بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنا

کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنا

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام حقوق العباد کے معاملے میں کہ جیسا کہ میں اور میر ا گھرانا اپنے بڑے بیٹے سے قطع تعلق کیے ہوئے ہیں، کیوں کہ اس کا گھر میں آنا جانا میری باقی اولادوں کے لیے خطرناک ہے، تو اس صورت حال میں کیا میرا اس کو معاف کرنا او راسے گھر میں دوبارہ بلا لینا شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟

دوسرا مسئلہ میرے بڑے بیٹے کی اولاد کے متعلق ہے کہ کیا مجھے اپنے پوتے سے تعلق رکھنا چاہیے یا نہیں؟ او راگر تعلق رکھنا چاہیے تو کن شرائط پر رکھنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنا حرام ہے ، ہاں! اگر یہ قطع تعلق خالص الله تعالیٰ کی خاطر ہو تو پھر اس کی ایک حد تک گنجائش ہے ،لہٰذا اگر آپ کا بیٹا اپنی ان حرکتوں سے باز آتا ہے اور اس کے گھر آنے جانے میں کوئی دینی یا دنیاوی نقصان نہیں ہے، تو آپ کا فرض بنتا ہے کہ اس سے تعلق جوڑیں اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور اس کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں کہ الله تعالیٰ اسے نیک، صالح اور مطیع وفرماں بردار بنائے، نیز اس کی اولاد سے بحیثیت دادا آپ کو اچھا اور مشفقانہ معاملہ کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی