مسافرکے لیےکسی شہر میں پندرہ دن ٹھرنا لازم ہوتووہ قصر کرے،یا اتمام؟

Darul Ifta mix

مسافرکے لیےکسی شہر میں پندرہ دن ٹھرنا لازم ہوتووہ قصر کرے،یا اتمام؟

سوال

    کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل سعودیہ جانے کی ترتیب یہ ہے کہ  پہلے دبئی  ،یا  ابوظہبی میں ۱۵۔۱۶ دن اسٹے (قیام ) کرنا پڑے گا، پھر سعودی عرب جانا ہوگا،اب مسافر اسٹے کے دوران نماز میں قصر کریں گے،یا اتمام ؟ واضح رہے کہ دبئی میں  ان احباب پر کوئی پابندی نہیں ہوتی، ساتھیوں اور دیگر رشتہ داروں کے پاس جاسکتے ہیں،رات گزار سکتے ہیں، سیر و تفریح کے لیے دور دور تک جاسکتے ہیں،کوئی پابندی نہیں، مسافر حضرات کہتے ہیں  اگر ہمیں جلد از جلد یہاں سے جانے کی اجازت مل جائے تو ہم تیار ہیں،یعنی اپنی خوشی سے قیام نہیں کرتے ، بلکہ مجبوراً قیام کرتے ہیں۔ کیا مذکورہ بالا صورت میں نماز میں قصر کریں گے ،یا اتمام ؟ عملہ کی طرف سے ان مسافروں کے لیے ایک مخصوص جگہ ہوٹل مقرر ہے۔ رہنمائی فرمائیں  

جواب 

صورتِ مسئولہ میں چونکہ  سعودی عرب جانے والے حضرات  کے لیے دبئی میں پندرہ دن یا اس سے زائد  کا قیام ضروری ہوتا ہے ، اور یہ حضرات اس کے پابند ہوتے ہیں،تو اگر ان حضرات کا ارادہ بھی اسی  ایک شہر میں  پندرہ دن کے قیام کا ہو تو یہ مقیم ہونے کی وجہ سے نماز میں اتمام کریں گے ،اور اگر ان کی نیت اور ارادہ ان مقرّرہ ایام میں اس شہر سے باہر کسی اور جگہ بھی رات گزارنے کا ہوتو  پھر یہ مقیم نہیں ہوں گے، تب ان کےلیے نماز میں قصر کرنا ضروری ہوگا۔

وفي البدائع:

"فلا بد من أربعة أشياء نية الإقامة ونية مدة الإقامة واتحاد المكان وصلاحيته للإقامة... وأما اتحاد المكان فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كانا مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما لأنهما متحدان حكما".(كتاب الصلاة، فصل وأما بيان ما يصير المسافر به مقيما،197،دارالكتاب العربي)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:

"والتابع ( كالمرأة مع زوجها ....( والعبد ) غير المكاتب فيشمل أم الولد والمدبر ( مع مولاه والجندي مع أميره إذا كان يرتزق منه والأجير مع المستأجر والتلميذ مع أستاذه والأسير والمكره مع من أكرهه على السفر".(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر،ص:187،رشيدية)

وفي الشامية:

"وإنما يشترط قصده لو كان مستقلا برأيه فلو تابعا لغيره فالاعتبار بنية المتبوع كما سيأتي".(كتاب الصلاة ،باب صلاة المسافر،2122،دارالفكر)

وفي الدرالمختار:

"(أو ينوي) ولو في الصلاة إذا لم يخرج وقتها ولم يك لاحقا (إقامة نصف شهر) حقيقة أو حكما لما في البزازية وغيرها: لو دخل الحاج الشام وعلم أنه لا يخرج إلا مع القافلة في نصف شوال أتم لأنه كناوي الإقامة (بموضع) واحد (صالح لها) من مصر أو قرية أو صحراء دارنا وهو من أهل الأخبية (فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر. (أو) نوى (فيه لكن في غير صالح) أو كنحو جزيرة أو نوى فيه لكن (بموضعين مستقلين كمكة ومنى)" (كتاب الصلاة ،باب صلاة المسافر،2125،دارالفكر)

وفي البدائع:

"والثاني نية مدة السفر لأن السير قد يكون سفرا وقد لا يكون.... والمعتبر في النية هو نية الأصل دون التابع حتى يصير العبد مسافرا بنية مولاه والزوجة بنية الزوج وكل من لزمه طاعة غيره كالسلطان وأمير الجيش لأن حكم التبع حكم الأصل . (كتاب الصلاة، فصل وأما بيان ما يصير المسافر به مقيما،194،دارالكتاب العربي) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:171/23