چاول کے کاروبار میں مضاربت سے متعلق مسائل

چاول کے کاروبار میں مضاربت سے متعلق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ:

1:میں چاول کے کاروبار سے وابستہ ہوں اور سرمایہ کار حضرات (انوسٹرز)میرے ساتھ کاروبار میں سرمایہ کرتے ہیں۔
2:جب کوئی انوسٹر مجھےرقم دیتا ہے تو میں اسی وقت بازار سے اس رقم کے عوض چاول خرید کر یا پہلے سے موجود اپنے گودام میں چاول اسے مختص کر دیتا ہوں، یعنی انوسٹر کو بتا دیتا ہوں کہ فلاں مقدار چاول آپ کی ملکیت میں آگئی ہے، باقاعدہ انوسٹر کے نام پر بل بنایا جاتا ہے۔
3:وکالت کی بنیاد پر انوسٹرز کے چاول  بیچنے کے بعد جو نفع یا نقصان ہوتا ہے، وہ انوسٹر کے ساتھ طے شدہ نفع و نقصان کے تناسب کے مطابق تقسیم کر لیتا ہوں، یعنی اگر نفع ہو تو اس کو اس کا حصہ دیا جاتا ہے، اور اگر نقصان ہو تو اس کا بوجھ سرمایہ دار کے حصے میں آتا ہے۔
4:جیسے ہی چاول انوسٹر کے نام پر مختص کر دیے جاتے ہیں اور اس کی ملکیت میں آجاتے ہیں، تو میں انوسٹمنٹ میں ملی ہوئی رقم کو اپنی ذاتی ضروریات (مثلاً قرض کی ادائیگی) کے لیے استعمال کرتا ہوں؛ کیونکہ رقم کے عوض چاول کی ملکیت منتقل کی جاتی ہے۔
5:بعد ازاں جب وہ چاول بیچ دیے جاتے ہیں ، تو حاصل شدہ رقم اس شخص کو ادا کی جاتی ہے جس سے ادھار پر چاول لیے گئے تھے(یعنی سپلائر یا تھوک فروش)۔
6:یہ عمل کچھ عرصہ تک کامیابی سے چلتا رہا، لیکن بعد میں صورتحال یوں بنی کہ سرمایہ ختم ہو گیا اور چاول ادھار پر بھی نہیں ملے، کیونکہ سابقہ ادھار کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔
7:اب کاروبار کچھ مدت کے لیے رکا ہوا ہے، کیوں کہ نئی سرمایہ کاری یا چاول کی سپلائی میسر نہیں، البتہ کاروبار ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے، اور انوسٹرز کے ساتھ طے ہے کہ سال کے آخر میں مکمل حساب کیا جائے گا، جس میں نفع ونقصان دیکھا جائے گا۔
8:میرے کاروباری ماڈل میں ذیادہ تر ادھار فروخت ہوتے ہیں ، اور ہر گاہک کے ساتھ ادائیگی (گراہی) کی مدت اور مقدار الگ الگ ہوتی ہے، اس بنا پر انوسٹرز کے ساتھ ایک ترتیب بنائی ہوئی ہے:مثلاً اگر آپ نے 10لاکھ روپے لگائیں ہیں تو ہر ہفتہ ایک لاکھ ادائیگی میں سے آپ کے کھاتے میں جمع کروں گا ، تو اس رقم  سے دوبارہ آپ کے نام پر چاول خرید کر رکھ دیا کروں گا، پھر وہی چکر دوبارہ جاری رہے گا۔
9:یوں پورا سال یہ کاروباری سرکل چلتا ہےیعنی سرمایہ آتا ہے اور چاول خریدے جاتے ہیں، بیچے جاتے ہیں، گراہی آتی ہے، پھر اسی گراہی سے دوبارہ چاول خرید کر انوسٹر کے نام پر مختص کیے جاتے ہیں۔
10:سال کے اختتام پر مکمل حساب کیا جاتا ہےکہ کل کتنے چاول انوسٹر کے نام خریدے گئے، ان کی فروخت پر کتنا نفع یا نقصان ہوا؟ دوران سال کتنا خرچ ہوا؟ اور پھر صافی نفع کو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔
11:اس وقت انوسٹرز کو ان کی مکمل رقم یا منافع واپس نہیں ملا ، لیکن کاروبار جاری ہے اور کوشش جاری ہے کہ جیسے ہی حا لات  بہتر ہوں تو کاروبار دوبارہ اپنی روانی پر آجائے۔
اب اس تفصیل کے بعد پوچھنا یہ ہے کہ:
۱…کیا مذکورہ کاروباری ماڈل شرعی لحاظ سے جائز ہے؟ خاص طور پر انوسٹر کو رقم کے عوض چاول کی ملکیت دینا، پھر بطور وکیل بیچنا، نفع ونقصان کو ان کے طے شدہ تناسب سے تقسیم کرنا ؟
۲…جب میں نے انوسٹر کو چاول کی ملکیت دے دی اور اس کی رقم اپنی ذاتی ضروریات  پوری کیں (مثلاً قرض کی ادائیگی)، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
۳…اگر کاروبار وقتی طور پر رک جائے، اور کچھ مدت تک انوسٹر کو نہ نفع دیا جائے اور نہ اصل رقم ، تو کیا میں شرعاً گناہ گار ہوں  یا معذور شمار ہوں گا؟ خاص طور پر جب دھوکہ دہی اور خیانت کی نیت نہ ہو بلکہ کاروباری مجبوری ہو۔
۴…اگر سال کے اختتام  پر منافع ہو ، اور انوسٹرکو اس کا حصہ دے دیا جائے، تو درمیان کے اس توقف کی شرعاً کوئی قباحت ہوگی؟
۵…اگر مزید سرمایہ  یا ادھار چاول نہ ملیں اور موجودہ اثاثے نا کافی ہوں ، تو کاروبار کا رک جانا یا بند ہو جانا شرعی لحاظ سے کیسا ہے؟ کیا س میں کوئی مؤاخذہ ہو گا؟

جواب

۱،۲۔۔۔صورت مسئولہ میں آپ کا یہ کاروبار چند شرعی خرابیوں کی وجہ سے درست نہیں:

  • آپ کے پاس پہلے سے موجود جو چاول ہوتے ہیں، ان کو آپ انوسٹر کے نام پر مختص کرتے ہیں ، اس سے چاول انوسٹر کی ملکیت میں نہیں آتے؛ کیونکہ ملکیت میں آنے کے لیے ان کا قبضہ ضروری ہے۔

اور آپ بھی ان کی طرف سے وکیل نہیں بن سکتے ؛ کیونکہ ایک ہی آدمی بائع(بیچنے والا )اور مشتری(خریدنے والا )نہیں بن سکتا، لہذا  آپ کا یہ طریقہ کار درست نہیں۔

  • آپ انوسٹر کا پیسہ اپنی ذاتی ضروریات میں خرچ کرتے ہیں اور چاول ادھار پر خریدتے ہیں، یہ طریقہ بھی درست نہیں، آپ پر لازم ہے کہ آپ انوسٹر کا پیسہ چاول کی خریداری میں صرف کریں۔
  • اسی طرح آپ نقصان کا بوجھ انوسٹر پر ڈالتے ہیں، یہ بھی درست نہیں؛کیونکہ اس عقد کی شرائط میں سے ہے کہ نقصان کو حاصل ہونے والے نفع میں سے پورا کیا جائے ۔

البتہ اگر اس کاروبار میں چند چیزوں کا لحاظ رکھا جائے تو یہ کاروبار کرنا جائز ہے:
۱)جس وقت عقد طے ہو، اسی وقت سے نفع میں فیصدی تناسب سے دونوں کے حصے متعین کیے جائیں۔
۲)نفع فیصدی اعتبار سے تقسیم کیا جائے، نہ کہ ایک کے لیے نفع کی مقدار متعین ہو۔
۳)انوسٹر کی رقم چونکہ امانت ہے ، اس لیے اسے چاول کی خریدو فروخت میں ہی خرچ کیا جائے، اپنی ضروریات میں صرف کرنا درست نہیں۔
۴)ادھار پر چاول نہ خریدے جائیں۔
۳…مذکورہ بالا شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے کاروبار کیا جائے، پھر بھی آپ کی کوتاہی کے بغیر کاروبار رک جائے ، تو شرعاً کوئی مؤاخذہ نہیں۔
۴…سال کے اختتام پر نفع کی تقسیم میں کوئی قباحت نہیں۔
لما في التنوير مع الدر:
’’(وشرطها)...(كون رأس المال من الأثمان) كما مر في الشركة وهو معلوم للعاقدين... (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد‘‘.(كتاب المضاربة: 8 /501،500، رشيدية)
وفيه أيضا:
’’(وحكمها): أنواع لانها (إيداع ابتداء)... (وتوكيل مع العمل) لتصرفه بأمره (وشركة إن ربح وغصب إن خالف (وإجارة فاسدة إن فسدت فلا ربح) للمضارب‘‘.
وتحته في الشامية:
’’(قوله: إيداع ابتداء)... فالمراد في حكم عدم الضمان بالهلاك‘‘.(كتاب المضاربة: 499/8، رشيدية)
وفي الدر :
’’(لا) يملك (المضاربة) والشركة والخلط بمال نفسه... (و) لا (الإقراض والاستدانة وإن قيل له ذلك) أي اعمل برأيك؛ لأنهما ليسا من صنيع التجار فلم يدخلا في التعميم‘‘.
وتحته في الشامية:
’’(قوله: والاستدانة) كما إذا اشترى سلعة بثمن دين وليس عنده من مال المضاربة شيء من جنس ذلك الثمن، فلو كان عنده من جنسه كان شراء على المضاربة، ولم يكن من الاستدانة في شيء كما في شرح الطحاوي قهستاني‘‘.(كتاب المضاربة: 503/8، رشيدية)
وفي الهندية:
’’ما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال كذا في الكافي‘‘.(كتاب المضاربة، الباب الرابع عشر: 327/4، دارالفكربيروت).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:113-117/ 192