پہلی یا دوسری رکعت میں سجدہ بھول گیا اور تشہد کے بعد یاد آیا تو حکم

پہلی یا دوسری رکعت میں سجدہ بھول گیا اور تشہد کے بعد یاد آیا تو حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پہلی یا دوسری رکعت میں اگر دوسرا سجدہ بھول گیا اور نماز کے آخر میں تشہد میں بیٹھنے کے بعد یاد آیا، تو اس صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟ آیا آخر میں صرف سجدہ سہو کرلیا جائے، یا پھر فوراً سجدہ کرکے جو رکعتیں اس بھولے ہوئے سجدہ کے بعد پڑھی ہیں، ان کو دوبارہ ادا کرے؟

جواب

جب قعدہ اخیرہ میں یاد آجائے، تو اسی وقت سجدہ کر لے اور تشہد دوبارہ پڑھے، پھر سجدہ سہو کرکے سلام پھیردے، لیکن جو رکعتیں اس بھولے ہوئے سجدہ کے بعد پڑھی ہیں ان کو نہ لوٹایا جائے۔
لما في الرد:
’’لو نسي سجدة من الأولى قضاها ولو بعد السلام قبل الكلام لكنه يتشهد ثم يسجد للسهو ثم يتشهد لأنه يبطل بالعود إلى الصلبية والتلاوية‘‘.(كتاب الصلاة ، مطلب كل شفع من النفل صلاة، 192/2، رشيدية)
وفيه أيضا:
’’رعاية الترتيب في فعل غير مكرر كالقعدة الأخيرة، حتى لو تذكر سجدة صلبية أو تلاوية فأتى بها بعد القعدة لزمه إعادتها‘‘. (كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، 89/2، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:190/243