دور حاضر میں اہل علم کے درمیان یہ قول زبان زد عام ہے کہ ”بخاری شریف“ اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ہے، یعنی قرآن پاک کے بعد سب سے زیادہ صحیح ومعتبر کتاب صحیح بخاری ہے۔ یہ قول ہر خاص وعام کے مابین اتنا مشہور ہوگیا کہ گویا یہ ایک متفقہ اور اٹل حقیقت ہے، جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں، بظاہر یہ بات درست اور بے ضرر سی معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر اس قول کے مالہ وماعلیہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور اسے بنظرِ تحقیق دیکھا اور پرکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس قول سے علمِ حدیث کے متعدد اصول وضوابط ٹوٹتے ہیں اور کئی فقہی قواعد کا بطلان ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہت سے اسلاف واکابرین نے واضح الفاظ میں اس قول کی تردید کی اور اس کے مفاسد کا ذکر کیا ہے۔ ذیل میں حضراتِ فقہائے کرام اور محدثین عظام کے اقوال کی روشنی میں اس قول ”اصح الکتب بعد کتاب اللہ“ کا تاریخی جائزہ اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا جا رہا ہے۔
اصح الکتب بعد کتاب اللہ کے بارے میں اقوال
اس بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ یعنی قرآن پاک کے بعد سب سے زیادہ صحیح ومعتبر کتاب کون سی ہے؟ جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
پہلا قول: متعدد اہلِ علم نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ ”اصح الکتب بعد کتاب اللہ “ امام مالک کی مشہور ومعروف کتاب ”موٴطا“ ہے۔ چناں چہ امام شافعی فرماتے ہیں:
”ما علی الأرض بعد کتاب اللّٰہ تعالی أصح من کتاب مالک بن أنس“․ (کشف المغطا في فضل الموٴطا لابن عساکر، (ص: 36) تحقیق: محب الدین عمر العمروي، الناشر: دار الفکر – بیروت)
ترجمہ: روئے زمین پر قرآن پاک کے بعد امام مالک بن انس کی کتاب (موٴطا) سے بڑھ کر صحیح کتاب کوئی نہیں ہے۔
اسی طرح مشہور محدث عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”لا أعلم من علم الإسلام بعد القرآن أصح من موٴطا مالک“۔ (ترتیب المدارک وتقریب المسالک للقاضي عیاض، (3/70) باب ذکر الموٴطا وتألیف مالک إیاہ، الناشر: مطبعة الفضالة المحمدیة، ط: 1403 ھ – 1983م)
یعنی قرآن پاک کے بعد امام مالک کی موٴطا سے زیادہ صحیح کسی علمی کتاب کو میں نہیں جانتا۔
یہ دونوں حضرات علمائے اسلام کے سرخیل ہیں اور وہ واضح طور پر بیان فرما رہے ہیں کہ امام مالک کی ”موٴطا“ ہی اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ نیز یہی بات علامہ ابن العربی کے کلام سے بھی مفہوم ہوتی ہے۔ وہ ترمذی شریف کی شرح عارضة الاحوذی کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
اعلموا – أنار اللہ أفئدتکم – أن کتاب الجعفي – أي البخاري – ہو الأصل الثاني في ہذا الباب والموٴطا ہو الأول واللباب۔(عارضة الأحوذي لابن العربي، (1/10)، الناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت، ط: 1418 ھ – 1997 م)
ترجمہ: جان لو! – اللہ تعالی تمہارے دلوں کو روشن کرے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب اس باب میں دوسری بنیاد ہے اور امام مالک کی موٴطا ہی اول اور نچوڑ ہے۔
مگر چوں کہ موٴطا امام مالک میں صرف مرفوع صحیح احادیث نہیں ہیں، بلکہ اس میں اقوال صحابہ، تعلیقات اور مقطوع احادیث بھی بکثرت پائی جاتی ہیں، اس لیے اکثر اہلِ علم نے موٴطا کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ نہیں قرار دیا۔ جیسا کہ علامہ ابن الملقن (ت: 804 ھ) رقم طراز ہیں:
أول من صنف الصحیح یعني المجرد البخاري ثم تلاہ مسلم، واحترزت بالصحیح المجرد عن موٴطا مالک، فإن فیہ الصحیح وغیرہ من البلاغ والمقطوع المنقطع وغیر ذلک“․ (المقنع في علوم الحدیث لابن الملقن (1/57-56) النوع الأول، الناشر: دار فواز للنشر، السعودیة، ط: 1413 ھ)
ترجمہ: سب سے پہلے امام بخاری رحمہ اللہ نے خالص صحیح احادیث پر کتاب لکھی، پھر ان کے بعد امام مسلم نے اور “خالص صحیح“ کہہ کر موٴطا امام مالک سے میں نے احتراز کیا، کیوں کہ اس میں صحیح احادیث بھی ہیں اور مقطوع ومنقطع وغیرہ روایات بھی ہیں۔
دوسرا قول: اہل علم کی ایک جماعت نے امام مسلم بن حجاج قشیری رحمہ اللہ کی صحیح مسلم کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ اور صحیح بخاری سے افضل قرار دیا ہے۔ چناں چہ ابو علی نیشا پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ما تحت أدیم السماء أصح من کتاب مسلم بن الحجاج في علم الحدیث․ (تاریخ بغداد للخطیب البغدادي (15/121) باب المیم، ذکر من اسمہ مسلم، رقم الترجمة: 7041)
ترجمہ: روئے زمین پر علم حدیث میں امام مسلم بن حجاج کی کتاب ”صحیح مسلم“ سے زیادہ صحیح کوئی کتاب نہیں۔
اسی طرح بعض مغاربہ بھی بخاری شریف پر صحیح مسلم کی فضیلت وفوقیت کے قائل ہیں، (شرح التبصرة والتذکرة لزین الدین العراقي (1/114) أقسام الحدیث، الناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت، ط: 1423 ھ – 2002 م) نیز محدث ابو مروان طبنی نے بھی اپنے مشائخ سے صحیح مسلم کی افضیلت نقل کی ہے۔(إکمال المعلم بفوائد مسلم (1/80) الناشر: دار الوفاء – مصر، ط: 1419 ھ – 1998 م)
تو مذکورہ بالا حضرات کے نزدیک صحیح مسلم اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ اگرچہ اکثر حضرات نے اس قول کی مختلف تاویلیں کی ہیں اور صحیح مسلم کو اصح الکتب نہیں مانا ہے۔
تیسرا قول: اہل علم کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک بخاری شریف اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے اور دیگر تمام کتبِ احادیث پر فوقیت رکھتی ہے، چناں چہ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وقد صرح الجمہور بتقدیم ”صحیح البخاري“ في الصحة․ (نزہة النظر شرح نخبة الفکر لابن حجر، (ص: 62)، تحقیق: نور الدین عتر، الناشر: مطبعة الصباح – دمشق، ط: 1421 ھ- 2000 م)
یعنی جمہور نے صحیح ہونے میں بخاری شریف کے مقدم ہونے کی تصریح کی ہے۔
اور علامہ ابن صلاح (ت: 643 ھ) فرماتے ہیں:
أول من صنف الصحیح البخاري أبو عبد اللہ محمد بن إسماعیل الجعفي مولاہم، وتلاہ أبوالحسین مسلم بن الحجاج النیسابوري القشیري، ثم إن کتاب البخاري أصح الکتابین صحیحًا، (معرفة أنواع علوم الحدیث لابن الصلاح، (ص: 85-84) النوع الأول، الناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت، ط: 1423 ھ- 2002 م)
یعنی سب سے پہلے صحیح احادیث کی کتاب امام بخاری رحمہ اللہ نے تصنیف کی اور ان کے بعد امام مسلم بن حجاج نے … پھر امام بخاری کی کتاب دونوں میں سے زیادہ صحیح ہے۔
محدث شہیر امام نووی رحمہ اللہ (ت: 676 ھ) لکھتے ہیں:
اتفق العلماء علی أن أصح الکتاب المصنفة صحیحا البخاري ومسلم، واتفق الجمہور علی أن صحیح البخاري أصحہما صحیحًا․ (تہذیب الأسماء واللغات للنووي، (1/73) فصل في اسم صحیح البخاري، الناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت)
ترجمہ: علمائے کرام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تصنیف شدہ کتابوں میں سے زیادہ صحیح بخاری شریف اور مسلم شریف ہیں۔ اور جمہور نے اتفاق کیا ہے کہ ان دونوں میں سے زیادہ صحیح بخاری شریف ہے۔
شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فاعلم أن الذي تقرر عند جمہور المحدثین أن صحیح البخاري مقدم علی سائر الکتب المصنفة حتی قالوا: أصح الکتب بعد کتاب اللہ تعالی صحیح البخاري․ (مقدمة في أصول الحدیث للدھلوي، (ص: 85) الفصل التاسع، الناشر: دار البشائر الإسلامیة – بیروت، ص: 1406 ھ – 1986 م)
ترجمہ جان لو! جمہور محدثین کے نزدیک یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ صحیح بخاری تمام کتابوں پر مقدم ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے کہا ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ بخاری شریف ہے۔
راجح قول
علوم حدیث کی کتابوں کا بنظر غائر مطالعہ کرنے سے یہ بات راجح معلوم ہوتی ہے کہ بخاری شریف یا موٴطا یا کسی دوسری مخصوص کتاب کے بارے میں علی الاطلاق اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہنا مرجوح اور مبنی بر تسامح ہے، جس کی دلائل سے تائید نہیں ہوتی۔ بلکہ متعدد ائمہ کرام رحمہم اللہ نے اس پر تنقید کی ہے، جس کی وضاحت حسبِ ذیل ہے:
اولاً: بہت سے علمائے کرام کے نزدیک صحیح بخاری وصحیح مسلم کا رتبہ برابر ہے، لہٰذا ان دونوں میں سے کسی ایک کتاب کو دوسری سے زیادہ صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ کسی ایک کتاب کے بارے میں مطلقا اصح الکتب بعد کتاب اللہ نہیں کہہ سکتے۔ جیسا کہ علامہ زرکشی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وفات المصنف – أي ابن الصلاح – حکایة قول ثالث أنہما سواء، حکاہ بعض المتأخرین، وإلیہ میل أبي العباس القرطبي في مختصر البخاري؛ إذ قال: والأولی ألا یقال في أحدہما أولی بل ہما فرسا رہان ولیس لأحد بمسابقتہما یدان․ (النکت علی مقدمة ابن الصلاح الزرکشي، (1/170) النوع الأول، الناشر: أضواء السلف – الریاض، ط: 1419ھ – 1998 م)
ترجمہ: مصنف یعنی علامہ ابن صلاح سے تیسرا قول بیان کرنا چھوٹ گیا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ دونوں برابر ہیں اور علامہ قرطبی کا میلان بھی اسی کی طرف ہے، جیسا کہ انہوں نے مختصر البخاری میں کہا ہے: بہتر یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو اولی وافضل نہ کہا جائے ، بلکہ وہ دونوں میدان کے شہ سوار ہیں اور کسی میں ان دونوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔
ثانیًا: کسی حدیث کے صحیح وضعیف ہونے کا مدار جس طرح اس کے راویوں کی عدالت و ضبط وغیرہ پر ہے، اسی طرح ”اصح“ ہونے کا مدار بھی راویوں پر ہی ہونا چاہیے، قطع نظر اس کے کہ وہ حدیث کسی خاص کتاب میں ہے یا نہیں۔ یہی بات علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ کی مندرجہ ذیل عبارت سے مفہوم ہوتی ہے:
قوة الحدیث إنما ہي بالنظر إلی رجالہ، لا بالنظر إلی کونہ في کتاب کذا․ (القول المبتکر علی شرح نخبة الفکر لابن قطلوبغا، (ص: 57) الناشر: دار الفارابي للمعارف – دمشق، ط: 1429 ھ – 2008 م)
ترجمہ: حدیث کی قوت صرف اس کے رواة واسناد پر نظر کرنے سے معلوم ہوگی ، نہ کہ اس کے کسی مخصوص کتاب میں پائے جانے سے۔
اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ علامہ ابن قطلوبغا رحمہ اللہ کے نزدیک بھی صحیح بخاری وغیرہ کو مطلقا اصح الکتب نہیں قرار دے سکتے ، بلکہ اصحیت کا دار ومدار اسناد اور راویوں پر ہوگا۔ نیزی یہی بات علامہ رضی الدین ابن الحنبلی (ت: 971 ھ) نے بھی ذکر کی ہے۔(قفو الأثر في صفوة علوم الأثر لابن الحنبلي، (ص: 57) فصل في تفاوت رتب مطلق الصحیح والحسن)
ثالثًا: بہت سے ائمہ کرام صحیح بخاری ومسلم کی اصحیت یعنی تمام کتابوں سے زیادہ صحیح ہونے کی کھلے الفاظ میں نفی کرتے ہیں، چناں چہ علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ (ت: 861 ھ) فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
وقول من قال أصح الأحادیث ما في الصحیحین، ثم ما انفرد بہ البخاري، ثم ما انفرد بہ مسلم، ثم ما اشتمل علی شرطہما من غیرہما، ثم ما اشتمل علی شرط أحدہما تحکم لا یجوز التقلید فیہ، إذ الأصحیة لیس إلا لاشتمال رواتہما علی الشروط التي اعتبراہا، فإذا فرض وجود تلک الشروط في رواة حدیث في غیر الکتابین أفلا یکون الحکم بأصحیة ما في الکتابین عین التحکم؟ (فتح القدیر لابن الہمام، (1/445) باب النوافل، الناشر: دار الفکر بیروت)
ترجمہ: اس شخص کا قول جو کہتا ہے کہ سب سے زیادہ صحیح احادیث صحیحین (بخاری، مسلم) کی ہیں، پھر وہ احادیث جن میں امام بخاری رحمہ اللہ منفرد ہیں، پھر وہ جنہیں ذکر کرنے میں امام مسلم منفرد ہیں… یہ قول محض تحکم اور زبردستی ہے، جس میں پیروی کرنا جائز نہیں، کیوں کہ اصحیت صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے راوی ان شرائط پر مشتمل ہیں جن کا ان دونوں اماموں نے اعتبار کیا ہے۔ لہذا اگر وہ تمام شرطیں ان دو کتابوں کے علاوہ کسی دوسری کتاب کی حدیث کے راویوں میں پائی جائیں تو کیا اس وقت بھی بخاری و مسلم کی احادیث کو اصح یعنی سب سے زیادہ صحیح قرار دینا محض تحکم اور زبردستی نہیں ہوگی؟
نیز یہی بات علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”التحریر“ میں بھی ذکر کی ہے۔ (التقریر والتحبیر لابن امیر الحاج، (3/ 38) الباب الثالث، فصل في التعارض، الناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت، ط: 1419 ھ – 1999 م) اور شارحِ بخاری علامہ قسطلانی رحمہ اللہ (ت: 923 ھ) نے بھی کسی قسم کی تنقید وتردید کے بغیر علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ کا مذکورہ بالا قول ذکر کر کے عملا اس کی تائید کی ہے کہ صحیح بخاری یا مسلم وغیرہ کو مطلقاً اصح کہنا تحکم اور زبردستی کا فیصلہ ہے۔(إرشاد الساري لشرح صحیح البخاري للقسطلاني، (8/162) باب قولہ تعالی: ﴿للذین یوٴلون من نسائہم ﴾ الناشر: المطبعة الکبری الأمیریة – مصر)
اسی طرح علامہ امیر صنعانی رحمہ اللہ (ت: 1182 ھ) بھی صحیح بخاری کو اصح الکتب قرار دینے پر راضی نہیں، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
ترجمہ: یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہوگی کہ یہ ان میں سے اکثر وجوہات اپنے دعوی یعنی بخاری شریف کے اصح ہونے پر دلالت نہیں کرتیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کی صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہیں… لہٰذا ان احادیث پر نظر کرتے ہوئے بخاری شریف پر اصح یعنی سب زیادہ صحیح ہونے کا حکم لگانا درست نہیں ہوگا۔ اور کیسے یہ قول تام ہوسکتا ہے کہ بخاری شریف أصح یعنی سب زیادہ صحیح ہے؟ … کیوں کہ یہ بات یقینی طور پر معلوم ہے کہ صحیح ہونا یا أصح (سب سے زیادہ صحیح) ہونا امام بخاری ومسلم کی ذات کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ ان کی کتابوں کی راویوں پر نظر کرتے ہوئے ہے۔
(توضیح الأفکار لمعاني تنقیح الأنظار للأمیر الصنعاني، (1/46) مسألة في ذکر أول من صنف في جمع الصحیح، الناشر: دار الکتب العلمیة – بیروت، ط: 1433 ھ – 2012 م)
مشہور محقق علامہ احمد شاکر نے بھی صحیح بخاری وغیرہ کے اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہونے کی نفی کی ہے اور واضح الفاظ میں بتایا ہے کہ اس باب میں اصل مدار کسی کتاب پر نہیں، بلکہ روایت میں ”صحیح حدیث“ کی اعلی درجہ کی شرائط پائے جانے یا نہ پائے جانے پر ہے، چناں چہ وہ رقم طراز ہیں:
ہي تدل أیضًا علی أن ما اتفقا علی إخراجہ من الأحادیث، لا یکون دائماً أعلی درجة في الصحة مما انفرد بہ أحدہما، ولا مما لم یخرجاہ، وإنما العبرة في ذلک کلہ باستیفاء شروط الصحة، أو استیفاء شرط أعلی درجاتہا في أي حدیث کان، أخرجاہ أم لم یخرجاہ․ (التعلیق علی مسند أحمد لأحمد شاکر، (16/13)، الناشر: دار المعارف – مصر، ط: 1394ھ- 1974 م)
ترجمہ: وہ (صحیفہ ہمام بن منبہ) اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ جس حدیث کے ذکر کرنے پر بخاری ومسلم متفق ہوں، وہ ہمیشہ اس حدیث سے زیادہ صحیح رتبہ پر نہیں ہوتی جسے ان دونوں میں سے صرف کسی امام نے ذکر کیا ہو یا دونوں نے ذکر نہ کیا ہو۔ اور اس میں اصل اعتبار کسی حدیث میں صحت کی شرائط یا صحت کی اعلی شرائط پائے جانے کا ہے، خواہ اس حدیث کو امام بخاری ومسلم نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہو یا نہیں کیا ہو۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضراتِ ائمہ کرام اور محقق علمائے دین کی صریح عبارات وتحقیقات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ بخاری شریف یا کسی دوسری حدیث کی کتاب کو علی الاطلاق اصح الکتب بعد کتاب اللہ قرار دینا اور قرآن پاک کے بعد سب سے زیادہ صحیح ومعتبر کہنا اصولی طور پر درست نہیں، اگرچہ مجموعی طور پر صحیح بخاری ومسلم اور موٴطا کی قوت وصحت میں کوئی کلام نہیں۔