی کیسے بنا سکتے ہیں؟ اور ہم اپنے علم کو اس اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟

جب طلبہ کے اندر یہ سوچ پیدا ہوتی ہے، تو اب اُستاد کا کام بنتا ہے کہ اُن کی رہ نمائی کریں۔ اُنہیں وہ راستے دکھائیں جن کے ذریعے وہ کسی کے زر خرید ملازم کے بجائے اُمت کی اِحیا اور اسلامی علم کی تجدید کا ذریعہ بنیں۔

مگر اُستاد یہ کام کیسے کر سکتے ہیں جب کہ وہ خود اسی تعلیمی نظام کی پیداوار ہیں اور انہیں بھی تعلیم کا مقصد دنیا کمانا سکھایا گیا ہے؟ اس کے لیے کچھ نئے طریقوں سے محنت درکار ہے، جس کی تفصیل مضمون کے اگلے حصوں میں آئے گی۔

6- نیت کی تجدید تدریس کو عبادت بنانا

مسلمان اساتذہ کی حیثیت سے ہمارے سامنے ایک عظیم ہدف ہے، جدید علوم کو اس طرح پڑھائیں کہ ہماری تدریس عبادت بن جائے اور ہمارے قلم کی روشنائی شہیدوں کے خون کی طرح تولی جائے۔ اس تبدیلی کی بنیاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پر ہے:

إنما الأعمال بالنیات اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔

ہمارا تعلیمی نظام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تدریس محض ایک ملازمت ہے، مضمون پر عبور حاصل کرو، طلبہ کو سکھاوٴ اور اس کے بدلے تنخواہ لو۔ مگر نیت بدل جائے تو یہی عمل ایک مقدس عبادت بن جاتا ہے۔ اگر ہم یہ نیت کر لیں کہ ہم امت کے معمار تیار کر رہے ہیں اللہ کے بندوں کو علم و ایمان سے جوڑ کر ان کے دلوں میں خدمت اور مقصد کا شعور پیدا کر رہے ہیں تو یہی کلاس روم عبادت گاہ بن جاتا ہے۔

جب ہم کلاس میں داخل ہوں تو ہر طالب علم کو امام غزالی رحمہ اللہ، ابن الہیثم رحمہ اللہ، یا ابن رشد رحمہ اللہ جیسی چھپی ہوئی صلاحیتوں کا حامل دیکھیں۔جو استاد اپنے شاگرد میں عظمت دیکھتا ہے، وہی اس کے اندر عظمت جگا سکتا ہے۔ نیت کی یہ تبدیلی استاد کو محض معلومات پہنچانے والے سے کردار اور قابلیت سنوارنے والے مربی میں بدل دیتی ہے۔جب ہم اپنی نیتوں کو بدل لیں، تو اب ہم طلبہ کو بھی دعوت دے سکتے ہیں کہ وہ اپنی تعلیم کے مقصد پر دوبارہ غور کریں۔ انہیں سکھایا گیا ہے کہ تعلیم ڈگری، ڈگری نوکری اور نوکری راحت اور آسائش کی زندگی دیتی ہے۔ اگر انسانی زندگی انمول ہے، تو اسے دنیا کے مفاد کے عوض بیچ دینا خسارے کا سودا ہے۔ ہم طلبہ کے سامنے بلند عزائم رکھیں۔ انہیں حوصلہ دیں کہ علم حاصل کریں:

∗… تاکہ معاشرے میں عدل، رحمت اور اصلاح کے علم بردار بنیں۔

∗… تاکہ اللہ کی مخلوق کی خدمت کر کے اس کی محبت حاصل کریں۔

∗… تاکہ اپنی زندگی کو ایک اعلیٰ مقصد کے تابع بنا سکیں۔

یاد دلائیں کہ جو لوگ علم سیکھتے اور سکھاتے ہیں اللہ کی رضا کے لیے، ان کے لیے اجر بے پایاں ہے۔ جب علم کا مقصد خدمتِ خلق اور رضائے الٰہی ہو، تو دنیاوی علوم بھی عبادت بن جاتے ہیں۔

آخر میں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی حدیث ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ عمل کی حقیقت نیت سے بنتی ہے۔ بظاہر ہمارا کام عام اساتذہ جیسا ہے، مگر نیت بدلنے سے اس کی حقیقت بدل جاتی ہے۔ نیت ہی وہ راز ہے جو تدریس کو تجارت سے عبادت میں بدل دیتا ہے۔ جب ہم انسانیت کی خدمت کے لیے اللہ کے لیے پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، تو علم کی تلاش کا ہر قدم ہمیں جنت کی طرف لے جاتا ہے۔

7- علم اور عمل کا ربط: بامقصد تعلیم

جب ہم طلبہ کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ علم کو انسانیت کی خدمت کے لیے حاصل کریں، تو یہ ہماری ذمہ داری بن جاتی ہے کہ ہم انہیں ایسا علم فراہم کریں جس کے ذریعے وہ واقعی خدمت کر سکیں۔ لیکن جب ہم اپنی درسی کتابوں کا جائزہ لیتے ہیں، تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے: ہماری نصابی کتابیں عمل کی دنیا کے بارے میں تقریباً خاموش ہیں۔

اس خاموشی کی جڑ مغربی فکر کی تاریخ میں پوشیدہ ہے۔ سترہویں صدی کے مفکر دیکارٹ نے عقل اور جسم کو دو الگ دنیائیں قرار دیا ایک سوچنے والی مگر غیر مادی (Mind) اور دوسری مادی (Body)۔ عقل کو علم کا واحد ماخذ سمجھا گیا، جب کہ جسم، جذبات، ارادہ اور عمل کو غیر علمی دائرے میں دھکیل دیا گیا۔ اس تقسیم نے علم کو محض نظری سرگرمی بنا دیا ایک ایسی ذہنی مشق جو انسان کے کردار، احساس اور عمل سے بے تعلق ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کتابی علم کی دنیا تو پھیل گئی، مگر انسان کی اندرونی دنیا ویران ہو گئی۔

اسلام میں اس کے برعکس تصور ملتا ہے۔ قرآن ایمان اور عملِ صالح کو لازم وملزوم قرار دیتا ہے۔ وہ علم جس پر عمل نہ ہو، بروزِ قیامت بوجھ بن جائے گا۔ اسلام میں علم کا معیار اس کے اثرات ہیں اگر وہ کردار اور معاشرہ نہ بدلے، تو وہ علم ناقص ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے درس وتدریس میں علم کے عملی پہلو کو دوبارہ شامل کریں۔

مغربی نصاب میں نظریات کو جامد، کتابی حقائق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جب تک یہ نظریات کتاب کے صفحات تک محدود رہیں، اسلام ان سے براہِ راست متصادم نہیں ہوتا۔ مگر جیسے ہی ہم ان نظریات کو عملی دنیا میں لاتے ہیں جب ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ کس عمل کو کرنا چاہیے اور کس کو نہیں وہاں ہمیں اسلام کی رہ نمائی درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان علم کو سمت دیتا ہے۔ اگر یہ رہ نمائی موجود نہ ہو تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو جدید دنیا میں ہم دیکھ رہے ہیں، ایسے ذہین مگر بے ضمیر ماہرین جو ایٹم بم تیار کر لیتے ہیں، مگر اس کے ہزاروں معصوم متاثرین کے درد کو محسوس نہیں کرتے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے طلبہ کو عملی تجربات سے روشناس کرائیں۔ مثلاً اگر ہم غربت پر گفتگو کر رہے ہوں تو طلبہ کو کہیں کہ وہ قریبی کچی آبادی میں جائیں اور وہاں کے لوگوں سے خود بات کریں کہ وہ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جب علم کو زندگی سے جوڑ دیا جائے تو وہ محض نظریہ نہیں رہتا، بلکہ بصیرت میں بدل جاتا ہے۔

ایسا کرنے سے:
∗… طلبہ کے علم میں گہرائی پیدا ہو گی،
∗… ان کے اندر ہم دردی اور جستجو بیدار ہو گی،
∗… اور اسلامی طرزِ تعلیم مغربی طریقے سے ممتاز ہو جائے گا۔

اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ جب ہم اس علم کی تلاش کرتے ہیں جس پر عمل کیا جا سکے، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نصاب کی کتابوں کا بیشتر حصہ صرف امتحان کے سوالات کا جواب دیتا ہے، دین اور دنیا کے کسی مسئلے سے تعلق نہیں رکھتا۔ جب ہم ایسے مواد کو نکال دیتے ہیں تو نصاب میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے، جسے ہم زندہ، تجرباتی علم سے بھر سکتے ہیں ایسا علم جو ہماری زندگی کو سنوار سکتا ہے اور حُسنِ معاشرت کو نکھار سکتا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! مجھے نافع علم عطا فرما اور غیر نافع علم سے پناہ دے“۔ نافع علم وہ ہے جو انسان کو خدا کے قریب کرے اور مخلوق کے لیے فائدہ مند ہو۔ مغربی دنیا میں علم کی افادیت کا معیار دولت، طاقت، اور شہرت ہے؛ اسلام میں معیار نیت ہے کہ علم کس مقصد کے لیے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اگر نیت خدمت اور اصلاح کی ہو تو وہی علم عبادت بن جاتا ہے۔

یہ کام آسان نہیں۔ جب ہم کتابی علم کو عملی دنیا میں لانے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ حقیقی زندگی کی پیچیدگیاں نصابی نظریات سے کہیں زیادہ ہیں۔ مگر یہی وہ محنت ہے جس سے ہماری درس گاہوں میں پھر سے نورِ ہدایت لوٹ سکتا ہے وہ نور جو علم کو عبادت اور تعلیم کو تزکیہ میں بدل دیتا ہے۔

8- عصری علوم کو نافع بنانا

جب ہم کتابی علم سے آگے بڑھ کر عمل کے میدان میں قدم رکھیں گے تو ہم پر یہ راز کھلے گا کہ ہماری درس گاہوں سے اسلام کیوں غائب ہے۔ اسلام ہمیں مغربی لادینی نظریات کے بارے میں تو کچھ نہیں بتاتا، مگر ہمیں یہ ضرور سکھاتا ہے کہ عمل کے میدان میں کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

یہ تعلیمات، یعنی کردار سازی، اخلاقی تربیت، اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننا اور دوسروں کے حقوق ادا کرنا، دراصل مغربی تعلیم کا بھی مرکزی حصہ تھیں۔

بیسویں صدی کے ابتدائی حصے میں کردار سازی مغربی تعلیم سے کیسے نکلی، اس کی اہم تاریخ جولی روبن نے اپنی کتاب بعنوان ”Making of the Modern University: Intellectual Transformation and the Marginalization of Morality“ میں لکھی ہے۔

مغربی دنیا میں دینی جنگوں کے لا متناہی سلسلے کی وجہ سے دینی علوم کو اور دنیوی علوم کو الگ تو کر دیا گیا،مگر دونوں حصوں کو علم کی شاخیں مانا جاتا رہا۔ مگر پہلی جنگِ عظیم کے بعد لوجیکل پوزیٹوزم (Logical Positivism) کے نام سے ایک نیا فلسفہ اُبھرا۔ اس فلسفے کے مطابق علم صرف عقل اور مشاہدہ کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس فلسفے نے علم کو سائنس اور بیرونی دنیا کے علم تک محدود کر دیا اور انسان کی اندرونی دنیا کے علم کو خارج کر دیا۔ مغربی فلسفے نے علم کو اخلاق سے الگ کر دیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر انسانی عمل کسی نہ کسی قدر کا مظہر ہوتا ہے یعنی علم کبھی غیر جانب دار نہیں ہو سکتا۔ مغربی درس گاہوں نے اگرچہ کردار سازی کو نصاب سے نکال دیا، مگر اس کے ساتھ کردار سازی کا عمل ختم نہیں ہوا صرف اس کی سمت بدل گئی۔ تعلیم اب بھی انسان کو گڑھتی ہے، مگر ایمان، خدمت اور انصاف کے بجائے مفاد، مقابلہ اور خود غرضی کے سانچے میں۔ جب علم کی تعریف بدل گئی، تو مغربی درس گاہوں نے بھی اپنی تعلیم کو انہی سائنسی علوم تک محدود کر دیا اور اس کے نتیجے میں علم کا حُسنِ اخلاق سے تعلق کٹ گیا۔

اس وجہ سے مغربی تعلیم میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا اور اس کے نقصانات کئی مغربی مفکرین نے بھی محسوس کیے۔زِگمنٹ باوٴمن اپنی کتاب Modernity and the Holocaust میں لکھتے ہیں کہ کسی جنگل کے وحشیوں نے نہیں، بلکہ بہترین تعلیم یافتہ انجینئروں نے وہ چولہے (گیس چیمبرز) بنائے جن میں انسانوں کو ہڈی سمیت جلا کر راکھ بنایا جا سکا۔ ڈیوڈ ہالبراسٹم اپنی کتاب The Best and the Brightest میں لکھتے ہیں کہ امریکہ کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے تربیت یافتہ طلبہ نے ویتنام جنگ میں حساب لگایا کہ کتنے لوگوں کے قتل کی، اسلحہ اور افواج کے حساب سے، ڈالر میں کیا قیمت بنتی ہے مگر اس عمل کی اخلاقی قباحت پر کبھی غور نہیں کیا۔ امریکہ کی اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ درس گاہوں میں تا حال تجارتی اصول سکھایا جاتا ہے کہ تجارت میں اولین فرض منافع ہے۔ اگر نومولود بچوں کے لیے دودھ کا سفوف بیچنے سے ہزاروں بچوں کی اموات ہو جائیں، مگر منافع بڑھ جائے، تو ضرور بیچو۔

آج اسلامی تعلیمات ہمیں یہ موقع فراہم کرتی ہیں کہ ہم مغربی تعلیمی طریقوں میں پیدا ہونے والے اس عظیم خلا کو پُر کر سکیں۔ اس کے لیے پہلا قدم مغربی علوم کی غیر جانب داری کے دھوکے سے بچنا اور ان علوم کے پیچھے چھپی ہوئی انسانیت سے گِری ہوئی اقدار کو پہچاننا ہے۔ اسی پہچان کے بعد ہم طلبہ کو تمباکو بیچ کر اور مُہلک بیماریوں پھیلا کر نفع کمانے کی قباحت سکھا سکیں گے۔ جب بھی ہم کسی کتابی نظریے کو عملی میدان میں لائیں گے تو اس عمل کے اخلاقی پہلو میں رہ نمائی ہمیں اسلامی علوم میں ملے گی۔ اس طرح، ہم اسلامی علوم کو اپنی درس گاہوں میں دوبارہ لا سکیں گے۔

یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم کردار سازی کو دوبارہ اپنے تعلیمی نصاب کا مرکز بنا سکتے ہیں۔ اور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہی اخلاقی تربیت اور کردار سازی اسلامی تعلیمات کا مرکزی نکتہ ہے جس نے صحرا کے بدووٴں کو دنیا کے رہ نما بنا دیا تھا۔اسلامی تعلیمات کی یہ تاثیر تو نہیں بدلی، مگر آج ہماری آنکھیں مغربی علم کی چمک سے دھوکہ ضرور کھا گئی ہیں۔ ہمیں علامہ اقبال کے نقشِ قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہٴ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ ونجف

9- سائنس کی حدود اور درجہ

سائنسی معلومات ہماری زندگی کے ہر شعبے پر لمحہ بہ لمحہ اثر انداز ہیں۔ مگر مغربی اندازِ تدریسِ سائنس طلبہ کے ذہن میں ایک شدید مغالطہ پیدا کر دیتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کا واحد معتبر ذریعہ سائنس ہے۔یہ مفروضہ اُس دور کی پیداوار ہے جب یورپ نے دین کو برطرف کر کے علم کو نئی بنیادوں پر اُٹھایا۔ اُس وقت سے سائنس یعنی بیرونی دنیا کا وہ علم جو مشاہدے اور عقل پر مبنی ہے کو واحد معتبر ذریعہٴ علم قرار دیا گیا، جب کہ اندرونی دنیا کا علم جو ضمیر، وجدان اور روح سے تعلق رکھتا ہے کو دینی اختلافات کا سبب سمجھ کر ناقابلِ اعتبار ٹھہرا دیا گیا۔

یہ خاموش تصورات، جو سائنسی تعلیم کے ساتھ ازخود ذہنوں میں سرایت کر جاتے ہیں، اسلام کی بنیادی تعلیمات سے ٹکراتے ہیں ۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ”آنکھیں نہیں، بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں“ یعنی دل کی بصیرت کو آنکھوں پر فوقیت حاصل ہے۔ ظاہر ہے کہ وحی ہی سب سے معتبر علم ہے۔

اگر ہم طرزِ تعلیم میں اصلاح کریں تو سائنسی معلومات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی ان مضر اثرات کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں چار پہلووٴں پر کام کرنا ہوگا:

9.1- اہم ترین علم سائنس سے نہیں ملتا

ہمارے لیے سب سے بنیادی سوالات ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق ہیں ہم کیوں جیتے ہیں؟ ہمیں کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا؟ اور ہم ایک بہتر معاشرہ کیسے قائم کر سکتے ہیں؟ مگر سائنس ان سوالات پر خاموش ہے۔

سائنس کے بارے میں یہ غلط عقیدہ کہ صرف وہی علم معتبر ہے جو تجربے اور مشاہدے سے حاصل ہو، ہمارے طلبہ کے ذہنوں میں گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ اس عقیدے کے تحت غیب کا ہر علم ناقابلِ اعتبار سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اسے دیکھا یا آزمایا نہیں جا سکتا۔ چناں چہ چوں کہ موت کے بعد کی زندگی کا مشاہدہ ممکن نہیں، بہت سے لوگ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ آخرت کا وجود ہی نہیں۔

مسلم معلّم کے لیے طلبہ کو یہ سمجھانا بہت ضروری ہے کہ ہر علم کی طرح سائنس کی بھی حدود ہیں، جس کے باہر وہ مفید نہیں رہتا۔ جس طرح روحانی علوم ہمیں دولت کمانے کے طریقے نہیں سکھا سکتے اور جدید معیشت کے علوم ہمیں روحانی ترقی کا طریقہ نہیں سکھا سکتے، اسی طرح سائنس ہمیں بہتر زندگی گزارنے کے طریقے نہیں سکھا سکتی۔

اس کے برعکس، اسلامی علوم کا ایک مرکزی پیغام ہمیں بہترین زندگی گزارنے کا طریقہ اور ایک عادلانہ معاشرہ تعمیر کرنے کا راستہ سکھاتا ہے۔ موجودہ زمانے کی کئی کتابوں میں مغربی معاشرت کی بڑھتی ہوئی ناانصافیوں کا تذکرہ ملتا ہے: مُٹھی بھر انسانوں کے پاس پوری دنیا کی دولت اور طاقت کا بیشتر حصہ ہے اور یہ حصہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ سائنس ہمیں دنیاوی طاقت تو بہت دیتی ہے، مگر یہ طاقت ظلم کا آلہ بنے گی یا انصاف کا وسیلہ، یہ انسان کی اخلاقی تربیت پر منحصر ہے اور یہی تربیت آج کی تعلیم میں مفقود ہے۔
مغربی تعلیم کی یہ کم زوری ہمارے لیے ایک بہترین موقع ہے۔ اگر ہم کردار سازی کا عنصر اپنی درس گاہوں میں شامل کر کے دکھا سکیں، تو یہ طریقہٴ تعلیم ساری دنیا کے لیے مِشعلِ راہ بن سکتا ہے۔

9.2- سائنس حُسنِ تخلیق تو دکھلاتی ہے، مگر خالق کی بات نہیں کرتی

سائنس کا طریقہٴ تدریس اُس وقت گم راہ کن بن جاتا ہے جب وہ کائنات کے حُسنِ تخلیق کو تو دکھاتا ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں موجود نظمِ الٰہی پر خاموش رہتا ہے۔ہمارا مقصد طلبہ کو مذہبی مناظرے میں الجھانا نہیں، بلکہ انہیں سائنس کے دعووں اور اس کی خاموشیوں، دونوں پر غور کرنا سکھانا ہے۔ جدید سائنس کی بہت سی دریافتیں ایسی ہیں جو کائنات کے خالق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ چوں کہ خالق کی بات سائنس کی حدود سے باہر ہے، اس لیے بہت سے سائنس دان ان موضوعات پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس قسم کی تین مثالیں پیش ہیں۔ ہم انہیں طلبہ کے سامنے غور و فکر کی دعوت کے ساتھ رکھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کے وجود کے ثبوت کے طور پر نہیں، بلکہ تفکر کے مواقع کے طور پر۔ جب طالبِ علم خود سوچے گا، تو وہ زیادہ مضبوط ایمان کی طرف پہنچے گا۔

پہلی مثال: ہزاروں سال سے فلاسفہ کا اتفاق رہا کہ ہماری کائنات ازلی ہے یعنی ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ بیسویں صدی میں دُوربینوں میں نمایاں ترقی کے باعث ستاروں کی مواقع اور رفتار کی بہتر پیمائش ممکن ہوئی تو سورہٴ واقعہ کی آیت ”فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ“ کا ایک نیا مفہوم سامنے آیا۔سائنس دان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ستاروں کی حرکت گواہی دے رہی ہے کہ ساری کائنات ایک ہی نقطے سے شروع ہوئی ہے اور ایک ایسا وقت بھی تھا جب کائنات وجود میں نہیں تھی۔اس دریافت سے ایک فطری سوال جنم لیتا ہے: اس کائنات کو عدم سے وجود میں کس نے لایا؟سائنس اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے سکتی؛ اس معاملے میں صرف اسلامی تعلیمات ہی ہمیں رہ نمائی فراہم کرتی ہیں۔

دوسری مثال: ہماری کائنات میں حیرت انگیز توازن ہے۔ درجنوں قوانینِ قدرت ایسے ہیں کہ اگر اُن میں ذرّے برابر کا فرق آ جائے تو انسانی زندگی ناممکن ہو جائے۔ اس طرح یہ کائنات ایک انتہائی باکمال کاریگر کی طرف اشارہ کرتی ہے ”تَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ“۔

اس تخلیقی معجزے سے ایک فطری سوال اُٹھتا ہے: یہ سب کچھ خودبخود کیسے ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں سائنس دانوں نے رائے زنی تو کی ہے، مگر اس کا کوئی مدلّل جواب آج تک نہیں دے سکے۔

تیسری مثال:جب ہم خود اپنے وجود پر غور کرتے ہیں اپنی جسمانی ساخت، نفسیاتی پیچیدگی اور روحانی گہرائی پر تو یہ احساس ہوتا ہے کہ انسان خود ایک مکمل کائنات ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان وجود میں کیسے آیا؟ ڈارون کا نظریہٴ ارتقا (Theory of Evolution) یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انسان کم درجے کے جان داروں سے تدریجاً ترقی کر کے موجودہ شکل میں پہنچا۔ مگر آج خود بہت سے سائنس دان، حتیٰ کہ ملحد سائنس دان بھی، اس نظریے میں کئی سنگین سقم کی نشان دہی کر چکے ہیں۔

مثال کے طور پر، زندگی کی بنیادی اکائی یعنی خلیہ (Cell) جس سے ہر جان دار بنا ہے ناقابلِ تصور حد تک پیچیدہ ہے۔ اس کا تنظیمی ڈھانچہ نیویارک جیسے بڑے شہر سے بھی زیادہ منظم ہے اور اس کے اندر موجود معلومات دنیا کی سب سے بڑی لائبریریوں کی تمام کتابوں سے زیادہ ہیں۔

سائنس کے پاس آج تک اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ پہلا خلیہ جو ارتقائی عمل کے آغاز کے لیے ضروری تھا کیسے وجود میں آیا۔

یہ سوال، جو سادہ مگر گہرا ہے، خود ایک دعوتِ فکر ہے: جب زندگی کی پہلی چنگاری کسی سائنسی قانون کے بغیر بھڑکی، تو کیا یہ ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے کسی حکمت اور ارادے کا عمل دخل ہو؟ سائنس اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی، کیوں کہ یہ اس کے دائرے سے باہر ہے مگر عقلِ سلیم، وجدان اور وحی ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ سب کچھ کسی مدبّر و خالق کے ارادے کے بغیر ممکن نہیں۔

جدید سائنسی معلومات اس آیت کی تشریح کرتی ہیں اور ہمیں سائنسی مضامین کو اسلامی تعلیمات کے تناظر میں پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾․

9.3- سائنس کا علم، خیر اور شر، دونوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے

سائنس بذاتِ خود تحقیق کا ایک طریقہ ہے، لیکن جب اسے ضمیر اور مقصد سے الگ کر دیا جائے، تو یہی علم انسانیت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

وہی علم جو شفا دیتا ہے، تباہی بھی پھیلا سکتا ہے؛ وہی ٹیکنالوجی جو روشنی لاتی ہے، اندھیرا بھی پھیلا سکتی ہے۔مغربی دنیا سائنس کی کام یابیوں پر فخر کرتی ہے مگر کبھی یہ سوال نہیں اٹھاتی کہ ان کام یابیوں کی قیمت کیا تھی۔ ہم موبائل فون، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے کرشموں سے محظوظ ہیں، مگر تحقیق بتاتی ہے کہ انہی آلات نے انسان کی توجہ، تنہائی اور تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ہم پہلے سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں، مگر پہلے سے زیادہ تنہا اور منتشر بھی۔ گہری سوچ اور پائیدار رشتے جو انسانی خوشی اور دانش کے لیے ناگزیر ہیں دونوں متاثر ہو چکے ہیں۔

اسی طرح، جدید طب نے لاکھوں جانیں بچائیں، مگر وہی سائنسی ترقی دونوں عالمی جنگوں میں کروڑوں انسانوں کی ہلاکت کا سبب بھی بنی۔

ایٹم بم، کیمیائی ہتھیار اور صنعتی پیمانے پر قتل یہ سب سائنسی ترقی ہی کے ثمر تھے۔ پچھلی صدی انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ خون ریز صدی تھی لہٰذا سائنس کی تعریف کرتے وقت ہمیں اس کے اخلاقی توازن پر بھی غور کرنا چاہیے۔سوال یہ نہیں کہ سائنس برا ہے بلکہ یہ کہ جب علم کو اخلاق سے جدا کر دیا جائے، تو نفع بخش علم بھی مہلک بن جاتا ہے۔جب اخلاقی تعلیم ختم ہو گئی تو جدید تعلیمی اداروں نے ایسے ذہن پیدا کیے جو انسانوں کی اجتماعی ہلاکت کے لیے نت نئے ہتھیار ایجاد کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

مسلم استاد کا فریضہ یہ ہے کہ وہ ان سوالات کو سائنس کی تدریس میں دوبارہ زندہ کرے کہ یہ علم کس کے فائدے میں استعمال ہو رہا ہے؟کون اس سے نقصان اٹھا رہا ہے؟اور یہ طاقت ہمیں کس اخلاقی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتی ہے؟ جب ہم اخلاقی تربیت کو سائنسی تعلیم کے ساتھ جوڑ دیں گے تو یہ علم انسانیت کے لیے نفع بخش بن جائے گا۔

9.4- سائنسی علم ظنی ہے، حتمی نہیں

سائنس کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ یہ یقینی اور قطعی علم فراہم کرتی ہے یعنی جو کچھ سائنس کہتی ہے، وہ آخری اور کامل سچائی ہے۔ یہ تصور دراصل ایک تاریخی غلط فہمی کی پیداوار ہے۔ صدیوں کی مذہبی جنگوں کے نتیجے میں ایک طبقے نے دین کو ہٹا کر، سائنسی بنیادوں پر معاشرے کی تشکیل کرنا چاہی۔ سائنس اور دین کی اس کشمکش میں سائنس کو یقینی بنا کر پیش کیا گیا ۔ سائنس کی دین پر فتح کے بعد سائنس پر یہ اعتقاد راسخ ہو گیا۔

ابتدائی سائنسی کام یابیوں نے اس غلط فہمی کو اور مضبوط کیا۔نیوٹن کے قوانین نے کائنات کے مظاہر کو حیرت انگیز درستگی سے بیان کیا یہاں تک کہ یورپ میں یہ یقین عام ہو گیا کہ اب علمِ مطلق دریافت ہو چکا ہے اور انسان نے قدرت کے تمام راز پا لیے ہیں۔مگر بیسویں صدی کے آغاز میں آئن اسٹائن نے یہ بھرم توڑ دیا۔اس نے دکھایا کہ نیوٹن کے قوانین صرف ایک خاص حد تک درست ہیں وہ رفتارِ نور کے قریب یا ایٹمی سطح پر ناکام ہوجاتے ہیں۔

یوں جو علم ”یقینی“ سمجھا جاتا تھا، وہ محض تخمینہ نکلا۔اس کے بعد کوانٹم تھیوری نے آئن اسٹائن کے بھی تصورات چیلنج کر دیے۔یہ نظریہ اتنا عجیب اور خلافِ فطرت محسوس ہوا کہ خود آئن اسٹائن نے اپنی وفات تک اسے مکمل طور پر تسلیم نہ کیا۔یہی وہ تاریخی شواہد ہیں جو بتاتے ہیں کہ سائنس ہمیں حتمی اور یقینی علم فراہم نہیں کرتی۔ گو کہ عوام میں یہ بات مشہور نہیں، مگر مغربی فلسفہٴ علم میں اب اس پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے: سائنس اندازوں اور مفروضوں کا ایک مسلسل سفر ہے، جو ہر نئی دریافت کے ساتھ اپنی پرانی باتوں کو بدل دیتا ہے۔ اس کے باوجود موجودہ سائنسی تعلیم، سائنسی معلومات کو یقینی بنا کر پیش کرتی ہے۔

چناں چہ مسلم معلم کے لیے اصل کام یہ ہے کہ وہ سائنس کو اس کی صحیح جگہ پر رکھے، بطورِ ایک مفید مگر محدود علم،جو ہماری آنکھوں کو روشن تو کرتا ہے، مگر دل کے اندھیروں کو نہیں مٹا سکتا۔

9.5- اختتامی پیغام برائے استادِ سائنس

سائنس کے مسلمان معلم کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ طلبہ کے ذہنوں میں جمی اس خاموش عقیدت کو پہچانے کہ سائنس ہی سب سے اعلیٰ اور یقینی علم ہے۔ یہ یقین محض علمی مغالطہ نہیں، بلکہ تہذیبی تجربے کی پیداوار ہے۔طلبہ روزانہ اپنی آنکھوں سے سائنس کی قوت دیکھتے ہیں:

دوائیں جو جانیں بچاتی ہیں، مشینیں جو فاصلے مٹا دیتی ہیں اور ٹیکنالوجی جو زندگی کو آسان بناتی ہے۔ وہ مغربی اقوام کی سائنسی ترقی کو ان کی عالمی برتری کا راز سمجھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جب ہم سائنس کی حدود یا اس کے اخلاقی پہلو پر بات کرتے ہیں تو طلبہ فوراً دفاعی ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں تنقید نہیں، بلکہ توازن سکھانے کی ضرورت ہے۔

استاد کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ طلبہ کے سائنسی اشتیاق اور حیرت کو سراہے کیوں کہ یہی حیرت تفکر اور ایمان دونوں کی بنیاد ہے۔پھر بتدریج یہ نکتہ واضح کرے کہ سائنس کا دائرہ محدود ہے۔ وہ ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں، مگر یہ نہیں بتاتی کہ انہیں کیوں اور کس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔یہ سوالات صرف عقل نہیں، بلکہ ضمیر اور وحی سے جواب پاتے ہیں۔

اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو ایسی گفتگو میں شریک کریں جو ان کے تجربات سے جڑی ہو جیسے ماحولیاتی تباہی، سماجی تنہائی یا اخلاقی زوال اور انہیں دکھائیں کہ یہ مسائل سائنسی ترقی کے باوجود حل نہیں ہوسکے۔ جب طلبہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ علم کی روشنی کے باوجود انسانیت اندھیرے میں بھٹک رہی ہے، تو وہ فطری طور پر ان سوالات کی طرف لوٹتے ہیں جن کے جواب صرف ایمان فراہم کر سکتا ہے۔ اس طرز سے سائنس کی تعلیم طلبہ کو الحاد کے بجائے ایمان اور اخلاق کی طرف لے جا سکتی ہے۔

10- معاشرتی علوم کی تدریس کا اسلامی طریقہٴ کار

قدرتی علوم میں مسلمان اساتذہ کا اصل کام یہ ہے کہ وہ سائنسی علم کی حدود کو پہچانیں اور اسے اخلاق اور ایمان کے ساتھ دوبارہ جوڑیں۔

لیکن معاشرتی علوم کے معاملے میں صورتِ حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہاں خود علوم کی بنیادیں ایسی فرضیات پر قائم ہیں جو اسلامی تصورِ انسان، تصورِ علم اور تصورِ معاشرہ سے براہِ راست متصادم ہیں۔ ان مضامین کی ذمہ دارانہ تدریس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان معلم ان میں پوشیدہ فکری زاویے اور نظریہٴ حیات کو بے نقاب کریں اور طلبہ کی رہ نمائی کریں، تاکہ وہ ان نظریات کی قوت اور اخلاقی کم زوری، دونوں کو سمجھ سکیں۔

10.1- معاشرتی علوم کی ظاہری سائنسی حیثیت کا فریب

لفظ ”سائنس“ اپنے ساتھ یقین، قطعیت اور آفاقیت کا تاثر لاتا ہے۔ جب معاشرتی علوم کو ”سوشل سائنسز“ کہا گیا تو یہ مفہوم خود بخود پیدا ہوا کہ یہ بھی فطری علوم کی طرح ناقابلِ خطا، تجربے اور مشاہدے پر مبنی یقینی علم ہیں۔ درحقیقت یہ ایک فریب ہے ۔

اس فریب کو سمجھنے کے لیے اس کی تاریخی ابتدا سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔یورپ نے طویل عرصے تک انسانی معاشروں کا مطالعہ تاریخ، فلسفہ، اور اخلاق کی روشنی میں کیا تھا۔مگر دو عظیم جنگوں نے اس قدیم طریقہٴ فکر کی ساکھ کو تباہ کر دیا۔ان جنگوں نے یہ وہم توڑ دیا کہ عقلِ انسانی اور روشن خیالی (Enlightenment) پر مبنی معاشرتی نظام دنیا میں امن قائم کر سکے گا۔اسی دوران سائنسی ایجادات طیاروں، توپوں اور ایٹمی ہتھیاروں نے یورپ کو غیر معمولی مادی طاقت بھی دی اور ساتھ ہی ”سائنس“ کو بے پناہ عزّت بھی عطا کر دی۔چناں چہ معاشرتی علوم کے علما نے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کے لیے تاریخ اور اخلاق پر مبنی پرانے طریقے چھوڑ دیے اور فطری سائنسز کے اسلوب کو اپنانے کی کوشش کی۔ یوں مشاہدہ، پیمائش اور اعداد وشمار انسانی رویّوں پر مسلط کر دیے گئے۔

انسان اور معاشرے کو ریاضی کے قواعد کا پابند کرنے سے بے شمار نقصانات پیدا ہوئے ہیں۔ گو کہ مفکرین نے ان نقصانات کی نشان دہی کی ہے، مگر جمہور کی فکر بدلنا ایک مشکل کام ہے۔ مسلمان اساتذہ کے لیے یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ انسان آزاد ہے اور اُسے پیچیدہ ریاضیات اور شماریات کے قواعد کا پابند سمجھنا علم نہیں، بلکہ علم کا فریب ہے۔جب ہماری آنکھیں مغربی معاشرتی علوم کی چمک دمک سے دھوکا نہ کھائیں تو پھر ہی ہماری علمی میراث کی قیمت واضح ہوتی ہے۔ یہ میراث ہمیں بہترین انسان اور معاشرے کی تشکیل کے طریقے بتاتی ہے، جو مغربی تصورات کے دائرے سے باہر ہیں۔

مغربی معاشرتی علوم کے فریب کی ایک اور اہم وجہ ہے۔ یورپ نے اپنے آپ کو دنیا کی سب سے ترقی یافتہ تہذیب سمجھا اور یہ نظریہ پھیلایا کہ باقی اقوام بھی اسی کے نقشِ قدم پر چل کر ترقی حاصل کر سکتی ہیں۔ یوں مغرب کے اپنے تاریخی تجربات کو ”سائنس“ کا درجہ دے کر آفاقی سچائی کا لبادہ اوڑھا دیا گیا۔اس طرح ”سوشل سائنس“ دراصل یورپ کی تاریخ کا بیان بن گئی، جسے پوری انسانیت پر منطبق کر دیا گیا۔

اس سوچ کا سب سے بڑا اثر اسلامی دنیا پر پڑا۔ جب مسلمان مفکرین اور تعلیمی اداروں نے مغربی معاشرتی علوم کو بلا تنقید قبول کیا، تو ہم نے اپنے معاشروں کو انہی اداروں اور اصولوں کی طرز پر ڈھالنے کی کوشش کی۔ ہم نے یہ سمجھ لیا کہ مغربی طرزِ حکومت، معیشت اور تعلیم ہی انسانی ترقی کا معیار ہیں حالاں کہ یہ تمام ادارے ایک ایسے فکری پس منظر سے پیدا ہوئے جس میں خدا، وحی اور آخرت کے تصورات کو خارج کر دیا گیا تھا۔

10.2- معاشرتی علوم میں پوشیدہ اخلاقی اَقدار

انسانی معاشرے کا ہر مطالعہ دراصل ایک تصورِ مثالی معاشرہ پر مبنی ہوتا ہے یعنی یہ خیال کہ معاشرہ کیسا ہونا چاہیے اور موجودہ حالت اس مثالی معیار سے کس قدر دور ہے۔مگر جب انسانی معاشرے کے مطالعے کو ”سائنس“ کا نام دیا گیا تو اَقدار کو ظاہر کرنا ناممکن ہو گیا۔چناں چہ ”سائنس“ کے دعوے کے ساتھ اخلاقی اقدار کو چھپانا اور غیرجانب داری کا تاثر دینا ضروری سمجھا گیا۔یوں دو بڑے فریب وجود میں آئے ایک یہ کہ سماجی علم ”سائنسی“ ہے اور اس لیے قطعیت رکھتا ہے اور دوسرا یہ کہ مثالی معاشرہ دراصل مغربی تہذیب ہے، کیوں کہ وہ عقل و ترقی کی معراج سمجھی جاتی ہے۔

یہی وہ پوشیدہ مفروضہ ہے جس نے مغربی معاشرتی علوم کے اخلاقی ڈھانچے کو تشکیل دیا۔ جب عقل کو وحی پر اور انسان کو خالق پر برتری دی گئی، تو قدروں کا سرچشمہ خدا نہیں، بلکہ خود انسان قرار پایا۔ یوں خدا کو علم اور اخلاق دونوں سے خارج کر دیا گیا۔ جب خالق کا انکار ہو گیا تو انسان محض ایک جانور کی قسم رہ گیا،جو جبلّت اور مقابلے کے جذبے سے چلتا ہے۔ ایسی دنیا میں معاشرہ ایک جنگل بن جاتا ہے،جہاں واحد قانون ”طاقت ور کی بقا“ ہے۔

اسی نظریہٴ حیات کے تحت خودغرضی کو ”عقل مندی“ اور نفع پرستی کو ”ترقی“ قرار دیا گیا۔معیشت نے حرص کو ”self-interest“ کے نام سے نیکی بنا دیا،سیاست نے طاقت کے حصول کو ”حقیقت پسندی“ کا درجہ دیا اور عمرانیات نے مذہب اور اخلاق کو محض سماجی معاہدے social) (constructions قرار دے کر ان کی الوہی حقیقت سے انکار کر دیا۔

یوں ”سائنس“ کے نام پر ایک اخلاقی فلسفہ چھپ گیا ایسا فلسفہ جو یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی ایک مسلسل کشمکش ہے، کام یابی صرف طاقت وروں کا حق ہے اور اخلاقی اصول محض خوش فہمی ہیں، مسلم معلّم کے لیے یہ اخلاقی فرق واضح کرنا نہایت ضروری ہے، مگر یہ کام وعظ ونصیحت سے نہیں، بلکہ فکری مکالمے سے انجام پاتا ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے ساتھ ان نظریات کے پسِ منظر پر غور کرے کہ یہ خیالات کہاں سے آئے، کن تاریخی تجربات سے پیدا ہوئے اور کن اخلاقی نتائج تک پہنچاتے ہیں۔ جب یہ بحث علم کے دائرے میں رہے اور الزام کے بجائے تفکر پر مبنی ہو، تو طلبہ خود محسوس کرتے ہیں کہ ”سائنس“ کے نام پر پیش کیا جانے والا علم دراصل ایک پوشیدہ اخلاقی فلسفہ ہے۔تب وہ اسے ایک اعلیٰ الٰہی معیار کی روشنی میں پرکھنا سیکھ جاتے ہیں اور کلاس روم میں تفکر ایمان کا دروازہ کھل جاتا ہے۔

10.3- معاشرتی علوم کی اسلامی بنیادوں کی بازیافت

گزشتہ نصف صدی میں کئی مسلم اہلِ علم نے مغربی فکر کے اِن پوشیدہ اخلاقی اور فلسفیانہ تعصبات کو پہچان لیا۔اِس کے جواب میں اُنہوں نے ایک فکری تحریک شروع کی ” اسلامائزیشن آف نالج“ (اسلامی تشکیلِ علم) جس کا مقصد جدید علوم کو اسلامی بنیادوں پر ازسرِنو تعمیر کرنا تھا۔

یہ تحریک 1970 کی دہائی میں اُبھری اور آج مختلف علوم میں ایک وافر علمی سرمایہ فراہم کر چکی ہے، جو معلمین کے لیے قیمتی رہ نمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اِس جدوجہد کی سب سے اہم کام یابیوں میں سے ایک ”اسلامی نفسیات“ Psychology) (Islamic کا ظہور ہے، جو انسان کو ایک چار بُعدی (four-dimensional) وجود کے طور پر بیان کرتی ہے نفس، قلب، عقل اور روح۔ یہ جامع تصور اُس روحانی اور اخلاقی پہلو کو بحال کرتا ہے جسے مغربی نفسیات نے نظرانداز کر دیا تھا۔اب انسان کے رویّے کو صرف حیاتیاتی یا ماحولیاتی عوامل سے نہیں، بلکہ اخلاقی انتخاب اور تزکیہٴ نفس کے زاویے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔جب انسان کے اِس ہمہ جہت تصور کو مرکزِ علم بنایا جائے تو تمام معاشرتی علوم کی ازسرِنو تشکیل کا راستہ کھل جاتا ہے:

∗… اسلامی معیشت: انصاف، اعتدال اور رحمت پر مبنی خوش حالی کا نیا تصور پیش کرتی ہے اور استحصال و حرص کو ردّ کرتی ہے۔

∗… اسلامی عمرانیات: معاشرے کو باہمی ذمہ داریوں کے جال کے طور پر دیکھتی ہے، نہ کہ طبقاتی کشمکش کے میدان کے طور پر۔

∗… اسلامی سیاسی فکر: اقتدار کو امانت اور حکومت کو اخلاقی فریضہ سمجھتی ہے۔
اگرچہ مغربی علوم کی اسلامی تشکیل میں ترقی ہر شعبے میں یکساں رفتار سے نہیں ہوئی، مگر سمت واضح ہے۔اِس کوشش کا مقصد مغربی علم کو ردّ کرنا نہیں بلکہ اُس کی سمت درست کرنا ہے یعنی علمِ معاشرت کو اس کی اخلاقی اور روحانی جڑوں سے دوبارہ جوڑنا۔ جو مسلم معلم اِس روایت سے فیض اٹھاتے ہیں، وہ طلبہ کو یہ دکھا سکتے ہیں کہ ایک بامقصد، ہم آہنگ اور الٰہی بنیادوں پر استوار متبادل علمی نظام پہلے ہی وجود میں آ چکا ہے ایسا نظام جو وحی، عقلِ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری پر قائم ہے۔

10.4- مسلم معلم کے تین کام

زیادہ تر جامعات میں اساتذہ کو اپنے مضمون کا نصاب ازخود بدلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ امتحانات، نصابی تقاضے اور ادارہ جاتی حدود تبدیلی کے امکانات کو محدود کر دیتے ہیں۔ لیکن انہی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی مسلمان معلم اپنے تدریسی انداز میں انقلاب لا سکتا ہے مگر اس کے لیے تین طریقوں پر محنت درکار ہے:

اوّل: بیرونی تجزیہ

بہت سی وجوہات کی بنا پر مغربی علوم چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں پڑھانا ضروری ہے۔ اس وقت دنیا کو انہی تصورات کے تناظر میں دیکھا اور سمجھا جاتا ہے، اس لیے طلبہ کے لیے یہ سیکھنا لازم ہے کہ دنیا کے مسائل کس زبان اور فکری انداز میں بیان کیے جا رہے ہیں۔ مگر ان مغربی نظریات کو پڑھاتے وقت عقیدت کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک بیرونی تجزیے کے طور پر پیش کیا جائے۔ یہ اہلِ مغرب کے نظریات ہیں، جو اُن کی مخصوص تاریخی تجربات کی بنیاد پر پیدا ہوئے ہیں۔

دوم: تنقیدی جائزہ

طلبہ کو تنقیدی غور و فکر کی راہ دکھائیں۔ہر نظریہ دراصل انسان کی فطرت اور اخلاقی مقصد کے بارے میں کچھ پوشیدہ مفروضے رکھتا ہے۔ خوش قسمتی سے اب تقریباً ہر علم میں خود مغرب کے اندر ایسے مفکر موجود ہیں جنہوں نے مرکزی نظریات کی کم زوریاں اور تضادات بے نقاب کر دیے ہیں۔ یہ مغربی تنقیدات مسلمان اساتذہ کے لیے مددگار ہیں، کیوں کہ وہ یہ دکھاتی ہیں کہ ”سائنسی قطعیت“ پر شک اب خود مغربی علمی روایت کے اندر پیدا ہو چکا ہے۔

سوم: اسلامی متبادل

اسلامی نقطہٴ نظر اور ممکنہ متبادل پیش کریں۔جہاں اسلامی فکری سانچے پہلے سے موجود ہیں مثلاً اسلامی معیشت یا اسلامی نفسیات میں انہیں براہِ راست شامل کیا جا سکتا ہے۔جہاں ابھی مکمل اسلامی متبادل نہیں بنا، وہاں معلم وحی، عقلِ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری سے نکلنے والے سوالات اُٹھا سکتا ہے ایسے سوالات جو طلبہ کو دائرہٴ مادّیت سے آگے سوچنے پر آمادہ کریں۔

یہ بظاہر ایک معمولی تبدیلی ہے مگر اس کا اثر بہت گہرا ہے۔ جب نظریات کو عقیدت سے نہیں، بلکہ تفکر سے پڑھایا جائے، جب طلبہ کو یاد کرنے کے بجائے سوال کرنے کی ترغیب دی جائے، تو تعلیم خود تجدیدِ فکر کا عمل بن جاتی ہے۔ یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آئے گی۔ مگر جو بھی استاد شعور، انکسار اور ایمان کے ساتھ معاشرتی علوم پڑھاتا ہے، وہ اسلامی فکری روایت کی دوبارہ تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

یوں ہماری درس گاہیں ایک بار پھر وہ مقامات بن سکتی ہیں جہاں علم، ایمان اور اخلاقی ذمہ داری ایک دوسرے سے جا ملتے ہیں اور جہاں اسلامی معاشرتی علوم کی حقیقی تعمیر کا سفر شروع ہوتا ہے۔

11- طالبِ علم بطورِ خلیفہ تعلیم کا مقصدِ تجدید

ہر نظامِ تعلیم بالآخر ایک سوال کا جواب دیتا ہے: ہم کس قسم کا انسان پیدا کرنا چاہتے ہیں؟

جدید مغربی تعلیم ذہین دماغ تو تیار کرتی ہے مگر زندہ دل نہیں۔ یہ کام یابی کو دولت، عہدے اور شہرت سے ناپتی ہے، دانش اور رحمت سے نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان دنیا پر قابو پانے کے قابل تو ہو جاتا ہے، مگر اپنے نفس پر قابو نہیں پاتا۔

اسلامی تعلیم کا ہدف اس سے بلند تر ہے وہ خلفاء اللہ تیار کرنا چاہتی ہے، ایسے انسان جو اپنے خالق کو پہچانیں، مخلوق کے لیے جواب دہی کا احساس رکھیں اور اپنی زندگی کو اخلاقی مقصد کے ساتھ بسر کریں۔ اسلامی تصورِ علم میں علم اللہ کی طرف سے دیا جانے والا ایک بیش قیمت خزانہ ہے، جو ہمیں مشاہدات کے پردے میں چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی الٰہی علم تھا جو ایک کتاب اور ایک معلم کے ذریعے نازل ہوا جس نے ایک ان پڑھ قوم کو دنیا کی قیادت تک پہنچا دیا۔ اسی علم میں آج بھی انسانیت کی تجدید کی قوت پوشیدہ ہے۔ مگر ہم مغربی علوم کی برتری کے فریب میں آکر اسی وحی کو چھوڑ بیٹھے ہیں جو ہماری اصل طاقت تھی۔ تجدید کا پہلا قدم یہ یقین پیدا کرنا ہے کہ حقیقی علم وہی ہے جو خدائی ہدایت سے جڑا ہو اور جو انسان کو اخلاق، انصاف اور بندگی کی راہ دکھائے۔

قرآن اعلان کرتا ہے کہ انسان کو اَحسنِ تقویم میں پیدا کیا گیا ہے۔اللہ کی نظر میں ہر جان پوری انسانیت کے برابر قدر رکھتی ہے۔ جب اس صلاحیت کو ایمان اور فہم کے ذریعے پروان چڑھایا جائے، تو یہی انسان سب سے بڑی سماجی تبدیلی کا محرک بن جاتا ہے۔ اسی لیے درس گاہ محض روزگار کی تیاری کا مقام نہیں، بلکہ روحوں کی تربیت کا باغ ہے جہاں عقل اور ضمیر اکٹھے پروان چڑھتے ہیں۔

چاہے ہم اسلامی جامعات میں پڑھائیں یا سیکولر اداروں میں، مسلمانوں کو سکھائیں یا غیرمسلموں کو ہمارا مقصد یہی ہے کہ طلبہ کے دلوں میں زندگی کے مقصد پر غور و فکر کی خواہش جاگ اٹھے۔ اہلِ مغرب نے دین اور دنیا کو الگ کر دیا، جب کہ اسلام ہمیں دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس مضمون میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ اسلامی تعلیمات کو موجودہ زمانے کے مغربی علوم کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہم اسلام کو اپنی درس گاہوں میں واپس لا کر اپنی وہ ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں جو معلمین پر پیغمبروں کی وراثت کی وجہ سے عائد ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائیں کہ ہم اس ذمہ داری کو بہترین طریقے سے ادا کر کے اپنی درس گاہوں کو علم کے نور کے پھیلنے کا ذریعہ بنا سکیں۔ آمین۔

عصر حاضر سے متعلق