بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کمپنی کا تیل فروخت کر لیا تو ادائیگی کی صورت کیا ہو گی؟

کمپنی کا تیل فروخت کر لیا تو ادائیگی کی صورت کیا ہو گی؟

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ہذا میں کہ بندہ زونگ کمپنی کے ٹاور (کھمبا) پر ملازم ہے، کمپنی والے ہمیں جنریٹر کے لیے ڈیزل دیتے ہیں، جس سے بجلی نہ ہونے کی صورت میں ہم جنریٹر چلاتے ہیں، بندہ نے متعدد مرتبہ ڈیزل میں سے کچھ ڈیزل فروخت کرکے پیسے خود استعمال کیے ( میں اس کو اس لیے جائز سمجھتا تھا کہ زونگ کمپنی کا اصل مالک ( چین) ہے جو کہ کافر ہے او رکافر کا مال بلا اجازت استعمال کرنا جائز ہے ، یہ میرا ذاتی خیال تھا) ،پھر کسی کے بتانے پر پتہ چلا کہ میرا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، جس کے بعد بندہ نے اس عمل سے آئندہ کے لیے توبہ کی، مگر ماضی میں ڈیزل میں جو خیانت بندہ نے کی ہے اس سے پریشان ہوں۔

1..سوال یہ ہے کہ غلط فہمی میں کمپنی کا جو ڈیزل میں نے فروخت کیا ہے اس کی ادائیگی مجھ پر لازم ہے کہ نہیں ؟2.. اگر لازم ہے تو ادائیگی کی کیا صورت ہو گی؟

ادائیگی کی بظاہر تین صورتیں نظر آتی ہیں جو کہ انتہائی دشوار ہیں:
1..پہلی صورت یہ ہے کہ مالک کو استعمال شدہ ڈیزل کی قیمت دے دوں، مگر یہ ممکن نہیں، کیوں کہ کمپنی کا حقیقی مالک تو (چین) میں ہے ، ہماری معلومات کے مطابق جتنے بھی علاقائی، ضلعی اور صوبائی ذمہ داران ہیں ان میں سے کوئی بھی حقیقی مالک نہیں ہے، بلکہ آفیسران کی حیثیت سے ایک دوسرے پر نگران ہیں، لہٰذا حقیقی مالک تک فروخت کردہ ڈیزل کی قیمت پہنچانا میرے لیے ممکن نہیں ہے اور یہاں کے ذمہ داران کے متعلق غالب گمان ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ جس کو بھی میں رقم حوالہ کروں گا وہ اس کو مالِ غنیمت سمجھ کر خود کھائیں گے، کمپنی کے حقیقی مالک تک نہیں پہنچائیں گے۔

2..دوسری صورت یہ ہے کہ میں فروخت کردہ ڈیزل کی قیمت کمپنی کے مالک کے حق میں صدقہ کروں، یہ صورت بھی درست معلوم نہیں ہوتی، کیوں کہ ہماری معلومات کے مطابق زونگ کمپنی کا مالک غیر مسلم ہے اور غیر مسلم کے حق میں صدقہ شرعاً درست نہیں۔

3..تیسری صورت یہ ہے کہ اس رقم سے ڈیزل خرید کر کمپنی کے جنریٹر میں استعمال کروں او رکمپنی سے ملنے والا ڈیزل مہینہ، دو مہینے کے لیے نہ لوں، تو اس صورت میں دو مشکل پیش ہیں۔
    1..میرے اوپر جتنے ذمہ دار ہیں ( جن سے مجھے ڈیزل مل رہا ہے) وہ میرے حصے کا ڈیزل خود فروخت کرکے استعمال کریں گے، اس طرح میری وجہ سے ان کو گناہ کا موقع ملے گا۔
    2..دوسری مشکل یہ ہے کہ جب میں مہینہ، دو مہینے کے لیے اوپر کے ذمہ داران سے ڈیزل نہ لوں تو آئندہ وہ مجھے ڈیزل بند کرکے نہیں دیں گے۔
لہٰذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کا شرعی، تحقیقی جواب عنایت فرمائیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کمپنی کا جتنا ڈیزل آپ نے فروخت کیا ہے اس کی ادائیگی آپ پر لازم اور ضروری ہے، ڈیزل یا اس کی قیمت کی مالک یا کمپنی کو ادائیگی کی جو بھی ممکن صورت ہو اسے اختیار کیا جاسکتا ہے، چاہے، بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ، اس میں یہ بتانا ضروری نہیں کہ میں نے اتنا ڈیزل کمپنی کا فروخت کیا ہے اور یہ اس کا ضمان ہے، اس طرح آپ بری الذمہ ہو جائیں گے، پھر افسرانِ بالا اس میں تصرف سے خود گناہ گار ہوں گے۔ البتہ تیسری صورت کو اختیار کرنا بہتر ہے کہ آپ اس رقم کا ڈیزل خرید لیں او راسے تسلسل کے ساتھ استعمال نہ کریں، بلکہ کمپنی کے ڈیزل کے ساتھ ملا کر تھوڑا تھوڑا استعمال کرتے رہیں، تاکہ ڈیزل کی ادائیگی بھی ہو جائے اور افسرانِ بالا اس کو استعمال کرنے سے بھی بچ جائیں اور آپ کو ڈیزل بھی ملتا رہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی