بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

گائے،بھینس او ربکری کو اجارہ پر دینے کی ایک فاسد صورت اور اس کا متبادل

گائے،بھینس او ربکری کو اجارہ پر دینے  کی ایک فاسد صورت اور اس کا متبادل

سوال

کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  ہمارے گاؤ ں دیہاتوں میں یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کو اپنے چوپائے، مثلاً :گائے، بھینس یا بکری وغیرہ دیتا ہے اور آپس میں یہ طے ہوتا ہے کہ اگر بکری نے دو بچے دیے تو ایک بچہ بکری والے کا اور دوسرا چروا ہے کا اور اگر ایک بچہ دیا تو اس کو بیچ کر اس کی قیمت دونوں میں تقسیم ہوگی، اسی طرح گائے بھینس میں…

تو کیا یہ صورت درست ہے؟ اور اس قسم کی شرائط لگانا درست ہے یا نہیں؟ اور یہ مسئلہ قفیز الطحان والے مسئلہ کی طرح ہے یا نہیں؟ نیز اس کی جائز صورتیں ہوں تو وہ بھی ذکر فرمادیں۔

جواب

واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ ناجائز ہے، اس لیے کہ جس شخص کو سنبھالنے کے لیے جانور دیا جاتا ہے ، اس کی حیثیت اجیر کی ہے اوراجارہ میں اجیر کی اجرت معلوم ہونا ضروری ہے، جب کہ یہاں اجرت مجہول ہے، لہٰذا یہ اجارہ فاسدہ ہے اور ایسی صورت میں بچے اصل مالک کے ہوں گے، باقی جتنے دن اس شخص نے اپنی ملکیت میں چارہ کھلایا اس کی قیمت مالک اس کو ادا کرے، نیز جتنے دن جانور کی خدمت کی، اس کی اجرت بھی مالک پر واجب ہے او راجرت اتنی ہوگی جتنی عام طور پر اس مقصد کے لیے کسی شخص کو اجرت پر رکھ کر دی جاتی ہے۔

باقی اس کی جواز کی صورت یہ ہے کہ جانور کا مالک اس شخص کو جانور میں شریک کرے، مثلاً: جانور کا مالک آدھا جانور اس شخص پر فروخت کردے، اس کے بعد اس کی قیمت معاف کر دے اور اس سے کہے کہ” تم اس کی دیکھ بھال کرو او رجو نفع آجائے وہ آدھا آدھا ہو گا“اب چارہ، نفع اور نقصان میں دونوں برابر کے شریک ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی