الحمد للّٰہ ربّ العٰلمین، الذی خلق الانسان فی اطوار الاربعین، والصلوة والسلام علی من بعث علی رأس الاربعین، وعلی من صحبہ وتبعہ باحسان الی یوم الدین․
جمع وحفاظتِ قرآن مجید کے بعد احادیث نبویہ اور سنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جمع وضبط، حفاظت وصیانت پر جن احوال وظروف اور ارشاداتِ خاتم الانبیاء نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمتہ اللہ علیہم کو آمادہ کیا ہے اُن میں اُن بشارتوں کا بھی ایک خاص مقام ہے جن کی وجہ سے علمائے امت کے لیے صحرائے احادیث کے سنگ پاروں اور بحر آثار کے قطروں کو محفوظ کرنا ایک اہم علمی وظیفہ اور دینی خدمت بن گیا۔ مثلاً نضّر اللّٰہ عبدًا سمع مقالتی فحفظہا ووعاہا واداہا الخ اور نضّر اللّٰہ امرأ سمع منّا شیئا فبلّغہ کما سمع الخ اور من حفظ علی امتی اربعین حدیثا من امر دینہا بعثہ اللّٰہ یوم القیامة فی زمرة الفقہاء والعلماء وغیرہا۔
نبی ٴرحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس حدیثوں کے حفظ ونقل پر جو عظیم بشارت دی ہے اس کے پیش نظر خیرالقرون سے اب تک بے شمار لوگوں نے احادیث کی حفاظت کی اور زبانی یا تحریری طریقہ سے دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا، چناں چہ فن حدیث کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ کتب احادیث کی اقسام میں محدثین نے ایک خاص قسم ”اربعینات“ بھی ذکر کی ہے، اِن اربعینات کا تعارف پیش کرنے سے قبل مذکورہ بالا حدیث اربعین کے کچھ متعلقات ذکر کرنا مناسب اور مفید ہوگا۔
یہ حدیث امام محی الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمتہ اللہ علیہ کے بقول، کئی صحابہ کرام حضرت علی رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، انس بن مالک رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہم سے مختلف الفاظ کے ساتھ کئی طرق سے مروی ہے۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی روایت میں”کنتُ لہ یوم القیامة شفیعًا وشہیدًا“ ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ”قیل لہ اُدخلِ الجنة من اَیِّ ابوابِ الجنة شِئتَ“ آیا ہے۔ ابن عمررضی اللہ عنہ کی روایت میں ”کُتِب فی زمرة العلماء و حُشِر فی زمرة الشہداء“ منقول ہے۔ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ”اَدخَلتُہ یوم القیامة فی شفاعتی“ وارد ہے۔ نیز بعض روایت میں ”اربعین حدیثا من السنة“ یا ”مِن سنتی“ کا لفظ ہے۔ اور بعض میں ”من حفظ علی امتی“ کے بجائے ”من حمل مِن امتی“ کالفظ پایا جاتا ہے۔ (الجامع الصغیر للسیوطی، الاربعین للنووی)
حافظ ابن حجررحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”یہ حدیث تیرہ(13) صحابہ کرام سے وارد ہوئی ہے۔ ابن جوزی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب عِلَل میں اُن تمام کی تخریج کی ہے اور امام منذری نے اس حدیث پر مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے اور میں نے املاء میں اس کی تلخیص کی ہے، ایک جز میں حدیث کے تمام طرق کو جمع کیا ہے“۔ (فیض القدیر،ج:6،ص:155)
علامہ عبدالرؤف مناوی صاحب فیض القدیر حدیث کے الفاظ مختلفہ کے مابین جمع وتطبیق یا حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اربعین کے حفظ کرنے والے قیامت کے دن مختلف المراتب ہوں گے، بعضوں کاحشر زمرئہ شہداء میں ہوگا اور بعضوں کو علماء میں اور بعض کو بحیثیت فقیہ وعالم اٹھائیں گے، اگرچہ وہ دنیا میں ایسا نہیں تھا۔ (شرح اربعین لابن دقیق العید)
حدیث اربعین کا حکم
علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے جامع صغیر میں بحوالہ ابن النجار اس حدیث کو نقل کرکے اس پر صحیح کی علامت لگائی ہے، البتہ محققین کا اتفاق ہے کہ یہ خبر اپنے جمیع طرق کے اعتبار سے ضعیف ہے۔ قال ابن حجر… ثم جمعت طرقہ فی جزء لیس فیہا طریق تسلم من عِلة قادحة․ (فیض القدیر) واتفق الحفاظ علی انہ حدیث ضعیف وان کثرت طرقہ․ (اربعین للنووی)
مگر چوں کہ فضائل میں عمل بالضعیف درست ہے، خصوصاً جب کہ کثرت طرق وغیرہ امور سے حدیث میں قوت آجاتی ہے۔ وقد اتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال․ (اربعین للنووی) قال ابن عساکر: الحدیث روی عن علی رضی اللہ عنہ … وابی سعید رضی اللہ عنہ باسانید فیہا کلہا مقال، لیس للتصحیح فیہا مجال، لکن کثرة طرقہ تقوّیہ․ (فیض القدیر، ج:6، ص:154) یہی وجہ ہے کہ فضیلت وثواب کی تحصیل اور سعادت اخروی کے حصول کی خاطر علمائے امت نے اربعین پر اتنی تصنیفات وتالیفات کی ہیں کہ لا تُعد ولا تُحصٰی․
تنبیہ: متقدمین ومتأخرین اصحابِ حدیث کا عمل بالحدیث الضعیف کے جواز پر قولاً اتفاق اور خیرالقرون سے اب تک بغیر فترت کے ہرزمانہ میں علماء کا اس عظیم بشارت کے پیش نظر حدیث اربعین کا حفظ ونقل یا تصنیف وتالیف پر عملاً اجماع ایک مسلّم حقیقت ہے، اس تواتر عملی اور اجماعِ قولی کے مقابل غیرمقلدین کا نظریہ اور ان کا شور وشغب کہ ”فضائل میں بھی ضعیف حدیث پر عمل جائز نہیں ہے“ لا یُعبأبہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ آفتاب عالم تاب کے سامنے ٹمٹماتے چراغ کا وجود سچ پوچھیے تو خود اس کی ذات کے لیے باعث شرمندگی ہے، پس اہل حدیث ہونے کا دعویٰ کرنے والے (غیر مقلدین) اگرحدیث میں فہم صحیح کی اہلیت اور عمل بالحدیث کی لیاقت پیدا کرکے، سبیل المومنین یعنی اہل السنة والجماعة کی طرح، حقائق کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ ان کے حق میں نفع ہے اور آخرت میں سود مند ہوگا۔ ورنہ کہیں سبیل المومنین سے روگردانی اور کنارہ کشی اللہ کی ناراضگی کاسبب اور غضبِ الٰہی کا ذریعہ نہ بن جائے۔
عمل بالاربعین کی لطیف صورت
علامہ مناوی فرماتے ہیں کہ اربعین کا پہلا عدد 1 رُبع عشر ہے، پس جس طرح حدیثِ زکوٰة ربع عشر بقیہ مال کی تطہیر پر دلالت کرتی ہے، اسی طرح ربع عشر پر عمل بقیہ احادیث کو غیر معمول بہا ہونے سے خارج کردیتا ہے۔ چناں چہ بِشر حافی رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے: اے اصحاب حدیث! ہر چالیس میں سے ایک حدیث پر عمل کرلو۔ (شرح اربعین لابن دقیق العید)
امام نووی فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اِس سلسلہ میں عبداللہ بن مبارک a نے تصنیف کی ہے، پھر محمد بن اسلم طوسی عالم ربانی نے پھر حسن بن سفیان نسائی نے اورامام ابوبکر آجری، ابوبکر اصفہانی، دارقطنی، حاکم، ابونعیم اور ابوعبدالرحمن سلمی وغیرہم متقدمین ومتأخرین کی بڑی تعداد نے تصنیف کی ہے۔ نیز ہر ایک کے اغراض ومقاصد مختلف اور طرز انتخاب بھی جداگانہ ہے، کسی نے اصولِ دین کے مضمون کو بنیاد بنایا، کسی نے فروعی مسائل سے تعرض کیا۔ کسی نے جہاد میں حصہ لیا تو کسی نے زہد اختیار کیا۔ اور کسی نے آداب زندگی کو مطمح نظر رکھاتو کسی نے خطبہ کو موضوع بنایا۔ بعض نے اختصار وایجاز کا طریق اختیار کیا تو بعض نے جوامع الکلم کو ظاہر وروشن کیا۔ بعض نے صحتِ احادیث کا التزام کیا تو بعض نے حَسَن وضعیف روایت کو بھی جگہ دی۔ حتی کہ بعض نے صرف اس کا اہتمام کیا کہ احادیث طعن وقدح سے سالم ومحفوظ ہو، خواہ کسی بھی مضمون سے متعلق ہو۔ پھر اسی پر بس نہیں، بلکہ بعضوں نے جدت طرازی، غرابت پسندی اور تلون مزاجی کا بھی ثبوت دیا ہے، جس سے پڑھنے والوں کو علمی بالیدگی، ذہنی نشاط اور قلبی انشراح کا ہونا ظاہر ہے، تاکہ سنت پر عمل کا داعیہ پیدا ہو۔ غرض یہ کہ جس نے بھی امت کی نفع رسانی کے لیے چالیس احادیث اُن تک پہنچائیں اور خود بھی دین پر قائم اور عمل پیرا رہا وہ ان شاء اللہ اس فضیلت کا مستحق ہوگا۔ (فیض القدیر،ج:6، اربعین نووی)
صاحب کشف الظنون علامہ مصطفی بن عبداللہ معروف بکاتب چلپی متوفی 1067ھ نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے اپنے زمانہ تک کے مشاہیر علماء میں سے تقریباً 75 علماء کی نوّے (90)سے زائد اربعینات کا ذکر کیا ہے، ان میں سے یہاں چند کا تعارف ان کی مختلف الجہت موضوع کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
(1) اربعین لابن المبارک المتوفی 181ھ: امام نووی فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق یہ پہلی اربعین ہے، جو تصنیف کی گئی ہے۔
(2) اربعین لابی بکر البیہقی: امام ابوبکر شمس الدین احمد بن حسین الشافعی البیہقی متوفی 458ھ کی تصنیف ہے، اس میں سو احادیثِ اخلاق کو 40/ ابواب پر مرتب فرمایا ہے۔
(3) اربعین الطائیہ: ابوالفتوح محمد بن محمد بن علی الطائی الہمدانی متوفی 555ھ کی ہے، اس میں مصنف نے اپنی مسموعات میں سے چالیس حدیثیں چایس شیوخ سے املا کرائی ہیں، اس طرح پر کہ ہر حدیث الگ صحابی سے ہے، پھر ہر صحابی کی سوانح حیات ان کے فضائل اور ہر حدیث کے فوائد مشتملہ، الفاظ غریبہ کی تشریح اور پھر چند مستحسن جملے ذکر کیے ہیں، اس کتاب کا نام اربعین فی ارشاد السائرین الی منازل الیقین رکھا، بقول علامہ سمعانی رحمتہ اللہ علیہ کتاب بہت خوب اور عمدہ ہے، جس کا تعلق علوم حدیث، فقہ، ادب اور وعظ سے ہے۔
(4) اربعینات لابن عساکر: ابوالقاسم علی بن حسن الدمشقی الشافعی متوفی 571ھ نے کئی اربعین لکھی ہیں: (1) اربعین طوال، (2) اربعین فی الابدال العوال، (3) اربعین فی الاجتہاد فی اقامة الحدود، (4) اربعین بلدانیہ۔ اربعین طوال میں چالیس ایسی طویل حدیثیں جمع کی ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دلالت کرتی اور صحابہ کرام کے فضائل کو بھی بتلاتی ہیں۔ ساتھ ساتھ ہر حدیث کی صحت و سقم کو بھی ظاہر کیا ہے۔
(5) اربعین بلدانیہ: ابوطاہر احمد بن محمد السلفی الاصبہانی متوفی 576ھ نے چالیس حدیثیں، چالیس شیوخ سے، چالیس شہروں میں جمع کی ہیں۔ ابن عساکر نے ان کی اتباع میں ایسی بھی ایک اربعین لکھی اور اس پر یہ اضافہ کیا کہ وہ حدیثیں چالیس صحابہ کرام سے چالیس بابوں میں ذکر کیں۔ چوں کہ ہر حدیث کے مالہ وماعلیہ پر کلام بھی کیا ہے، اس سے ہر باب گویا مستقل کتابچہ بن گیا ہے۔
اربعین بلدانیہ اور بھی بہت سے محدثین نے لکھی ہیں۔
(6) اربعین فی اصول الدین: امام فخرالدین محمد بن عمر الرازی متوفی 606ھ نے اس کو اپنے فرزند محمد کے لیے تالیف کیا تھا، جسے علم کلام کے چالیس مسائل پر مرتب کیا ہے۔
(7) الاربعین فی اصول الدین: ابوحامد محمد بن محمد الغزالی رحمة اللہ علیہ کی ہے، جو تصوف کے مسائل پر مشتمل ہے۔
(8) الاربعین: موفق الدین عبداللطیف بن یوسف الحکیم الفیلسوف البغدادی متوفی 629ھ نے طب نبوی پر جمع کی ہے۔
(9) الاربعین: محمد بن احمد الیمنی البطّال متوفی 630ھ نے اس میں صبح و شام کے اذکار ذکر کیے ہیں۔
(10) الاربعین المختارة فی فضل الحج والزیارة: حافظ جمال الدین الاندلسی متوفی 663ھ کی ہے۔ (اس نوع کی ایک اربعین شاہ محمداسحاق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کی بھی ہے)
(11) اربعین للنووی: ابوزکریا محی الدین یحییٰ بن شرف النووی الشافعی متوفی 676ھ نے تالیف کی ہے، اس میں امام نووی نے متقدمین علماء کے مقاصد منفردہ کو یکجا کردیا ہے، یعنی ایسی حدیثوں کا انتخاب فرمایا ہے جو دین وشریعت کے اصول وبنیاد ہیں اوراعمال واخلاق کی اَساس اور تقویٰ وپاکیزگی کے لیے مدار ہیں، نیز صحت کا بھی التزام کیا ہے، بلکہ اکثر احادیث صحیحین سے ماخوذ ہیں۔ اخیر میں اربعین پر دو کااضافہ کرکے غالباً ان عدد الاربعین للتکثیر لا للتحدید کی طرف اشارہ کردیا۔
چوں کہ یہ اربعین جامع المقاصد تھی، اس لیے بعد کے علمائے فحول نے اس کی تشریح و توضیح کی طرف خصوصی توجہ مبذول کی ہے، علامہ چلپی نے تقریباً 20 شارحین کا ذکر کیا ہے، جن میں ایک علامہ ابن حجر عسقلانی بھی ہیں، جنہوں نے احادیث کی تخریج کی ہے۔ اس کی ایک عمدہ شرح علامہ ابن دقیق العید کی بھی ہے، مگر کشف الظنون میں اس کا ذکر نہیں ہے۔
(12) اربعین لابن الجزری: شمس الدین محمد بن محمد الجزری الشافعی متوفی 838ھ نے اس میں ایسی چالیس حدیثیں ذکر کی ہیں جو اصح، افصح اور اوجز ہیں۔
(13) اربعینات للسیوطی: علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی متوفی911ھ نے کئی اربعین تالیف کی ہیں، ایک فضائل جہاد میں، ایک رفع الیدین فی الدعاء میں، ایک امام مالک کی روایت سے، ایک روایت متباینہ میں۔
(14) اربعین عدلیہ: شہاب الدین احمد بن حجر المکی متوفی 973ھ نے اپنی سند سے ایسی چالیس احادیث جمع کی ہیں جو عدل وعادل سے متعلق ہیں۔
(15) الاربعین عشاریات الاسناد: قاضی جمال الدین ابراہیم بن علی قلقشندی الشافعی متوفی 960ھ نے تصنیف کی ہے، اس میں انہوں نے ایسی چالیس روایات املاء کرائی ہیں جو سند کے اعتبار سے عالی ہیں، اگرچہ حَسَن کے درجہ تک نہیں پہنچی ہیں۔
(16) اربعین لابن العربی: محی الدین محمد بن علی متوفی 638ھ نے اسے مکہ میں جمع کیا اس شرط کے ساتھ کہ اس کی سند اللہ تبارک وتعالیٰ تک پہنچتی ہے (یعنی بواسطہٴ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)، پھر اس کے بعد اور چالیس روایتیں اللہ تعالیٰ سے نقل کی ہیں، اس طرح کہ اس کی سند بغیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ کے اللہ تک پہنچتی ہے۔
(17) اربعین طاش کبری زادہ: احمد بن مصطفی الرومی متوفی 968ھ نے اس میں ایسی چالیس حدیثیں ذکر کی ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور مزاح ودل بستگی کے صادر ہوئی ہیں۔
(18) اربعین یمانیہ: محمد بن عبدالحمید القرشی کی ہے، جو یمن کے فضائل پر مشتمل ہے۔
(19) اربعین لخویشاوند: ابوسعید احمد بن الطوسی رحمہ اللہ کی ہے، اس میں فقراء اور صالحین کے مناقب میں 104احادیث بیان کی ہیں۔
(20) اربعین قدسیہ: حسین بن احمد بن محمد التبریزی رحمہ اللہ نے ایسی احادیث کا انتخاب کیاہے جن کا تعلق اسرار عرفانی اور علوم لدنی سے ہے، پھر صوفیاء کے مذاق کے مطابق اس کی شرح کی ہے اور ساتھ ساتھ چالیس حدیث قدسی مع شرح کے اضافہ کیا ہے، اس کتاب کا نام مفتاح الکنوز ومصباح الرموز ہے۔
(21،22) الاربعین فی فضائل عثمان رضی اللہ عنہ، الاربعین فی فضائل علی رضی اللہ عنہ: یہ دونوں ابوالخیر رضی الدین القزوینی رحمہ اللہ کی ہیں۔
(23) الاربعین فی فضائل العباس رضی اللہ عنہ: ابوالقاسم حمزہ بن یوسف السہمی الجرجانی متوفی 427ھ کی ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ متوفی 1402ھ نے بھی لامع الدراری کے مقدمہ میں کئی اربعینات کا ذکر کیا ہے، منجملہ ان کے یہ ہیں:
(24)اربعین عالیہ: شیخ الاسلام حافظ احمد بن حجر العسقلانی الشافعی متوفی 852ھ کی ہے، اس میں انھوں نے صحیحین میں سے ایسی چالیس حدیثیں ذکر کی ہیں جن میں مسلم کی سند بخاری کی سند سے عالی ہے، اس کے علاوہ اربعین متباینہ اور اربعین نووی کی تخریج وغیرہ بھی ہے۔
(25) الاربعین الالٰہیہ: حافظ ابوسعید خلیل بن کیکلدی متوفی 761ھ نے کئی اربعینات تالیف کی ہیں، ایک یہی جو تین جزوں میں ہے، دوسری الاربعین فی اعمال المتقین 46/اجزا میں اور الاربعین المعنعنہ 12/ اجزا میں ہے۔
(26) اربعین: مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی متوفی 1176ھ نے ایسی چالیس احادیث کا انتخاب فرمایا ہے جو قلیل المبانی وکثیر المعانی یعنی جوامع الکلم کے قبیل سے ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث کے والد ماجد مولانا یحییٰ کاندھلوی ”مفید الطالبین“ کی جگہ اسی اربعین کا درس دیاکرتے تھے (شاہ صاحب کی اِس اربعین کا منظوم ترجمہ مولانا ہادی علی لکھنوی نے کیا ہے، جو تسخیر کے تاریخی نام سے موسوم ہے۔) یہ اربعین رسالہ ”المسلسلات“ میں شامل ہوکر مطبوع ہے۔
مولانا ابوسلمہ شفیع احمد شیخ الحدیث والتفسیر مدرسہ عالیہ کلکتہ متوفی 1406ھ نے اپنے مضمون ”ہندوستان میں علوم حدیث کی تالیفات“ میں اور مضمون کے تکملہ میں محدث کبیر مولانا حبیب الرحمن الاعظمی نے مزید چند اربعین کا ذکر کیا ہے اور یہ سب علمائے برصغیر کی خدماتِ علم حدیث کی ایک کڑی ہے۔
(27)اربعین (چہل حدیث): حکیم الامت مولانا اشرف علی التھانوی متوفی 1362ھ نے صرف مسلم شریف کی حدیث معمر عن ہمام بن منبہ عن ابی ہریرہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جمع کیا ہے، ان تمام احادیث کی سند ایک ہے۔
(28) اربعین عن مرویات نعمان سید المجتہدین: مولانا محمد ادریس نگرامی متوفی 1331ھ نے ایسی چالیس حدیثیں جمع فرمائی ہیں جو امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت سید المجتہدین کی مرویات میں سے ہیں۔
امیرالمومنین فی الحدیث حضرت ابن المبارک کی اربعین سے لے کر اب تک کے ذخیرہ اربعینات میں سے مشت نمونہ از خروارے صرف چند کا تعارف پیش کیاگیا ہے، استیعاب مقصود نہیں ہے۔ فجزاہم اللّٰہ عن سائر الامة خیر الجزاء․