بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا وکیل اپنے مؤکل کی اجازت کے بغیر کمیشن لے سکتا ہے؟

کیا وکیل اپنے مؤکل کی اجازت کے بغیر کمیشن لے سکتا ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ زید کے بازار میں تعلقات ہیں، جس کی بناء پر اس کو سودا سلف بہت زیادہ سستے داموں مل جاتا ہے، اس بناء پر اکثر لوگ اسے سامان لانے کا کہتے رہتے ہیں، بار بار کے ان کاموں کی وجہ سے اس کے وقت کا کافی حرج ہو جاتا ہے، وہ تعلقات، رشتہ داری اور حیاء کی وجہ سے ان سے اجرت کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتا ، اب ایسی کیا صورت ہو سکتی ہے کہ زید کو اس کی محنت یا وقت کا معقول بدل بھی مل جائے اور مؤکلین کو بھی معلوم نہ ہو سکے اوران کا مقصود یعنی اشیاء کا سستے داموں ملنا بھی پورا ہو سکے؟

خالد نے زید کو تین طریقے بتائے کہ ان میں سے کوئی ایک طریقہ اختیار کر لو تمہارے لیے نفع لینا جائز ہو جائے گا:

طریقہ نمبر1  زید کا کوئی دوست یا بھائی وہ چیز مکمل نفع پر خرید لے، مثلاً: ساٹھ روپے میں ، پھر زید اس سے نوّے روپے میں خریدلے اور اپنے مؤکل کو بھی نوّے روپے میں ہی دے دے، اب اگر اس کا مؤکل اپنے طور پر خریدتا تو اسے سو روپے میں ملتی، لیکن زید کے واسطے سے اسے نوّے روپے میں مل گئی، وہ اس پر بھی خوش ہے، دوسری طرف زید کا دوست اپنی مرضی سے کبھی دس روپے، کبھی بیس روپے او رکبھی تیس روپے دے دیتا ہے اور کبھی بالکل بھی نہیں دیتا۔

طریقہ نمبر2  زید نے دوکان دار سے بات کی کہ میں تمہارے لیے گاہک تلاش کرکے لاؤں گا، یا تم سے سامان خریدا کر وں گا، تم مجھے کمیشن دیا کرو، وہاں جو چیز پہلے تم مجھے ساٹھ روپے کی دیتے تھے اب وہ نوّے روپے میں دے دیا کرو۔ چنا ں چہ زید نوّے روپے میں وہ چیز خرید کر نوّے روپے میں ہی اپنے مؤکل کو دے دیتا ہے اور دوکان دار سے اپنا کمیشن لے لیتا ہے۔

طریقہ نمبر3 جب کوئی شخص زید کو کہتا ہے کہ مجھے فلاں چیز لے دو، تو زید کہتا ہے کہ اس وقت تو میں مصروف ہوں، فارغ نہیں ہوں اور دوکان دار بھی نہیں ہو گا، ایسا کرو کہ میں فارغ ہوتے ہی پہلی فرصت میں وہ چیز خرید لوں گا، یا لے لوں گا، آپ مجھ سے لے لینا، پھر زید وہ چیز اپنے لیے ساٹھ روپے میں لے لیتا ہے اور نوّے میں اس کہنے والے پر بیچ دیتا ہے، واضح رہے کہ مؤکل زید کے ان الفاظ کے ہیر پھیر سے بالکل ناواقف ہے، وہ یہی سمجھ رہا ہے کہ زید مجھے دوکان دار سے لے کر دے گا اور جتنے میں مجھے دے رہا ہے اتنے میں ہی اس نے خریدی ہے، یعنی: اس کے گمان میں زید اپنے لیے نفع نہیں رکھ رہا، اگر چہ زید اپنے گمان میں اپنے الفاظ کے استعمال سے وکالت کے بجائے بیع وشراء کر رہا ہے۔

اب آپ حضرات بتائیں کہ:
مذکورہ تینوں طریقے درست ہیں؟ یا کوئی ایک؟ یا کوئی بھی نہیں؟ بالخصوص تیسری صورت کے بارے میں وضاحت فرما دیں، بہرصورت اگر شرعاً کوئی گنجائش ملتی ہو تو مطلع فرمائیں۔

جواب 

صورتِ مسئولہ میں تینوں صورتیں جائز نہیں، کیوں کہ پہلی اور تیسری صورت میں زید کا اپنے موکل کے ساتھ خیانت کرنا اور اس کو دھوکہ دینا پایا جاتا ہے اور دوسری صورت میں اصل عاقد ( مشتری) خود زید ہی ہے اس لیے اس کے لیے بائع سے کمیشن لینے کی شرط لگانا شرطِ فاسد ہے جو جائز نہیں ہے، البتہ جواز کی صورت یہ ہے کہ زید اپنے مؤکلین سے اجرت طے کر لے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی