بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کمزوری اور بیماری کی وجہ سے نماز کو چھوڑنےیا وقت سے مؤخر کرنے کا حکم کیا ہے؟

کمزوری اور بیماری کی وجہ سے نماز کو چھوڑنےیا وقت سے مؤخر کرنے کا حکم کیا ہے؟

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ… ہمارا دوست ہے، وہ بیمار ہے اور اس کی بیماری یہ ہے کہ اس کے پٹھے کمزور ہیں جسم میں طاقت نہیں، اگر وہ بیٹھ جاتا ہے تو خود اٹھ نہیں سکتا دوسرا اس کو اٹھاتا ہے اور چلنے کا انداز بھی کافی ڈھیلا ڈھیلا ہے، اس کا کہنا ہے کہ سردی کے موسم میں رات لمبی ہوتی ہے تو میری نیند پوری ہو جاتی ہے او رجسم کو سکون مل جاتا ہے تو میں وقت پر اٹھ کر نماز پڑھتا ہوں، جب کہ گرمی کے موسم میں راتیں چھوٹی ہوتی ہیں تو نیند پوری نہیں ہوتی، جسم کو سکون حاصل نہیں ہوتا، لہٰذا میں طلوع آفتاب کے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بعد اٹھ کر نماز پڑھتا ہوں، لیکن نماز قضا ء ہوجاتی ہے، اب اگر میں اپنے اوپر زبردستی کرکے وقت پر اٹھ جاؤں تو وضوء کرتے ہوئے کافی تکلیف ہوتی ہے اور بہت مشکل ہوتا ہے اور نماز پڑھنے کے بعددن کے 10،11بجے تک بخار کی کیفیت ہوتی ہے، سر اور جسم میں درد ہوتا ہے او رایک صورت یہ ہے کہ اگر میں وقت مقررہ پر اٹھ کر تیمم کے ساتھ فوراً نمازپڑھ کر دوبارہ جلدی سو جاؤں تو تکلیف پہلے کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، لیکن کیا اس صورت میں میری نماز قابل قبول ہو گی؟ یا میں کیا صورت اختیار کروں؟

جواب

 نماز اسلام کا ایک اہم رکن ہے، اس کو چھوڑنا کسی حالت میں بھی جائز نہیں اور اس کو قضاء کرنا سخت عذاب کا باعث اور سبب بنتا ہے۔
اور تیمم کرنا بھی بوقت مجبوری جائز ہے، لہٰذا آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ آپ اپنے پاس پانی اور بڑا طشت رکھیں جب بھی بیدار ہوں ، تو جلدی سے وضو بنا کر نماز پڑھ لیا کریں۔ ان شاء الله آپ کی نماز بھی قابل قبول ہو جائے گی اور زیادہ تکلیف بھی نہ ہو گی، دعا ہے کہ الله تعالیٰ آپ کو شفاء کاملہ سے نوازے۔ آمین! فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی