بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

چَھٹی،بہات وغیرہ رسومات کا شرعی حکم

چَھٹی،بہات وغیرہ رسومات کا شرعی حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ میری چھ بہنیں ہیں ،جو کہ سب شادی شدہ ہیں اور ہم سات بھائی ہیں۔ ہمارے علاقے میں شادی کے موقع پر چند رسومات ہوتیہیں، اپنے گھر والوں کو کئی بار ان رسومات سے منع کیا گیا ہے، مگر حجت تام کرنے کے لیے فتویٰ طلب کیا جارہا ہے:

چھٹی …بہن یا بیٹی کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو کافی سازوسامان دیا جاتا ہے، بچوں کے سوٹ، بڑوں کے سوٹ، کھلونے، سونے کا لاکٹ وغیرہ وغیرہ، تقریباً ستر، اسی ہزار کی ملکیت کا سامان ہوتا ہے، اگر مال دار ہو تو لاکھوں روپیہ اس پر صرف ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ خاص خاص افراد کو مدعو کیا جاتا ہے، کرتے کرتے شادی بیاہ کی صورت اختیار کر جاتا ہے، کچھ لوگ سادگی کا نام دے کر کم افراد میں اس رسم کو ادا کرتے ہیں۔

یہ رسم لڑکا اور لڑکی ہونے کی صورت میں برابر ہے، اگر پہلا بچہ لڑکا ہے تو اتنا ہی سامان دیا جاتا ہے، اگر دوسرا بھی لڑکا ہو تو اس سے کم سامان دیا جاتا ہے، پھر اگر تیسرا بھی لڑکا ہوا تو برائے نام سامان دیا جاتا ہے، پھر اگر چوتھی بار لڑکی ہو جائے تو اتنا ہی سامان دیا جاتا ہے جتنا پہلی مرتبہ دیا گیا تھا۔اگر پہلی لڑکی ہے علیٰ ہذاالقیاس صورت مسئلہ پہلے کی طرح ہے، صرف لڑکوں کی جگہ لڑکی ہو گی۔

بہات… اگر بہن/ بیٹی کے بچوں کی شادی ہے تو تقریباً جہیز جتنا سامان دیا جاتا ہے، بہن/ بیٹی کے گھر کے تمام افراد کو سوٹ دیے جاتے ہیں، کافی سازوسامان دیا جاتا ہے، صرف فرنیچر نہیں دیا جاتا، باقی ہر چیز دی جاتی ہے، بہن/ بیٹی کے سر پر ایک چادر ڈالی جاتی ہے اور اڈار کے نام سے رسم شروع ہوتی ہے، جس میں خاندان کے بڑے افراد جمع ہوتے ہیں تھیلی میں رقم پیش کرتے ہیں، لڑکی والوں کو دی ہوئی چیزیں نام پڑھ پڑھ کر سب لوگوں میں بلند آواز سے سنایا جاتا ہے، یعنی خوب دکھلاوا ہوتاہے، اسی میں بہاتیوں کا ذکر ہوتا ہے، یعنی تقریباً دو، ڈھائی لاکھ کا خرچہ ہوتا ہے، جو بہن/ بیٹی کے گھر والوں کی طرف سے ہوتا ہے۔

اگر بعد میں کسی دوسرے بچے کی شادی ہو تو اس کو پہلے والے مسئلے پر قیاس کرتے جائیں۔

رسومات تو بہت ہیں، جو کہ تفصیل کا تقاضا کرتی ہیں، البتہ ان رسومات کو بہن/بیٹی کا حق تصور کیا جاتا ہے، اگر ان رسومات کو نہیں کیا جائے تو خاندان میں اس کا نام اچھالا جاتا ہے، رشتے ناطے ختم کرنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں اور بعض اوقات رشتے ناطے ختم بھی کیے جاتے ہیں، خاندان میں اس کی عزت بھی نہیں کی جاتی ہے۔

ان تمام رسومات کو کرنا لازمی ہے، چاہے قرض لے کر ہی کیوں نہ کیے جائیں!! جس کا شکار میں خود بھی ہوا ہوں، سال ہونے کو آرہا ہے، اب تک قرض اتار رہاہوں، لوگ بہن/بیٹی کو میراث میں سے حصہ دینے کو اتنا لازمی قرار نہیں دیتے، بعض لوگ ان رسومات کو میراث کا بدلہ قرار دیتے ہیں، بعض لڑکیاں جن کو کچھ عقل وشعور ہے وہ میراث میں سے حق مانگتے ہوئے شرماتی ہیں، آج تک میں نے نہیں سنا کہ انہوں نے میراث کے حق کا مطالبہ کیا ہو، بلکہ میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے میری بہن کہہ رہی تھی کہ ان رسومات کو کرو، بے شک میراث میں سے کوئی حصہ نہ دو، تاکہ خاندان میں نام اونچا ہو۔

ہر رسم میں ایک کاپی لی جاتی ہے او راس میں کس نے کیا تحفہ دیا ہے یا کتنی رقم لفافے میں رکھی ہے، سب لکھا جاتا ہے، تاکہ اس کی باری میں دیکھ کر بدلہ دیا جائے، اس میں الله کی رضا مقصود نہیں ہوتی،جواب دے کر مشکور فرمائیں

جواب…واضح رہے کہ جن چیزوں کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے ، یہ شرعاً بہن بیٹی کا حق نہیں ، بلکہ محض رسومات ہیں اور ان رسومات سے معاشرے میں بہت ساری خرابیاں جنم لے رہی ہیں، لہٰذا ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ان رسومات سے اجتناب کرے او راپنے رشتہ داروں کو نرمی سے سمجھائے، امید ہے کہ وہ ان رسومات کو ترک کر دیں گے، ہاں! اگر ایک مسلمان اپنے رشتہ داروں سے تعاون کرنا چاہتا ہو، تو یہ تعاون شرعاً ممنوع نہیں، بلکہ مستحسن امر ہے او رشریعت نے تو رشتہ داروں پر صدقہ کرنے والے کے لیے دوگنا اجر کا اعلان کیا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس تعاون سے اپنے رشتہ دار پر احسان جتلانا مقصود نہ ہو اور نہ ہی دکھلاوا مقصود ہو اور اس کے لیے کسی خاص موقع کی پابندی بھی ضروری نہیں۔

جواب

واضح رہے کہ جن چیزوں کا سوال میں ذکر کیا گیا ہے ، یہ شرعاً بہن بیٹی کا حق نہیں ، بلکہ محض رسومات ہیں اور ان رسومات سے معاشرے میں بہت ساری خرابیاں جنم لے رہی ہیں، لہٰذا ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ان رسومات سے اجتناب کرے او راپنے رشتہ داروں کو نرمی سے سمجھائے، امید ہے کہ وہ ان رسومات کو ترک کر دیں گے، ہاں! اگر ایک مسلمان اپنے رشتہ داروں سے تعاون کرنا چاہتا ہو، تو یہ تعاون شرعاً ممنوع نہیں، بلکہ مستحسن امر ہے او رشریعت نے تو رشتہ داروں پر صدقہ کرنے والے کے لیے دوگنا اجر کا اعلان کیا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس تعاون سے اپنے رشتہ دار پر احسان جتلانا مقصود نہ ہو اور نہ ہی دکھلاوا مقصود ہو اور اس کے لیے کسی خاص موقع کی پابندی بھی ضروری نہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی