بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ڈیوٹی کے فارغ اوقات میں تلاوت اور مطالعہ کرنا،ذاتی کاموں کے لیے آفس کا وائی فائی استعمال کرنا

ڈیوٹی کے فارغ اوقات میں تلاوت اور مطالعہ کرنا،ذاتی کاموں کے لیے آفس کا وائی فائی استعمال کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسائل  کے بارے میں کہ میں ایک نجی ادارے میں ملازمت کرتا ہوں،پوچھنا یہ ہے

۱۔  آفس میں فارغ اوقات میں آفس کے کمپیوٹر کو یا اپنے موبائل کو تلاوت ،مطالعہ  کرنے،بیان سننے یا عصری علوم (متعلقہ و غیر متعلقہ ) کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟

۲۔ آ فس کا وائی فائی اپنے ذاتی کاموں (فیس بک،واٹس ایپ وغیرہ ) کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟

نوٹ : مندرجہ بالا امور آفس کے معاہدے (اپائنٹمنٹ لیٹر ) میں موجود نہیں ہیں ۔

جواب 

۱۔ اگر آفس کے مالک کی طرف سے صراحتًا یا دلالتًااجازت ہو تو  آپ کے لیے فارغ اوقات میں آفس  کا کمپیوٹر  یا اپنا موبائل تلاوت ، مطالعہ اور بیان سننے یا عصری علوم کے لیے استعمال کرنا درست ہے۔

۲۔ آفس کا وائی فائی مالک کی اجازت سے اپنے ذاتی کاموں کے لیے  استعمال کرنا درست  ہے، بغیر اجازت  کے استعمال کرنا  درست نہیں۔

لما في الدرمع الرد:

وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل.

(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا.(كتاب الاجارة،باب ضمان الأجير:9118،ط:رشيدية)

وفي الدر:

لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته. (كتاب الغصب،9334،رشيدية)  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:171/02,03