بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کینیا اور انڈونیشیا کی چائے پتی ملاکر فروخت کرنا

کینیا اور انڈونیشیا کی چائے پتی ملاکر فروخت کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ سائل کا کالی چائے کا کاروبار ہے اور ہمارے ہاں زیادہ تر کینیا (افریقا) کے ملک کی چائے استعمال ہوتی ہے، اس کے علاوہ انڈونیشیا، بنگلادیش، یوگنڈا، تنزانیہ کی چاے بھی استعمال ہوتی ہے، سب سے کینیا کی چائے کی کوالٹی اچھی ہے، خوشبو بھی بہترین ہے، ذائقہ میں بھی بہترین ہے، اسٹرانگ (سخت) ہے، لیکن اس کا ایک مسئلہ ہے، وہ یہ ہے کہ پکانے میں رنگت میں کم زور ہوتی ہے، چائے اس سے سرخ نہیں ہوتی، اگر چائے کی پتی زیادہ ڈالیں تو پھر اس کی رنگت نکلتی ہے اور زیادہ ڈالنے سے چائے پکنے کے پندرہ منٹ کے بعد کالی ہو جاتی ہے، اس کی اکثر چائے کی رنگت کی وجہ سے شکایت آتی ہے اور انڈونیشیا کی چائے جو ذائقہ اور خو شبو میں تو کم زور ہے، لیکن اس کو پکانے میں اس کا کلر اچھا ہوتا ہے، سرخ چائے بنتی ہے، گاہگ اور ہوٹل والے اس کی رنگت کو پسند کرتے ہیں ، اگر کینیا کی چائے اور انڈونیشیا کی چائے کو آپس میں ملائیں تو اس سے ایک بہترین قسم کا برانڈ بنتا ہے، ذائقہ ، خوشبو، رنگت بہترین ہوتی ہے، گاہک اس کو پسند کرتے ہیں، ہمارے ہاں اکثر دو کان دار ایسا کرتے ہیں اور جو معروف برانڈ ہیں لپٹن، سپریم وہ بھی اس طریقے پر برانڈ بناتے ہیں، وہ بھی اپنے ڈبے پر سو فیصد کینیا نہیں لکھتے Keneya Leaf Blend Tea یا Engretent Tea لکھتے ہیں، کینیا کی چائے کا مارکیٹ ریٹ ہول سیل 500 سے550 تک ہے اور انڈونیشیا کی چائے کا490 سے500 تکہے، کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، اگر ہم یہ برانڈ بنائیں او رجو گاہک کھلا مال لے گا۔ اس کو بتا دیں گے کہ یہ مال کینیا اور انڈونیشیا کا مکسچر ہے اور جو پیکٹ بنائے گئے ان پر برانڈڈTea لکھیں اور اس سے جو ریٹ کم ہو گا اس حساب سے کم کریں اور ہمارا مقصد اس طریقہ سے منافع کمانا نہیں،بلکہ اس برانڈ سے ایک اچھی بہترین چائے گاہک کو پیش کرنی ہے، کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟

کینیا اور انڈونیشیا کی چائے آپس میں ملانے سے”من غش فلیس منا“ والی حدیث میں داخل تو نہیں ہوں گے؟ آپ اس سوال کا تسلی بخش جواب دے کر مہربانی فرمائیں۔

جواب

جب تک غلط بیانی سے کام لے کر حقیقت کو نہ چھپایا جائے ،یا چیز کے نام میں ہیر پھیر کرکے التباس (شک وشبہ) پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے، یہ عمل دھوکہ نہیں کہلائے گا، لہٰذا صورت ِ حال واضح کرکے اس طرح چائے پتی فروخت کرنا جائز ہے۔

حدیث ِ مذکور میں بھی دھوکے کی مذمت ہے بایں طور کہ کسی چیز کا عیب چھپایا جائے یا اس کے متعلق ایسی بات ظاہر کی جائے جو حقیقت میں نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی