بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گری ہوئی بڑی رقم مل جائے تو اس کا حکم

گری ہوئی بڑی رقم مل جائے تو اس کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کو ایک دکان کے سامنے گری ہوئی بڑی رقم ملی ہے، اس نے اپنی والدہ سے ذکر کیا ،والدہ نے کہا کہ امام صاحب کے پاس یہ رقم رکھوا دیں وہ بہتر فیصلہ کریں گے اس رقم کے بارے میں، وہ رقم میں نے امام صاحب کو دے دی، اب اس رقم کو شرعی اعتبار سے کیا کرنا چاہیے؟ مزید یہ کہ وہ شخص جس کو رقم ملی ہے اس کے والد مقروض ہیں اور گھر کے حالات بھی بہتر نہیں ہیں، امام صاحب بخوبی جانتے ہیں، پوچھنایہ ہے کہ مذکورہ جو رقم ملی ہے اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور جس شخص کو یہ رقم ملی ہے اس کی دیانت داری کی بنا پر اس کے والد کی مدد کر سکتے ہیں یا نہیں؟ شرعی اعتبار سے مذکورہ رقم کی تقسیم اور مصرف کیا ہو گا؟ اس رقم کے مالک کا علم نہیں ہے، کتنا انتظار کرنا ہو گا؟

جواب 

جس آدمی کو رقم ملی ہے وہ پوری کوشش کرکے مالک کو تلاش کرے، لوگوں سے پوچھ کر ، اعلان کرکے، اشتہار وغیرہ لگا کر، اگر مالک آجائے اور قم کی ٹھیک ٹھیک نشانیاں بتا دے تو رقم اس کے حوالے کر دے۔

لیکن اگر ایک سال تک مالک کا کچھ علم نہ ہو ، تو پھر یہ رقم مالک کی طرف سے مستحقِ زکوٰة کو دے دے اور اگر یہ آدمی خود محتاج ( مستحق) ہو تو اپنے استعمال میں بھی لاسکتا ہے اور والد صاحب کو بھی دے سکتا ہے۔

لیکن یہ بات واضح رہے کہ رقم خرچ کرنے کے بعد اگر مالک آگیا اور اس نے اپنی رقم کا مطالبہ کر لیا، تو رقم اس کو واپس دینا ہو گی۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی