بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

چالیس دن چلہ پر نکلنے والے احباب دو مختلف تشکیلوں میں قصر کریں گے یا اتمام؟

چالیس دن چلہ پر نکلنے والے احباب  دو مختلف تشکیلوں میں قصر کریں گے یا اتمام؟

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تبلیغی جماعت والے گھر سے چالیس دن کے چلے کی نیت سے نکلتے ہیں، جس کی صورت یہ ہوتی ے کہ علاقائی مرکز والے احباب کے مشورے سے ان کو اسی مرکز سے دو تشکیلیں دی جاتی ہیں، ایک تشکیل چھوٹی بارہ یا تیرہ دن کی شہر کے قریبی علاقے میں یعنی چالیس، پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ہوتی ہے، جب کہ دوسری تشکیل دور پنجاب، بلوچستان وغیرہ کی طرف ( یعنی مسافت شرعیہ کے فاصلے پر) ہوتی ہے ، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ یہ جماعتیں چھوٹی تشکیل میں اتمام کریں گی یا قصر؟

یہ جماعتیں اس جگہ تک مسافت شرعی سے کم چالیس ، پچاس کلو میٹر کے فاصلہ پر ہوتی ہیں یعنی سواستتر کلو میٹر سے کم پر، لیکن یہ قیام کی جگہ ان کے اپنے شہر یادیہات کی آبادی سے باہر ہوتی ہے اور اس چھوٹی تشکیل کے بعد انہوں نے واپس اپنے شہر نہیں آنا ہوتا، بلکہ آگے یعنی رائے ونڈ جانا ہوتا ہے جو مسافت شرعیہ پر واقع ہوتا ہے، وہاں چوبیس گھنٹے کے قیام کے بعد لمبی یعنی دور کی تشکیل پر جانا ہوتا ہے، یہ جماعت والے احباب گھر سے چالیس دن کی نیت سے ہی نکلتے ہیں اور یہ چھوٹی تشکیل بھی اسی چالیس دن میں شمارکی جاتی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جماعتوں کی اصل منزل لمبی تشکیل والی جگہ ہوتی ہے، چھوئی تشکیل میں ان جماعتوں کے مقیم یا مسافر ہونے کی وضاحت فرما دی جائے۔

جواب

 صورت ِ مسئولہ میں چالیس دن چلہ کی نیت سے سفر پر نکلنے والے احباب کی اصل منزل لمبی تشکیل والی جگہ ہے( جس کی انہوں نے نیت کر رکھی ہے اور راستہ کا بارہ، تیرہ دن کا قیام جسے چھوٹی تشکیل کہا جاتا ہے، گویا راستہ کا پڑاؤ ہے، مقصود ومنزل یہ نہیں، بلکہ یہاں یہ جماعتیں کام کرکے آگے رائے ونڈ جائیں گی اور پھر وہاں سے آگے لمبی تشکیل کی طرف گامزن ہوں گی۔

پس چالیس دن چلہ کی نیت سے نکلنے والے احباب اس چھوٹی تشکیل والی جگہ پر قصر کریں گے، اگر منفرداً نماز پڑھیں یا مسافر امام کے پیچھے، اور اگر مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے تو پھر اتمام ہی کریں گے۔

البتہ اگر جماعت میں ایسے احباب بھی شامل ہوں، جن کی نیت صرف یہی چھوٹی تشکیل بارہ، تیرہ دن کی ہے اور آگے جانے کی نیت نہیں ہے،بلکہ یہیں سے واپسی کریں گے، تو وہ اتمام کریں گے، کیوں کہ ان کے حق میں مسافر ِ شرعی ہونا یہاں متحقق نہیں۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی