طلبائے کرام سے اصلاحی خطاب

idara letterhead universal2c

طلبائے کرام سے اصلاحی خطاب

 شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیدالله خالد

حضرت مولانا عبید اللہ خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے، تاکہ ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہوسکیں۔ (ادارہ)

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، أما بعد! فأعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم، ﴿وذکر فإن الذکری تنفع الموٴمنین﴾، صدق اللّٰہ مولٰنا العظیم․

اللہ تعالیٰ نے ہم سب پر بڑا کرم فرمایا، احسان فرمایا کہ ہمیں قرآن وسنت کے علوم حاصل کرنے کے لیے منتخب فرمایا، اس میں میرا یا آپ کا کوئی کمال نہیں یا میری اور آپ کی صلاحیت کا اس میں دخل نہیں، خالص اور خالص اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتخاب ہے۔ آپ جس عمر میں ہیں، آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں، اپنے خاندان، اپنے عزیز واقارب، اپنے دوست احباب، اپنے علاقوں کے لوگ، کوئی گاڑی چلا رہا ہے، کوئی بازاروں میں پھر رہا ہے، کوئی اور کام کر رہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے منتخب لوگ نہیں ہیں، آپ منتخب ہیں اور یہ جو پوری امت ہے اس وقت اگر آپ اپنی نظر وسیع کریں اور پوری دنیا کا جائزہ لیں اور خاص طور پر جو موجودہ عالم اسلام ہے، اس کا جائزہ لیں تو پورے عالم اسلام میں آپ اور یہ خطہ پورے عالم اسلام میں منتخب ہے، انڈونیشیا سے مراکش تک، مغرب سے مشرق تک آپ عالم اسلام کا جائزہ لیں، کہیں پر بھی قرآن وسنت کے علوم کی خدمت اس آزادی کے ساتھ، اس حریت کے ساتھ نہیں، نہ مساجد آزاد ہیں اور نہ مدارس آزاد ہیں، مدارس تو ہیں ہی نہیں۔

ہمارے ایک دوست حجاز مقدس میں تھے اور بڑے اچھے ذی استعداد ساتھی تھے، انہوں نے کوشش کی کہ میں یہاں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کروں، چناں چہ انہوں نے یہ ترکیب کی کہ چند ساتھیوں سے بات کی کہ آپ اپنے بچے میرے پاس بھیجا کریں، میں ان کو پڑھایا کروں گا، تو وہ ایک گھنٹہ ایک گھر میں پڑھاتے، پھر ایک گھنٹے بعد دور کسی دوسرے گھر میں چلے جاتے اور طلباء وہاں آجاتے، پھر ایک گھنٹے بعد تیسری جگہ چلے جاتے، وہاں جا کر بچوں کو پڑھاتے۔اس طرح سارا دن وہ کبھی ادھر کبھی ادھر اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید میرا یہ کام مخفی ہے، ظاہر ہے یہ ممکن نہیں ہے، چناں چہ کچھ ہی عرصے بعد بال بچوں سمیت اپنے وطن واپس آنا پڑا۔

آپ اپنے ملک کو دیکھ لیجیے، 77 سال تو ہوگئے کہ مدرسے اور حکومت کی کشمکش جاری ہے، کوئی بھی حکومت ہو، نیلی ہو پیلی ہو، لال ہو، ہری ہو، سب کا ہدف اول یہ ہے کہ مسجد اور مدرسے کو کنٹرول کیا جائے، یہ ہمارے ملازم بنیں، یہ ہمارے غلام بنیں، جیسے ہم ان سے کہیں ویسے یہ کریں۔

آپ کو یاد ہوگا، ماضی قریب میں کرونا آیا تھا اور اس میں پوری دنیا بند ہوگئی تھی، لاک ڈاوٴن، پوری دنیا بند، مسجد الحرام بند، بیت اللہ شریف کا طواف بند، حج بند، مسجد نبوی بند۔

لیکن الحمد للہ ثم الحمد للہ، یہ آپ کے علماء کی برکت ہے کہ پاکستان کی مساجد بند نہیں ہوئیں، کوشش تو انہوں نے آخری درجے کی کی، چناں چہ اس کوشش کا ایک واقعہ میں آپ کو سناتا ہوں، اس سے بھی آپ کو اندازہ ہوگا، اس وقت کی جو یہاں حکومت تھی، اس کے صدر عارف علوی تھے، صدر پاکستان تھے انہوں نے جب دیکھا کہ علماء قابو نہیں آرہے، تو خفیہ طور پر، خاموشی سے بحیثیت صدر پاکستان مصر سے رابطہ کیا اور آپ جانتے ہیں مصر میں جامعہ ازھر ہے اور جامعہ ازھر کا جو بڑا ہوتا ہے اس کو شیخ الازھر کہتے ہیں اور شیخ الازھر جو ہوتا ہے ان کا فتوی بہت بڑی چیز سمجھا جاتا ہے، انہوں نے خاموشی سے جامعہ ازھر سے فتوی منگوایا، اس موجودہ بیماری کے زمانے میں مساجد کو بند ہونا چاہیے یا کھلا ہونا چاہیے؟ انہوں نے فتوی دیا، بالکل فوراً بند ہونا چاہیے۔

اس کے بعد صدر صاحب نے علماء کو بلایا، پورے پاکستان سے منتخب علماء ایوان صدر میں، وہاں ان کا پورا اعزاز واکرام کیا گیا، اس کے بعد انہوں نے ایک خوبصورت ڈبہ میز پر رکھا اور کہا کہ اس بیماری کے زمانے میں ہمیں مساجد کے حوالے سے کیا کرنا ہے؟ اس بارے میں ہمیں ایک رہ نما فتوی مل گیا ہے اور وہ جامعہ ازھر کا فتوی ہے، چناں چہ انہوں نے بڑے ادب واحترام سے اس ڈبے کو کھولا اور اس فتوے کو علماء کے سامنے پیش کیا، تو ہمارے علماء نے کہا کہ ہم بالاتفاق اسے مسترد کرتے ہیں، شیخ الازھر سے کہیں کہ انہیں اگر کوئی رہ نمائی چاہیے تو وہ پاکستان کے علماء سے رابطہ کریں، ہمیں ان سے رابطہ کی ضرورت نہیں، وہ تو سرکاری ملازم ہیں، جو سرکار کہے گی وہ کریں گے، چناں چہ ہمارے علماء نے اس کو مسترد کر دیا، یہ دنیا میں کوئی کرسکتا ہے؟ مراکش سے انڈونیشیا تک کوئی مسلمان ملک، وہاں کے علماء یہ جرأت نہیں کرسکتے، اس لیے کہ سب ملازم ہیں، سب نوکر ہیں، انہیں آزادی نہیں ہے۔ اور یہ واقعات موقع بموقع 77 سال کے اندر پیش آتے رہے ہیں، چناں چہ ہماری حکومت اور حکم ران بھی یہ چاہتے ہیں کہ یہ مسجد ہمارے کنٹرول میں ہو، منبر ومحراب ہمارے کنٹرول میں ہو، یہ مدرسہ ہمارے کنٹرول میں ہو۔

آپ حیران ہوں گے کہ سفر کرتے ہوئے مجھے طویل عرصہ ہوگیا اس عرصے میں عالم عرب میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاں میں نہ گیا ہوں، وہاں کے علماء سے، وہاں کی عوام سے ملنا ہوتا ہے، لیکن اس عرصے میں، میں وہاں کے لوگوں کو یہ نہیں سمجھا سکا کہ ایک ادارہ ہے، اس میں تین ہزار طلباء ہیں اور ان کے صبح شام کھانے کا بندوبست ہوتا ہے، پانی، گیس، اساتذہ کی تنخواہیں، تو ہر آدمی فوراً یہ سوال کرتا ہے کہ کیا اس کا انتظام حکومت کرتی ہے؟ جب ان کو بتایا جاتا ہے کہ نہیں، تو فوراً کہتے ہیں، ھذا کذب، بدون حکومة کیف یمکن ھذا؟ ممکن نہیں ہے، اس طویل عرصے میں، میں عربوں کو یہ بات نہیں سمجھا سکا، لیکن انہی عرب ممالک میں اگر میری ملاقات کسی بنگلہ دیشی سے ہوجائے اور میں اس سے کہوں کہ ایسا مدرسہ ہے تو وہ فوراً کہے گا کہ ہاں! ہاں! میرے گاوٴں میں بھی ایسا مدرسہ ہے، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے، اس کے سامنے لمبی چوڑی تقریر کرنے کی ضرورت نہیں۔

کسی ہندوستانی کے سامنے آپ کہیں وہ فوراً سمجھ جاتا ہے، کسی پاکستانی سے کہیں فورا سمجھ جاتا ہے، لیکن عرب نہیں سمجھتے، کیوں کہ وہاں اس کا کوئی تصور نہیں، طاغوت نے سب ختم کردیا اور یاد رکھیے کہ یہ جو طاغوتی کوششیں ہوتی ہیں یہ دو طرح سے ہوتی ہیں، ایک قسم اس میں ہوتی ہے جبر اور تشدد، اگر حکومت کی بات آپ نہیں مانیں گے تو وہ آپ کو جیل میں ڈال دیں گے، وہ آپ کو ہتھکڑیاں لگا دیں گے، وہ آپ کے پیروں میں زنجیریں ڈال دیں گے، لیکن عجیب اللہ تعالیٰ کا نظام ہے، جب جبر زیادہ ہوتا ہے تو دین اسلام اور زیادہ ترقی کرتا ہے، اسلام کا مزاج ہے۔ تو وہ اور پریشان ہو جاتے ہیں کہ الٹا ہوگیا معاملہ اور یہ دین پھیل رہا ہے اور اسلام پھیل رہا ہے تو پھر وہ دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں اور وہ بہت خطرناک ہے اور اس سے ہم بھی گزر رہے ہیں، ہم سے مراد ہماری برادری ہے، علماء کی جماعت ہے، اس خطے میں، ہندوستان میں، یہاں اب وہ دوسرا طریقہ اختیار کیا جارہا ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ وہ چمک دمک اور پیسہ ہے۔ چوں کہ انسان بھی حیوان ناطق ہے اور آپ نے دیکھا ہوگا حیوانات میں کہ ان کو سَدھا یا جاتا ہے گھر کے اندر، بکریاں ہوتی ہیں صبح گھر سے نکلتی ہیں اور شام کو اپنے گھر واپس ہوتی ہیں، حالاں کہ گھر تو بہت سارے ہیں، لیکن کس گھر میں جانا ہے اسے معلوم ہے، گدھے، گھوڑے ہوتے ہیں، اونٹ ہوتے ہیں، گائے بیل ہوتے ہیں، سب حیوانات ہیں، لیکن کچھ ہی دنوں میں وہ راستہ بھی پہچان لیتے ہیں، گھر بھی پہچان لیتے ہیں اور گھر والوں کو بھی پہچان لیتے ہیں، بالکل اسی طرح سے انسان کو بھی سدھایا جاتا ہے۔

آپ کو میں مثال سے سمجھاتا ہوں، کسی خاص ملک کا میں نام نہیں لوں گا، لیکن عرب ممالک میں جب یہ دوسرا راستہ اختیار کیا گیا، تو وہ علماء تھے، آزاد تھے، حق بات بولتے تھے، حق بات لکھتے تھے، لیکن جبر کے ذریعے سے تو کام ہوا نہیں، اب انہوں نے چمک دمک کا راستہ اختیار کیا۔

اب آپ اپنا جائزہ لیں، آپ اپنے ملک کا جائزہ لیں، مدارس کا جائزہ لیں، علماء کا جائزہ لیں اور جو حکمت عملی ہمارے اکابر رحمہم اللہ نے اختیار کی ہے وہ عالم اسلام میں سب سے مبارک اور ممتاز حکمت عملی ہے، جس کے نتیجے میں آج الحمد للہ اس خطے کی، مساجد بھی آزاد ہیں، مدارس بھی آزاد ہیں، علماء بھی آزاد ہیں اور الحمد للہ دین کی خدمت کا کام جاری ہے، لیکن اب خطرہ ہے کہ وہ دوسرا کام شروع ہوچکا ہے، علماء کو سدھانے کا اور عیش وعشرت کا عادی بنانے کا کام شروع ہوچکا ہے اور اس کے نتیجے میں اب ایسا طبقہ ہمارے اندر سے پیدا ہونا شروع ہوگیا ہے جو حکومت کی اور حکم رانوں کی ہاں میں ہاں ملائے، اس سے ان کو کوئی غرض نہیں کہ حق کیا ہے، باطل کیا ہے؟ ہمارے اکابر کا مزاج کیا ہے، مسلک کیا ہے، مشرب کیا ہے، انہوں نے کیا قربانیاں دی ہیں، کیا کیا قربانیاں دے کر ان اداروں کو اور مراکز کو قائم کیا ہے، انہیں تو اپنی آسائش سے غرض ہے، ان کو تو اپنی زندگیوں کی راحتوں سے غرض ہے، انہیں اس سے غرض نہیں کہ حق کیا ہے، باطل کیا ہے، اس لیے آپ حضرات جس درجے میں ہیں اور عمر کے جس حصے میں ہیں، یہ شعور کا زمانہ ہے، یہ لاشعوری کا زمانہ نہیں، آپ سوچ سکتے ہیں، غور کرسکتے ہیں، آپ دنیا کے احوال پر غور کرسکتے ہیں، آپ اس خطے کی تاریخ کا مطالعہ کرسکتے ہیں، تاکہ آپ کو رہ نمائی ملے اور یہ یاد رکھیں کہ جو لوگ اپنے اکابر کی تاریخ بھول جاتے ہیں اس سے ناواقف ہوجاتے ہیں پھر وہ آگے چل نہیں سکتے، اپنے اکابر کی تاریخ آپ کے سامنے ہو، کیسی کیسی قربانیاں دی ہیں ہمارے اکابر نے، یہ جامعہ فاروقیہ آپ کے سامنے ہے، آپ کا کیا خیال ہے پہلے دن سے ایسا تھا، اس کے بانی اور موٴسس کون تھے؟ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے ممتاز شاگرد، ایک نہایت پسماندہ جگہ آکر بیٹھ گئے، کیوں؟ اس لیے کہ ان کے اندر ایک جذبہ تھا، کام کرنا ہے، اور جو کام کرنے والے ہوتے ہیں وہ جگہیں نہیں دیکھتے، ان کی نظر تو اللہ پر ہوتی ہے، چناں چہ یہاں کچھ بھی نہیں تھا، یہاں ہر طرف مخالف تھے، رافضیت کا فتنہ یہاں پر، بریلویت کا فتنہ یہاں پر، لادین لوگوں کا فتنہ یہاں پر، لیکن اس جگہ سے اللہ تعالیٰ نے کہاں تک فیض پہنچایا، آپ اگر دنیا کے جغرافیہ سے واقف ہیں تو میں آپ کو سمجھاوٴں کہ دنیا جہاں سے شروع ہوتی ہے، کرہٴ ارض جہاں سے شروع ہوتا ہے، جہاں کرہٴ ارض کی سب سے پہلی اذان ہوتی ہے، اس کا نام ہے، فیجی آئی لینڈ، کراچی سے ہوائی جہاز، آج کے جدید ترین جہاز، اس میں کراچی سے فیجی تک 27 گھنٹے کا سفر ہے، امریکہ کا سفر 16گھنٹے کا ہے اور فیجی کا سفر 27گھنٹے کا، کئی دفعہ مجھے اللہ تعالیٰ نے وہاں جانے کا موقع عنایت فرمایا، فیجی کے طلباء نے اس جامعہ فاروقیہ میں پڑھا ہے اور فیجی میں ہر طرف جامعہ فاروقیہ ہے، مساجد، مدارس، مکاتب، دینی دعوت کا کام اور یہ کرہ ارض جہاں ختم ہوتا ہے اس کا نام ناروے ہے وہاں دنیا ختم ہوتی ہے، وہاں ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے ساری دنیا سے سیاح وہاں آتے ہیں اور اس بورڈ پر لکھا ہوا ہے اینڈ آف ارتھ، زمین کا اختتام، وہاں بھی جامعہ فاروقیہ موجود ہے، تو مشرق جہاں سے دنیا شروع ہوتی ہے اور مغرب جہاں دنیا ختم ہوتی ہے اور اس بیچ میں سب ممالک میں جامع فاروقیہ کے فضلاء خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ تو اس زمانے میں آئے ہیں کہ غیر ملکی طلباء اب یہاں نہیں ہیں، ایک دور تھا کہ غیر ملکی طلباء یہاں بھرے ہوئے ہوتے تھے، ملائیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن، پنامہ، ساوٴتھ امریکہ، ساوٴتھ افریقہ، موزمبیق، ان سب ممالک کے طلباء یہاں پر ہوتے تھے اور انہوں نے یہاں سے کسب فیض کیا اور اس کے بعد وہ اپنے اپنے علاقوں میں بھر پور خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

گزارش کرنے کا مقصدیہ ہے کہ آپ باشعور ہوں، یاد رکھیے کہ کبھی بھی ان علوم کو مادیت کے ساتھ نہ جوڑیں، یہ جرم عیسائیت میں ہوا، ایک دور تھا عیسائیت کا، عیسائیت کیا ہے؟ عیسی علیہ السلام کو ماننے والے، حضرت عیسی علیہ السلام تو اللہ کے نبی ہیں، ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں، چناں چہ ایک دور تھا جب عیسائیت اپنی تعلیمات پر قائم تھی اور بائبل پر عمل ہوتا تھا تو جب عیسائیت قائم تھی اور بائبل پر عمل ہوتا تھا اور ان کے علماء صحیح تعلیم لوگوں کو دیتے تھے تو علماء کا غلبہ تھا اور گرجا حکمران تھا، پوری دنیا میں عیسائی ملک کا بادشاہ یا صدر، وزیر اعظم نہیں بن سکتا تھا جب تک گرجا سے پاپائے روم اجازت نہیں دیتا تھا، پھر وہاں ایک انقلاب آیا اسی کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں، وہ انقلاب جب آیا تو انہوں نے مذہب کو اور گرجا کو خارج کردیا، باہر کردیا اور فقط مادیت رہ گئی، مذہب کو نکال دیا کہ مذہب تو ذاتی زندگی کا مسئلہ ہے، اس کا حکومت سے، قوم سے، ملک سے کوئی تعلق نہیں، جیسے یہاں کہا جارہا ہے، تو اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم جو پہلے بائبل سے جڑا ہوا تھا، علم جو ان کے ہاں مذہب سے جڑا ہوا تھا، اس علم کا مذہب سے ناطہ ٹوٹ گیا، اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ پڑھائی کے بعد ڈگری، ڈگری کے بعد نوکری اور نوکری کے بعد عیش وعشرت، اب اس میں اللہ ورسول کا کوئی ذکر ہے؟ اب یہاں بھی وہی چکر چلایا جارہا ہے کہ پڑھو، ڈگری لو، ڈگری لینے کے بعد نوکری کرو اور نوکری کے بعد عیش وعشرت… تو اللہ تعالیٰ کہاں گئے؟ جس نے آپ کو پیدا کیا، اللہ کے رسول کہاں گئے؟ جن کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے۔

چناں چہ دنیوی پڑھائی میں یہ کام ہوچکا ہے، ابھی آپ اپنے خاندان میں، کزن سے، چچازاد، ماموں زاد سے جو انجینیرنگ پڑھ رہا ہو یا اور کچھ پڑھ رہا ہو، پوچھیں کیا پڑھ رہے ہو؟ بتائے گا یہ پڑھ رہا ہوں، پڑھنے کے بعد کیا ہوگا؟ ڈگری ملے گی، ڈگری کے بعد کیا ہوگا؟ نوکری ملے گی، نوکری کے بعد کیا ہوگا؟ شادی کر یں گے مزے کریں گے، آپ مجھے بتائیں اس کے علاوہ کوئی بات ہے، اب بدقسمتی سے یہ جراثیم ہمارے اندر آرہے ہیں، اب ہمارے ہاں مدارس میں کتاب خوانی ہو رہی ہے، جیسے قرآن خوانی ہوتی ہے، کتاب خوانی ہو رہی ہے، استاد تشریف لاتے ہیں، سبق پڑھاتے ہیں، ہم سبق پڑھ لیتے ہیں، پھر تین مہینے بعد امتحان ہوتا ہے، ہم وہ امتحان دے دیتے ہیں، پھر ششماہی تک پھر کتاب خوانی ہوتی ہے، پھر امتحان ہوتا ہے، پھر تیسری سہ ماہی ہوتی ہے، سالانہ امتحان ہوجاتا ہے اور استاد مطمئن ہے کہ میرا سبق پورا ہوگیا، طالب علم بھی مطمئن ہے کہ کتاب پوری ہوگئی، امتحان بھی ہوگیا اور ہمیں فلاں درجے کی شہادہ بھی مل گئی۔

ہمارے اکابر علمائے دیوبند نے دار العلوم کتاب خوانی کے لیے قائم نہیں کیا تھا، دار العلوم دیوبند قائم کیا تھا رجال سازی کے لیے کہ کچھ دیوانے بنائے جائیں، جو پوری امت کو سنبھالنے والے ہوں، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تھا کہ عالم ہوں اور مضبوط عالم ہوں، لیکن اس مضبوط علم کے ساتھ مضبوط عمل بھی ہو، لیکن آج کتاب خوانی ہو رہی ہے اور یہ یاد رکھیں کہ یہ پہلا مرحلہ ہے، دوسرا مرحلہ وہی ہے جوا سکول کالج میں ہوتا ہے، آج ہم پہلے مرحلے سے گزر رہے ہیں کہ رجال سازی سے کتاب خوانی میں آگئے ہیں، مطالعہ، تکرار امتحان، سب کچھ ہو رہا ہے، کیا اولیٰ سے ثانیہ میں جیسے درجے میں اضافہ ہوا، ایسے ہی اللہ سے تعلق میں بھی اضافہ ہوا ہے؟! ایسے ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق میں اضافہ ہوا ہے؟ جس کا ہوا ہے وہ بہت مبارک باد کا مستحق ہے، اللہ اس میں اور اضافہ فرمائے، میں سو فیصد نفی نہیں کر رہا، میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ ہم مرحلہ وار کس طرف جارہے ہیں، ہم متنبہ ہو جائیں، خبردار ہو جائیں، ہم بریک لگالیں، رک جائیں، یہ فکر تو ہونی چاہیے۔

آج ہم میں دعاوٴں کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے اپنے کام بنواہی نہیں پارہے، ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ دعا سے بھی کام بن سکتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ سے دوستی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ سارے کام بنا دیتے ہیں، کیا نہیں بنا دیتے؟ سارے خزانوں کے اکیلے مالک اللہ تعالیٰ ہیں، تو ہم اس اعتبار سے بھی قدم بقدم ترقی کریں، جیسے علم میں آپ محنت کریں، جیسے درس گاہِ سے آپ کی وابستگی ہو ایسے ہی مسجد سے بھی وابستگی ہو، دل مسجد میں لگے، نمازوں میں دل لگے، قرآن کی تلاوت میں دل لگے، دعا کرنی ہے، ذکر کرنا ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا نہیں ہے تو فوراً توبہ کریں، سوچیں، غور کریں کہ میں تو طالب علم ہوں، قرآن وحدیث پڑھنے والا ہوں، میرا دل نماز میں کیوں نہیں لگ رہا؟ میرا دل دعا میں کیوں نہیں لگ رہا؟ میرا دل تلاوت میں کیوں نہیں لگ رہا؟ میرا دل ذکر میں کیوں نہیں لگ رہا؟

اور ابھی سے، زمانہ طالب علمی سے، اپنے کام اللہ تعالیٰ سے کروانا سیکھیں، مجھے مسجد بنانی ہے، اللہ تعالیٰ بنائیں گے، مدرسہ بنانا ہے، اللہ تعالیٰ بنائیں گے، میں مانگوں گا اللہ تعالیٰ سے، جب دوستی ہوجاتی ہے تو دوست، دوست کا ہاتھ پکڑتا ہے یا نہیں پکڑتا؟ واللّٰہ یتولی الصالحین، اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کے دوست ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دوستی آسان ہے یا مشکل ہے؟ آسان ہے، صرف آسان نہیں، بہت آسان ہے، تو پھر بھی اگر ہم غافل ہوں، جیسے جیسے آپ کے تعلیمی درجے میں ترقی ہو ایسے ہی عمل میں بھی ترقی ہو اور جب آپ فارغ ہوں تو آپ تقویٰ اور روحانیت سے مسلح ہوں، جنگل ہو، صحرا ہو، دیہات ہو آپ بیٹھ جائیں، اللہ تعالیٰ پروانے بھیجیں گے، یہ ہر گز خیال مت کریں کہ مدرسہ بنانے کے لیے شہر ہونا چاہیے، تو اللہ سے تعلق سے قائم کریں اور ان تمام امور کا آپ خیال فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی آپ کو بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مجالس خیر سے متعلق