بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

چوری شدہ مال کو واپس کس طرح سے کیا جائے؟

چوری شدہ مال کو واپس کس طرح سے کیا جائے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص گیارہ سال گاڑیاں چوری کرتا رہا ان سے قیمتی سامان نکال کر گاڑی کہیں چھوڑ جاتا ،اور کراچی میں ہوتا یہ ہے کہ اگر کہیں گاڑی چوری ہو جائے تو اس کی قیمت کم ہو جاتی ہے ، اگر 10 لاکھ کی گاڑی ہے تو چوری کے بعد وہ 9 لاکھ کی فروخت ہوتی ہے جو کہ مالک کا ایک لاکھ روپے کا نقصان ہو جاتا ہے اور قیمت کی کمی اس صورت میں ہوتی ہے جب گاڑی کا مالک کسی تھانہ میں رپورٹ درج کرکے اس کا ریکارڈ محفوظ کر دے ، ورنہ اگر مالک کو رپورٹ اور تھانہ میں اس کی گاڑی کا ریکارڈ محفوظ کیے بغیر اپنی گاڑی مل جائے تو قیمت کم نہیں ہوتی، اب یہ شخص نادم ہو کر بری الذمہ ہونا چاہتا ہے، لیکن گاڑیوں کے مالکوں کا ، ان کو اپنی گاڑیوں ملنے نہ ملنے ، تھانہ میں ریکارڈ درج کرنے نہ کرنے، گاڑیوں کے ماڈل ، کنڈیشن اور نقصان کی تفصیلات معلوم کرنا مشکل ہے، اگر کہیں ممکن بھی ہو جائے تو پکڑے جانے اور مزید فتنے کا اندیشہ ہے۔

اب اس مذکورہ صورت میں مالکوں کو اپنا حق کس طرح پہنچایا جائے کہ بندہ بریٴ الذمہ ہو جائے؟

جواب

جو سامان گاڑی سے نکالا ہے یا جو گاڑیاں مالکوں کو نہیں ملی ہیں، اس کی تفصیلات کا علم اگر کسی بھی ممکن طریقے سے ( جن میں پکڑنے اور مزید فتنے کا اندیشہ نہ ہو) ہو سکے، تو ان کو وہ مال یا گاڑی واپس کی جائے اگر موجود ہو ، ورنہ اس کی قیمت اداکرے، نیز اگر مالک کو خود بتا کر نہیں دے سکتے تو کسی دوسرے کے واسطے سے یا ہدیہ اور تحفہ کے نام پر دے دے، یا کسی بھی دوسرے ممکن طریقہ سے مالک کو اس کا حق پہنچانے سے بری ہو جائے گا۔

لیکن اگر مالکوں یا ان کے ورثاء سے رابطہ ناممکن ہو، تو چوری کردہ سامان او رجو گاڑیاں مالکوں کو نہیں ملی ہیں، ان سب کی قیمت مالکوں کی طرف سے صدقہ کر دے، اگر مال کی صحیح صورت حال کا علم نہ ہو سکے، کہ اس کی قیمت کتنی ہو گی ؟ یا ان کو بعض مال مل گیا ہے یا نہیں ؟ تب بھی سب مال کی قیمت کا محتاط اندازہ لگا کر مالکوں یا ان کے ورثاء تک مذکورہ بالا طریقے سے پہنچائے، ورنہ ان کی طرف سے صدقہ کر دے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی