حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ

مولانا معین الدین ندوی

نام ونسب

سعد نام، ابوسعید کنیت، خاندان خدرہ سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے: سعد بن مالک بن سنان بن عبید بن ثعلبہ بن الجبر (خدرہ) ابن عوف بن حارث بن خزرج۔ والدہ کا نام انیسہ بنت ابی حارثہ تھا، وہ قبیلہ عدی بن نجار سے تھیں۔

دادا (سنان) شہید کے لقب سے مشہور اور رئیس محلہ تھے، چاہِ بصہ کے قریب اجرہ نامی قلعہ ان کی ملکیت تھا، اسلام سے پیشتر قضا کی۔

باپ نے ہجرت سے چند سال قبل عدی بن نجار میں ایک بیوہ سے نکاح کیا تھا، جو پہلے عمان اوسی کی زوجیت میں تھیں، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ انہی کے بطن سے تولد ہوئے، یہ ہجرت سے ایک برس پیشتر کا واقعہ ہے۔

اسلام

مدینہ میں تبلیغ اسلام کا سلسلہ بیعت عقبہ سے جاری تھا، خود انصار داعی اسلام بن کر توحید کا پیغام اپنے قبیلوں کو پہنچاتے تھے۔
مالک بن سنان نے اسی زمانہ میں اسلام قبول کیا، شوہر کے ساتھ بیوی بھی اسلام لائیں، اس لیے حضرت ابوسعید نے مسلمان ماں باپ کے دامن میں تربیت پائی۔
غزوات اور دیگر حالات
ہجرت کے پہلے برس مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہوئی، حضرت ابوسعید نے اس کے کاموں میں شرکت کی۔(مسند احمد بن حنبل ج 3 ص 5) غزوہ احد میں باپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں گئے، اس وقت 13 برس کا سن تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے پاؤں تک دیکھا، کمسن خیال کر کے واپس کیا، مالک نے ہاتھ پکڑ کر دکھایا کہ ہاتھ تو پورے مرد کے ہیں، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی۔
اس معرکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہوا تو مالک نے بڑھ کرخون پونچھا اور ادب کے خیال سے زمین پر پھینکنے کی بجائے پی گئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی ایسے شخص کو دیکھنے کی خواہش ہو جس کا خون میرے خون سے آمیز ہو تو مالک بن سنان کو دیکھے (مسندص 449 ج3 ) اس کے بعد نہایت جانبازانہ لڑ کر شہادت حاصل کی۔
باپ نے کوئی جائیداد نہیں چھوڑی تھی، اس لیے ان کی شہادت سے بیٹے پر کوہ الم ٹوٹ پڑا، فاقہ کشی کی نوبت آگئی، پیٹ پر پتھر باندھا، اہلیہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، آج انہوں نے فلاں شخص کو دیا ہے، تم کو بھی دیں گے۔ کہنے لگے: پہلے میں دیکھ لوں کہ گھر میں کچھ ہے؟؟ وہاں کیا دھرا تھا۔ اس لیے خدمت اقدس میں پہنچے، اس وقت آپ خطبہ دے رہے تھے کہ جو شخص ایسی حالت میں صبر کرے خدا اس کو غنی کر دے گا۔ یہ سن کر دل میں کہا میری یا قوتہ (اونٹنی کا نام تھا) موجود ہے، پھر مانگنے کی کیا ضرورت؟ یہ سوچ کر چلے آئے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو کچھ نکلا تھا پورا ہو کر رہا۔ رزاق عالم نے باب رزق کھول دیا، یہاں تک کہ تمام انصار سے دولت وثروت میں بڑھ گئے۔(باب غزوہ بنی المصطلق)
احد کے بعد مصطلق کا غزوہ پیش آیا، اس میں شریک ہوئے۔ اس کے بعد غزوہ خندق ہوا، اس میں وہ پندرہ سالہ تھے۔ عمر کی طرح ایمان کا بھی شباب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان میں داد شجاعت دی۔
صفر 8 ہجری میں عبداللہ بن غالب لیثی لشکر لے کر فدک روانہ ہوئے، یہ بھی ساتھ تھے۔ عبداللہ نے تمام لشکر کو تاکید کی کہ خبر دار متفرق نہ ہونا اور اس مصلحت کے لیے برادری قائم کرنے کی ضرورت ہوئی۔ حویصہ جو بڑے رتبہ کے صحابی تھے ان کے بھائی بنائے گئے۔ برادری کا نتیجہ عمدہ صورت میں نمودار ہوا ۔( طبقات ابن سعدص 91، حصہ مغازی)
ربیع الثانی 9 ہجری میں علقمہ بن محرز ایک سریہ کے ساتھ بھیجے گئے، یہ بھی فوج میں تھے، عبداللہ بن حذافہ نے اسی غزوہ میں صحابہ کو آگ میں کودنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن دراصل ان کا یہ منشا نہ تھا، وہ نہایت خوش مزاج آدمی تھے، طبیعت مذاق کی عادی تھی، لوگوں نے اس کو صحیح سمجھ کر کودنا چاہا تو خود روکا کہ میں تم سے مذاق کر رہا تھا۔ (مسند ص 67 وابن سعد)
اسی سلسلہ میں ایک سریہ جس میں 30 آدمی شامل تھے اور دار قطنی کی روایت کے بموجب ابو سعید رضی اللہ عنہ اس کے امیر تھے، کسی مقام کی طرف روانہ ہوا، ایک جگہ پڑاوٴ تھا، قریب کے گاوٴں والوں سے کہلا بھیجا کہ ہم تمہارے مہمان ہیں۔ انہوں نے ضیافت کرنے سے انکار کیا۔ اتفاق سے سردار قبیلہ کو بچھونے ڈنک مارا، لوگوں نے بہت علاج کیا، لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ بعض نے مشورہ دیا کہ صحابہ کے پاس جاوٴ، ان کو شاید کچھ علاج معلوم ہو، چناں چہ وہ لوگ آئے اور واقعہ بیان کیا، بعض روایتوں میں تصریح ہے کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں جھاڑ سکتا ہوں، لیکن 30 بکری اجرت ہوگی۔ انہوں نے منظور کر لیا، آپ نے جا کر سورہٴ الحمد پڑھی اور زخم پر تھوک دیا۔ وہ شخص بالکل اچھا ہوگیا اور بے تکلف چلنے پھرنے لگا اور ان لوگوں نے بکریاں لے کر مدینہ کا رخ کیا۔ سب کو تردد تھا کہ ان کا لینا جائز ہے کہ نہیں۔ آخر یہ رائے ٹھہری کہ خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جائے، آپ نے پورا واقعہ سن کر تبسم کیا اور فرمایا کہ تم کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ رُقیہ کا کام دینی ہے؟ پھر کہا تم نے ٹھیک کیا، اس کو تقسیم کر لو اور میرا حصہ بھی لگانا۔ (صحیح بخاری، کتاب الاجارہ)
ان غزوات کے علاوہ حدیبیہ، فتح مکہ ، حنین، تبوک اور اوطاس میں بھی ان کی شرکت کا پتہ چلتا ہے، صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عہد نبوت کے 12 غزوات میں ان کو شرف شرکت حاصل تھا۔ (صحیح بخاری، ج 1 ص 251) عہد نبوت کے بعد مدینہ ہی میں قیام رہا، عہد فاروقی وعثمانی میں فتویٰ دیتے تھے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جنگ نہروان پیش آئی، اس میں نہایت جوش سے حصہ لیا۔ (مسند ج 3 ص 56)فرماتے تھے کہ ترکوں کی بہ نسبت خوارج سے لڑنا زیادہ ضروری جانتا ہوں۔ (ایضا ص 33) یزید کے مطالبہ بیعت کے وقت جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے مدینہ چھوڑنے کا ارادہ فرمایا تو اور صحابہ کی طرح ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی یہ خیر خواہانہ مشورہ دیا تھا کہ آپ یہیں تشریف رکھیں (تاریخ الخلفاء سیوطی)۔ مگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے نہ مانا۔
63 ہجری میں یزید کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اہل حجاز نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی کے بیٹے تھے، بیعت کی۔ حضرت ابوسعید بھی ان میں تھے۔
63 ہجری میں اہالیان حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علانیہ یزید سے فسخ بیعت کر کے حضرت عبداللہ ابن حنظلہ الغسیل انصاری کے ہاتھ پر بیعت کی، لشکر شام سے مقابلہ پیش آیا، جس میں اہل مدینہ کو ہزیمت ہوئی اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نہایت جانبازی سے لڑ کر مارے گئے، اس وقت عجیب تشویش اور اضطراب کا عالم تھا، مدینہ کا گلی کوچہ خون سے لالہ زار تھا، مکان لوٹے جارہے تھے، عورتیں بے ناموس کی جارہی تھیں اور وہ مقام جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی طرح حرام کیا تھا، اہل شام کے ہاتھوں قتل وغارت گری کا مرکز بنا ہوا تھا۔
صحابہ سے یہ بے حرمتی دیکھی نہیں جاتی تھی، اس لیے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ پہاڑ کے ایک کھوہ میں چلے گئے تھے، لیکن یہاں بھی پناہ نہ تھی، ایک شامی بلائے بے درماں کی طرح پہنچ گیا اور اندر اتر کر تلوار اٹھائی، انہوں نے بھی دھمکانے کی خاطر تلوار کھینچ لی، وہ آگے بڑھا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر تلوار رکھ دی اور یہ آیت پڑھی: ﴿لئن بسطت الی یدک لتقتلنی ما انا بباسط یدی الیک لِأقْتُلَکَ انی اخاف اللّٰہ رب العالمین﴾. ”اگر تم مجھے مارنے کو ہاتھ بڑھاؤ گے تو میں تمہیں مارنے کو تیار نہ ہوں گا، کیوں کہ میں خدائے رب العلمین کا خوف کرتا ہوں“۔
شامی یہ سن کر پیچھے ہٹا اور کہا خدا کے لیے بتائیے آپ کون ہیں؟ فرمایا ابوسعید خدری۔ بولا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں؟ کہا ہاں۔ یہ سن کر غار سے نکل کر چلا گیا۔ (اصابہ ص 85 ج 3 وطبری ص 418حالات 63 ھ ء)
غار سے مکان آئے تو یہاں عام داروگیر تھی، شامی ابن دبحہ کے پاس پکڑ کر لے گئے، اس نے یزید کی خلافت پر بیعت لی۔ حضرت عبداللہ بن عمر کو معلوم ہوا، انہوں نے جا کر کہا میں نے سنا ہے آپ نے دو امیروں کی بیعت کی، فرمایا ہاں، پیشتر ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے کی تھی، پھر شامی پکڑ کر لے گئے اور یزید کی بیعت کی، ابن عمررضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا مجھے خوف تھا۔ کہا بھائی کیا کرتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ انسان کے شب و روز کسی امیر کی بیعت میں گزرنے چاہییں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، لیکن میں دو امیروں کی بیعت پسند نہیں کرتا۔(تذکرة الحفاظ ج 1 ص 37)
وفات
74ھ ء میں جمعہ کے دن وفات پائی، بقیع میں دفن کیے گئے۔ اس وقت بہت مسن تھے، ہاتھوں میں رعشہ تھا۔ لوگوں نے عمر کا تخمینہ 74 سال کیا ہے (مسند ج 3 ص 86) لیکن علامہ ذہبی نے لکھا ہے کہ 86 برس کی عمر تھی، (تذکرہ الحفاظ ج 1 ص 37) اور یہی صحیح ہے۔
اولاد
دو بیویاں تھیں، ایک کا نام زینب بنت کعب بن عجرہ تھا، جو بعض کے نزدیک صحابیہ تھیں۔ دوسری ام عبداللہ بنت عبداللہ مشہور تھیں اور قبیلہ اوس کے خاندان معاویہ سے تھیں۔ اولاد کے نام یہ ہیں: عبدالرحمن، حمزہ، سعید۔ (تذکرة الحفاظ ج 1 ص 37)
حلیہ
حلیہ یہ تھا: مونچھیں باریک کٹی ہوئی، داڑھی میں زرد خضاب تھا۔(ایضا ص 42)
علم وفضل
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے عہد کے سب سے بڑے فقیہ تھے۔(اصابہ ج 3 تذکرہ ابو سعید خدری)
قرآن مجید ایک قاری سے پڑھا تھا، انصار کے کئی حلقہ درس قائم تھے، جن میں علمائے انصار درس دیتے تھے۔ حضرت ابوسعید کی طالب علمی کا زمانہ تھا، لوگوں کے پاس بدن کے کپڑے تک نہ تھے، ایک دوسرے کی آڑ میں چھپ چھپ کر بیٹھتے تھے۔ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت قاری قراء ت کر رہا تھا۔ آپ کو دیکھ کر خاموش ہوگیا، آپ سب کے پاس بیٹھ گئے اور اشارہ کیا کہ لوگ دائرہ کی شکل میں بیٹھیں۔ چناں چہ سب حلقہ بنا کر بیٹھ گئے۔ اس تمام جماعت میں صرف ابوسعید کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہچانتے تھے۔(مسند ج 3 ص 63)
حدیث وفقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے سیکھی تھی، خلفائے اربعہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایتیں کیں۔
کثرت سے حدیثیں یاد تھیں، ان کی مرویات کی تعداد 1170 ہے، ان صحابہ اور ممتاز تابعین کے نام جنہوں نے ان سے سماع حدیث کیا تھا یہ ہیں۔
زید بن ثابت، عبداللہ بن عباس، انس بن مالک، ابن عمر، ابن زبیر، جابر، ابو قتادہ، محمود بن لبید، ابو الطفیل، ابوامامہ بن سہل، سعید بن مسیب، طارق بن شہاب رضی اللہ عنہم، عطاء، مجاہد، ابو عثمان نہدی، عبید بن عمیر، عیاض بن ابی سرح، بشر بن سعید، ابونصرہ، سعید بن سیرین، عبد اللہ بن محریز، ابو المتوکل ناجی و غیرہم۔
آپ کا حلقہ درس آدمیوں سے ہر وقت معمور رہتا تھا، جو لوگ کوئی خاص سوال کرنا چاہتے تو بہت دیر سے موقع ملتا ہے۔(مسند ج 3 ص 35)
اوقات درس کے علاوہ بھی اگر کوئی شخص کچھ دریافت کرنا چاہتا تو جواب سے مشرف فرماتے۔ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے علی اور غلام عکرمہ کو بھیجا کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث سن کر آؤ۔ اس وقت وہ باغ میں تھے، ان لوگوں کو دیکھ کر ان کے پاس آکر بیٹھے اور حدیث بھی بیان کی۔ (ایضا ص 90، 91)
روایت حدیث کے ساتھ سماع کی نوعیت بھی ظاہر فرما دیتے تھے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کسی سے ایک حدیث سنی تھی وہ ابوسعید سے راوی تھا، ابن عمر رضی اللہ عنہ اس کو لے کر ان کے پاس گئے اور پوچھا، اس شخص نے فلاں حدیث آپ سے سنی ہے، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی؟ فرمایا بصر عینی وسمع اذنی یعنی میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا۔ (مسند ج 3ص 91)
ایک راوی قرعہ کو ایک حدیث بہت پسند آئی، انہوں نے بڑھ کر پوچھا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو سنا تھا؟ اس سوال پر حضرت ابوسعید کو غصہ آ گیا، فرمایا تو کیا میں بے سنے بیان کر رہا ہوں؟ ہاں! میں نے سنا تھا۔
جس حدیث کے الفاظ پر اعتماد نہ ہوتا اس کے بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک حدیث روایت کی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں لیا۔ ایک شخص نے پوچھا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے؟ فرمایا میں بھی جانتا ہوں۔(مسند ج 3 ص 29)
اخلاق وعادات
نہایت حق گو تھے، فرمایا کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق گوئی کی تاکید کرتے سنا تھا، لیکن کاش نہ سنا ہوتا(ایضا ص 5)۔ ایک مرتبہ اس حدیث کا جس میں حق گوئی کی تاکید تھی، ذکر چھیڑا تو روک کر کہا کہ حدیث تو ضرور سنی، لیکن عمل بالکل نہ ہو سکا (ایضا ص 61، 71)۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں بہت سی نئی باتیں پیدا ہوگئی تھیں، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سفر کر کے ان کے پاس گئے اور تمام خرابیاں گوش گزار کیں۔(ایضا ص 84)
ایک مرتبہ انہی سے انصار کے متعلق گفتگو آئی تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو تکلیفوں پر صبر کرنے کا حکم دیا، امیر نے کہا تو صبر کیجیے۔ (ایضا ص 89)
ایک مرتبہ مروان سے فضیلت صحابہ کی حدیث بیان کی، وہ بولا کیا جھوٹ بکتے ہو؟ زید بن ثابت اور رافع بن خدیج بھی اس کے تخت پر بیٹھے تھے، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا ان سے پوچھو، لیکن یہ کیوں بتائیں گے؟ ایک کو صدقہ کی افسری سے معزول ہونے کا خوف ہوگا، دوسرے کو ڈر ہوگا کہ جنبش لب سے ریاست قوم چھنتی ہے۔ یہ سن کر مروان نے مارنے کو درہ اٹھایا، اس وقت دونوں بزرگوں نے ان کی تصدیق کی۔(ایضا ص 33)
اسی طرح مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز سے قبل خطبہ پڑھا۔ ایک شخص نے اٹھ کر ٹوکا کہ دونوں باتیں خلاف سنت ہیں، بولا کہ اگلا طریقہ متروک ہوچکا ہے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا چاہے کچھ ہو، مگر اس نے اپنا فرض ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جو شخص امر منکر دیکھے تو اس کو ہاتھ سے دفع کرنا چاہیے، اگر اس پر قدرت نہ ہو تو زبان سے اور یہ بھی نہیں تو کم از کم دل سے ضرور برا سمجھے۔ (مسند ج 3 ص 10)
امر بالمعروف کے ولولہ کا یہ حال تھا کہ یہی مروان ایک مرتبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک جنازہ سامنے سے گزرا، اس میں ابوسعید بھی شریک تھے، دیکھا تو دونوں جنازہ کے لیے نہیں اٹھے، فرمایا اے امیر! جنازہ کے لیے اٹھ، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھا کرتے تھے، یہ سن کر مروان کھڑا ہو گیا۔(مسند 3ص 47، 97)
جب مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ مدینہ کے حاکم مقرر ہوئے تو عید الفطر میں دریافت فرمایا کہ نماز اور خطبہ میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کیا تھا؟ فرمایا خطبہ سے قبل نماز پڑھاتے تھے، چناں چہ مصعب رضی اللہ عنہ نے اس دن اسی قول پر عمل کیا۔ (ایضا ص 9)
ایک مرتبہ شہر بن حوشب کو سفر طور کا خیال دامن گیر ہوا، وہ ملاقات کو آئے، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تین مسجدوں کے علاوہ (اور کسی مقدس مقام کے لیے) شدِّر حال کی ممانعت ہے۔(ایضا ص 93، ص 35)
ابن ابی صعصعہ مازنی کو جنگل پسند تھا، ان کو ہدایت کی کہ وہاں زور سے اذان دیا کریں کہ تمام جنگل نعرہ تکبیر سے گونج اٹھے۔ (ایضا ص 95)
نہی عن المنکر کی یہ کیفیت تھی کہ ان کی بہن متواتر بغیر کچھ کھائے پئے روزے رکھتی تھیں، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے روزوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ ان کو ہمیشہ منع کرتے تھے۔ (مسند ج 3 ص 18)
سنت کے پورے متبع تھے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مسجد میں نماز پڑھایا کرتے تھے، وہ ایک مرتبہ بیمار ہو گئے یا کسی سبب نہ آسکے، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے امامت کی، ان کے طریقہ نماز سے لوگوں نے اختلاف کیا، انہوں نے منبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا، میں نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے اس طرح پڑھائی، باقی تمہارے طریقہ کی مخالفت، تو اس کی مجھے بالکل پروا نہیں ہے۔(مسند ج 3 ص 18)
مزاج میں بردباری اور تحمل تھا، ایک مرتبہ پاؤں میں درد ہوا۔ پیر پر پیر رکھے لیٹے تھے کہ آپ کے بھائی نے آکر اسی پاوٴں پر ہاتھ مارا، جس سے درد بڑھ گیا، انہوں نے نہایت نرم لہجہ میں کہا، تم نے مجھے تکلیف پہنچائی، جانتے تھے کہ درد ہے؟ جواب ملا ہاں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح لیٹنے سے ممانعت فرمائی ہے۔(مسند ج 3ص 18)
مگر ناحق باتوں پر غصہ بھی آجاتا تھا، ایک مرتبہ حج پر جارہے تھے، ایک درخت کے نیچے قیام ہوا، ابن صیاد بھی جس کے دجال ہونے میں خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شبہ تھا، اسی درخت کے نیچے ٹھہرا تھا۔ ان کو برا معلوم ہوا، لیکن خاموش رہے۔ اس نے خود چھیڑ کر اپنی مظلومیت کی داستان سنائی، ان کو رحم آگیا، مگر جب اس نے خلاف واقعہ دعویٰ کیا تو بگڑ کر فرمایا: تبا لک سائر الیوم۔ (ایضا)
سادگی اور بے تکلفی فطرت ثانیہ تھی، ایک جنازہ میں بلائے گئے، سب سے اخیر میں پہنچے، لوگ بیٹھ چکے تھے، ان کو دیکھ کر اٹھے اور جگہ خالی کردی، فرمایا یہ مناسب نہیں، انسان کو کشادہ جگہ میں بیٹھنا چاہیے۔ چناں چہ سب سے الگ کھلی جگہ پر جا کر بیٹھے۔ (ایضا ص 43)
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے یارانہ تھا، ایک مرتبہ انہوں نے آواز دی، یہ چادر اوڑھے نکل آئے، ابو سلمہ رحمہ اللہ نے کہا ذرا باغ تک چلیے، آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔ چناں چہ یہ ساتھ ہو لیے۔ (ایضا ص 18 وایضا) اس واقعہ میں یہ بات لحاظ کے قابل ہے کہ ابو سلمہ تابعی اور وہ صحابی ہیں، اس کے ماسوا ابو سلمہ کو شرف تلمذ بھی حاصل ہے۔
یتیموں کی پرورش کرتے تھے، لیث اور سلیمان بن عمرو عبد العتواری انہیں کے تربیت یافتہ تھے۔ (مسند ج 3 ص 60)
ہاتھ میں چھڑی لیتے تھے، پتلی چھڑیاں زیادہ پسند تھیں، کھجور کی شاخیں لاتے اور ان کو سیدھا کر کے چھڑی بناتے، یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع تھا۔ (ایضا ص 11، ص 33 ایضا ص 65)

بہشت کے باسی سے متعلق