بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ و رمضان میں وفات پانے والے سے سوال و جواب نہ ہونے اور عذاب قبر کے اٹھائے جانے کا حکم

جمعہ و رمضان میں وفات پانے والے سے سوال و جواب نہ ہونے اور عذاب قبر کے اٹھائے جانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک آدمی رمضان میں فوت ہو جائے یا رمضان کے مہینہ کے علاوہ کسی اور مہینہ میں جمعہ کے دن فوت ہو جائے تو آیا اس آدمی سے قیامت تک سوال و جواب  ہونگے یا نہیں؟ اور اس کو قیامت تک عذاب وغیرہ ہو گا یا نہیں؟ جیسا کہ عرف عام میں یہ مشہور ہے کہ اس کو قیامت تک عذاب نہیں ہوگا ۔

جواب

روایات سے معلوم ہو تا ہے کہ جمعہ کے دن یارات کو وفات پانے والے شخص سے قبر میں سوال نہیں ہو گا ۔ جمعہ کے دن یا رات کو انتقال کرنے والے مسلمان سے عذاب قبر اٹھائے  جانے سے متعلق احادیث وارد ہوئی ہیں ، لیکن احادیث مطلق ہیں ان میں یہ تذکرہ نہیں ہے کہ جمعہ کے دن یارات کو انتقال کرنے والا صرف جمعہ کے دن عذاب سے محفوظ رہتا ہے یا قیامت تک عذاب سے محفوظ رہے گا ، چنانچہ یقین سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ عذاب قبر اٹھائے جانے کے بعد عذاب دوبارہ لوٹ کر نہیں آئے گا البتہ اللہ جل شانہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ جب ایک بندے سے عذاب قبر اٹھا دیاجائے تودوبارہ   اس کو عذاب نہ ہو ۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

فتوی نمبر: 157/120

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی