بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گیم زون چلانے کا حکم

گیم زون چلانے کا حکم

سوال

یا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بڑے بھائی نے ”گیم زون“ کے نام سے ایک کاروبار شروع کیا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ دوکان میں متعدد کمپیوٹر لگے ہوئے ہیں جن پر ہر وقت انٹرنیٹ آن رہتا ہے اور ہر کمپیوٹر الگ کیبن میں بند ہے ، نوجوان طبقہ آکر فی گھنٹہ (60منٹ) کے حساب سے ادائیگی کرکے اپنی پسندیدہ گیمیں مثلاًPUB.G ،لڈو وغیرہ آن لائن کھیلتے ہیں او رساتھ ہی فلم وغیرہ دیکھنے کا احتمال ہے، کیوں کہ انٹرنیٹ آن رہتا ہے اور کیبن میں صرف ایک ہی بندہ بیٹھتا ہے

اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر فلم پر پابندی لگا دی جائے تو صرف گیم کی حد تک یہ کاروبار شرعاً کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ آن لائن ویڈیو گیم کھیلنا درج ذیل مفاسد کی بنا پر ناجائز ہے:
1..فرض نماز اور دیگر واجبات شرعیہ سے محرومی 2..بسا اوقات غصے کے عالم میں گالم گلوچ 3..تصویر بینی، بلکہ فحش تصویر بینی4.. نامحرم سے سلام کلام، بلکہ دوستی یاری 5..ضیاع وقت 6..کھیل ہی کو مقصد بنانا 7..ساز باجا سننا۔مذکورہ کاروبارمیں درج بالا مفاسد کا ذریعہ بننے کے علاوہ ایک اور شرعی خرابی یہ ہے کہ کھیل کو برائے کھیل پیش کیا جارہا ہے ، جب کہ شریعت میں کھیل کو مقصد بنا کر پیش کرنا درست نہیں۔

آپ کے بھائی کو چاہیے کہ گزشتہ کیے پر توبہ تائب ہو کر نیا حلال کاروبار تلاش کرے۔