فن سِیَر ومَغازی – ایک تعارف

idara letterhead universal2c

فن سِیَر ومَغازی – ایک تعارف

مولانا قاضی اطہر صاحب مبارکپوری

 
سیر ومغازی کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم
 
سیر کے لغوی معنی چال چلن، طور طریقہ اور روش کے ہیں، یہ لفظ صاحبِ سیرت کے پورے احوالِ زندگی پر بولا جاتا ہے اور محدّثین وموٴرخین نے کتاب السیرة کے نام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات جمع کیے ہیں، جن میں مغازی کا تذکرہ بھی ہوتا ہے، البتہ فقہاء کے نزدیک سیرت کا یہ وسیع مفہوم نہیں ہے، بلکہ جہاد اور غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفّار ومشرکین کے ساتھ جو معاملہ فرمایا ہے وہ اس کو سیرت سے تعبیر کرتے ہیں، جس کی جمع سِیَرہے، حافظ ابن حجر نے لکھا ہے:
 
والسیر جمع سیرة، واطلق ذلک علی ابواب الجھاد، لأنھا متلقاة من احوال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی غزواتہ․ (فتح الباری، کتاب الجھاد والسیر، ج 6، ص 3، سلفیہ قاھرہ)․
 
سِیَر لفظ سیرت بمعنی طور طریقہ کی جمع ہے اور اس کا اطلاق جہاد کے ابواب پر ہوتا ہے، کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان حالات سے ماخوذ ہوتے ہیں جو غزوات میں پیش آئے۔
 
امام ابن الہمام نے اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
السیر جمع السیرة، وھی الطریقة فی الامور، وفی الشرع تختص بسِیَر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی مغازیہ، ولکن غلب فی لسان اھل الشرع علی الطرائق المامور بھا فی غزوة الکفار․ (فتح القدیر، ج 4، ص 277)
 
سِیَر لفظ سیرت بمعنی طور طریقہ کی جمع ہے اور اس کا اطلاق شریعت میں مغازی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کے ساتھ خاص ہے، مگر علمائے شریعت کے نزدیک اس کا اطلاق عام طور سے ان طریقوں پر ہوتا ہے جن کا حکم کفار سے جنگ میں دیا گیا ہے۔
 
محدثین کتاب المغازی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات وسرایا اور کتاب الجہاد والسیر میں ان کے طور طریقے اور کفار کے ساتھ معاملات کو بیان کرتے ہیں اور فقہاء کتاب السیر میں غزوات وجہاد کے فضائل ومسائل، احکام وقوانین اور اس سلسلہ کی جزئیات فقہی انداز میں لکھتے ہیں اور اہل اخبار وتواریخ کتاب السیرة میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عام حالات درج کرتے ہیں، جن میں سیر ومغازی بھی شامل ہوتے ہیں، سیرت ابن اسحاق اور سیرت ابن ہشام وغیرہ کا یہی انداز ہے۔
 
لفظ سیرت اس وسیع معنی میں قدیم زمانہ سے مستعمل ہے اور اس نام سے دوسروں کے حالات میں کتابیں لکھی گئی ہیں، عوانہ بن حکم کلبی متوفی 147ئھ نے کتاب سیرة معاویہ وبنی امیہ، ابراہیم بن محمد فزاری متوفی 188ئھ نے کتاب السیر فی الاخبار والاحداث اور واقدی متوفی 207 ئھ نے کتاب السیرة اور کتاب سیرة ابی بکر ووفاتہ لکھی۔ (الفھرست لابن ندیم ص 134 وص 135 ص144)
 
غزو، غزوہ اور مغزیٰ (جمع مغازی) کے لغوی معنی قصد، ارادہ اور طلب کے ہیں اور شرعی معنی کفار سے قتال ہے۔ ابن حجر نے اس کی تشریح یوں کی ہے:
 
واصل الغزو القصد، ومغزی الکلام مقصدہ، والمراد بالمغازی ھنا ما وقع من قصد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم الکفار بنفسہ او بجیش من قبلہ․ وقصدھم اعم من ان یکون الی بلادھم او الی الاماکن التی حلوھا، حتی دخل مثل احد والخندق․ (فتح الباری، کتاب المغازی، ص 279، ج 7، سلفیہ قاھرہ)
 
غزو کا لغوی معنی قصد وارادہ ہے اور یہاں مغازی سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہ نفس نفیس یا اپنے لشکر کے ذریعہ کفار کا قصد وارادہ کرنا ہے، یہ قصد کفار کے شہروں کا ہو یا ان مقامات کا ہو جہاں وہ اترے ہوں، تاکہ اس میں غزوہٴ احد اور غزوہٴ خندق وغیرہ شامل ہوں۔
 
بعد میں مغازی کے معنی میں وسعت پیدا ہوگئی اور سیرت کی کتابوں کا نام کتاب المغازی پڑ گیا، چناں چہ مغازی عروہ بن زبیر، مغازی ابان بن عثمان، مغازی محمد بن شہاب زہری، مغازی ابن اسحاق، مغازی موسیٰ بن عقبہ اور مغازی واقدی وغیرہ سیرت کی کتابیں ہیں اور ان میں مغازی کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔
 
محدثین وموٴرخین کتاب المغازی میں اپنے اپنے معیار روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات وسرایا بیان کرتے ہیں اور فقہاء ان سے جہاد وقتال کے مسائل استخراج کرتے ہیں۔
 
محدثین وموٴرخین عام طور سے اپنی کتاب کا نام المغازی یا مغازی الرسول مغزی کی جمع کے ساتھ رکھتے ہیں، اسی طرح فقہاء اپنی کتاب کا نام کتاب السیر سیرت کی جمع کے ساتھ رکھتے ہیں۔
 
علم حدیث اور سیر ومغازی
 
علم السیر والمغازی علم حدیث ہی کا ایک اہم حصہ ہے، کیوں کہ اس میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اقوال وافعال اور مقررات سے بحث ہوتی ہے جن کا تعلق غزوات وسرایا سے ہے، امام ابو عبد اللہ حاکم نے معرفة علوم الحدیث میں ذکر النوع الثامن کے ذیل میں لکھا ہے:
 
ھذا النوع من ھذہ العلوم معرفة مغازی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وسرایاہ وبعوثہ، وکتبہ الی ملوک المشرکین، وما یصح من ذلک وما یشذ، وما ابلی کل واحد من الصحابة فی تلک الحروب بین یدیہ، ومن ثبت ومن ھرب ومن جبن عن القتال، ومن کرّ، وتدیّن بنصرتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ومن نافق، وکیف قسم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الغنائم، ومن زاد ومن نقص وکیف جعل سلب القتیل بین الاثنین والثلاثة، وکیف اقام الحدود فی الغلول، وھذا النوع من العلوم التی لا یستغنی عنھا عالمٌ․ (معرفة علوم الحدیث)
 
علوم حدیث کی اقسام میں سے آٹھویں قسم ان امور کی معرفت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مغازی وسرایا وبعثات اور مشرک بادشاہوں کے نام آپ کے خطوط میں کیا صحیح ہے کیا صحیح نہیں ہے اور ان غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ میں سے ہر ایک نے کیا کارنامہ انجام دیا، کون ثابت قدم رہا، کس نے راہ فرار اختیار کی اور کس نے دین پر عمل کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کی اور کون منافق تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموالِ غنیمت کو کیسے تقسیم فرمایا، کس کو زیادہ دیا، کس کو کم دیا اور دو تین مجاہدین میں ایک مقتول کے سلب کے بارے میں کیا کیا اور غلول میں حد کیسے جاری کی۔ علوم حدیث کی یہ قسم اس قدر اہم ہے کہ کوئی عالم اس سے مستغنی نہیں ہوسکتا ہے۔
 
خطیب بغدادی نے بھی سیر ومغازی رسول کو علم حدیث میں شامل کیا ہے اور شرف اصحاب الحدیث میں لکھا ہے کہ حدیث میں انبیاء کے واقعات، زہاد اور اولیاء کے احوال، بلغاء کے مواعظ، فقہاء کے کلام، عرب وعجم کے بادشاہوں کی سیرتیں، اممِ ماضیہ کے قصے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مغازی وسرایا کی تفصیلات ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام وقضایا، خطبے، مواعظ، معجزات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، اولاد واصحاب اور ان کے فضائل ومناقب، انساب واعمار کا ذکر ہوتا ہے۔ (شرف اصحاب الحدیث ص 8 ترکی)
 
اصحابُ الحدیث، اصحاب الفقہ اور اصحاب المغازی
 
جب پہلی صدی کے خاتمہ اور دوسری صدی کی ابتدا میں احادیث کی تدوین وتالیف کے ساتھ ان کی تبویب وترتیب شروع ہوئی اور احکام کے استخراج واستنباط کی باری آئی تو محدثین میں مختلف انداز پر کام ہونے لگا، ایک جماعت نے روایت ودرایت کے اصول پر احادیث وآثار کو جمع کیا ، یہ اصحاب الحدیث اور محدثین کہلائے، ایک طبقہ نے ان احادیث وآثار سے تفقہ وافتاء کے اصول پر احکام ومسائل اور فتاویٰ مرتب کیے، یہ اصحاب الفقہ والفتویٰ اور فقہاء کے لقب سے یاد کیے گئے اور ایک گروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کے مغازی وسرایا کو مدوّن کیا، یہ اخباری، مورخ، اصحاب السیر والمغازی کہلائے اور سب نے اپنے اپنے حلقہ میں اپنے کاموں کو آگے بڑھایا، اصحاب الحدیث اور اصحاب السیر والمغازی میں بعض باتوں میں فرق ہے، مولانا ابو البرکات عبدالروٴف دانا پوری نے ”اصح السیر“ کے مقدمہ میں اس فرق کو نہایت اچھے انداز میں تفصیل سے بیان کیا ہے، ہم اس کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:
 
اصحاب الحدیث اور اصحاب المغازی کا فرق
 
اصحاب حدیث تین امور کو جمع کرتے ہیں (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا (2) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا (3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کیا کیا گیا؟ اصحاب سیرت بھی ان ہی تین امور کو جمع کرتے ہیں، اس لیے اصل کام دونوں کا ایک ہے، اس کے باوجود دونوں میں فرق ہے، اصحاب حدیث کا مقصود بالذات احکام کو جاننا ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ان کی بحث ضمناً یا التزامًا ہوتی ہے اور اصحاب سیر کا مقصود بالذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جاننا ہے ، احکام کی بحث ضمنًا ہوتی ہے ، اس لیے محدثین کی تمام تر قوت اس بحث میں صرف ہوتی ہے کہ اس قول یا فعل کا انتساب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف صحیح ہے یا نہیں ؟ اور اصحاب سیرت کو اسی کے ساتھ دو باتیں اور معلوم کرنی پڑتی ہیں، ایک یہ کہ آپ نے کب ایسا کہا یا کب کیا ۔
 
دوسرے یہ کہ ایسا کہنے یا ایسا کرنے کی وجہ کیا تھی؟ یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو مسلسل اور مربوط بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے اسباب و علل کو بھی جاننا چاہتے ہیں۔
 
اس فرق کی وجہ سے اصحاب سیرت اور اصحاب حدیث کی دو جماعتیں الگ الگ بن گئیں اور معیار تحقیق دونوں کا جدا جدا ہوگیا، محدثین رُواة کی ثقاہت، تقویٰ اور دیانت کی کمی زیادتی پر مقبول راویوں کی روایتوں میں اختلاف کے وقت ترجیح دیتے ہیں، اصحاب حدیث ہوں یا اصحاب سیرت، دونوں ایسے راویوں کی روایت کو قبول نہیں کرتے جو جھوٹے ہوں یا جن پر جرح شدید ہوئی ہو۔
 
اصحاب سیر اور اصحاب حدیث دو جماعت نہیں ہیں، بلکہ جتنے اصحاب سیر ہیں وہ اصحاب حدیث بھی ہیں، اسی طرح جو اصحابِ حدیث ہیں وہ اصحاب سیر بھی ہیں، مگر جب سیرت پر واقعات جمع کرنے پڑتے ہیں اور سیرت کے مقاصد پورے کرنے پڑتے ہیں تو تحدیث وروایت کی شرائط اور وجہ ترجیح میں مناسب تبدیلی کرنی پڑتی ہے ، مغازی کے واقعات دونوں لکھتے ہیں، مگر دونوں کے لکھنے میں فرق ہوتا ہے، مثلاً فتح مکہ کے متعلق محدثین اتنا لکھتے ہیں کہ قریش نے حدیبیہ کے معاہدہ کو توڑا اور بنی خزاعہ پر ظلم کیا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حملہ کیا اور مکہ فتح ہوا، لیکن اصحاب سیرت یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ معاہدہ کتنا اہم تھا، بنی بکر اور بنی خزاعہ کی جنگ چل رہی تھی، اس معاہدے کی وجہ سے یہ جنگ رگ گئی تھی، قریش نے عہد توڑ کر پھر اس جنگ کو مشتعل کر دیا تھا۔
 
الغرض محدثین کے یہاں جو صحیح روایتیں ہیں اصحاب سیرت کو ان کی ترجیح میں کلام نہیں ہے، لیکن ان کو اپنی ضروریات کے لیے اور روایتیں بھی لینی پڑتی ہیں، جن کے لیے وہ اپنا معیار الگ قائم کرتے ہیں، بلاشبہ جس طرح حدیث کی کتابوں میں شدید احتیاط کے باوجود بہت سی غلط اور موضوع روایتیں داخل ہوگئی ہیں، سیرت میں بھی اسی طرح بہت سی موضوعات ہیں، اگر ان کو خارج کر دیا جائے تو دنیا کی کسی قوم کی کوئی تاریخ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے، اس لیے کہ اور کہیں نہ سند ہے اور نہ موضوعات کو جدا کیا جا سکتا ہے۔ (مقدمہ اصح السیر ص 24، 25، 26، خلاصہ)
 
اصحاب المغازی کا روایتی معیار
 
صحابہ کرم رضی اللہ عنہم کے بعد تابعین یعنی صحابہ کے تلامذہ کا دور ہے، جنہوں نے احادیث وآثار اور سیر ومغازی کے واقعات اپنے خاندانی بزرگوں اور استادوں سے روایت کیے، ان میں انصار ومہاجرین کی اولاد میں نسبتہً علم زیادہ رہا، ان کے بعد تبع تابعین کا زمانہ آیا، جنہوں نے صحابہ اور تابعین کے علم کو آگے بڑھایا ، سیرومغازی کا تمام تر سرمایہ ان ہی اکابر واصاغر صحابہ تابعین اور تبع تابعین کی روایت سے جمع ہوا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے، طبقات ابن سعد ج 376، 377، 378)
 
احادیث وآثار کی تدوین سے پہلے یہ تمام حضرات، جن میں مردوں کی طرح عورتیں بھی شامل ہیں، اپنے گھروں، بال بچوں، رشتہ داروں، مسجدوں، محلوں، قبیلوں اور تعلیمی وتدریسی مجلسوں میں سیر ومغازی کے واقعات موقع کی مناسبت سے بیان کرتے تھے اور جب جمع وتدوین کا دور آیا تو ان کی روایتوں کو اصحاب سیر ومغازی نے مدوّن ومرتب کیا اور اپنے مقاصد کے پیش نظر روایتی معیار میں محدثین کے مقابلہ میں نرمی سے کام لیا ۔
 
اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں، واقعہٴ افک کا تعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھا، اس کی روایت ان سے ان کے بھانجے عبد اللہ بن زبیر نے کی، ان سے ان کے بیٹے عبّاد بن عبداللہ نے اور عباد سے ان کے بیٹے یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کی، نیز اس کی روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی پروردہ اور ان کے علم کی ترجمان عمرہ بنت عبد الرحمن نے کی اور ان سے ان کے رشتہ دار عبد اللہ بن محمد بن عمرو بن حزم انصاری نے کی، طبری نے تین صفحات میں یہ روایت بیان کی ہے۔(تاریخ طبری، ص 72، ج 3)
 
ابن حقیق یہودی کے قتل کی روایت عبد الرحمن بن کعب بن مالک کی والدہ نے اپنے والد عبد اللہ ابن انیس سے سنی اور عبد الرحمن نے اپنی ماں سے اور ان سے ان کے بیٹے ابراہیم بن عبدالرحمن نے روایت کی (تاریخ طبری ص 8 ج 3)۔ اس سریّہ میں عبد اللہ بن انیس شریک تھے، غزوہ ذی قرد کے متعدد واقعات حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے ایاس نے اپنے والد سے سن کر بیان کیے ہیں، بیعت رضوان کے بارے میں طبری نے ایک روایت یوں بیان کی کہ مجھ سے محمد بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ اہل بیعت کی تعداد پندرہ سو پچیس تھی۔ (ایضاً ص 72 ج 3)
 
غزوہٴ احد کی دو روایت یحییٰ بن عباد نے اپنے والد عباد سے کی اور عبا د نے اپنے والد عبداللہ بن زبیر سے کی۔(ایضا ص 16ج 3 وص 21)
 
غزوہٴ احد کی ایک اور روایت محمد بن اسحاق نے اپنے والد اسحاق بن یسار سے کی، انہوں نے اس کی روایت عن اشیاخ بنی سلمة یعنی بنی سلمہ کے بزرگوں سے کی ۔
 
غزوہٴ خیبر کی ایک روایت محمد بن اسحاق نے عبداللہ بن حسن سے کی اور انہوں نے اس کی روایت عن بعض اھلہ یعنی اپنے خاندان کے بعض لوگوں سے کی۔(ایضا ص 72ج 3)
 
فتح مکہ کا ایک واقعہ ابن اسحاق نے ابو فراس بن سنبلہ اسلمی سے بیان کیا ہے، جس کو انہوں نے عن اشیاخ منھم ممن حضرھا یعنی ان بزرگوں سے روایت کیا ہے جو فتح مکہ میں شریک تھے۔(ایضا ص 125ج 3)
غزوہ ٴطائف کے سلسلہ میں بلاذری نے ایک روایت مدائنی سے کی ، مدائنی نے ابو اسماعیل طائفی سے اور انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے عن اشیاخ من اھل الطائف یعنی اہل طائف کے بزرگوں سے اس کی روایت کی ہے۔ (فتوح البلدان ص 54)
 
صلح نجران کی ایک روایت ابن اسحاق نے معاذ بن رفاعہ زرقی سے کی، جنہوں نے بتایا کہ حدثنی من شئت من رجال قومی یعنی میری قوم کے لوگوں میں سے میرے نزدیک ایک پسندیدہ آدمی نے اس کو مجھ سے بیان کیا ہے۔ (سیرت ابن ہشام ص 250 ج 3)
 
ایک اور واقعہ ابن اسحاق نے اپنے والد سے بیان کیا ہے، جس کو انہوں نے عن اشیاخ بنی سلمہ یعنی بنو سلمہ کے بزرگوں، بڑوں اور بوڑھوں سے سنا تھا ۔(ایضا ص 90، ص 98، ج 2)
 
ابن اسحاق نے ایک جگہ لکھا ہے فحدثنی بعض اھل العلم عن رجال من اسلم یعنی بنی اسلم کے بعض اہل علم نے مجھ سے بیان کیا۔ (ایضا ص 310ج 2) بعض مقامات پر حدثنی بعض اصحابنا کہا ہے، یعنی مجھ سے ہمارے بعض مشائخ نے بیان کیا ہے۔
 
بعض جگہ فیما بلغنی کہہ کر واقعہ بیان کرتے ہیں، متعدد مقامات پر حدثنی من لا أتّھم کہہ کر روایت کرتے ہیں اور بعض مرتبہ حُدِّثْتُ کے لفظ سے واقعہ نقل کرتے ہیں، جیسا کہ سیرت ابن ہشام میں ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محدثین کے مقابلہ میں اہل سیر ومغازی کی سند کا معیار کم درجہ کا ہوتا ہے، کیوں کہ ان کے یہاں واقعات واخبار کا بیان ہوتا ہے، عقائد اور تشریعی احکام نہیں ہوتے ہیں ۔
 
ایک شبہ کا ازالہ
 
یہاں ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے، امام احمد بن حنبل کا قول ہے:
ثلاثة کتب لیس لھا اصول: المغازي، والملاحم والتفسیر․
 
تین فن کی کتا بیں بے بنیاد ہیں، مغازی اور ملاحم اور تفسیر
 
اور یہ قول مغازی و ملاحم اور تفسیر کی عام کتابوں کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ ان تینوں علوم کی بعض مخصوص کتابیں مراد ہیں جو اپنے بیان کرنے والوں کی بے اعتباری اور داستان گوئی کی وجہ سے نا قابلِ اعتماد ہیں، جیسا کہ خطیب بغدادی نے تصریح کی ہے (تذکرة الموضاعات، محمد طاہر گجراتی ص 82) چناں چہ خود امام احمد کہتے تھے کہ تم لوگ مغازی موسی بن عقبہ سے حاصل کرو، وہ ثقہ ہیں۔ (تذکرة الحفاظ، ص 140، ج 1)
 
اور ابراہیم حربی کا بیان ہے کہ احمد بن حنبل ہر جمعہ کو ابن سعد کے یہاں سے واقدی کی کتابوں کے دو جزء منگا کر دیکھتے تھے اور دوسرے جمعہ کو ان کو واپس کر کے دوسرے دو جزء منگاتے اور دیکھتے تھے۔(تاریخ بغداد ص 11 ج 3 تہذیب التہذیب) امام احمد کا یہ بھی قول ہے کہ ابن اسحاق سے مغازی حاصل کی جائے، البتہ حلال وحرام میں احتیاط کی جائے۔ (الجرح والتعدیل ص 193 ج 3)

مقالات و مضامین سے متعلق