بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گاڑی کی کمائی پر زکوٰة

گاڑی کی کمائی پر زکوٰة

سوال

ایک شخص نے تقریباً 20 لاکھ روپے کی ایک گاڑی کمائی کے لیے خریدی تو ان محبوس 20لاکھ روپے(جن سے گاڑی خریدی) پرزکوٰة ہے یا نہیں؟

یہی گاڑی جو کمائی کے لیے خریدی گئی اگر اچھے داموں میں بکتی ہے تو یہ شخص اس کو بیچتا بھی ہے، یعنی ایک لحاظ سے اس نے یہ گاڑی کمائی کے لیے خریدی ہے اور دوسرے لحاظ سے اگر اس کو بیچنے میں فائدہ ہو تو پھر بیچتا بھی ہے، تو آیا اس میں زکوٰة ہے یا نہیں؟

اسی گاڑی سیجو کمائی کی جاتی ہے وہ گھر کے تمام اخراجات سے زیادہ ہے یعنی اس گاڑی کی کمائی کو یہ آدمی جمع کرتا ہے تو اس صورت میں گاڑی کے 20 لاکھ میں زکوٰة ہے یا نہیں؟

جواب

تینوں صورتوں میں گاڑی کی اصل قیمت (جو 20 لاکھ ہے) پر زکوٰة نہیں ،اس لیے کہ گاڑیحصول نفع کا آلہ اور ذریعہ ہے۔ البتہ گاڑی کی کمائی جب نصاب زکوٰة کو پہنچ جائے تو اس پر زکوٰة فرض ہوگی۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی