سائنس کے آثار
ایک عرصہ سے دنیا میں خلائی فتوحات کا غلغلہ ہے اور حالیہ تجربات نے یہ چیز ثابت کر دی ہے کہ حضرت انسان واقعی بڑی چیز ہے، لیکن مذہب وسائنس کے دائرہ کار اور حدود سے لاعلمی ، طغیانی علوم میں نا پختگی اور مذہب سے دوری یا کم علمی کی وجہ سے بہت سے مسلمان احساسِ کمتری، مرعوبیت اور شکوک وشبہات کا شکار ہو چکے ہیں، اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ اصولی طور پر یہ عرض کیا جائے کہ سائنس اور
مذہب کی کیا حقیقت ہے؟ ان کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور اسلام آپس میں نہ تو ایک دوسرے کی ضد ہیں، جیسا کہ بدقسمتی سے بعض حلقوں میں یہ تصور موجود ہے اور نہ ہی
سائنس الحاد کے مترادف ہے، جیسا کہ ایک دوسرا طبقہ اس کا قائل ہے، بلکہ بقول ایک محقق مشرقی عالم:
”سائنس اور اسلام میں وسیلہ اور مقصود کی نسبت ہے“
جیسے بدن روح کے لیے وسیلہ علم ہے، ایسے ہی سائنس اصولی طور پر اسلامی کارناموں کے لیے ایک وسیلہ، ذریعہ اور ڈھانچہ ہے۔ اور اگر ہم ذرا گہری نظر سے سائنس کے موضوع کو سمجھ لیں تو یہ دعویٰ خود بخود ثابت ہو جائے گا، اس لیے اولاً سائنس کے موضوع پر گفتگو کی جاتی ہے۔
آج کے دورِ ترقی میں جب تمدنی ایجادات اور مادیات کے نئے نئے انکشافات کا چرچا ہوتا ہے تو بطور تکملہ سائنس کا ذکر بھی ساتھ ہی ہوتا ہے، مثلاً وسائل خبر رسانی کے سلسلہ میں ٹیلی فون، ٹیلی گراف، ریڈیو، لاسلکی، ٹیلی ویژن اور ایسے ہی دوسرے برقی آلات کا ذکر ہوتا ہے تو ساتھ ہی یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سائنس کے سنہری اصول ہیں۔
وسائل نقل وحرکت کے سلسلہ میں ریل، موٹر ، ہوائی جہاز وغیرہ بادپا سواریوں کا تذکرہ ہوتاہے تو ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ یہ سب سائنس کے طفیل ہے یا مثلاً صنائع وحرف کے سلسلہ میں لو ہے لکڑی کے خوش نما اور عجیب وغریب سامان ، تعمیر کے نئے نئے ڈیزائن اور نمونے، سیمنٹ اور اس کے ڈھلاوٴ کی نئی نئی ترکیبیں اور انجینئری کے نئے نئے اختراعات جب سامنے آتے ہیں تو سائنس کا نظر فریب چہرہ بھی سامنے کر دیا جاتا ہے کہ یہ سب اسی کے خمِ ابرو کی کارگزاریاں ہیں۔ اسی طرح نباتاتی لائن میں زراعتی ترقیات، پھل پھول کی افزائش کے جدید طریقے اور نباتات کے نئے نئے آثار وخواص کے متعلق انکشافات کا جب نام لیا جاتا ہے تو وہیں سائنس کا نام بھی پورے احترام کے ساتھ زبانوں پر آجاتا ہے۔
اسی طرح حیوانی نفوس میں مختلف تاثیرات پہنچانے کے ترقی یافتہ وسائل، آپریشنوں کی عجیب وغریب پھر تیلی صورتیں، کیمیاوی طریق پر فن دوا سازی کی حیرت ناک ترقی، تحلیل و ترکیب کی محیر العقول تدبیریں، بجلی کے ذریعہ معالجات کی صورتیں جب زبانوں پر آتی ہیں تو ساتھ ہی انتہائی وقعت کے ساتھ سائنس کا نام بھی زبان پر ہوتا ہے کہ یہ سب اسی کے درخشاں آثار ہیں۔
طاقتوں کا منبع
اس تفصیل سے انسان کی ناقص عقل اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ سائنس کا موضوع موالیدِ ثلاثہ جمادات، نباتات، حیوانات کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔ پھر چوں کہ ان موالید کی ترکیب عناصر اربعہ آگ ، پانی ، ہوا اور مٹی سے ہوتی ہے۔ جو ایک مسلمہ چیز ہے اور جس پر کسی استدلال کی ضرورت نہیں۔ اس لیے گویا سائنس کا موضوع بلحاظِ حقیقت عناصر اربعہ ٹھہر جاتے ہیں، جس کی خاصیات اور آثار کا عملاً سمجھنا اور پھر کیمیاوی طریق پر ان کی تحلیل وترکیب کے تجربات سے عملاً نئی نئی اشیاء کو پردہٴ ظہور پر لاتے رہنا سائنس کا مخصوص دائرہٴ علم وعمل ہو جاتا ہے۔ پس سائنس کی یہ تمام رنگ برنگی تعمیر در حقیقت انہیں چار ستونوں (عناصر اربعہ) پر کھڑی ہوئی ہے۔
اور اگر اس ساری تفصیل کا مختصر لفظوں میں خلاصہ کیا جائے تو سائنس کا موضوع ”مادہ اور اس کے عوارض ذاتیہ“ سے بحث کرنا ثابت ہوگا ، اس لحاظ سے مادیات میں جس کا زیادہ انہماک ہوگا ، وہی سب سے بڑا سائنس داں اور ماہر سائنس کہلائے گا۔ واللہ اعلم
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ سائنس کا موضوع عناصر اربعہ ہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ ان چاروں کے خواص وآثار اور ذاتی عوارض یکساں ہیں یا نہیں؟ ظاہر بات ہے کہ ان کے عوارض یکساں نہیں، بلکہ بہت حد تک متفاوت ہیں، بلکہ ان کی جوہری طاقت بھی ایک درجہ کی نہیں، بلکہ کوئی عنصر ان میں ضعیف، کوئی قوی، کوئی قوی تر ہے، یہ قوت اور ضعف کا تفاوت اتفاقی نہیں، بلکہ معیاری ہے اور وہ معیار یہ ہے کہ ان عناصر میں سے جس میں بھی لطافت بڑھتی گئی ہے، اسی قدر اس کی طاقت بھی بڑھتی گئی ہے اور طاقت کے ہی لحاظ سے غلبہ و تسلط اور شانِ اقتدار قائم ہوتی چلی گئی ۔
اس کا راز سوائے اس کے اور کیا ہے کہ لطافت ایک وصفِ کمال ہے، جو کثافت کی ضد ہے اور ہر وجودی کمال کا مخزن حضرت واجب الوجود کی ذات ہے، اس لیے لطافتوں کا منبع بھی وہی ہے۔ اندازہ فرمائیں کہ اس کی طاقتوں کا تو یہ عالم ہے کہ آنکھوں سے اوجھل ، حواس وخیال کی حدود سے بالاتر اور ادراک وانکشاف کی حد بندیوں سے وراء الوراء ہے اور اس کے ساتھ طاقتوں کا یہ عالم ہے کہ تمام جہانوں پر صرف اور صرف اپنی شہنشاہی کا نظام محکم قائم کیے ہوئے ہے، اس لیے جس چیز میں بھی لطافت کا کوئی شمہ ہے وہ درحقیقت اس کی ذات وصفات کا کوئی پر تو ہے، جس کا اثر بقدر استعداد اس نے قبول کر لیا ہے۔
لطافت کی طاقت
اس بنا پر جس چیز میں جتنی لطافت ہو گی اتنی ہی اس میں غلبہ اور اقتدار کی شان ہوگی ۔ اس تفصیل کے بعد عناصر اربعہ کے ذاتی عوارض کی کیفیت ملاحظہ فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ ان میں مٹی سب سے زیادہ کثیف ہے ، نہ صرف کثیف بلکہ کثافت آور بھی ہے۔ دنیا کی ہر چیز میں کثافت اور غلاظت آتی ہے تو اس مٹی سے، اس کثافت کو ملاحظہ فرمانا ہو تو تجربہ کے طور پر ایک ڈھیلا اوپر پھینکیں آپ کی قوت جب تک کام کرے گی وہ اوپر جائے گا، پھر کل شيء یرجع الیٰ اصلہ (ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے) کا نظارہ ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ خدا نے زمین کو ذلیل ہی نہیں، بلکہ ذلول ( ذلت کا مبالغہ) فرمایا: ﴿ھُوَ الَّذِي جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاکِبِھَا﴾․ (سورہ ملک: 15)
البتہ زمین کا ایک جزء پہاڑ بھی ہے، جن میں نسبتاً کچھ لطافت اور ستھرائی ہے اور پھر پتھر کی مختلف قسمیں لطافت وستھرائی کی بنا پر عزیز الوجود ہیں ، منوں مٹی پتھر پر گرے تو کچھ نہ بگڑے اور ایک پتھر منوں مٹی پر گر پڑے تو جو حشر ہوگا وہ ظاہر ہے۔ پتھروں کے مقابلے میں لوہے کولیں، ایک بالشت بھر لوہے کی کدال کے سامنے بڑی بڑی چٹانوں کی کیا حیثیت ہے؟ وہی جو بے دست وپا قیدی کی ہوتی ہے، اس کا سبب بھی وہی لطافت اور ستھرائی ہے جو لوہے کے مقابلہ میں پتھر نے زیادہ قبول کر لی ہے۔
اس کے بعد دوسرے عنصر یعنی آگ کا نمبر آتا ہے، یہاں طاقت ور لوہے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بڑے بڑے پہاڑوں کے لیے وبالِ جان ثابت ہوتے ہیں، وہ ٹکڑے آگ کے سامنے کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ ذرا سی دیر لوہے کو بھٹی میں رکھو، نتیجہ سامنے آجائے گا، اس کا راز بھی وہی طبعی اور عقلی اصول ہے کہ آگ میں لوہے سے بھی زیادہ لطافت ہے۔ کثرت لطافت، کثرتِ طاقت کے مترادف ہے۔
اس کے بعد عنصر آب ہے، جس کے سامنے لوہے کو پگھلا دینے والی آگ کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایک طرف آگ کے ترفع وتعلّی اور رعب ودبد بہ کو دیکھیں، پھر جب قطرات آب اس پر ڈال کر اس کا تماشہ کریں، نتیجہ سامنے آجائے گا، چند لمحے پہلے جو کرّوفر تھا وہ راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے، ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ پانی آگ کے مقابلہ میں زیادہ لطیف ہے اور لطافت جہاں جس قدر ہوگی طاقت بھی اس اعتبار سے موجود ہوگی۔
اس کے بعد عنصر ہوا ہے، جس کی طاقت وقوت کا یہ عالم ہے کہ جب ہوا کے جھکڑ چلتے ہیں تو بڑے بڑے سمندر تہہ وبالا ہو جاتے ہیں اور اثر کا یہ عالم ہے کہ فوق وتحت کا کوئی گوشہ اور کوئی جگہ ایسی نہیں کہ جہاں یہ جو ہر لطیف نہ ہو۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اس کا راز بھی اس کی لطافت اور اس کے بقدر طاقت ہے۔
انسان کی کارکردگی
اب اگر ان عناصر اربعہ اور ان کے تینوں موالید جمادات، نباتات، حیوانات کی بے انتہا شاخوں کو ایک طرف رکھ کر، صرف حضرت انسان کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ عناصر اربعہ اس کے دست بدست غلام ہیں، انسان ان پر غالب اور متصرف ہے ۔ یہ سب عناصر اپنی کارگزاری میں اس کے محتاج ہیں، اگر حضرت انسان کی کارکردگی الگ کر دی جائے تو عناصر اربعہ اپنی پوری قوت وطاقت کے باوجود کوئی کام سرانجام نہیں دے سکتے ۔ لوہا خود بخود پتھروں کو کچل نہیں سکتا، آگ خود لو ہے کو گرماتی اور پگھلاتی نہیں، پانی خود آگ کو بجھاتا نہیں، جو کہ کدالیں بنا تا پتھر توڑتا ہے وہی بھٹیاں بنا کر لوہے کو تپاتا ہے، وہ مشکیزے اور ظروف میں پانی لاتا ہے اور چولھے ٹھنڈے کرتا ہے، وہی ہوا کو قید کرتا اور سیالات کو اڑاتا ہے اور انسان نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ انسان ہی کی طاقتوں کا یہ عالم ہے کہ اس نے زمین کے قلب وجگر کو چیرا، کنوئیں بنائے، تہ خانے تیار کیے ، ارضی معدنیات سرمہ، ہڑتال، سونا، چاندی اور پیتل وغیرہ کے خزانے اس سے چھین لیے ۔ پہاڑوں کو تراش کر بلند وبالا مکانات بنائے:
﴿وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتًا﴾ (القرآن)
ان میں سڑکیں نکالیں اور دفائنِ زمین کا راز فاش کر کے زمین کے خزانے کو عالم آشکارا کر دیا۔ الغرض زمین اور اس کے ہر ذرے سے چاکروں کی سی خدمت لے رہا ہے۔
پانی کو حضرت انسان نے کس طرح رسوا کیا ہے ، جگہ جگہ کنوئیں بنوائے، واٹر ورکس کا انتظام کیا اور جہاں چاہا پانی لے گیا اور ابوالمیاہ سمندر اعظم جس کو کوہ پیکر موجوں کا لگا تار سلسلہ خشکی کے کناروں پر اس طرح حملہ آور محسوس ہوتا ہے کہ گویا ابھی کرہٴ زمین کو نگل جائے گا ، اس کا یہ حشر ہے کہ حضرت انسان کے پاوٴں کے نیچے روندا جا رہا ہے ، اس کے جہاز آبدوزیں چل رہی ہیں ، سمندر کے خزانے اگلوائے، اس کی چیزوں کو بازاروں میں رسوا کیا، حتی کہ سمندر کے نمکین پانی کو تحلیل کر ڈالا، اس سے آگے بڑھ کر ذلیل خدمات لی جارہی ہیں، نجاستوں کا دھونا، میلے کپڑے پاک کرنا ، ظروف کا صاف کرنا وغیر ذالک۔ اس سے اندازہ لگایا جائے کہ انسان نے پانی جیسے عنصر لطیف کو کس طرح اپنا قیدی بنارکھا ہے۔
آگ جیسے خون خوار عنصر کو دیکھو، انسان نے اس کو کس طرح اپنا مطیع کیا ہے۔ لوہے پتھروں سے اسے نکالا ، وہ آفتاب میں چھپی تو آتشی شیشوں کے ذریعہ اسے گرفتار کیا، خودا سے چھپانا چاہا تو ذراسی دیا سلائی کے سرمے پر ذرا سے مصالحہ میں بند کر دیا، جب چاہا اسے رگڑا اور آگ نکال لی، جو آگ اپنے ترفع وتعلّی کی بناء پر سر نیچا ہی نہ کرتی تھی وہ آج کس طرح انسان کی غلام ومحکوم ہے۔
ہوا کی لطافت کا یہ عالم تھا کہ انسان کی لطیف ترین نگاہیں اسے پھاند نہ سکی تھیں، لیکن آخر انسان نے اڑتے پرندے کو کھلونا بنا لیا، اس میں اپنے جہاز اڑائے، خبر رسانی کی خدمت پر مجبور کیا، گویا وہ ایک چٹھی رساں ہے، جو مشرق سے مغرب تک انسان کی بلا اجرت چاکری کر رہی ہے۔ انسان اسے کہیں برقی پنکھوں میں پہنچا رہا ہے، کہیں موٹر کے پہیوں اور سائیکل کے ٹائروں میں بند کر رکھا ہے۔ غرض یہ نادیدنی طاقت جس نے سمندروں کو تہہ وبالا کر رکھا تھا انسان کے سامنے مجبور وبے بس ہے۔
پھر اسی پر بس نہیں کہ عناصر اربعہ سے علیحدہ علیحدہ خدمت لے کر انسان کی طبیعت قناعت کرے، بلکہ انہیں آپس میں لڑا لڑا کر ایجادات کر رہا ہے۔ آگ پانی کے درمیان لوہے کا پردہ حائل کر کے آگ کو دھونکا دیا، آگ جوش میں پانی کو اڑانا چاہتی ہے، پانی کھول کر آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتا ہے، لیکن انسان ان کے جوش وخروش سے اسٹیم کی طاقت پیدا کر کے انجن مشین چلا رہا ہے۔ پھر پانی کو پانی سے ٹکرا کر برق پیدا کر لی، وہ بجلی جو آنِ واحد میں اقلیموں کی خبر سنے اسے تانبے اور جست کے پتلے سے تار میں اس طرح باندھ رکھا ہے کہ بایں زور و طاقت باہر نہیں جا سکتی، ذرا سا سوئچ ہے، اسے دبا دو تو موجود، اُٹھا دو تو غائب۔ پھر اسی پر بس نہیں، بلکہ آسمان کی جہاں سوز بجلی کو بے بس کر دیا، بڑی بڑی بلڈنگوں پر چپٹے تار چڑھا دیئے، اُدھر یہ بجلی گری اِدھر ان میں غلطاں وپیچاں ہو کر رہ گئی۔
پٹرول جیسی سیال چیز میں آگ لگا دی، آگ اور تیل لڑ رہے ہیں، جس سے گیس پیدا ہو رہا ہے اور حضرت انسان کا جہاز اڑ رہا ہے، موٹر دوڑ رہی ہے۔
الغرض یک مشت استخواں نے ساری کائنات کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس غلبہ وتسلط کا سبب کیا ہے؟ جسمانی طاقت سے تو ناممکن ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس کار از کچھ اور ہی ہو۔
اندرونی طاقت
ایک شیر نے اپنے خورد سالہ بچہ کو نصیحت کی تھی کہ انسان سے بچنا یہ بڑی چیز ہے۔ بچہ شیر اس بڑی چیز کے دیدار میں مارے مارے پھرتا تھا کہ آخر دیکھوں تو سہی وہ انسان کیا ہے جس سے سلطان الصحراء (جنگل کے بادشاہ) بھی لرزتے اور کپکپاتے ہیں۔ چلتے چلتے گھوڑے پر نظر پڑی، اس کی مخصوص صفات سے چہٴ شیر کو انسان کا دھوکہ ہوا، پوچھا تو گھوڑے نے کہا میں تو انسان کے ہاتھ میں ایک بے بس قیدی ہوں، اس سے بچنا۔ اب بچہٴ شیر اور گھبرایا، آگے بڑھنے پر اونٹ پر نظر پڑی، اس کے عجیب الخلقت جسم کو دیکھ کر سوچا کہ بنی نوع انسان یہی ہوگا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ نا صاحب! ہم تو اس کے ادنیٰ چاکر ہیں ، وہ ہماری گت بناتا ہے، توبہ بھلی ، اس سے بچنا۔
ذرا آگے ہاتھی پر نگاہ پڑی، اس نے بھی اپنی چاکری کا اعتراف کرتے ہوئے پناہ مانگی ، بچہٴ شیر حیران تھا کہ یا اللہ! وہ انسان کیا بلا ہے جس سے گھوڑا اونٹ اور ہاتھی تک لرزتے ہیں؟ اسی اثنا میں ایک بڑھئی کے بچہ کو دیکھا؟ جو ایک بڑے شہتیر کو چیر رہا تھا اور جتنا چیر چکا تھا، اس میں ایک کھونٹی گاڑ رکھی تھی۔ بچہٴ شیر کو یہ تصور بھی نہ ہو سکتا تھا کہ یہ انسان ہوگا، لیکن معلومات کے لیے پوچھا تو پتہ چلا کہ حضرت انسان یہی ہے۔ بچہ شیر نے کہا کہ میرا باپ اور ہاتھی، گھوڑا، اونٹ بڑے احمق تھے، اس سے ڈرتے رہے، ایک چپت میں اس کا کام تمام کر دوں۔
بڑھئی کے بچہ نے سوچا، برا وقت آیا، کیا کیا جائے؟ اس نے بچہ کی خوب تعریف کی، جس سے وہ مست سا ہو گیا، پھر اس نے کہا میں کم زور ہوں، حسن اتفاق سے آپ جیسا قوی آگیا، شہتیر کی کھونٹی سر کا نا چاہتا ہوں، آپ اس کے شگاف میں ہاتھ اندر ڈال کر ذرا تھام لیں، تا کہ میں سرکالوں ، شیر نے ایک کی بجائے دونوں ہاتھ ڈال دیے۔ بڑھیٴ کے بچہ نے کھونٹی نکال لی ، اس کا نکلنا تھا کہ دونوں پٹ مل گئے ۔ پھر بچہٴ شیر کا جوحشر ہواوہ ظاہر ہے۔ شیر نادم ہوا کہ بڑوں اور تجربہ کاروں کی نصیحت کی قدر کرنی چاہیے تھی، لیکن ساتھ ہی یہ سوچا کہ انسان حقیر اور کم زور ہے، اس کا جُثہ اس قابل نہیں، ہاں! البتہ کوئی اندرونی طاقت ہے جس سے اس نے ساری دنیا کو بے بس رکھا ہے۔
الغرض یہ حکایت عبرت اور انسانی طاقت کے سامنے لانے کے لیے پیش کی گئی ہے اور مشاہدات کی روسے ماننا پڑتا ہے کہ انسان میں ان عناصر سے کہیں زیادہ طاقت ہے ،تب ہی تو اس نے جہانِ رنگ وبوکو تہہ وبالا کر رکھا ہے۔ اور جیسا کہ ثابت ہوگیا کہ عناصر اربعہ سے اس میں لطافت کہیں زیادہ ہے تو ماننا پڑے گا کہ اس میں طاقت بھی زیادہ ہے، کیوں کہ پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ لطافت ہی طاقت کا سرچشمہ ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ لطافت کیا ہے، تو سیدھا جواب ہے کہ روحِ انسانی۔
روح انسانی
روح انسانی کی لطافت کا یہ عالم ہے کہ باوجود انسان کے رگ وپے میں سمائے ہونے کے کبھی اس کا دھکا تک انسان کو نہیں لگا، بلکہ کبھی لمس ومس تک کا احساس نہیں ہوا، جب کہ ہوا جیسی لطیف چیز میں بھی دھکا اور لمس ومس سے بچنا محال ہے، روح منفعل ہے تو اتنی کہ اس کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں اور منفعل ایسی کہ کسی حاسہ کی اس تک رسائی نہ ہو، خود اس پر کوئی سرد وگرم نہ پہنچ سکے، اس لیے وہ فقط اپنے بدن پر ہی نہیں، بلکہ عناصر اربعہ پر غالب آجائے ۔ تو ظاہر ہے کہ انسان میں ایسی چیز فقط روح ہی ہے، کیوں کہ انسان بدن وروح کے مجسمہ کا نام ہے، بدن مادیات کا مرکب ہے، وہ تو یہ کام کر نہیں سکتا لہٰذا روح ہی باقی رہی اور یہی ہمارا دعویٰ ہے کہ انسانی غلبہ وتسلط کا راز روح ہی میں ہے۔ روح کی لطافت وحسِ نورانیت کا یہ عالم ہے کہ آج تک انسانی عقل اس کا ادراک نہیں کر سکی، اس کا فوٹو نہیں لیا جا سکا، اسے ہوا کی طرح کنٹرول کرنے کا کوئی ذریعہ نہ بن سکا اور ایک روح ہے کہ سب کچھ اس کے کنٹرول میں ہے، جہاں بھر کا فوٹو وہ لے لے، سینری وہ بنالے اور سب پر غلبہ وتسلط حاصل کرلے۔
سوال یہ ہے کہ روح ہے کیا ؟ پیغمبر علیہ السلام سے سوال ہوا تو آپ نے من جانب اللہ جواب دیا: ﴿الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي﴾.
اور اس امر ربی کو ربِ کا ئنات سے عجیب مماثلت ہے ۔ مثلا حق تعالیٰ غیر مرئی طریق پر تمام عالم کا قیوم اور مدبر ہے تو اسی طرح روح کائناتِ بدن کی قیوم ومربی ہے، پھر جس طرح انوارِ باری تعالیٰ کا ئنات کے ذرہ ذرہ میں آشکارا ہیں اور ہر ہر خطہ جز میں اس کی مناسبت سے کام کر رہے ہیں اور اس ظہورِ نام کے باوجود آج تک کسی نے انہیں دیکھا نہیں ، اسی طرح روح کے انوار کا ئناتِ بدن کے ہر عضو میں اس طرح پھیلے ہوئے ہیں کہ ہر عضو سے مناسب کام لے رہے ہیں اور نظر نہیں آتے #
بے حجابی یہ کہ ہر ذرہ سے جلوہ آشکار
اس پہ گھونگٹ یہ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے
گو جس طرح وہ ظاہر ہے اور باطن بھی، اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے اور باطن بھی۔ پھر جس طرح اس ساری کائنات کی زندگی اور زندگی کی ہر نقل وحرکت سے ذات حق اول اور مقدم ہے کہ اللہ ہی معطیٴ وجود ہے، اسی طرح ذاتِ حق کائنات کی ہر نقل وحرکت کا منتہا بھی ہے، ٹھیک اسی طرح بدنی کائنات کی نقل وحرکت، بلکہ اس کے نفس کی ہستی سے بھی روح اول بھی ہے اور آخر بھی، کیوں کہ روح ہی بدنی حیات کا باعث ہے۔ جب یہ نہ تھی تو بدن نہ تھا اور بعد میں بھی یہی ہوگی، تو یہ کہنا بجا ہے کہ جس طرح کائناتِ عالم کی اول وآخر ذاتِ حق ہے اسی طرح کائنات بدنی کی اوّل وآخر روح ہے۔
قوت کا سر چشمہ
پھر جس طرح ذاتِ حق تعالیٰ عالم سے متصل اتنی ہے کہ ﴿نَحْنُ أَقْرَبُ اِلَیہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ﴾․ اور ﴿ھُوَ مَعَکُمْ أَیْنَ مَا کُنتُمْ﴾ اس کی شان ہے اور پھر منفصل اتنی کہ وراء الوراء، ثم وراء الوراء، مخلوق ظلمت محض اور وہ نورِ مطلق، ٹھیک اسی طرح روح بھی بدن سے تو متصل اتنی ہے کہ زندہ بدن کی کسی رگ کا کروڑواں حصہ بھی اس سے الگ نہیں کہ ورنہ زندہ نہ رہے، لیکن دور بھی اتنی ہے کہ اس کی پاکیزگیاں بدن سے کوئی لگاوٴ ہی نہیں رکھتیں، کیوں کہ لطیف وکثیف میں کیا تناسب اور کیا رشتہ؟
کجا یہ مشت خاک اور کجا وہ جوہر پاک؟
چراغ مردہ کجا نور آفتاب کجا؟
اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ انسانی قوت وطاقت کا سرچشمہ روح ہے اور اسے ذات حق سے مناسبتیں ہی نہیں، مماثلتیں بھی ہیں اور یوں بھی روحِ امر ربی ہے، جیسا کہ گذر چکا۔ تو اس کو جتنا صحیح استعمال کیا جائے گا اتنے ہی بہت فوائد رونما ہوں گے، جتنا غلط طریق اپنایا جائے گا، اتنی ہی بربادیاں ہوں گی، تو پہلے ایک مشرقی محقق کا قول لکھا تھا کہ:
”سائنس میں مقصود ووسیلہ کی نسبت ہے“۔
کتنا درست قول ہے، اللہ تعالیٰ جو سراپا لطافت ہی نہیں، بلکہ منبع لطافت ہے۔ کَمَا قَالَ: ﴿اِنَّ اللّٰہَ لَطِیفٌ…﴾ (لقمان)
اور دوسری طرف روح بھی امر ربی ہونے کے سبب لطیف ہے اور لطافت ہی قوت کا سر چشمہ ہے اور بغیر قوت سائنسی ایجادات نا ممکن ہیں تو بیجا نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ جس طرح لطافتوں کا منبع حق تعالیٰ کی ذات ہے، اسی طرح منبعِ طاقت بھی وہی ہے اور جب منبع طاقت وہ ہے تو سائنسی ایجادات کا سرچشمہ اور مرکز ومحور بھی اسی کی ذات ہے۔ اپنی پاک دامنی، نیک نفسی اور قوت تقوی ونیکی کی بنا پر جس کی روحانیت جتنی بلند ہو گی اُتنی ہی اس میں اکتشافات وایجادات کی طاقت ہوگی۔ جب یہ مقدمات ثابت ہو گئے تو یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ منبع لطافت وطاقت کی طرف سے بھیجا ہوا آخری اور مکمل دین ایجادات واکتشافات سے کس طرح روک سکتا ہے اور ترقی کی راہ میں کس طرح آڑے آسکتا ہے۔ وہ دنیا والوں کو ترقی کی راہیں بتلاتا ہے، اس پر ابھارتا ہے۔ کما قال: ﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَیرَاتِ﴾ اور ﴿فِي ذَالِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ﴾۔
لیکن مادیاتِ محضہ میں انہماک اور غلو اور روحانی ترقی سے پہلو تہی انتہائی کور چشمی اور بدبختی ہوگی۔ جب یہ مسلمہ امر ہے کہ اسلام مقصود ہے اور سائنس وسیلہ، تو مقصود کے لیے اس کے تناسب سے اور وسیلہ کے لیے اس کے تناسب سے کوشش کرنا دانش مندی ہے ۔ بد قسمتی سے آج مقصود کو کوئی پوچھتا نہیں اور وسیلہ کے لیے جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ پھر بدقسمتی سے مسلمانوں کے یہاں سوائے سائنس کا لٹریچر پڑھنے کے کوئی عملی کار فرمائی ہے ہی نہیں ۔ گویا
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
خلاصہٴ تحریر
بہر حال اس اصولی بحث سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوئی کہ:
1- سائنس کا موضوع عناصرِ اربعہ یا بالفاظ دیگر ”مادہ اور اس کے عوارض ذاتیہ“ ہیں۔
2- عناصر اربعہ میں سے جس میں جس قدر لطافت ہے اسی قدر اس میں طاقت ہے اور وہی لطافت اس کی قوت کا سرچشمہ ہے۔
3- حضرت انسان موالیدِ ثلاثہ کی بے انتہا شاخوں میں سے ایک شاخ ہے، جس نے اپنی بے پناہ قوتوں سے عناصر اربعہ کو فرداً فرداً نہیں، بلکہ باہمی ٹکرا کر ایجادات و اکتشافات کا لامتناہی سلسلہ جاری کر رکھا ہے اور اسی طرح اپنے غلبہ وتسلط کا ثبوت بہم پہنچارہا ہے۔
4- حضرت انسان کا یہ کمال اس کی جسمانی قوت کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ روح کا مرہونِ منت ہے۔
5- روح کو حضرت حق سے کئی مماثلتیں ہیں کہ روح امرِ ربی ہے۔
6- قوت و طاقت کا سرچشمہ حضرتِ حق کی ذات ہے، کیوں کہ وہی منبعِ لطافت ہے اور طاقت در اصل لطافت کا سبب ہے۔
7- اس اعتبار سے منبعِ لطافت کے امریعنی روح سے جس کا جس قدر حصہ ہوگا اس کی قوت، ایجادات واکتشافات اسی قدر بلند وبالا ہوگی۔
8- لیکن اسلام اور سائنس میں مقصود ووسیلہ کی نسبت ثابت ہوگی۔
اس لیے ایک سچے مسلمان کی ہمت وفکر کا اصل میدان اسلام ہوگا اور وسیلہ کا میدان اسی تناسب سے اختیار کیا جائے گا۔ جب اسلام وسائنس میں مقصود ووسیلہ کی نسبت ثابت ہو گئی تو:
(الف) ایک مفکر کا یہ قول غلط فہمی پر مبنی ہو گا کہ سائنس اور مذہب حقیقت تک پہنچنے کے دو راستے ہیں۔
(ب) سائنس کو الحاد کے مترادف قرار دینے والا گروہ سراسر غلطی کا شکار سمجھا جائے گا۔
(ج) اور نہ ہی سائنس ومذہب ایک دوسرے کی ضد ہوں گے، بلکہ ان میں معقول نسبت ہے اور اپنے اپنے مقام پر اس سلسلہ میں قوت وفکر کی پرواز درست اور صحیح ہوگی، اس لیے یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ ”ارتقا پسند انسانی عقل اور ربانی ہدایات کا سنگم اسلام ہے“۔
آخر میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد نقل کر دینا مناسب ہے، جس میں سائنس ومذہب کی اصلیت وحقیقت اور باہمی فرقِ مراتب کو نہایت احسن پیرایہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ یہ ارشاد رسول بھی اس چیز کی غمازی کرتا ہے کہ سائنس ومذہب ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ جن چیزوں پر آج طبع آزمائی ہو رہی ہے ان کو اپنے اصلی مقام پر رکھ کر ایک نبی امی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آج سے چودہ سو سال پہلے واضح کر دیا تھا۔
فکر ہر کس بقدرِ ہمت اوست
فَاعْتَبِرُوا یآ اُولِی الاَبصَار․
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ میاں نے زمین کو پیدا کیا تو وہ کانپنے اور ڈرنے لگی، تب اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو پیدا کیا اور ان سے زمین پر جم جانے کے لیے فرمایا۔ ملائکہ نے پہاڑوں کی شدت وصلابت پر تعجب کیا اور کہنے لگے کہ اے پروردگار! تیری مخلوق میں کوئی چیز پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہے؟ فرمایا: ہاں، لوہا ہے۔ اس پر پھر ملائکہ نے عرض کیا کہ اے پروردگار! تیری مخلوق میں لوہے سے بڑھ کر بھی کوئی سخت چیز ہے؟ فرمایا: ہاں، آگ ہے۔
پھر عرض کیا اور آگ سے سخت؟ ارشاد: پانی۔ عرض کیا اور پانی سے سخت کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ہوا۔ پھر ملائکہ نے پوچھا اور ہوا سے بڑھ کر بھی کوئی سخت چیز ہے؟ تو فرمایا: ہاں اولادِ آدم، جو دائیں ہاتھ سے اس طرح چھپا کر صدقہ کرے کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ (ترمذی)
اندازہ لگائیں کہ سائنس کے موضوع یعنی مادیات کو کس طرح ترتیب سے بیان فرما کر اور پھر انسان کی طاقت وقدرت کو واضح فرمایا، لیکن اس طاقت کا سبب کوئی مادی چیز نہیں، بلکہ وہی روحانی عظمت وبرتری ہے، جس کو ہم پہلے تفصیل سے عرض کر چکے ہیں۔