بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ڈھائی سال بعد دودھ پینے سے حرمت رضاعت کا حکم

ڈھائی سال بعد دودھ پینے سے حرمت رضاعت کا حکم

سوال

اگر کسی بچے نےاپنی پیدائش کے دوسال پانچ مہینے اٹھارہ دن کے بعد دودھ پیاہو تو اس دودھ پینے والے کا مرضعہ(دودھ پلانےوالی ) کی بیٹی کے ساتھ نکاح جائز ہے، یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حرمت رضاعت کے ثبوت کے لیےمفتیٰ بہ قول کے مطابق ضروری ہےکہ بچےکو دوسال کے اندر اندردودھ پلایا جائے،اور صورت مذکورہ میں بچے کے دوسال پورے ہونے کے بعد دودھ پلایا گیا،جس کی وجہ سے شرعا حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوئی ،لہذا  دودھ پینے والے کامرضعہ ( دودھ پلانے والی عورت ) کی بیٹی سے نکاح درست ہے۔

لما في البدائع:

وقال أبو يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - : حولان لا يحرم بعد ذلك فطم أو لم يفطم ، وهو قول الشافعي... احتج أبو يوسف ومحمد بقوله { والوالدات يرضعن أولادهن حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة } جعل الله تعالى الحولين الكاملين تمام مدة الرضاع وليس وراء التمام شيء وبقوله تعالى { وفصاله في عامين } وقوله عز وجل { وحمله وفصاله ثلاثون شهرا } وأقل مدة الحمل ستة أشهر فبقي مدة الفصال حولين .وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال { لا رضاع بعد الحولين } وهذا نص في الباب۔

(كتاب الرضاع،فصل في صفة الرضاع المحرم،576،دارالكتب) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 168/188