بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پب جی گیم میں استعمال ہونے والے ڈائمنڈ بیچنے کا حکم

پب جی گیم میں استعمال ہونے والے ڈائمنڈ بیچنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک دکاندار ہوں میرے پاس گاہک آتے ہیں،جو اکثر نوجوان لڑکے ہوتے ہیں اور پب جی گیم کھیلتے ہیں،اپنی گیم میں پیسے ڈالتے ہیں جس کو ڈائمنڈ کہتے ہیں،یہ جو ڈائمنڈ ہوتے ہیں ،ان کی بظاہر کوئی شکل و صورت  نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے ۔ یہ میں آن لائن دکان سے خریدتا ہوں اور جو کسٹمر میرے پاس آیا ہوتا ہے،سیدھا ان کے اکاؤنٹ/گیم میں ٹرانسفر کردیتا ہوں ۔

ڈائمنڈ کی قیمت میں نے  پہلے سے اپنے کسٹمر کو بتائی ہوتی ہے ،کہ میں اتنے ڈائمنڈز کے اتنے  پیسے لوں  گا ،اس میں میں نے اپنے لئےکچھ منافع بھی رکھا ہوتا ہے۔

یہ جو ڈائمنڈ ہیں ،یہ میری ملکیت میں بھی نہیں آتے،بالفاظ دیگر میرا اس پر قبضہ بھی نہیں ہوتا ،کیوں کہ یہ ڈائمنڈ میں سیدھا اپنے کسٹمر کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیتا ہوں۔

دوسری طرف اس پر میرے لیے قبضہ حاصل کرنابھی میرے خیال میں ناممکن ہے کیونکہ یہ جو ڈائمنڈ ہوتےہیں ،یہ گیم میں سیدھا ٹرانسفر ہوتے ہیں۔اس ڈائمنڈ کی جو قیمت ہوتی ہے وہ میرے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے کاٹ دی جاتی ہے اور ڈائمنڈ سیدھا  کسٹمر کے اکاؤنٹ/گیم میں چلے جاتے ہیں۔ کیا یہ کمائی میرے لیے حلال ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  لہو و لعب کے وہ آلات جو صرف حرام اور ناجائز لہو و لعب میں استعمال کئے جاتے ہوں،اور ان سے کسی جائز اور درست کام میں استفادہ ممکن نہ ہو،ان آلات کا بیچنا شرعاً جائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں جو ڈائمنڈ آپ بیچتے ہیں،اس سے بھی چونکہ پب جی گیم کے علاوہ استفادہ ممکن نہیں ہے ،اور نہ ہی کسی اور صحیح کام استعمال کیا جاتا ہے،اور پب جی گیم کھیلنا  لہو و لعب  اور دوسرے بہت سارے مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ  سے جائز نہیں؛ لہذا ڈائمنڈ جسے پب جی گیم کھیلنے کے لیے ایک خاص آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،اس کا بیچنا شرعاً درست نہیں۔

لما في الهندية:

ويجوز بيع البربط والطبل والمزمار والدف والنرد وأشباه ذلك في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى وعندهما لا يجوز بيع هذه الأشياء قبل الكسر ......وذكر في السير الكبير تفصيلا على قولهما فقال إن باعها ممن لم يستعملها ولا يبيع هذا المشتري ممن يستعملها فلا بأس ببيعها قبل الكسر فإن باعها ممن يستعملها أو يبيعها هذا المشتري ممن يستعملها لا يجوز بيعها قبل الكسر.

(كتاب البيوع،فصل في مايجوز بيعه ومالايجوز،3117،دارالفكر)

وفي الهداية:

قال ويكره اللعب بالشطرنج والنرد والأربعة عشر وكل لهو لأنه إن قامر بها فالميسر حرام بالنص وهو اسم لكل قمار وإن لم يقامر بها فهو عبث ولهو وقال عليه الصلاة والسلام لهو المؤمن باطل إلا الثلاث تأديبه لفرسه ومناضلته عن قوسه وملاعبته مع أهله. (كتاب الكراهية،4473،ط:اميرحمزه)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 169/217