نام و نسب
عمران نام، ابونجید کنیت، نسب نامہ یہ ہے: عمران بن حصین بن عبید بن خلف بن عبد نہم بن حذیفہ بن جہمہ بن غاضرہ بن حبشیہ بن کعب بن عمرو الکعبی۔
اسلام
عمران رضی اللہ عنہ سن 7 ہجری میں مشرف باسلام ہوئے، ان کے ساتھ ان کے باپ اور ان کی بہن بھی اس شرف سے مشرف ہوئیں۔ اسلام لانے کے بعد پھر وطن لوٹ گئے ہیں۔ (مستدرک حاکم، ج 3 ص 471)
غزوات
گو عمران وطن میں رہتے تھے، لیکن ذوق جہاد میں غزوات کے موقع پر مدینہ پہنچ جاتے تھے، چناں چہ فتح مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تھے اور ان کے قبیلہ کا علم ان ہی کے ہاتھ میں تھا۔ (اصابہ ج 5 ص 27) اس کے بعد حنین اور طائف کے غزوات میں شریک ہوئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سر یہ میں بھی ہم راہ تھے۔ (مسند احمد بن حنبل، ج 4 ص 430)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھر برابر مدینہ آتے جاتے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا دل پر اتنا اثر ہوا کہ مدینہ آنا جانا چھوڑ دیا اور گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر لی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کسی چیز میں حصہ نہیں لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب بصر ہ آباد ہوا تو یہاں منتقل ہو گئے اور گھر بنا کر مستقل اقامت اختیار کر لی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فقہ کی تعلیم کی ذمہ داری ان کے سپرد کی ہے۔ (ابن سعد، جز 7 ق اول ص 5)
بنی امیہ کے زمانہ تک زندہ رہے۔ ابن زیاد نے خراسان کی گورنری پیش کی، عمران نے انکار کر دیا۔ دوستوں نے پوچھا اتنا بڑا عہدہ کیوں مسترد کر دیا؟ کہا مجھ کو یہ پسند نہیں کہ میں تو اس کی گرمی میں نماز پڑھوں اور تم لوگ اس کی ٹھنڈک میں۔ مجھ کو خوف ہے کہ جب میں دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہوں اس وقت ابن زیاد کا کوئی نا واجب الطاعة فرمان پہنچے، ایسی حالت میں اگر اس کی تعمیل کروں تو ہلاک ہو جاؤں اور اگر لوٹ آؤں تو گردن ماری جائے۔ (مسند احمد بن حنبل، ج 5 ص 66)
علالت
عمران کی صحت نہایت خراب تھی، آخر میں استسقاء کا مرض ہو گیا تھا۔ لوگوں نے مشورہ دیا کہ داغنے سے فائدہ ہوگا، لیکن وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے داغنے کی ممانعت سن چکے تھے، اس لیے رضا مند نہ ہوئے۔ مرض برابر بڑھتا گیا، آخر میں یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ پیٹ میں شگاف ہوگیا، لیکن اس حالت میں بھی وہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عمل کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ احباب نے کہا تمہاری حالت دیکھی نہیں جاتی، تمہارے پاس کس طرح آئیں، فرمایانہ آؤ، لیکن جو چیز خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ہے اس کو میں کسی طرح پسند نہیں کر سکتا۔ (ابن سعد، ج7، ق اول تذکرہ عمران رضی اللہ عنہ۔ شگاف کا تذکرہ اسد الغابہ کی روایت میں ہے۔ ج 4 ص 138) آخر میں جب تکلیف نا قابل برداشت حد تک پہنچ گئی تو ابن زیاد کے اصرار سے راضی ہو گئے، لیکن سخت نادم وشرمسار تھے۔(اصابہ، ج 5 ص 27)
جب زندگی سے مایوس ہو گئے تو تجہیز وتکفین کے متعلق یہ ہدایت دی کہ جنازہ جلدی جلدی لے چلنا، یہود کی طرح آہستہ آہستہ نہ لے چلنا۔ جنازہ کے پیچھے آگ نہ جلانا، نالہ وشیون نہ کرنا، قبر مربع چار بالشت اونچی رکھنا، دفن کر کے واپس ہو کر کھانا کھانا، نالہ وشیون کے روکنے میں اتنی سختی برتی کہ اپنے متروکہ مال میں بعض اعزہ کو وصیت کی تھی۔ اس وصیت میں یہ شرط رکھ تھی کہ جو عورت نالہ وشیون کرے گی اس کے متعلق وصیت منسوخ ہوجائے گی۔(اسد الغابہ، ج 4 ص 138)
وفات
اسی مرض میں 53ھ میں بصرہ میں وفات پائی ۔(مستدرک حاکم، ج 3 ص 471)
اولاد
لڑکوں میں محمد خلف الصدق تھے، باپ کے بعد یہ بصرہ کی مسند قضا پر بیٹھے۔ (ابن سعد ج 7، ق اول، تذکرہٴ عمران رضی اللہ عنہ)
فضل وکمال
عمران رضی اللہ عنہ فضل و کمال کے لحاظ سے ممتاز ترین صحابہ میں تھے۔ علامہ ابن عبد البرلکھتے ہیں: کان من فضلاء الصحابة وفقہائہم، عمران، فضلاء اور فقہائے صحابہ میں تھے۔(استیعاب، ج 2 ص 468) بصری اصحاب کی جماعت میں کوئی صحابی ان کا ہمسر نہ تھا۔ محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں کہ بصری صحابیوں میں کوئی عمران سے بلند نہ تھا۔(مستدرک حاکم، ج 3 ص 471) مشہور صاحب علم تابعی حضرت حسن بصری فرماتے تھے کہ عمران بن حصین سے بہتر آدمی ہمارے یہاں نہیں آیا۔ (ایضا ص 472)
عمر ان مشرف باسلام ہونے کے بعد اپنے وطن لوٹ گئے تھے، لیکن وقتا فوقتا مدینہ جایا کرتے تھے۔ اس لیے احادیث نبوی کے سننے کے مواقع بار بار ملتے رہے، اس لیے ان کے حافظہ میں اتنی حدیثیں محفوظ تھیں کہ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر میں چاہوں تو دو دنوں تک مسلسل حدیثیں بیان کرتا رہوں اور ان میں ایک بھی مکرر نہ ہو۔ (مسند احمد بن حنبل، ج 4 ص 433) لیکن اس علم کے باوجود ان کی مرویات کی تعداد (130) حدیثوں سے زیادہ نہیں ہے۔ (تہذیب الکمال، ص 295)
اس کا سبب یہ ہے کہ روایت حدیث میں وہ حد درجہ محتاط تھے۔ عام طور پر حدیث بیان کرنے سے گریز کرتے تھے اور جب بدرجہ مجبوری اس کی نوبت آتی تو بہت سنبھل کر بیان کرتے، کہا کرتے تھے کہ میں حدیث کم بیان کرتا ہوں کہ میں نے بہت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے اصحاب کو دیکھا ہے جنہوں نے میری طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دی اور میرے ہی برابر حدیثیں سنیں، لیکن جب وہ کوئی حدیث بیان کرتے تو الفاظ میں کچھ رد وبدل ضرور ہو جاتا ہے، اگر چہ وہ اچھی نیت سے بیان کرتے ہیں، اس لیے مجھے خوف معلوم ہوتا ہے کہ ان ہی کی طرح مجھے بھی دھوکا نہ ہو۔ (مسند احمد بن حنبل، ج 4 ص 433) جس درجہ میں حدیث حفظ ہوتی اس کا بھی اظہار کر دیتے۔ جس میں حافظہ پر کامل اعتماد نہ ہوتا تو کہتے جہاں تک میرا خیال ہے، میں نے صحیح بیان کی اور اگر پورا یقین ہوا تو کہتے یہ حدیث آنحضرت کو اس طرح بیان فرماتے ہوئے سنا ہے، ان کے تلامذہ میں نجید بن عمران، ابو الاسود، ابو رجاء العطار دی، ربعی، ابن خرش، مطرف، یزید، حکم بن اعرج، زہدم جرمی، صفوان بن محرز، عبد اللہ بن رباح انصاری وغیرہ لائق ذکر ہیں۔ (تہذیب التہذیب، ج 8ص 126)
حلقہ درس
گو حضرت عمران رضی اللہ عنہ حدیثوں کے بیان کرنے میں بہت محتاط تھے، لیکن ان کی اشاعت بھی ضروری فرض تھا، اس لیے احتیاط کے ساتھ اس فرض کو بھی انجام دیتے تھے اور بصرہ کی مسجد میں مستقل حلقہ درس تھا۔ بلال بن سیاف بیان کرتے ہیں کہ مجھ کو بصرہ جانے کا اتفاق ہوا، مسجد میں دیکھا کہ لوگ ایک سفید مُو بزرگ کے گرد حلقہ باندھے ہوئے ہیں اور وہ ٹیک لگائے ہوئے ان لوگوں کو حدیثیں سنارہے ہیں۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ عمران بن حصین صحابی ہیں۔ (ابن سعد، ج 7، ق اول، ص 5)
ان کی ذات مرجع خلائق تھی اور بڑے بڑے صحابہ ان کے تفقہ کے قائل تھے، ایک مرتبہ کسی نے آکر پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیں، ایسی صورت میں وہ مطلقہ ہوئی یا نہیں؟ جواب دیا طلاق دینے والا گنہگار ہوا، لیکن عورت مطلقہ ہوگئی۔ مستفتی مزید تفصیل کے لیے ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کو عمران کا جواب سنایا۔ انہوں نے کہا خدا ہماری جماعت میں ابو نجید کے ایسے بہت سے آدمی پیدا کر دے۔ (مستدرک حاکم ج 3 ص 472) جس راستہ سے گذرتے لوگ مسائل دریافت کرتے، ابو نضرہ کو نماز سفر کے متعلق کچھ پوچھنے کی ضرورت پیش آئی، اتفاق سے عمران ان کی طرف سوار ہو کر گزرے، ابو نضرہ نے سواری کی لگام پکڑ لی اور روک کر مسئلہ پوچھا، حضرت عمران نے مفصل جواب بتایا۔(مسند احمد بن حنبل، ج 4ص 440)
فضائل اخلاق
عمران کی پوری زندگی مذہب کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی، عبادت میں بڑی محنت شاقہ برداشت کرتے تھے، معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب میں تھے جو عبادت میں بڑی محنت شاقہ برداشت کرتے تھے۔ (مستدرک حاکم، ج 3 ص 471)
احترام رسول
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتنی گہری عقیدت اور آپ کا اتنا احترام تھا کہ جس ہاتھ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی اس سے عمر بھر پیشاب کا مقام مس نہیں کیا۔ (ایضا)
پابندی اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
عمل میں اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش نظر رہتا تھا، ابن زیاد نے محصل خراج کا عہدہ پیش کیا، اس کو تو قبول کر لیا، لیکن جب خراج وصول کر کے واپس ہوئے تو ایک درہم بھی ساتھ نہیں لائے، پوچھا گیا خراج کی رقم کیا کی؟ جواب دیا جس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وصول ہوتا تھا اس طریقہ سے وصول کیا اور جن مصرفوں میں خرچ ہوتا تھا ان میں صرف کر دیا۔
او پر گزرچکا ہے کہ ابن زیاد نے خراسان کی گورنری پیش کی تھی، لیکن آپ نے محض اس لیے اس کے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا کہ ابن زیاد کا ہر واجب ونا واجب حکم ماننا پڑے گا، ان کے انکار پر حکم بن عمر وغفاری نے قبول کر لیا، عمران کو معلوم ہوا تو ان کو بلا کر کہا کہ مسلمانوں کی بہت بڑی ذمہ داری تمہارے سپرد کی گئی ہے، پھر انہیں مفید پندونصائح کیے اور اوامر و نواہی پر کار بند ہونے کی ہدایت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی کہ خدا کی معصیت میں کسی بندہ کی فرمان برداری نہ کرنی چاہیے۔ (مسند احمد بن حنبل، ج 5 ص 66) یعنی زیاد کی اطاعت میں خدا اور رسول کے خلاف عمل نہ کرنا۔
عام طور پر لباس بہت سادہ استعمال کرتے تھے، لیکن کبھی کبھی تحدیث نعمت اور اظہار تشکر کے لیے بیش قیمت کپڑا بھی زیب تن کر لیتے تھے، ایک مرتبہ خلاف معمول خز کی چادر اوڑھ کر نکلے اور کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب خدا کسی بندہ پر احسان و انعام کرتا ہے تو اس کا ظاہری اثر بھی اس پر ہونا چاہیے۔ (ابن سعد، ج 7، ق اول ص 5)