اسلام مکمل ضابطہٴ حیات ہے

idara letterhead universal2c

اسلام مکمل ضابطہٴ حیات ہے

 شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیدالله خالد

حضرت مولانا عبید اللہ خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے، تاکہ ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہوسکیں۔ (ادارہ)

الحمد للّٰہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونوٴمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللّٰہ من شرور انفسنا ومن سیئات أعمالنا من یھدہ اللّٰہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ ونشھد أن لا إلہ إلا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولٰنا محمدا عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا وداعیا إلی اللّٰہ بإذنہ وسراجا منیرا․
﴿یا ایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافة ولا تتبعوا خطوات الشیطان إنہ لکم عدو مبین﴾․ صدق اللّٰہ مولنا العظیم․

میرے محترم بھائیو، بزرگو اور دوستو! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاوٴ، ﴿ولا تتبعوا خطوات الشیطان﴾ اور شیطان کے نقش ہائے قدم کی پیروی مت کرو، ﴿انہ لکم عدو مبین﴾ بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق بقیہ مخلوقات سے بہت ممتاز اور بہت اعلیٰ اور بہت اشرف فرمائی ہے، اس آدمی میں، اس انسان میں، اللہ تعالیٰ نے سارا جہاں بسا دیا اور یہ انسان اللہ تعالیٰ کی ایسی تخلیق ہے کہ اس کے ہر ہر جز اور اس کے ہر ہر عضو کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا خالق ہونا سمجھ میں آتا ہے، پوری دنیا میں ایسی چیز نہیں ہے جو انسان کی طرح حساس ہو، میں اگر یہاں ہاتھ لگاتا ہوں تو ایک لمحہ بھی نہیں لگتا کہ ہاتھ سے دماغ تک پیغام پہنچ جاتا ہے کہ لکڑی پر ہاتھ لگا ہے اور اگر دیکھے بغیر اس پلاسٹک اور ریگزین پر ہاتھ لگاوٴں تو ایک لمحہ نہیں لگتا کہ پیغام پہنچ جاتا ہے کہ ریگزین کو پلاسٹک کی چیز کو چھوا ہے۔یہ جو احساسات ہیں جو اللہ رب العزت نے اس انسان کے اندر پیدا فرمائے ہیں اور یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے، پورا انسان، اس کا دماغ، اس کا دل، اس کا جگر، اس کے گردے، اس کا مثانہ، اس کا گوشت اور پوست، ہڈیاں، اس کے جوڑ ہر ہر چیز پکار پکار کر کہتی ہے کہ میر اخالق سوائے اللہ کے کوئی ہو ہی نہیں سکتا، چناں چہ اللہ تعالیٰ نے اس انسان کو مرکب فرمایا ہے دو چیزوں سے، ایک اس کا جسم ہے اور ایک اس کا اندرون اور اس کی روح ہے، اس کی جو روح یا اس کا قلب ہے یا اس کا باطن ہے وہ قرار گاہ ہے ایمان کے لیے اور اس کا جو جسم ہے وہ مرکز نفاذ ہے اسلام کا، جیسے روح نظر نہیں آتی بالکل اسی طریقے سے ایمان بھی نظر نہیں آتا، جیسے روح میں ضعف اور قوت ہے بالکل اسی طریقے سے ایمان میں بھی ضعف اور قوت ہے۔

میں عرض کرتا ہوں کہ ایمان کا مرکز اس انسان کا دل ہے، چناں چہ وہ نظر نہیں آتا، سب اہل ایمان بیٹھے ہیں، لیکن ہم میں سے ہر ایک کی ایمان کی سطح مختلف ہے، کسی کا ایمان قوی ہے، کسی کا بہت قوی ہے، کسی کا کم زور ہے، کسی کا بہت کم زور ہے، اللہ فرما رہے ہیں، ﴿یا ایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافة﴾، اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاوٴ، یہ اللہ تعالی کا فرمان اور ارشاد بتا رہا ہے کہ ایمان الگ ہے، اسلام الگ ہے، ایمان والوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاوٴ، چناں چہ اسلام کا نفاذ اس جسم پر ہوتا ہے، جیسے جسم نظر آتا ہے ایسے ہی اسلام بھی نظر آتا ہے، جیسے روح نظر نہیں آتی ایسے ہی ایمان بھی نظر نہیں آتا، لیکن جیسے جسم نظر آتا ہے ایسے ہی اسلام بھی نظر آتا ہے۔

اسلام کیا ہے؟ اسلام میں نماز ہے، آپ نماز پڑھتے ہیں، ہر آدمی کو نظر آرہا ہے، آدمی حج کرتا ہے، احرام باندھتا ہے، تلبیہ پڑھتا ہے، بیت اللہ کا طواف کرتا ہے، منٰی ، عرفات جاتا ہے، مزدلفہ جاتا ہے، رمی جمرات کرتا ہے، نحر کرتا ہے، سب نظر آتا ہے۔
ایک آدمی روزہ رکھتا ہے، سحری کرتا ہے، کھانا پینا کرتا ہے، افطار ہوتا ہے، مغرب کی اذان ہوتی ہے، ساری دنیا دیکھتی ہے کہ مسلمان روزہ افطار کر رہے ہیں، مسلمان روزہ بند کر رہے ہیں، نظر آتا ہے۔

ایک آدمی زکوة دیتا ہے تو زکوة دینے والا بھی نظر آتا ہے، زکوة لینے والا بھی نظر آتا ہے، اوروں کو نظر نہ آئے لیکن دینے والے اور لینے والے کو تو نظر آرہا ہے تو اسلام نظر آتا ہے اور خوب یاد رکھیں! آج بہت بڑا دھوکہ ہے، اللہ تعالی اسی طرف بندوں کو متوجہ فرما رہے ہیں، ﴿یا ایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافة﴾، اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاوٴ، یہ چند چیزیں ہیں جن کا نام فرائض اسلام ہے، یہ کامل اور مکمل اسلام نہیں ہے، اگر اسلام اتنا ہے مثلا سمجھانے کے لیے تو یہ جو میں نے فرائض ذکر کیے ہیں تو یہ ایک انگلی کا پوروا ہے، اس کے علاوہ اسلام باقی ہے، جس کی طرف ہم متوجہ نہیں، سرور کائنات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لا ئے ہیں وہ پوری کی پوری شریعت اسلام ہے، کھانا پینا، سونا جاگنا، چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا، ملنا جلنا، خاندان ماں باپ، بہن بھائی، عزیز واقارب، پڑوسی، تمام مسلمان، ان کے ساتھ حسن سلوک، یہ سارا اسلام ہے۔

ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! ہماری ایک پڑوسن خاتون ہے اور وہ عبادات بہت کرتی ہے، نمازیں، فرض نماز، نفل نماز، صدقہ وخیرات، فلاں فلاں، اس کی عبادات میں کوئی کمی نہیں، لیکن اے اللہ کے رسول! اس کے پڑوسی اس سے تنگ ہیں، تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کے بارے میں فرماتے ہیں: ھی فی النار․ وہ جہنمی ہے، حالاں کہ وہ نماز پڑھ رہی ہے، بہت زیادہ پڑھ رہی ہے، صدقہ خیرات کر رہی ہے، خیر کے سارے کام کر رہی ہے، لیکن وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بد سلوکی کر رہی ہے تو اس کی یہ دیگر عبادات بھی ضائع۔ یہ اسلام ہے، اسلام یہ سکھاتا ہے۔ (عن ابی ھریرة رضی اللّٰہ عنہ قال: قیل للنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن فلانة تصوم النھار وتقوم اللیل، وتوٴذی جیرانھا بلسانھا․ فقال: لا خیر فیھا، ھی فی النار، قیل: فإن فلانة تصلی المکتوبة، وتصوم رمضان، وتتصدق بأثوار من أقط، ولا توٴذی أحدا بلسانھا، قال: ھی في الجنة․ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب البر والصلة، رقم الحدیث: 730)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے حقوق بیان کیے، صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ اتنے بیان کیے کہ ہمیں یہ لگنے لگا کہ شاید آپ پڑوسیوں کو میراث میں شریک کر لیں گے۔ (قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: مازال جبریل یوصینی بالجار حتی ظننت أنہ سیورثہ) (الجامع الصحیح للبخاري، کتاب الأدب، باب الوصاء ة بالجار، رقم الحدیث: 6015)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من کان یوٴمن باللّٰہ والیوم الآخر فلیکرم جارہ (الجامع الصحیح للبخاری، کتاب الأدب، باب من کان یوٴمن باللّٰہ والیوم الآخر فلا یوٴذ جارہ، رقم: 6019)

ہم یہ سمجھ رہے کہ ہم نے نمازیں پڑھ لیں، ہم نے روزہ رکھ لیا، ہم نے حج کرلیا، ہم نے زکوة دے دی، ہم نے صدقہ خیرات کرلی، لہٰذا ہم نے اسلام پر پورا پورا عمل کرلیا، اب ہم آزاد ہیں۔ خوب یاد رکھیے کہ مسلمان تو آزاد ہے ہی نہیں، اسلام کا ترجمہ فارسی میں ہے گردن نہادن، اپنی گردن جھکانا، لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے کے بعد اب یہ اللہ کا غلام ہے، یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہے، اس کو اب زندگی ایسے گزارنی ہے؟ جیسے اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں، اسے اب زندگی ایسے گزارنی ہے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں، چناں چہ وہ حقوق جو بندوں کے ہیں، ماں باپ کے حقوق، آج معاشرے کا کیا حال ہے؟ جہاں کہیں ماں باپ بوڑھے ہوئے تو اب اولاد کا سلوک ان کے ساتھ بدل جاتا ہے، جب تک وہ ماں باپ کے محتاج تھے، باپ بھاگ رہا ہے، دوڑ رہا ہے، محنت مزدوری کر رہا ہے، نوکری کر رہا ہے، راتوں کو جاگ رہا ہے، کس کے لیے؟ اپنی اولاد کے لیے اور آج جب باپ بوڑھا ہوگیا تو اب باپ کا کھانسنا بھی اولاد کو اچھا نہیں لگتا، ہماری نیند خراب ہو رہی ہے۔

آج ماں باپ کی دوا دارو اور ان کا علاج معالجہ اولاد پر بوجھ بن گیا ہے، آج وہ محبت جو اولاد کو ماں باپ سے ہونی چاہیے وہ نہیں، باپ سے اونچی آواز میں بات کرنا، ماں سے اونچی آواز میں بات کرنا، کتنا بڑا گناہ ہے، ﴿ولاتقل لھما اف﴾ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اف کہنے کی بھی اجازت نہیں، تو

اسلام صرف نماز روزے کا نام نہیں ہے، نماز دین کا ستون ہے، نماز فرائض اسلام میں سے ہے، وہ فرض ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نماز، روزہ، زکوة، حج ادا کر رہے ہیں تو اب آپ آزاد ہوگئے، نہیں، آپ غلام ہیں، آپ اللہ کے غلام ہیں۔ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں، چناں چہ ہر ہر مرحلے میں، اپنے ماں باپ، بہن بھائی، اپنے رشتہ دار، اپنے سے بڑے، اپنے سے چھوٹے، سب کے لیے تعلیمات ہیں، میرے دوستو! اسلام نے ماں باپ کے جو حقوق بیان فرمائے ہیں وہ اگر ہمارے علم میں آجائیں تو ہم حیران ہو جائیں۔

اسلام کا ہر ہر عمل، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا ایک ایک ذرہ، اس پوری کائنات سے زیادہ قیمتی ہے، اس کی قیمت بہت زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس کے کہ مکہ کے لوگ آپ کے مخالف تھے جب آپ ہجرت فرما رہے ہیں، رات کا وقت ہے، آپ کے لیے مکہ چھوڑنا آسان نہیں تھا، بیت اللہ کو چھوڑنا آسان نہیں تھا، چناں چہ آپ نے ہجرت سے پہلے اور روانگی سے پہلے عثمان، حجبی جس کے پاس بیت اللہ کی چابی تھی، اس کو بلایا اور اس سے کہا عثمان میں چاہتا ہوں کہ بیت اللہ کے اندر جا کر دو رکعت نماز پڑھوں، اس نے بڑی حقارت کے ساتھ رد کر دیا کہ نہیں، میں آپ کو چابی نہیں دے سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! وہ وقت بہت قریب ہے جب چابی ہمارے ہاتھ میں ہوگی۔

آٹھ سال بعد جب فتح مکہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فاتح بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے کیسے ستایا گیا تھا، وہ رات جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی، اس رات، نعوذ باللہ، انہوں نے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے ہیں تو اعلان فرمایا: لا تثریب علیکم الیوم انتم الطلقاء، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اسے امن ہے، جو مسجد حرام میں داخل ہو جائے اسے بھی امن، جو اپنے گھر کے دروازے اندر سے بند کرلے گا اسے بھی امن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی عثمان کو بلایا اور بلا کر فرمایا کہ دروازہ کھولو، اب آپ فاتح ہیں، چناں چہ عثمان نے دروازہ کھولا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ سمیت داخل ہوئے اور آپ نے دن کا بڑا حصہ بیت اللہ کے اندر گزارا، بیت اللہ میں جو تصویریں لگی ہوئی تھیں سب ختم کیں اور آپ نے وہاں نوافل ادا کیے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ نے آکر قیامت تک کے لیے یہ فیصلہ کردیا کہ اے عثمان! یہ چابی اب تمہارے پاس تمہارے مرنے کے بعد تمہارے بچوں کے پاس اور قیامت تک یہ چابی تمہارے خاندان میں رہے گی، یہ کیا ہے؟ یہ اسلام ہے۔

چناں چہ آج بھی سعودی عرب کے بادشاہ کے پاس بیت اللہ کی چابی نہیں ہے، یہ اسی خاندان کے پاس ہے، جب سعودی عرب کا بادشاہ یا دنیا کے کسی ملک کا بادشاہ کوئی بھی جب بیت اللہ کے اندر جانا چاہتا ہے تو اس خاندان کے اس آدمی کو بلایا جاتا ہے وہ آکر کھولتا ہے۔

اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ اور آپ نے فاتح بن کر کیا سلوک کیا، یہ اسلام ہے۔ (سبل الھدی والرشاد، الباب السابع والعشرون فی غزوة الفتح، 5 / 244 وزاد المعاد، دخولہ صلی اللہ علیہ وسلم الکعبة: 3 / 356، وشرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوة الفتح: 3 / 469)

میرے دوستو! اسلام میں پورے پورے داخل ہونا، ہم گھر میں ہیں، ہم گھر سے باہر ہیں، اسلام، ہم مزدوری کر رہے ہیں، اسلام، ہم چل رہے ہیں، ہم بیٹھ رہے ہیں، ہم کھا رہے ہیں، ہم پی رہے ہیں، ہر موقع پر اسلام، ہم حیوان نہیں ہیں، جیسے حیوان کھاتا ہے، پیتا ہے، سوتا ہے، جاگتا ہے، اسلام میں مسلمان ایسا نہیں، مسلمان تو گھر میں داخل ہوگا دعا پڑھ کر داخل ہوگا، گھر سے نکلے گا دعا پڑھ کرنکلے گا، مسجد میں داخل ہوگا دعا پڑھ کر داخل ہوگا، مسجد سے نکلے گا دعا پڑھ کر نکلے گا، دعا پڑھ کر کھانا کھائے گا، کھانا ختم کرے گا، دعا پڑھ کر ختم کرے گا، پانی پیے گا دعا پڑھ کر پیے گا، پانی پی لینے کے بعد دعا پڑھے گا۔

ہر ہر عمل میں کوئی زندگی کا مرحلہ ایسا نہیں ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نہ ہوں، آج ہم پریشان ہیں اور کون ہے ایسا جو پریشان نہ ہو اور پریشانی کی وجہ کیا ہے؟ پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو نہیں سمجھا ہے، ہم نے اسلام ان چند فرائض کو سمجھ لیا ہے اور وہ بھی بہت کم لوگ ہیں جو ان فرائض کی باقاعدگی اور پابندی کرتے ہیں، ورنہ ایک بہت بڑا مجمع تو ایسا بھی ہے کہ جو ان فرائض کی بھی پابندی نہیں کرتا اور وہ لوگ تو بہت زیادہ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔

آج اگر ہم ذرا سی توجہ دیں اور کوشش کر کے ان مسنون طریقوں کو سیکھ لیں اور ان دعاوٴں کو یاد کرلیں اور اس پر عمل کرنا شروع کردیں، تو آپ چند دنوں میں محسوس کریں گے کہ آپ پر ایک طمانینت اور سکون کی کیفیت طاری ہوگی، آپ کے ظاہر اور باطن میں ایسی خوبی پیدا ہونا شروع ہوجائے گی کہ آپ کو محسوس ہوگا، آپ محفوظ ہوں گے اور آپ خیریت اور عافیت کے ساتھ رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ بھی یہی چاہتے ہیں کہ میرے بندے اس دنیا میں عافیت کے ساتھ رہیں اور آخرت میں بھی کام یاب وکامران ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ربنا تقبل منا إنک أنت السمیع العلیم، وتب علینا إنک أنت التواب الرحیم․ 

مجالس خیر سے متعلق